Sunan At-Tirmidhi 3602

دعاؤں کا بیان

3602Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي، وَهِيَ نَائِلَةٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْهُمْ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر نبی کی ایک دعا مقبول ہوتی ہے اور میں نے اپنی دعا اپنی امت کی شفاعت کے لیے محفوظ کر رکھی ہے، اس دعا کا فائدہ ان شاء اللہ امت کے ہر اس شخص کو حاصل ہوگا جس نے مرنے سے پہلے اللہ کے ساتھ کچھ بھی شرک نہ کیا ہوگا ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Every Prophet ﷺ has a supplication that is granted. I have held in abeyance my supplication for intercession for my ummah and it will be available to everyone of them who dies without having associated anything with Allah.” [Ahmed 10315, Bukhari 6304, Muslim 198, Ibn e Majah 4307] --------------------------------------------------------------------------------

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3602
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ہر اس شخص کو اللہ کے رسول ﷺ کی شفاعت نصیب ہوگی جس نے کسی قسم کا شرک نہیں کیا ہوگا مشرک خواہ غیر مسلموں کا ہو، یا نام نہاد مسلمانوں کا شرک کے مرتکب کو یہ شفاعت نصیب نہیں ہوگی، نیز اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حق مذہب وہی ہے جس کے قائل سلف صالحین ہیں، یعنی موحد گناہوں کے سبب ہمیشہ ہمیش جہنم میں نہیں رہے گا، گناہوں کی سزا بھگت کر آخری میں جنت میں جانے کی اجازت مل جائے گی، الا یہ کہ توبہ کرچکا ہو تو شروع ہی میں جنت میں چلا جائے گا، ان شاء اللہ۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٨٦ (١٩٨)، سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٧ (٤٣٠٧) (تحفة الأشراف: ١٢٥١٢)، و مسند احمد (٢/٢٧٥، ٣١٣، ٣٨١، ٣٩٦، ٤٠٩، ٤٢٦، ٤٣٠، ٤٨٦، ٤٨٧)، وسنن الدارمی/الرقاق ٨٥ (٢٨٤٧، ٢٨٤٨) (صحیح)