Sunan At-Tirmidhi 3544

دعاؤں کا بیان

3544Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الثَّلْجِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَغْدَادَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ صَاحِبُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَرْبِيٍّ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، وَثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ، وَرَجُلٌ قَدْ صَلَّى وَهُوَ يَدْعُو وَيَقُولُ فِي دُعَائِهِ: اللَّهُمَّ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْمَنَّانُ بَدِيعُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَدْرُونَ بِمَ دَعَا اللَّهَ ؟ دَعَا اللَّهَ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ ثَابِتٍ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ، عَنْ أَنَسٍ.

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ مسجد میں آئے، ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا اور دعا مانگتے ہوئے وہ اپنی دعا میں کہہ رہا تھا: «اللهم لا إله إلا أنت المنان بديع السموات والأرض ذا الجلال والإکرام» اے اللہ! تیرے سوا کوئی اور معبود برحق نہیں ہے، تو ہی احسان کرنے والا ہے تو ہی آسمانوں اور زمین کا بنانے و پیدا کرنے والا ہے، اے بڑائی والے اور کرم کرنے والے (میری دعا قبول فرما) ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو اس نے کس چیز سے دعا کی ہے؟ اس نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعہ دعا کی ہے کہ جب بھی اس کے ذریعہ دعا کی جائے گی اللہ اسے قبول کرلے گا، اور جب بھی اس کے ذریعہ کوئی چیز مانگی جائے گی اسے عطا فرما دے گا ۔

Sayyidina Anas (RA) reported that when the Prophet ﷺ once came into the mosque, a man had offered his salah and was making supplication. He said: O Allah, there is no God but You, the Benefactor, Originator of the heavens and the earth, Owner of Majesty and Benevolence. The Prophet ﷺ said to his sahabah (RA) “Do you realise what he is supplicating Allah with? He has prayed to Allah with His Great name with which if one prays to Him, He responds and if one asks Him, He gives.” [Ahmed 13571] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (3858)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3544
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ٢- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی انس سے آئی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٣٥٨ (١٤٩٥)، سنن النسائی/السھو ٥٨ (١٣٠١)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ٩ (٣٨٥٨) (تحفة الأشراف: ٤٠٠، ٩٣٦)، و مسند احمد (٣/١٢٠، ١٥٨، ٢٤٥) (صحیح)