تسبیح، تکبیر، تہلیل اور تمحید کی فضیلت
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى الْجُهَنِيُّ، حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِجُلَسَائِهِ: أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَكْسِبَ أَلْفَ حَسَنَةٍ ؟ فَسَأَلَهُ سَائِلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ: كَيْفَ يَكْسِبُ أَحَدُنَا أَلْفَ حَسَنَةٍ ؟ قَالَ: يُسَبِّحُ أَحَدُكُمْ مِائَةَ تَسْبِيحَةٍ تُكْتَبُ لَهُ أَلْفُ حَسَنَةٍ وَتُحَطُّ عَنْهُ أَلْفُ سَيِّئَةٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہم نشینوں سے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی اس بات سے عاجز و ناکام رہے گا کہ ایک دن میں ہزار نیکیاں کما لے؟ آپ کے ہم نشینوں میں سے ایک پوچھنے والے نے پوچھا: ہم میں سے کوئی کس طرح ہزار نیکیاں کمائے گا؟ آپ نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی سو مرتبہ تسبیح پڑھے گا (یعنی سبحان اللہ) تو اس کے لیے ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی۔ اور اس کی ہزار برائیاں مٹا دی جائیں گی ۔
Sayyidina Sad (RA) reported that Allah’s Messenger said to those seated with him, “Is one of you unable to earn a thousand pious deeds?” One of them asked, “How can any of us earn a thousand pious deeds?” He said, “Let him glorify Allah (with a hundred times so that a thousand good deeds are credited to him and a thousand evil deeas are deleted from his record.’ [Muslim 2698, Ahmed 1496]