Sunan At-Tirmidhi 3408

دعاؤں کا بیان

3408Sunan At-Tirmidhi

سوتے وقت تسبیح، تکبیر، اور تحمید کہنے کے بارے میں

حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ السَّمَّانُ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: شَكَتْ إِلَيَّ فَاطِمَةُ مَجَلَ يَدَيْهَا مِنَ الطَّحِينِ: فَقُلْتُ لَوْ أَتَيْتِ أَبَاكِ فَسَأَلْتِهِ خَادِمًا، فَقَالَ: أَلَا أَدُلُّكُمَا عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنَ الْخَادِمِ، إِذَا أَخَذْتُمَا مَضْجَعَكُمَا تَقُولَانِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَأَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ مِنْ تَحْمِيدٍ وَتَسْبِيحٍ وَتَكْبِيرٍ ، وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عَلِيٍّ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ فاطمہ ؓ نے مجھ سے آٹا پیسنے کے سبب ہاتھوں میں آبلے پڑجانے کی شکایت کی، میں نے ان سے کہا: کاش آپ اپنے ابو جان کے پاس جاتیں اور آپ ﷺ سے اپنے لیے ایک خادم مانگ لیتیں، (وہ گئیں تو) آپ نے (جواب میں) فرمایا: کیا میں تم دونوں کو ایسی چیز نہ بتادوں جو تم دونوں کے لیے خادم سے زیادہ بہتر اور آرام دہ ہو، جب تم دونوں اپنے بستروں پر سونے کے لیے جاؤ تو ٣٣ بار الحمدللہ اور سبحان اللہ اور ٣٤ بار اللہ اکبر کہہ لیا کرو، اس حدیث میں ایک طویل قصہ ہے ١ ؎۔

Sayyidina Ali narrated: Fatimah complained to me of blisters on her hands from grinding the mill. I suggestd to her that she should go to her father and ask him for a maid-servant. He said (to her), “Shall I not guide you both to something better for both of you than a servant? When you both retire to your bed, make thirty-three, thirty-three and thirty-four times praise, glorification and extoling (of Allah by the words SubhanAllah 33 times AlhamduliLLAH 33 times and AllahuAkbar 34 times) There is a lengthier account in the hadith. [Ahmed 740,996]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3408
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث ابن عون کی روایت سے حسن غریب ہے، ٢- یہ حدیث کئی اور سندوں سے علی ؓ سے آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: وہ قصہ یہ ہے کہ کہیں سے مال غنیمت آیا تھا جس میں غلام اور باندیاں بھی تھیں، علی ؓ نے انہیں میں سے مانگنے کے لیے فاطمہ ؓ کو بھیجا، لیکن آپ نے فاطمہ ؓ کو لوٹا دیا اور رات میں ان کے گھر آ کر مذکورہ تسبیحات بتائیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فرض الخمس ٦ (٣١١٢)، والمناقب ٩ (٣٧٠٥)، والنفقات ٦ (٥٣٦١)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء ١٩ (٢٧٢٧)، سنن ابی داود/ الأدب ١٠٩ (٥٠٦٢) (تحفة الأشراف: ١٠٢٣٥)، و مسند احمد (١/٩٦، ١٣٦، ١٤٦)، وسنن الدارمی/الاستئذان ٥٢ (٢٧٢٧) (صحیح)