سوتے وقت تسبیح، تکبیر، اور تحمید کہنے کے بارے میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ السَّمَّانُ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَتْ فَاطِمَةُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْكُو مَجَلًا بِيَدَيْهَا فَأَمَرَهَا بِالتَّسْبِيحِ وَالتَّكْبِيرِ وَالتَّحْمِيدِ .
علی ؓ کہتے ہیں کہ (آپ کی بیٹی) فاطمہ ؓ نبی اکرم ﷺ کے پاس اپنے ہاتھوں میں آبلے پڑجانے کی شکایت کرنے آئیں تو آپ نے انہیں تسبیح (سبحان اللہ) تکبیر (اللہ اکبر) اور تحمید (الحمدللہ) پڑھنے کا حکم دیا۔
Sayyidina Ali (RA) narrated: Fatimah went to the Prophet ﷺ complaining about blisters on her hands. He commanded her to engage in tashbih, takbir and tahmid.
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3409
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح)