Sunan At-Tirmidhi 1558

جہاد کا بیان

1558Sunan At-Tirmidhi

جہاد میں شریک ذمی کے لئے حصہ۔

حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ الْفُضَيْلِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى بَدْرٍ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِحَرَّةِ الْوَبَرَةِ، لَحِقَهُ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ يَذْكُرُ مِنْهُ جُرْأَةً وَنَجْدَةً، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَسْتَ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ؟ ، قَالَ: لَا، قَالَ: ارْجِعْ، فَلَنْ أَسْتَعِينَ بِمُشْرِكٍ ، وَفِي الْحَدِيثِ كَلَامٌ أَكْثَرُ مِنْ هَذَا، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، قَالُوا: لَا يُسْهَمُ لِأَهْلِ الذِّمَّةِ وَإِنْ قَاتَلُوا مَعَ الْمُسْلِمِينَ الْعَدُوَّ، وَرَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: أَنْ يُسْهَمَ لَهُمْ إِذَا شَهِدُوا الْقِتَالَ مَعَ الْمُسْلِمِينَ. (حديث مرفوع)

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بدر کے لیے نکلے، جب آپ حرۃ الوبرہ ١ ؎ پہنچے تو آپ کے ساتھ ایک مشرک ہو لیا جس کی جرات و دلیری مشہور تھی نبی اکرم ﷺ نے اس سے پوچھا: تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہو؟ اس نے جواب دیا: نہیں، آپ نے فرمایا: لوٹ جاؤ، میں کسی مشرک سے ہرگز مدد نہیں لوں گا ٢ ؎۔

Sayyidah Ayshah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ went out to Badr till he was at Harat ul-Wabr and a man met him. He was one of the idolators and known for his bravery. The Prophet ﷺ asked him, ‘Do you believe in Allah and his Messenger ﷺ ?“ He said, ‘No’ So, he said, ‘Go away, for. I do not seek help of an idolator.” There are more words than in the hadith. [Ahmed 25212, Muslim 1817]

Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- حدیث میں اس سے بھی زیادہ کچھ تفصیل ہے، ٢- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٣- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ ذمی کو مال غنیمت سے حصہ نہیں ملے گا اگرچہ وہ مسلمانوں کے ہمراہ دشمن سے جنگ کریں، ٤- کچھ اہل علم کا خیال ہے کہ جب ذمی مسلمانوں کے ہمراہ جنگ میں شریک ہوں تو ان کو حصہ دیا جائے گا، ٥-