فضائل قرآن کا بیان۔

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 41 · 54 hadiths · Page 2 of 3

2894Sunan At-Tirmidhi

سورہ اخلاص اور سورت زلزال کی فضیلت کے متعلق

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا يَمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ الْعَنَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا زُلْزِلَتْ تَعْدِلُ نِصْفَ الْقُرْآنِ، وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ، وَقُلْ يأَيُّهَا الْكَافِرُونَ تَعْدِلُ رُبُعَ الْقُرْآنِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ يَمَانِ بْنِ الْمُغِيرَةِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «إذا زلزلت» (ثواب میں) آدھے قرآن کے برابر ہے، اور «قل هو اللہ أحد» تہائی قرآن کے برابر ہے اور «قل يا أيها الکافرون» چوتھائی قرآن کے برابر ہے ۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said: The surah (az-Zilzal) represents half of the Qur’an and surah (al-Ikhlas) one third of the Qur’an and surah (Al-Kafirun) represents one-fourth of the Quran.”

صحيح دون فضل زلزلت انظر الحديث (3070)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2894
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف یمان بن مغیرہ کی روایت ہی سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٥٩٧٠) (صحیح) (سند میں یمان بن مغیرہ ضعیف راوی ہیں، مگر { قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ } اور { قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} “ کی فضیلت شواہد کی بنا پر صحیح ہے )
2896Sunan At-Tirmidhi

سورہ اخلاص کی فضیلت کے متعلق

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنٍ امْرَأَةِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ فِي لَيْلَةٍ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ؟ مَنْ قَرَأَ اللَّهُ الْوَاحِدُ الصَّمَدُ فَقَدْ قَرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَقَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَنَسٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَلَا نَعْرِفُ أَحَدًا رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ أَحْسَنَ مِنْ رِوَايَةِ زَائِدَةَ، وَتَابَعَهُ عَلَى رِوَايَتِهِ إِسْرَائِيلُ، وَالْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، وَقَدْ رَوَى شُعْبَةُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنً الثِّقَاتِ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَاضْطَرَبُوا فِيهِ.

ابوایوب انصاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی اس بات سے بھی عاجز ہے کہ رات میں ایک تہائی قرآن پڑھ ڈالے؟ (آپ نے فرمایا) جس نے «الله الواحد الصمد» پڑھا (یعنی سورة الاخلاص پڑھی) اس نے تہائی قرآن پڑھی ١ ؎۔

Sayyidina Abu Ayyub (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Is any of you unable to recite one-third of the Qur’an in a night? He who recites Surah al-Ikhlas has recited indeed one-third of the Qur’an.” [Nisai 992]

صحيح، التعليق الرغيب (2 / 225)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2896
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - ہم کسی کو نہیں جانتے جس نے زائدہ کی روایت سے بہتر اسے روایت کیا ہو، اور ان کی روایت پر ان کی متابعت اسرائیل، فضیل بن عیاض نے کی ہے۔ شعبہ اور ان کے علاوہ کچھ دوسرے لوگوں نے یہ حدیث منصور سے روایت کی ہے اور ان سبھوں نے اس میں اضطراب کا سے کام لیا، ٣ - اس باب میں ابوالدرداء، ابو سعید خدری، قتادہ بن نعمان، ابوہریرہ، انس، ابن عمر اور ابومسعود ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اسے ایک تہائی قرآن پڑھنے کا ثواب ملا۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الافتتاح ٦٩ (تحفة الأشراف: ٣٥٠٢)، و مسند احمد (٥/٤١٩)، وسنن الدارمی/فضائل القرآن ٢٣ (٣٤٨٠) (صحیح) (سند میں ” امرأة “ ایک مبہم راویہ ہے، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے )
2897Sunan At-Tirmidhi

سورہ اخلاص کی فضیلت کے متعلق

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ ابْنِ حُنَيْنٍمَوْلًى لِآلِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ أَوْ مَوْلَى زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَقْبَلْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَجَبَتْ، قُلْتُ: وَمَا وَجَبَتْ ؟ قَالَ: الْجَنَّةُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَابْنُ حُنَيْنٍ هُوَ عُبَيْدُ بْنُ حُنَيْنٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ آیا، آپ نے وہاں ایک آدمی کو «قل هو اللہ أحد اللہ الصمد» پڑھتے ہوئے سنا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: واجب ہوگئی ۔ میں نے کہا: کیا چیز واجب ہوگئی؟ آپ نے فرمایا: جنت (واجب ہوگئی) ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) narrated: I was with the Prophet ﷺ . He heard a man recite Surah al-Ikhlas, so he said, “It has become obligatory.” I asked, “What has become obligatory”? He said, “Paradaise.”

صحيح، التعليق الرغيب أيضا (2 / 224)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2897
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اس حدیث کو صرف مالک بن انس کی روایت سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الافتتاح ٦٩ (٩٩٥) (تحفة الأشراف: ١٤١٢٧)، وط/القرآن ٦ (١٨)، و مسند احمد (٢/٥٣٦) (صحیح )
2898Sunan At-Tirmidhi

سورہ اخلاص کی فضیلت کے متعلق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ مَيْمُونٍ أَبُو سَهْلٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ قَرَأَ كُلَّ يَوْمٍ مِائَتَيْ مَرَّةٍ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ مُحِيَ عَنْهُ ذُنُوبُ خَمْسِينَ سَنَةً إِلَّا أَنْ يَكُونَ عَلَيْهِ دَيْنٌ ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنَامَ عَلَى فِرَاشِهِ فَنَامَ عَلَى يَمِينِهِ، ثُمَّ قَرَأَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ مِائَةَ مَرَّةٍ فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ يَقُولُ لَهُ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَا عَبْدِيَ ادْخُلْ عَلَى يَمِينِكَ الْجَنَّةَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ أَيْضًا عَنْ ثَابِتٍ.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص ہر دن دو سو مرتبہ «قل هو اللہ أحد» پڑھے گا تو قرض کے سوا اس کے پچاس سال تک کے گناہ مٹا دیئے جائیں گے ۔

Sayyidina Anas (RA) ibn Malik reported that the Prophet ﷺ said, “If anyone recites Surah al-Ikhlas every day two hundred times then his sins over fifty years will be effaced unless he has a debt payable.” It is reported from the Prophet ﷺ through the same sanad that he said, “If anyone intends to sleep on his bed and lies down on his right side and recites Surah al-Ikhlas a hundred times then, on the Day of Resurrection, the Blessed and Exalted Lord will say to him, “O My slave, enter Paradise by your right side.”

(حديث: من قرأ كل ... ) ضعيف، (حديث: من أراد أن ينام .... ) ضعيف (حديث: من قرأ كل ... )، الضعيفة (300)، المشکاة (2158) // ضعيف الجامع الصغير (5783) //، (حديث: من أراد أن ينام .... )، المشکاة (2159) // ضعيف الجامع الصغير (5389) // (حديث: من قرأ كل ... ) ضعيف، (حديث: من أراد أن ينام .... ) ضعيف (حديث: من قرأ كل ... )، الضعيفة (300)، المشکاة (2158) // ضعيف الجامع الصغير (5783) //، (حديث: من أراد أن ينام .... )، المشکاة (2159) // ضعيف الجامع الصغير (5389) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2898 انس ؓ اسی سند سے (یہ بھی) مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے بستر پر سونے کا ارادہ کرے اور دائیں کروٹ پر لیٹ جائے پھر سو مرتبہ «قل هو اللہ أحد» پڑھے تو جب قیامت کا دن آئے گا تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس سے کہے گا تو اپنی داہنی جانب سے جنت میں داخل ہوجا ۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2898
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث ثابت کی روایت سے جسے وہ انس سے روایت کرتے ہیں غریب ہے، ٢ - یہ حدیث اس سند کے علاوہ بھی دوسری سند سے ثابت سے مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٢٨١) (ضعیف) (سند میں حاتم بن میمون سخت ضعیف راوی ہے ) انظر ماقبلہ (ضعیف )
2900Sunan At-Tirmidhi

سورہ اخلاص کی فضیلت کے متعلق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: احْشُدُوا فَإِنِّي سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ، قَالَ: فَحَشَدَ مَنْ حَشَدَ، ثُمَّ خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ثُمَّ دَخَلَ، فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَإِنِّي سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ إِنِّي لَأَرَى هَذَا خَبَرًا جَاءَ مِنَ السَّمَاءِ، ثُمَّ خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي قُلْتُ: سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ، أَلَا وَإِنَّهَا تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَأَبُو حَازِمٍ الْأَشْجَعِيُّ اسْمُهُ سَلْمَانُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم سب اکٹھے ہوجاؤ کیونکہ میں تم سب کو تہائی قرآن پڑھ کر سنانے والا ہوں ، چناچہ آپ ﷺ کی اس پکار پر جو بھی پہنچ سکا جمع ہوگیا، پھر نبی اکرم ﷺ باہر تشریف لائے، سورة «قل هو اللہ أحد» پڑھی اور (حجرہ شریفہ میں) واپس چلے گئے۔ تو بعض صحابہ نے چہ میگوئیاں کرتے ہوئے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: میں عنقریب تمہیں تہائی قرآن پڑھ کر سناؤں گا، میرا خیال یہ ہے کہ ایسا اس وجہ سے ہوا ہے کہ آسمان سے کوئی خبر (کوئی اطلاع) آ گئی ہے، پھر نبی اکرم ﷺ کمرے سے باہر نکلے اور فرمایا: میں نے کہا تھا میں تمہیں تہائی قرآن پڑھ کر سناؤں گا تو سن لو یہ سورة «قل هو اللہ أحد» تہائی قرآن کے برابر ہے ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Assemble! I am going to recite to you one-third of the Qur’an.” Hence, those who could, assembled (in the mosque). Allah’s Messenger ﷺ came out and recited Surah al-Ikhlas and then returned (to his home). So, some of the people said to some others, “Allah’s Messenger ﷺ had said that he would recite to us one-third of the Qur’an. I perceive that there is some news from the heaven (so he has gone home). Then, the Prophet ﷺ came out and said, “I had told you that I would recite to you one-third of the Qur’an. Know! This represents one-third of the Qur’an.” [Muslim 812,Ahmed 9540]

صحيح، التعليق الرغيب (2 / 225)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2900
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٤٥ (٨١٢) (تحفة الأشراف: ١٣٤٤١)، و مسند احمد (٢/٤٢٩) (صحیح )
2899Sunan At-Tirmidhi

سورہ اخلاص کی فضیلت کے متعلق

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قل هو اللہ أحد» ایک تہائی قرآن کے برابر ہے ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The surah al-Ikllas represents one-third of the Qur’an.”

صحيح، ابن ماجة (3783)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2899
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأدب ٥٢ (٣٧٨٣) (تحفة الأشراف: ١٢٦٧١) (صحیح )
2901Sunan At-Tirmidhi

سورہ اخلاص کی فضیلت کے متعلق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يَؤُمُّهُمْ فِي مَسْجِدِ قُبَاءَ، فَكَانَ كُلَّمَا افْتَتَحَ سُورَةً يَقْرَأُ لَهُمْ فِي الصَّلَاةِ فَقَرَأَ بِهَا افْتَتَحَ بِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهَا، ثُمَّ يَقْرَأُ بِسُورَةٍ أُخْرَى مَعَهَا، وَكَانَ يَصْنَعُ ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، فَكَلَّمَهُ أَصْحَابُهُ فَقَالُوا: إِنَّكَ تَقْرَأُ بِهَذِهِ السُّورَةِ ثُمَّ لَا تَرَى أَنَّهَا تُجْزِيكَ حَتَّى تَقْرَأَ بِسُورَةٍ أُخْرَى، فَإِمَّا أَنْ تَقْرَأَ بِهَا وَإِمَّا أَنْ تَدَعَهَا وَتَقْرَأَ بِسُورَةٍ أُخْرَى، قَالَ: مَا أَنَا بِتَارِكِهَا، إِنْ أَحْبَبْتُمْ أَنْ أَؤُمَّكُمْ بِهَا فَعَلْتُ، وَإِنْ كَرِهْتُمْ تَرَكْتُكُمْ، وَكَانُوا يَرَوْنَهُ أَفْضَلَهُمْ وَكَرِهُوا أَنْ يَؤُمَّهُمْ غَيْرُهُ، فَلَمَّا أَتَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرُوهُ الْخَبَرَ فَقَالَ: يَا فُلَانُ، مَا يَمْنَعُكَ مِمَّا يَأْمُرُ بِهِ أَصْحَابُكَ وَمَا يَحْمِلُكَ أَنْ تَقْرَأَ هَذِهِ السُّورَةَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُحِبُّهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ حُبَّهَا أَدْخَلَكَ الْجَنَّةَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ ثَابِتٍ. وَرَوَى مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُحِبُّ هَذِهِ السُّورَةَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَقَالَ: إِنَّ حُبَّكَ إِيَّاهَا يُدْخِلُكَ الْجَنَّةَ ، حَدَّثَنَا بِذَلِكَ أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ الْأَشْعَثِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، بِهَذَا.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ مسجد قباء میں ایک انصاری شخص ان کی امامت کرتا تھا، اور اس کی عادت یہ تھی کہ جب بھی وہ ارادہ کرتا کہ کوئی سورت نماز میں پڑھے تو اسے پڑھتا لیکن اس سورت سے پہلے «قل هو اللہ أحد» پوری پڑھتا، پھر اس کے ساتھ دوسری سورت پڑھتا، اور وہ یہ عمل ہر رکعت میں کرتا تھا۔ تو اس کے ساتھیوں (نمازیوں) نے اس سے (اس موضوع پر) بات کی، انہوں نے کہا: آپ یہ سورت پڑھتے ہیں پھر آپ خیال کرتے ہیں کہ یہ تو آپ کے لیے کافی نہیں ہے یہاں تک کہ دوسری سورت (بھی) پڑھتے ہیں، تو آپ یا تو صرف اسے پڑھیں، یا اسے چھوڑ دیں اور کوئی دوسری سورت پڑھیں، تو انہوں نے کہا: میں اسے چھوڑنے والا نہیں، اگر آپ لوگ پسند کریں کہ میں اسے پڑھنے کے ساتھ ساتھ امامت کروں تو امامت کروں گا اور اگر آپ لوگ اس کے ساتھ امامت کرنا پسند نہیں کرتے تو میں آپ لوگوں (کی امامت) کو چھوڑ دوں گا۔ اور لوگوں کا حال یہ تھا کہ انہیں اپنوں میں سب سے افضل سمجھتے تھے اور ناپسند کرتے تھے کہ ان کے سوا کوئی دوسرا ان کی امامت کرے، چناچہ نبی اکرم ﷺ جب ان لوگوں کے پاس آئے تو انہوں نے آپ کو ساری بات بتائی۔ آپ نے فرمایا: اے فلاں! تمہارے ساتھی جو بات کہہ رہے ہیں، اس پر عمل کرنے سے تمہیں کیا چیز روک رہی ہے اور تمہیں کیا چیز مجبور کر رہی ہے کہ ہر رکعت میں تم اس سورت کو پڑھو؟ ، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اسے پسند کرتا ہوں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس کی محبت تمہیں جنت میں لے جائے گی ۔

Sayyidina Anas (RA) ibn Malik reported that a man of the ansar used to lead them in salah at the mosque Quba. When he was about to recite to them any surah in salah (after al-Fatihah), he would begin with Surah al-Ikhlas, and when he had finished with it, he would recite some other surah to them. This, he did in every rakaah. His friends said to him, ‘You recite this surah but do not feel that it is enough till you recite another surah So either recite it or omit it and recite another surah (but not both) He said, “I will not omit it If you like that I be your imam with that I will do that. But if you dislike it tben I will leave you “ They found him to be the best of them and disliked that anyone else should, lead them in salah. So, when the Prophet ﷺ came to them, they informed him of it. He said, “O man! what prevents you from observing what your friends ask you to do? And what brings you to recite this surah in every raka’ah”? He submitted, “O Messenger of Allah ﷺ ! I love it.” Allah’s Messenger ﷺ IiI said, “Your love for it wil indeed admit you to Paradaise.” [Bukhari 3775,Ahmed 12435]

حسن صحيح، التعليق الرغيب (2 / 224)، صفة الصلاة (85) حسن صحيح، التعليق الرغيب (2 / 224)، صفة الصلاة (85)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2901 انس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میں اس سورت کو پسند کرتا ہوں یعنی «قل هو اللہ أحد» کو آپ نے فرمایا: تمہاری اس کی یہی محبت و چاہت ہی تو تمہیں جنت میں پہنچائے گی ۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2901
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن غریب صحیح ہے اور یہ عبیداللہ بن عمر کی روایت سے ہے جسے وہ ثابت سے روایت کرتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ١٠٦ (٧٧٤/م) (تعلیقاً بقولہ: قال عبید اللہ بن عمر، عن ثابت، عن أنس) (تحفة الأشراف: ٤٥٧) (حسن صحیح ) تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٦٤/الف) (صحیح) (سند میں مبارک بن فضالہ تدلیس تسویہ کیا کرتے تھے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے )
2902Sunan At-Tirmidhi

معوذتین کی فضلیت کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، أَخْبَرَنِي قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيَّ آيَاتٍ لَمْ يُرَ مِثْلُهُنَّ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ إِلَى آخِرِ السُّورَةِ وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ إِلَى آخِرِ السُّورَةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو حَازِمٍ أَبُو قَيْسٍ بْنِ حَازِمٍ يُسَمَّى عَبْدُ عَوْفٍ، وَقَدْ رَأَى النَّبِيِّ وَرَوَى عَنْهُ.

عقبہ بن عامر جہنی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھ پر ایسی آیات نازل کی ہیں جیسی (کبھی) نہیں دیکھی گئی ہیں، وہ یہ ہیں: «قل أعوذ برب الناس» آخر سورة تک اور «قل أعوذ برب الفلق» آخر سورة تک ۔

Sayyidina Uqbah ibn Aamir Juhanni (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “Indeed, Allah has revealed to me verses, the like of which no one has seen (an-Naas) to the end of the surah and (al-Falaq) to the end of the surah.” [Ahmed 17305,Muslim 814,Abu Dawud 1462,Nisa i 953]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2902
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٤٦ (٨١٤)، سنن النسائی/الافتتاح ٤٦ (٩٥٥) (تحفة الأشراف: ٩٩٤٨)، و مسند احمد (٤/١٤٤، ١٥٠، ١٥١، ١٥٢) (صحیح )
2903Sunan At-Tirmidhi

معوذتین کی فضلیت کے بارے میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْرَأَ بِالْمُعَوِّذَتَيْنِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ ہر نماز کے بعد معوذتین پڑھا کروں۔

Sayyidina Uqbah ibn Aamir (RA) said, “Allah’s Messenger ﷺ commanded me to recite the Muawwidhatyn (surah al-Falaq and an-Naas) after every salah.” [Abu Dawud 1523,Nisai 1135] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، الصحيحة (1514)، صحيح أبي داود (1363)، التعليق علی ابن خزيمة (755)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2903
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٣٦١ (١٥٢٣)، سنن النسائی/السھو ٨٠ (١٣٣٧)، سنن ابی داود/ الاستعاذة ١ (٥٤٤١) (تحفة الأشراف: ٩٩٤٠)، و مسند احمد (٤/٢٠١) (صحیح )
2904Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَهِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْسَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهُوَ مَاهِرٌ بِهِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ، وَالَّذِي يَقْرَؤُهُ قَالَ هِشَامٌ: وَهُوَ شَدِيدٌ عَلَيْهِ ، قَالَ شُعْبَةُ: وَهُوَ عَلَيْهِ شَاقٌّ، فَلَهُ أَجْرَانِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور قرآن پڑھنے میں مہارت رکھتا ہے وہ بزرگ پاکباز فرشتوں کے ساتھ ہوگا، اور جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور بڑی مشکل سے پڑھ پاتا ہے، پڑھنا اسے بہت شاق گزرتا ہے تو اسے دہرا اجر ملے گا ١ ؎۔

Sayyidah Aisha (RA) is reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “He who recites the Qur’an and is adept at it will be with the honourable obedient recording (angels in heaven). And he who recites it while (Hisham’s version) it is difficult for him or (Shu’bah’s version) it is exacting on him, will get a double reward.” [Bukhari 4937,Nisai 244)

صحيح، صحيح أبي داود (1307)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2904
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: قرآن پڑھنے میں مہارت رکھنے والا ہو یعنی حافظ قرآن ہونے کے ساتھ قرآن کو تجوید اور اچھی آواز سے پڑھنے والا ہو، ایسا شخص نیکوکار بزرگ فرشتوں کے ساتھ ہوگا، اور جو مشقت کے ساتھ اٹک اٹک کر پڑھتا ہے اور اسے قرآن پڑھنے کا ذوق و شوق ہے تو اسے اس مشقت کی وجہ سے دگنا اجر ملے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر ٧٩ (٤٩٣٧)، صحیح مسلم/المسافرین ٣٨ (٧٩٨)، سنن ابی داود/ الصلاة ٣٤٩ (١٤٥٤)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٥٢ (٣٧٧٩) (تحفة الأشراف: ١٦١٠٢)، و مسند احمد (٦/٤٨، ٩٤، ١١٠، ١٩٢)، وسنن الدارمی/فضائل القرآن ١١ (٣٤١١) (صحیح )
2905Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَاذَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَاسْتَظْهَرَهُ فَأَحَلَّ حَلَالَهُ وَحَرَّمَ حَرَامَهُ أَدْخَلَهُ اللَّهُ بِهِ الْجَنَّةَ، وَشَفَّعَهُ فِي عَشْرَةٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ كُلُّهُمْ قَدْ وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِصَحِيحٍ وَحَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ.

علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے قرآن پڑھا اور اسے پوری طرح حفظ کرلیا، جس چیز کو قرآن نے حلال ٹھہرایا اسے حلال جانا اور جس چیز کو قرآن نے حرام ٹھہرایا اسے حرام سمجھا تو اللہ اسے اس قرآن کے ذریعہ جنت میں داخل فرمائے گا۔ اور اس کے خاندان کے دس ایسے لوگوں کے بارے میں اس (قرآن) کی سفارش قبول کرے گا جن پر جہنم واجب ہوچکی ہو گی ١ ؎۔

Sayyidina Ali ibn Abu Talib (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “He who reads the Qur’an and memorises it and observes as lawful what it declares to be lawful and as unlawful, what it declares to be unlawful (must know that) Allah will admit him to paradise and permit him to intercede for ten members of his household each of whom has become liable to go to the Fire.” [Ahmed 1267]

ضعيف جدا، ابن ماجة (216) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (38)، المشکاة (2141)، ضعيف الجامع الصغير (5761) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2905
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - اس کی سند صحیح نہیں ہے، ٣ - حفص بن سلیمان حدیث میں ضعیف قرار دیئے گئے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٦ (٢١٦) (تحفة الأشراف: ١٠١٤٦) (ضعیف جداً ) (سند میں حفص بن سلیمان ابو عمر قاری کوفی صاحب عاصم ابن ابی النجود قراءت میں امام ہیں، اور حدیث میں متروک )
2906Sunan At-Tirmidhi

قرآن کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، قَال: سَمِعْتُ حَمْزَةَ الزَّيَّاتَ، عَنْ أَبِي الْمُخْتَارِ الطَّائِيِّ، عَنِ ابْنِ أَخِي الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ، عَنِ الْحَارِثِ، قَالَ: مَرَرْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَإِذَا النَّاسُ يَخُوضُونَ فِي الْأَحَادِيثِ، فَدَخَلْتُ عَلَى عَلِيٍّ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَلَا تَرَى أَنَّ النَّاسَ قَدْ خَاضُوا فِي الْأَحَادِيثِ، قَالَ: وَقَدْ فَعَلُوهَا ؟، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: أَمَا إِنِّي قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: أَلَا إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ، فَقُلْتُ: مَا الْمَخْرَجُ مِنْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: كِتَابُ اللَّهِ فِيهِ نَبَأُ مَا كَانَ قَبْلَكُمْ، وَخَبَرُ مَا بَعْدَكُمْ، وَحُكْمُ مَا بَيْنَكُمْ، وَهُوَ الْفَصْلُ لَيْسَ بِالْهَزْلِ، مَنْ تَرَكَهُ مِنْ جَبَّارٍ قَصَمَهُ اللَّهُ، وَمَنِ ابْتَغَى الْهُدَى فِي غَيْرِهِ أَضَلَّهُ اللَّهُ، وَهُوَ حَبْلُ اللَّهِ الْمَتِينُ، وَهُوَ الذِّكْرُ الْحَكِيمُ، وَهُوَ الصِّرَاطُ الْمُسْتَقِيمُ، هُوَ الَّذِي لَا تَزِيغُ بِهِ الْأَهْوَاءُ وَلَا تَلْتَبِسُ بِهِ الْأَلْسِنَةُ، وَلَا يَشْبَعُ مِنْهُ الْعُلَمَاءُ وَلَا يَخْلَقُ عَلَى كَثْرَةِ الرَّدِّ، وَلَا تَنْقَضِي عَجَائِبُهُ، هُوَ الَّذِي لَمْ تَنْتَهِ الْجِنُّ إِذْ سَمِعَتْهُ حَتَّى قَالُوا: إِنَّا سَمِعْنَا قُرْءَانًا عَجَبًا 1 يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ سورة الجن آية 1 ـ 2، مَنْ قَالَ بِهِ صَدَقَ، وَمَنْ عَمِلَ بِهِ أُجِرَ، وَمَنْ حَكَمَ بِهِ عَدَلَ، وَمَنْ دَعَا إِلَيْهِ هَدَى إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ خُذْهَا إِلَيْكَ يَا أَعْوَرُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَإِسْنَادُهُ مَجْهُولٌ وَفِي الْحَارِثِ مَقَالٌ.

حارث اعور کہتے ہیں کہ مسجد میں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ لوگ گپ شپ اور قصہ کہانیوں میں مشغول ہیں، میں علی ؓ کے پاس پہنچا۔ میں نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ دیکھ نہیں رہے ہیں کہ لوگ لایعنی باتوں میں پڑے ہوئے ہیں؟۔ انہوں نے کہا: کیا واقعی وہ ایسا کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: مگر میں نے تو رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: عنقریب کوئی فتنہ برپا ہوگا ، میں نے کہا: اس فتنہ سے بچنے کی صورت کیا ہوگی؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: کتاب اللہ، اس میں تم سے پہلے کے لوگوں اور قوموں کی خبریں ہیں اور بعد کے لوگوں کی بھی خبریں ہیں، اور تمہارے درمیان کے امور و معاملات کا حکم و فیصلہ بھی اس میں موجود ہے، اور وہ دو ٹوک فیصلہ کرنے والا ہے، ہنسی مذاق کی چیز نہیں ہے۔ جس نے اسے سرکشی سے چھوڑ دیا اللہ اسے توڑ دے گا اور جو اسے چھوڑ کر کہیں اور ہدایت تلاش کرے گا اللہ اسے گمراہ کر دے گا۔ وہ (قرآن) اللہ کی مضبوط رسی ہے یہ وہ حکمت بھرا ذکر ہے، وہ سیدھا راستہ ہے، وہ ہے جس کی وجہ سے خواہشیں ادھر ادھر نہیں بھٹک پاتی ہیں، جس کی وجہ سے زبانیں نہیں لڑکھڑاتیں، اور علماء کو (خواہ کتنا ہی اسے پڑھیں) آسودگی نہیں ہوتی، اس کے باربار پڑھنے اور تکرار سے بھی وہ پرانا (اور بےمزہ) نہیں ہوتا۔ اور اس کی انوکھی (و قیمتی) باتیں ختم نہیں ہوتیں، اور وہ قرآن وہ ہے جسے سن کر جن خاموش نہ رہ سکے بلکہ پکار اٹھے: ہم نے ایک عجیب (انوکھا) قرآن سنا ہے جو بھلائی کا راستہ دکھاتا ہے، تو ہم اس پر ایمان لے آئے، جو اس کے مطابق بولے گا اس کے مطابق عمل کرے گا اسے اجر و ثواب دیا جائے گا۔ اور جس نے اس کے مطابق فیصلہ کیا اس نے انصاف کیا اور جس نے اس کی طرف بلایا اس نے اس نے سیدھے راستے کی ہدایت دی۔ اعور! ان اچھی باتوں کا خیال رکھو ۔

Harith al-A’war (RA) narrated: I passed by the mosque and found the people plunged in to chatter. I went to Ali (RA) and said to him, “O Commander of the Believers! Have you not observed that people are engaged in chatter”? He asked me if that was so and I said, “Yes.” He said, “Indeed,. I had heard Allah’s Messenger ﷺ say that there would soon come a fitnah (trial) and I asked him how we could come out of it. He said that it was the Book of Allah which contains an account of those before us and news of those who will follow us and commands on what we encounter. It is an unmistakable judgement, not a jest. If any of the despotic abandons it then Allah will diride him ibto pieces. And, if anyone seeks guidance in something other than it, then Allah will leave him astray. It is Allah’s (firm) strong rope. It is the wise reminder. It is the straight path. It is whereby desires cannot divert and tongues cannot be confused. The scholars can never be satiated with it. It does not become stale by much repetition and its wonders are never exhausted. It is the Book about which the jinn were not shy to say on hearing it: “We have really heard a wonderful Recital! It gives guidance to the Right, and we have believed therein” (Al-Quran 72:1-2) He who confirms it,. speaks the truth, and he who abides by it (in action), is rewarded, and he who judges by it, is just, and he who invites to it, is guided on the straight path. Take it to yourself, O A’war!” --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف، المشکاة (2138 / التحقيق الثاني)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2906
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - اس کی سند مجہول ہے، ٣ - حارث کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٠٠٥٧) (ضعیف) (سند میں حارث الأعور ضعیف راوی ہے، اور ابن أخی الحارث مجہول )
2907Sunan At-Tirmidhi

قرآن کی تعلیم کی فضیلت کے متعلق

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، قَال: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَيُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ، قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: فَذَاكَ الَّذِي أَقْعَدَنِي مَقْعَدِي هَذَا، وَعَلَّمَ الْقُرْآنَ فِي زَمَنِ عُثْمَانَ حَتَّى بَلَغَ الْحَجَّاجَ بْنَ يُوسُفَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عثمان بن عفان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور سکھلائے ، ابوعبدالرحمٰن سلمی (راوی حدیث) کہتے ہیں: یہی وہ چیز ہے جس نے مجھے اپنی اس نشست گاہ (مسند) پر بٹھا رکھا ہے، عثمان کے زمانہ میں قرآن کی تعلیم دینی شروع کی (اور دیتے رہے) یہاں تک حجاج بن یوسف کے زمانہ میں یہ سلسلہ چلتا رہا ۔

Sayyidina Uthman ibn Affan (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The best of you is he who learns the Qur’an and teaches it.” Abu Abdur Rahman said, “This is what made me sit on this, my seat.” He began to learn the Qur’an during the times of Uthman till the times of Hajjaj ibn Yusuf. [Ahmed 412,Bukhari 5027,Abu Dawud 1452, Ibn e Majah 212]

صحيح، ابن ماجة (211)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2907
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل القرآن ٢١ (٥٠٢٧)، سنن ابی داود/ الصلاة ٣٤٩ (١٤٥٢)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٦ (٢١١) (تحفة الأشراف: ٩٨١٣) (صحیح )
2908Sunan At-Tirmidhi

قرآن کی تعلیم کی فضیلت کے متعلق

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرُكُمْ أَوْ أَفْضَلُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، هَكَذَا رَوَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُثْمَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسُفْيَانُ لَا يَذْكُرُ فِيهِ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، وَقَدْ رَوَى يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سُفْيَانَ، وَشُعْبَةَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُثْمَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، وَشُعْبَةَ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ: وَهَكَذَا ذَكَرَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، وَشُعْبَةَ غير مرة، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْعُثْمَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَأَصْحَابُ سُفْيَانَ لَا يَذْكُرُونَ فِيهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَهُوَ أَصَحُّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ زَادَ شُعْبَةُ فِي إِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثِ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ، وَكَأَنَّ حَدِيثَ سُفْيَانَ أَصَحُّ، قَالَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: مَا أَحَدٌ يَعْدِلُ عِنْدِي شُعْبَةَ، وَإِذَا خَالَفَهُ سُفْيَانُ أَخَذْتُ بِقَوْلِ سُفْيَانَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: سَمِعْت أَبَا عَمَّارٍ يَذْكُرُ، عَنْ وَكِيعٍ، قَالَ: قَالَ شُعْبَةُ: سُفْيَانُ أَحْفَظُ مِنِّي، وَمَا حَدَّثَنِي سُفْيَانُ عَنْ أَحَدٍ بِشَيْءٍ فَسَأَلْتُهُ إِلَّا وَجَدْتُهُ كَمَا حَدَّثَنِي، وَفِي الْبَابِ، عَنْ عَلِيٍّ وَسَعْدٍ.

عثمان بن عفان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سب سے بہتر یا تم میں سب سے افضل وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور سکھلائے ۔

Sayyidina Uthman ibn Affan (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The best of you or, the most excellent of you is he who learns the Qur’an and teaches it.”

صحيح انظر ما قبله (2907) صحيح انظر ما قبله (2907)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2908 محمد بن بشار کہتے ہیں: ایسا ہی یحییٰ بن سعید نے اس روایت کو سفیان اور شعبہ کے واسطہ سے، ایک نہیں کئی بار ذکر کیا، اور ان دونوں نے بسند «عن علقمة بن مرثد عن سعد بن عبيدة عن أبي عبدالرحمٰن عن عثمان عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی، ٦ - محمد بن بشار کہتے ہیں: اصحاب سفیان اس روایت میں «عن سفيان عن سعد بن عبيدة» کا ذکر نہیں کرتے ہیں۔ محمد بن بشار کہتے ہیں۔ اور یہ زیادہ صحیح ہے، ٧ - شعبہ نے اس حدیث کی سند میں سعد بن عبیدہ کا اضافہ کیا ہے تو ان سفیان کی حدیث (جو شعبہ کے ہم سبق ہیں) زیادہ صحیح ہے۔ علی بن عبداللہ (ابن المدینی) کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید نے کہا کہ میرے نزدیک شعبہ کے برابر کوئی (ثقہ) نہیں ہے۔ اور جب سفیان ان کی مخالفت کرتے ہیں تو میں سفیان کی بات لے لیتا ہوں، ٨ - میں نے ابوعمار کو وکیع کے واسطہ سے ذکر کرتے ہوئے سنا ہے: شعبہ نے کہا: سفیان مجھ سے زیادہ قوی حافظہ والے ہیں۔ (اور اس کی دلیل یہ ہے کہ) مجھ سے سفیان نے کسی شخص سے کوئی چیز روایت کی تو میں نے اس شخص سے وہ چیز (براہ راست) پوچھی تو میں نے ویسا ہی پایا جیسا سفیان مجھ سے بیان کیا تھا، ٩ - اس باب میں علی اور سعد سے بھی احادیث آئی ہیں۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2908
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - عبدالرحمٰن بن مہدی اور کئی دوسروں نے اسی طرح بسند «سفيان الثوري عن علقمة بن مرثد عن أبي عبدالرحمٰن عن عثمان عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے، ٣ - سفیان اس کی سند میں سعد بن عبیدہ کا ذکر نہیں کرتے ہیں، ٤ - یحییٰ بن سعید قطان نے یہ حدیث بسند «سفيان وشعبة عن علقمة بن مرثد عن سعد بن عبيدة عن أبي عبدالرحمٰن عن عثمان عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی۔ ہم سے بیان کیا اسے محمد بن بشار نے، وہ کہتے ہیں: ہم سے بیان کیا یحییٰ بن سعید نے سفیان اور شعبہ کے واسطہ سے۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح) انظر ماقبلہ (صحیح )
2909Sunan At-Tirmidhi

قرآن کی تعلیم کی فضیلت کے متعلق

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق.

علی ابن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور سکھلائے ۔

Sayyidina Ali (RA) ibn Abu Talib reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The best of you is he who learns the Qur’an and teaches it.”

صحيح بما قبله (2908)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2909
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس حدیث کو ہم علی بن ابی طالب کی روایت سے جسے وہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں صرف عبدالرحمٰن بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٠٢٩٩) (صحیح) (سند میں عبد الرحمن بن اسحاق کوفی ضعیف راوی ہیں، اور نعمان بن سعد لین الحدیث، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے )
2910Sunan At-Tirmidhi

قرآن میں سے ایک حرف پڑھنے کا اجر

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، قَال: سَمِعْتُمُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ الْقُرَظِيَّ، قَال: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فَلَهُ بِهِ حَسَنَةٌ، وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، لَا أَقُولُ الم حَرْفٌ، وَلَكِنْ أَلِفٌ حَرْفٌ وَلَامٌ حَرْفٌ وَمِيمٌ حَرْفٌ وَيُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَرَوَاهُ أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، رَفَعَهُ بَعْضُهُمْ وَوَقَفَهُ بَعْضُهُمْ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، سَمِعْت قُتَيْبَةَ بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ: بَلَغَنِي أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ الْقُرَظِيَّ وُلِدَ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ يُكْنَى أَبَا حَمْزَةَ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھا اسے اس کے بدلے ایک نیکی ملے گی، اور ایک نیکی دس گنا بڑھا دی جائے گی، میں نہیں کہتا «الم» ایک حرف ہے، بلکہ «الف» ایک حرف ہے، «لام» ایک حرف ہے اور «میم» ایک حرف ہے ۔

Sayyidina Abdullah Ibn Mas’ud (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ ru.’ said, “If anyone’ recites a letter from the Book of Allah then for him is a piety. And a piety is rewarded tenfold. I do not say that ‘alif-laam-meem’ is one letter. But ‘alif’ is a letter, ‘laam’ is a letter and ‘meem’ is a letter.”

صحيح تخريج الطحاوية (139)، المشکاة (2137)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2910
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی ابن مسعود سے روایت کی گئی ہے، ٢ - اس حدیث کو ابوالاحوص نے ابن مسعود سے روایت کیا ہے۔ بعض نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے اور بعض نے اسے ابن مسعود سے موقوفاً روایت کیا ہے، ٣ - یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٩٥٤٧) (صحیح )
2915Sunan At-Tirmidhi

قرآن میں سے ایک حرف پڑھنے کا اجر

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالصَّمَدِ بْنُ عَبْدِالْوَارِثِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:يَجِيئُ الْقُرْآنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ حَلِّهِ، فَيُلْبَسُ تَاجَ الْكَرَامَةِ، ثُمَّ يَقُولُ: يَا رَبِّ زِدْهُ؛ فَيُلْبَسُ حُلَّةَ الْكَرَامَةِ، ثُمَّ يَقُولُ: يَا رَبِّ ارْضَ عَنْهُ، فَيَرْضَى عَنْهُ، فَيُقَالُ لَهُ: اقْرَأْ وَارْقَ، وَتُزَادُ بِكُلِّ آيَةٍ حَسَنَةً. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قرآن قیامت کے دن پیش ہوگا پس کہے گا: اے میرے رب! اسے (یعنی صاحب قرآن کو) جوڑا پہنا، تو اسے کرامت (عزت و شرافت) کا تاج پہنایا جائے گا۔ پھر وہ کہے گا: اے میرے رب! اسے اور دے، تو اسے کرامت کا جوڑا پہنایا جائے گا۔ وہ پھر کہے گا: اے میرے رب اس سے راضی و خوش ہوجا، تو وہ اس سے راضی و خوش ہوجائے گا۔ اس سے کہا جائے گا پڑھتا جا اور چڑھتا جا، تیرے لیے ہر آیت کے ساتھ ایک نیکی کا اضافہ کیا جاتا رہے گا ۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that the Prophet ﷺ said: On the Day of resurrection the man of the Qur’an (who is devoted to it deeply) will come and the Qur’an will say, “O Lord! Let him have a pair of garments.” He will be made to wear a crown of honour. It will say, “O Lord, increase it.” So he will be made to wear a robe of honour. Then it will say, “O Lord, be pleased with him.” So, He will be pleased with him. It will be said, “Recite and ascend (a rank)”, with every verse a piety will be added.

حسن، التعليق الرغيب (2 / 207)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2915
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٢٨١١)، و مسند احمد (٢/٤٧١)، وسنن الدارمی/فضائل القرآن (٣٣٤٩) (حسن )
2911Sunan At-Tirmidhi(2912)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خُنَيْسٍ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَذِنَ اللَّهُ لِعَبْدٍ فِي شَيْءٍ أَفْضَلَ مِنْ رَكْعَتَيْنِ يُصَلِّيهِمَا، وَإِنَّ الْبِرَّ لَيُذَرُّ عَلَى رَأْسِ الْعَبْدِ مَا دَامَ فِي صَلَاتِهِ، وَمَا تَقَرَّبَ الْعِبَادُ إِلَى اللَّهِ بِمِثْلِ مَا خَرَجَ مِنْهُ ، قَالَ أَبُو النَّضْرِ: يَعْنِي الْقُرْآنَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَبَكْرُ بْنُ خُنَيْسٍ قَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ ابْنُ الْمُبَارَكِ وَتَرَكَهُ فِي آخِرِ أَمْرِهِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلٌ. حَدَّثَنَا بِذَلِكَ إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكُمْ لَنْ تَرْجِعُوا إِلَى اللَّهِ بِأَفْضَلَ مِمَّا خَرَجَ مِنْهُ ، يَعْنِي الْقُرْآنَ.

ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کسی بندے کی کوئی بات اتنی زیادہ توجہ اور ہمہ تن گوش ہو کر نہیں سنتا جتنی دو رکعتیں پڑھنے والے بندے کی سنتا ہے، اور بندہ جب تک نماز پڑھ رہا ہوتا ہے اس کے سر پر نیکی کی بارش ہوتی رہتی ہے، اور بندے اللہ عزوجل سے (کسی چیز سے) اتنا قریب نہیں ہوتے جتنا اس چیز سے جو اس کی ذات سے نکلی ہے ، ابونضر کہتے ہیں: آپ اس قول سے قرآن مراد لیتے تھے۔

Sayyidina AbuUmamah (RA) reproted that Allah’s Messenger ﷺ said, “Allah does not listen to anything from His slave more than the two raka’at he prays. And, piety is sprinkled on the slave’s head as long as he is salah. And the slaves do not gain nearness to Allah, the Majestic, the Glorious, like they get through that which comes from Him.” Abu an-Nadr said, “It means the Qur’an.” [Ahmed 22369]

ضعيف، المشکاة (1332)، الضعيفة (1957) // ضعيف الجامع الصغير (4993) // ضعيف الضعيفة أيضاصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2911 جبیر بن نفیر کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اللہ کی طرف رجوع کرنے کے لیے قرآن سے بڑھ کر کوئی اور ذریعہ نہیں پاسکتے ۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2912
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے اور ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - بکر بن خنیس کے بارے میں ابن مبارک نے کلام کیا ہے اور آخر امر یعنی بعد میں (ان کے ضعیف ہونے کی وجہ سے) ان سے روایت کرنی چھوڑ دی تھی، ٣ - یہ حدیث زید بن ارطاۃ کے واسطہ سے جبیر بن نفیر سے مروی ہے انہوں نے نبی کریم ﷺ سے مرسل طریقہ سے روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٨٦٣)، وانظر مسند احمد (٥/٢٦٨) (ضعیف) (سند میں بکر بن خنیس سے بہت ہی غلطیاں ہوئی ہیں، اور لیث بن ابی سلیم ضعیف راوی ہیں) سنن ابی داود/ المراسیل (١٠٣) (تحفة الأشراف: ١٨٤٧١) (ضعیف) (جبیر بن نفیر تابعی ہیں، اس لیے یہ روایت مرسل ہے، تراجع الالبانی ١٩٣ )
2913Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الَّذِي لَيْسَ فِي جَوْفِهِ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ كَالْبَيْتِ الْخَرِبِ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ شخص جس کے دل میں قرآن کا کچھ حصہ یاد نہ ہو وہ ویران گھر کی طرح ہے ۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “He who has nothing of the Qur’an in his heart is like a deserted home.” [Ahmed 1947]

ضعيف، المشکاة (2135)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2913
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٥٤٠٤) (ضعیف )
2914Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، وَأَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرٍّ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ: اقْرَأْ وَارْتَقِ وَرَتِّلْ كَمَا كُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْيَا، فَإِنَّ مَنْزِلَتَكَ عِنْدَ آخِرِ آيَةٍ تَقْرَأُ بِهَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.

عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: (قیامت کے دن) صاحب قرآن سے کہا جائے گا: (قرآن) پڑھتا جا اور (بلندی کی طرف) چڑھتا جا۔ اور ویسے ہی ٹھہر ٹھہر کر پڑھ جس طرح تو دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر ترتیل کے ساتھ پڑھتا تھا۔ پس تیری منزل وہ ہوگی جہاں تیری آخری آیت کی تلاوت ختم ہوگی ١ ؎۔

Sayyidina Abdullah ibn Amr (RA) reported that the Prophet ﷺ said: The man of the Qur’an (who has memorised it) will be told, “Recite and ascend. Recite gently with pauses as you used to recite gently in the world. Indeed your goal is at the last verse that you will read.” [Abu Dawud 1464]

حسن صحيح، المشکاة (2134)، التعليق الرغيب حسن صحيح، المشکاة (2134)، التعليق الرغيبصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2914 بندار نے ہم سے بطریق: «عبدالرحمٰن بن مهدي عن سفيان عن عاصم» اسی جیسی حدیث بیان کی۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2914
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ قرآن پڑھنے کی بہت بڑی فضیلت ہے اور جسے قرآن جس قدر یاد ہوگا وہ اپنے پڑھنے کے مطابق جنت میں مقام حاصل کرے گا، یعنی جتنا قرآن یاد ہوگا اسی حساب سے وہ ترتیل سے پڑھتا جائے گا اور جنت کے درجات پر فائز ہوتا چلا جائے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٣٥٥ (١٤٦٤) (تحفة الأشراف: ٨٦٢٧)، و مسند احمد (٢/١٩٢) (حسن) انظر ماقبلہ (حسن )