انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت کے نیک اعمال کے اجر و ثواب میرے سامنے پیش کیے گئے یہاں تک کہ اس تنکے کا ثواب بھی پیش کیا گیا جسے آدمی مسجد سے نکال کر پھینک دیتا ہے۔ اور مجھ پر میری امت کے گناہ (بھی) پیش کیے گئے تو میں نے کوئی گناہ اس سے بڑھ کر نہیں دیکھا کہ کسی کو قرآن کی کوئی سورة یا کوئی آیت یاد ہو اور اس نے اسے بھلا دیا ہو ۔
Sayyidina Anas (RA) ibn Malik reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The rewards of my ummah were presented to me, so much so that a particle of dust that a man removed from the mosque. And, the sins of my ummah were presented to me and I did not see a sin greater than anyone forgetting a surah of the Qur’an or a verse that he was given (meaning, was enabled to memorise).” --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف، المشکاة (720)، الروض النضير (72)، ضعيف أبي داود (71) // عندنا برقم (88 / 461)، ضعيف الجامع الصغير (3700) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2916
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٣ - میں نے اس حدیث کا تذکرہ محمد بن اسماعیل بخاری سے کیا تو اس کو وہ پہچان نہ سکے اور انہوں نے اس حدیث کو غریب قرار دیا، ٤ - محمد بن اسماعیل بخاری نے یہ بھی کہا کہ میں نہیں جانتا کہ مطلب بن عبداللہ کی کسی صحابی رسول سے سماع ثابت ہے، سوائے مطلب کے اس قول کے کہ مجھ سے اس شخص نے روایت کی ہے جو نبی کریم ﷺ کی حاضرین میں موجود تھا، ٥ - میں نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن (دارمی) کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ہم مطلب کا سماع کسی صحابی رسول سے نہیں جانتے، ٦ - عبداللہ (دارمی یہ بھی) کہتے ہیں: علی بن مدینی اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ مطلب نے انس سے سنا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ١٦ (٤٦١) (تحفة الأشراف: ١٥٩٢) (ضعیف) (سند میں مطلب اور ابن جریج دونوں مدلس راوی ہیں اور عنعنہ سے روایت ہے، نیز دونوں (مطلب اور انس) کے درمیان سند میں انقطاع بھی ہے، ملاحظہ ہو ضعیف أبی داود ١/١٦٤ )
عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ وہ ایک قصہ گو کے پاس سے گزرے جو قرآن پڑھ رہا تھا (پڑھ کر) وہ مانگنے لگا۔ تو انہوں نے «إنا لله وإنا إليه راجعون» پڑھا، پھر کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے ہوئے سنا ہے جو قرآن پڑھے تو اسے اللہ ہی سے مانگنا چاہیئے۔ کیونکہ عنقریب کچھ لوگ ایسے آئیں گے جو قرآن پڑھ پڑھ کر لوگوں سے مانگیں گے۔
It is reported about Imran ibn Husayn (RA) that he passed by a reciter of the Qur’an. He recited and begged of men, so Imran ibn Husayn said ‘Inna lillahi wa inna alaihi ra’jioun’ and he narrated (a hadith) that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, “He who recites the Qur’an must petition Allah with it, for, soon such people will come who will recite the Qur’an and beg of people.” [Ahmed 19906]
حسن، الصحيحة (257)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2917
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، اس کی سند ویسی قوی نہیں ہے، ٢ - محمود بن غیلان کہتے ہیں: یہ خیثمہ بصریٰ ہیں جن سے جابر جعفی نے روایت کی ہے۔ یہ خیثمہ بن عبدالرحمٰن نہیں ہیں۔ اور خیثمہ شیخ بصریٰ ہیں ان کی کنیت ابونصر ہے اور انہوں نے انس بن مالک سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں۔ اور جابر جعفی نے بھی خیثمہ سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٠٧٩٥)، وانظر مسند احمد (٤/٤٣٢، ٤٣٦، ٤٣٩) (حسن) (سند میں کلام ہے، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو الصحیحة رقم ٢٥٧ )
صہیب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے قرآن کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال جانا وہ قرآن پر ایمان نہیں رکھتا ۔
Sayyidina Suhaib (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “He has not believed in the Qur’an who made lawful that which the Qur’an declares to be unlawful.”
ضعيف، المشکاة (2203 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (4975) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2918
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس حدیث کی سند زیادہ قوی نہیں ہے، وکیع کی روایت میں وکیع سے اختلاف کیا گیا ہے، ٢ - محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: ابوفروہ کہتے ہیں: یزید بن سنان رہاوی کی روایت لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ سوائے اس روایت کے جسے ان کے بیٹے محمد ان سے روایت کرتے ہیں، اس لیے کہ وہ ان سے مناکیر روایت کرتے ہیں، ٣ - محمد بن یزید بن سنان نے اپنے باپ سے یہ حدیث بھی روایت کی ہے اور اس کی سند میں اتنا اضافہ کیا ہے: «عن مجاهد عن سعيد بن المسيب عن صهيب» محمد بن یزید کی روایت کی کسی نے متابعت نہیں کی، وہ ضعیف ہیں، اور ابوالمبارک ایک مجہول شخص ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٩٧٢) (ضعیف) (سند میں ابوالمبارک مجہول راوی ہے )
عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: بلند آواز سے قرآن پڑھنے والا ایسا ہے جیسا کھلے عام صدقہ دینے والا، اور آہستگی و خاموشی سے قرآن پڑھنے والا ایسا ہے جیسے چھپا کر صدقہ دینے والا ۔
Sayyidina Uqbah ibn Aamir (RA) reported that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, “One who recites the Qur’an in an audible voice is like one who gives sadaqah openely and one who recites the Qur’an inaudibly is like one who gives sadaqah in secret.” (Abu Dawud 1333,Nisai 1659,Ahmed 17373] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، المشکاة (2202 / التحقيق الثاني)، صحيح أبي داود (1204)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2919
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اس حدیث کا معنی و مطلب یہ ہے کہ جو شخص آہستگی سے قرآن پڑھتا ہے وہ اس شخص سے افضل ہے جو بلند آواز سے قرآن پڑھتا ہے، اس لیے کہ اہل علم کے نزدیک چھپا کر صدقہ دینا برسر عام صدقہ دینے سے افضل ہے۔ مفہوم یہ ہے کہ اہل علم کے نزدیک اس سے آدمی عجب (خود نمائی) سے محفوظ رہتا ہے۔ کیونکہ جو شخص چھپا کر عمل کرتا ہے اس کے عجب میں پڑنے کا اتنا خطرہ نہیں ہے جتنا اس کے کھلے عام عمل کرنے میں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٣١٥ (١٣٣٣)، سنن النسائی/قیام اللیل ٢٤ (١٦٦٤)، والزکاة ٦٨ (٢٥٦٠) (تحفة الأشراف: ٩٩٤٩)، و مسند احمد (٤/١٥١، ١٥٨) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب تک سورة بنی اسرائیل اور سورة الزمر پڑھ نہ لیتے بستر پر سوتے نہ تھے۔
Abu Lubabah reported that Sayyidah Aisha (RA) said that the Prophet ﷺ did not go to sleep before he had recited (the surah) Bani Isra’il (a! Isra, # 17) and az-Zumar (# 39)
صحيح، الصحيحة (641)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2920
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ابولبابہ ایک بصریٰ شیخ ہیں، حماد بن زید نے ان سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں، کہا جاتا ہے کہ ان کا نام مروان ہے، یہ بات مجھے محمد بن اسماعیل بخاری نے کتاب التاریخ میں بتائی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ٢٠٥ (٧١٢)، ویأتي عند المؤلف في الدعوات (برقم ٣٤٠٥) (تحفة الأشراف: ١٧٦٠١) (صحیح )
عرباض بن ساریہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سونے سے پہلے مسبحات پڑھتے تھے ١ ؎ آپ فرماتے تھے: ان میں ایک آیت ایسی ہے جو ہزار آیتوں سے بہتر ہے ۔
Sayyidina Irbad ibn Sariyah (RA) reported that the Prophet ﷺ used to recite the ‘Musabihat’ (Surahs starting with ‘Sabbaha’ ‘Yussabihu’) before going to sleep. He said, “In them there is a verse that is better than a thousand verses.” [Abu Dawud 5057,Nisai 719,Ahmed 17160] --------------------------------------------------------------------------------
حسنصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2921
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مسبحات وہ سورتیں ہیں جو سبحان اللہ، سبح اور یسبح سے شروع ہوتی ہیں، وہ یہ ہیں: بنی اسرائیل، الحدید، الحشر، الجمعہ، الصف، التغابن، اور الاعلیٰ۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ١٠٧ (٥٠٥٧) (تحفة الأشراف: ٩٨٨٨) (ضعیف) (سند میں بقیة بن الولید مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، نیز عبد اللہ بن أبی بلال الخزاعی الشامی مقبول عندالمتابعہ ہیں، اور ان کا کوئی متابع نہیں اس لیے ضعیف ہیں )
معقل بن یسار ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص صبح کے وقت «أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم» تین بار پڑھے، اور تین بار سورة الحشر کی آخری تین آیتیں پڑھے، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے مغفرت مانگنے کے لیے ستر ہزار فرشتے لگا دیتا ہے جو شام تک یہی کام کرتے ہیں۔ اگر وہ ایسے دن میں مرجاتا ہے تو شہید ہو کر مرتا ہے، اور جو شخص ان کلمات کو شام کے وقت کہے گا وہ بھی اسی درجہ میں ہوگا ۔
Sayyidina Ma’qil ibn Yasar (RA) reported that the Prophet ﷺ said: “If anyone says on entering the morning: ‘I seek refuge in Allah the all-Hearing the All-knowing from the accursed devil’, three times and recites the last three verse of Surah al-Hashr (#59) then Allah deputes over him seventy thousand angels who pray for his forgiveness till the evening. And if he dies during the day, he dies as a martyr. And, if anyone recites it in the evening then (too) he is of the same station. [Ahmed 20328]
ضعيف، الإرواء (342)، التعليق الرغيب (2 / 225) // ضعيف الجامع الصغير (5732) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2922
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١١٤٧٨) (ضعیف جدا) (سند میں موجود نافع بن ابی نافع دراصل نفیع ابوداود الاعمی ہے، جو متروک ہے، بلکہ ابن معین نے تکذیب کی ہے، ملاحظہ ہو تہذیب التہذیب )
یعلیٰ بن مملک سے روایت ہے، انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے نبی اکرم ﷺ کی نماز اور آپ کی قرأت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: تمہارا اور آپ کی نماز کا کیا جوڑ؟ آپ نماز پڑھتے تھے پھر اتنی دیر سوتے تھے جتنی دیر نماز پڑھے ہوتے، پھر نماز پڑھتے تھے اسی قدر جتنی دیر سوئے ہوئے ہوتے، پھر اتنی دیر سوتے تھے جتنی دیر نماز پڑھے ہوتے۔ یہاں تک کہ آپ صبح کرتے، پھر انہوں نے آپ کے قرأت کی کیفیت بیان کی اور انہوں نے اس کیفیت کو واضح طور پر ایک ایک حرف حرف کر کے بیان کیا۔
Ya’la ibn Mamlak reported that someone asked Sayyidah Umm Salamah (RA), wife of the Prophet ﷺ about the recital of the Prophet ﷺ and his salah. She said, “What have you in relation to his salah? He used to pray (salah) for as long as he had slept and then he would sleep for as long as he had engaged in salah till it was morning.” She then described his recital, “When he recited, each letter was distinct.” [Abu Dawud 1466, Nisai 1021]
١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اسے ہم صرف لیث بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں جسے انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے اور ابن ابی ملیکہ نے یعلیٰ بن مملک کے واسطہ سے ام سلمہ سے روایت کی، ٣ - ابن جریج نے یہ حدیث ابن ابی ملیکہ سے اور ابن ابی ملیکہ نے ام سلمہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی قرأت کا ہر حرف جدا جدا ہوتا تھا، ٤ - لیث کی حدیث (ابن جریج کی حدیث سے) زیادہ صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٣٥٥ (١٤٦٦) (تحفة الأشراف: ١٨٢٢٦) (ضعیف) (سند میں یعلی بن مملک ضعیف ہیں، مگر شواہد ومتابعات کی بنا پر یہ حدیث ثابت ہے، دیکھیے آگے حدیث رقم ٢٩٢٧ )
عبداللہ بن ابی قیس بصریٰ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی وتر کے بارے میں پوچھا کہ آپ وتر رات کے شروع حصے میں پڑھتے تھے یا آخری حصے میں؟ انہوں نے کہا: آپ دونوں ہی طرح سے کرتے تھے۔ کبھی تو آپ شروع رات میں وتر پڑھ لیتے تھے اور کبھی آخر رات میں وتر پڑھتے تھے۔ میں نے کہا: الحمدللہ! تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہیں جس نے دین کے معاملے میں وسعت و کشادگی رکھی، پھر میں نے پوچھا: آپ ﷺ کی قرأت کیسی ہوتی تھی؟ کیا آپ دھیرے پڑھتے تھے یا بلند آواز سے؟ کہا: آپ ﷺ یہ سب کرتے تھے۔ کبھی تو دھیرے پڑھتے تھے اور کبھی آپ زور سے میں نے کہا: الحمدللہ، تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے دین میں وسعت و کشادگی رکھی۔ پھر میں نے کہا: آپ جب جنبی ہوجاتے تھے تو کیا کرتے تھے؟ کیا سونے سے پہلے غسل کرلیتے تھے یا غسل کیے بغیر سو جاتے تھے؟ کہا: آپ ﷺ یہ تمام ہی کرتے تھے، کبھی تو آپ غسل کرلیتے تھے پھر سوتے، اور کبھی وضو کر کے سو جاتے، میں نے کہا: اللہ کا شکر ہے کہ اس نے دینی کام میں وسعت و کشادگی رکھی۔
Abdullah ibn Abu Qays reported that he asked Sayyidah Aisha (RA) about the Witr Salah of the Prophet ﷺ . "How he offered the Witr, in the first part of the night or the last part of it? She said, "He offered at each of these hours, sometimes he prayed the witr in the beginning of the night and sometimes at the end of it." Abdullah said, "All praise belongs to Allah who allowed latitude in religion." He asked, "How was his recital? Did he recite softly or audibly?" She said, "He observed each of those. Sometimes he recited in a low voice and sometimes in a loud voice." He said, "All praise belongs to Allah who allowed latitude in religion." He then asked, "How did he act when defiled? Did he havbe a bath before he went to sleep or did he sleep before having a bath? She said, "He did each of these things. Sometimes he had a bath and then slept and sometimes he made ablution and slept." He said, All praise belongs to Allah who allowed latitude in religion." [Muslim 307, Abu Dawud 1435]
صحيح، صحيح أبي داود (222 - 1291)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2924
جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ «موقف» (عرفات) میں اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہوئے کہتے تھے: ہے کوئی جو مجھے اپنی قوم میں لے چلے، کیونکہ قریش نے مجھے اپنے رب کے کلام (قرآن) کی تبلیغ سے روک دیا ہے ۔
Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) narrated : The Prophet ﷺ presented himself (to the people) at the mawqif at Arafat, saying, “Is there any man who will take me to his people? The Quraysh disallow me to convey the words of my Lord.” [Abu Dawud 4737, Ibn e Majah 201,Ahmed 15194] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (201)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2925
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ السنة ٢٢ (٤٧٣٤)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٣ (٢٠١) (تحفة الأشراف: ٢٢٤١) (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے: جس کو قرآن نے میری یاد نے مجھ سے سوال کرنے سے مشغول رکھا۔ میں اسے اس سے زیادہ دوں گا جتنا میں مانگنے والوں کو دیتا ہوں، اللہ کے کلام کی فضیلت دوسرے سارے کلام پر ایسی ہے جیسے اللہ کی فضیلت اس کی اپنی ساری مخلوقات پر ہے ۔
Sayyidina Abu Sa’eed reported that Allah’s Messenger ﷺ narrated: The Lord, Blessed and High, says, “He whom the Quran keeps occupied from My remembrance and from supplicating Me, (must know that) I grant him better than that which I give the supplicants. And the excellence of Allah’s words over all other expressions is like the excellence of Allah over His creation.” --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف، المشکاة (2136)، الضعيفة (1335) // ضعيف الجامع الصغير (6435) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2926
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٢١٦) (ضعیف) (سند میں عطیہ عوفی ضعیف راوی ہیں )
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”تم اللہ کی طرف رجوع کرنے کے لیے قرآن سے بڑھ کر کوئی اور ذریعہ نہیں پا سکتے“۔
Narrated Jubair bin Nufair: that the Prophet (ﷺ) said: You shall not return to Allah with what is more virtuous than what came from Him. Meaning the Qur'an.