Sunan At-Tirmidhi 2911

فضائل قرآن کا بیان۔

2911Sunan At-Tirmidhi(2912)

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خُنَيْسٍ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَذِنَ اللَّهُ لِعَبْدٍ فِي شَيْءٍ أَفْضَلَ مِنْ رَكْعَتَيْنِ يُصَلِّيهِمَا، وَإِنَّ الْبِرَّ لَيُذَرُّ عَلَى رَأْسِ الْعَبْدِ مَا دَامَ فِي صَلَاتِهِ، وَمَا تَقَرَّبَ الْعِبَادُ إِلَى اللَّهِ بِمِثْلِ مَا خَرَجَ مِنْهُ ، قَالَ أَبُو النَّضْرِ: يَعْنِي الْقُرْآنَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَبَكْرُ بْنُ خُنَيْسٍ قَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ ابْنُ الْمُبَارَكِ وَتَرَكَهُ فِي آخِرِ أَمْرِهِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلٌ. حَدَّثَنَا بِذَلِكَ إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكُمْ لَنْ تَرْجِعُوا إِلَى اللَّهِ بِأَفْضَلَ مِمَّا خَرَجَ مِنْهُ ، يَعْنِي الْقُرْآنَ.

ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کسی بندے کی کوئی بات اتنی زیادہ توجہ اور ہمہ تن گوش ہو کر نہیں سنتا جتنی دو رکعتیں پڑھنے والے بندے کی سنتا ہے، اور بندہ جب تک نماز پڑھ رہا ہوتا ہے اس کے سر پر نیکی کی بارش ہوتی رہتی ہے، اور بندے اللہ عزوجل سے (کسی چیز سے) اتنا قریب نہیں ہوتے جتنا اس چیز سے جو اس کی ذات سے نکلی ہے ، ابونضر کہتے ہیں: آپ اس قول سے قرآن مراد لیتے تھے۔

Sayyidina AbuUmamah (RA) reproted that Allah’s Messenger ﷺ said, “Allah does not listen to anything from His slave more than the two raka’at he prays. And, piety is sprinkled on the slave’s head as long as he is salah. And the slaves do not gain nearness to Allah, the Majestic, the Glorious, like they get through that which comes from Him.” Abu an-Nadr said, “It means the Qur’an.” [Ahmed 22369]

ضعيف، المشکاة (1332)، الضعيفة (1957) // ضعيف الجامع الصغير (4993) // ضعيف الضعيفة أيضاصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2911 جبیر بن نفیر کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اللہ کی طرف رجوع کرنے کے لیے قرآن سے بڑھ کر کوئی اور ذریعہ نہیں پاسکتے ۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2912
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے اور ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - بکر بن خنیس کے بارے میں ابن مبارک نے کلام کیا ہے اور آخر امر یعنی بعد میں (ان کے ضعیف ہونے کی وجہ سے) ان سے روایت کرنی چھوڑ دی تھی، ٣ - یہ حدیث زید بن ارطاۃ کے واسطہ سے جبیر بن نفیر سے مروی ہے انہوں نے نبی کریم ﷺ سے مرسل طریقہ سے روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٨٦٣)، وانظر مسند احمد (٥/٢٦٨) (ضعیف) (سند میں بکر بن خنیس سے بہت ہی غلطیاں ہوئی ہیں، اور لیث بن ابی سلیم ضعیف راوی ہیں) سنن ابی داود/ المراسیل (١٠٣) (تحفة الأشراف: ١٨٤٧١) (ضعیف) (جبیر بن نفیر تابعی ہیں، اس لیے یہ روایت مرسل ہے، تراجع الالبانی ١٩٣ )