معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ملحمہ عظمی (بڑی لڑائی) ، فتح قسطنطنیہ اور خروج دجال (یہ تینوں واقعات) سات مہینے کے اندر ہوں گے ۔
Sayyidina Mu’adh ibn Jabal reported that the Prophet ﷺ said, ‘The mighty bloodshed, the conquest of Constantinople and the emergence of the dajjal will take place within seven years.” [Abu Dawud 4295, Ibn Majah 4092]
ضعيف، ابن ماجة (4092) // ضعيف ابن ماجة برقم (890)، ضعيف أبي داود (925 / 4295)، المشکاة (5425)، ضعيف الجامع الصغير (5945) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2238
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٣ - اس باب میں صعب بن جثامہ، عبداللہ بن بسر، عبداللہ بن مسعود اور ابو سعید خدری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الملاحم ٤ (٤٢٩٥)، سنن ابن ماجہ/الفتن ٣٥ (٤٩٠٢) (تحفة الأشراف: ١١٣٢٨) (ضعیف) (سند میں دو راوی ” ابوبکر بن ابی مریم “ اور ” ولید بن سفیان غسانی “ ضعیف، اور ” یزید بن قطیب “ لین الحدیث ہیں )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ قسطنطنیہ قیامت کے قریب فتح ہوگا۔ محمود بن غیلان کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
Sayyidina Anas ibn Malik (RA) reported that the conquest of Constantinople will be the forerunner of the last Hour. [Ahmed 17646, Muslim 2937, Abu Dawud 4321, Ibn Majah 4075] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح الإسناد موقوفصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2239
نواس بن سمعان کلابی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک صبح دجال کا ذکر کیا، تو آپ نے (اس کی حقارت اور اس کے فتنے کی سنگینی بیان کرتے ہوئے دوران گفتگو) آواز کو بلند اور پست کیا ١ ؎ حتیٰ کہ ہم نے گمان کیا کہ وہ (مدینہ کی) کھجوروں کے جھنڈ میں ہے، پھر ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس سے واپس آ گئے، (جب بعد میں) پھر آپ کے پاس گئے تو آپ نے ہم پر دجال کے خوف کا اثر جان لیا اور فرمایا: کیا معاملہ ہے؟ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے صبح دجال کا ذکر کرتے ہوئے (اس کی حقارت اور سنگینی بیان کرتے ہوئے) اپنی آواز کو بلند اور پست کیا یہاں تک کہ ہمیں گمان ہونے لگا کہ وہ کھجوروں کے درمیان ہے۔ آپ نے فرمایا: دجال کے علاوہ دوسری چیزوں سے میں تم پر زیادہ ڈرتا ہوں، اگر وہ نکلے اور میں تمہارے بیچ موجود ہوں تو میں تمہاری جگہ خود اس سے نمٹ لوں گا، اور اگر وہ نکلے اور میں تمہارے بیچ موجود نہ رہوں تو ہر آدمی خود اپنے نفس کا دفاع کرے گا، اور اللہ ہر مسلمان پر میرا خلیفہ (جانشیں) ہے ٢ ؎، دجال گھونگھریالے بالوں والا جوان ہوگا، اس کی ایک آنکھ انگور کی طرح ابھری ہوئی ہوگی تو ان میں اسے عبدالعزیٰ بن قطن سے تشبیہ دیتا ہوں، پس تم میں سے جو شخص اسے پالے اسے چاہیئے کہ وہ سورة الکہف کی ابتدائی آیات پڑھے، وہ شام اور عراق کے درمیان سے نکلے گا اور دائیں بائیں فساد پھیلائے گا، اللہ کے بندو! ثابت قدم رہنا ۔ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! روئے زمین پر ٹھہرنے کی اس کی مدت کیا ہوگی؟ آپ نے فرمایا: چالیس دن، ایک دن ایک سال کے برابر ہوگا، ایک دن ایک مہینہ کے برابر ہوگا، ایک دن ہفتہ کے برابر ہوگا اور باقی دن تمہارے دنوں کی طرح ہوں گے ، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بتائیے وہ ایک دن جو ایک سال کے برابر ہوگا کیا اس میں ایک دن کی نماز کافی ہوگی؟ آپ نے فرمایا: نہیں بلکہ اس کا اندازہ کر کے پڑھنا ۔ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! زمین میں وہ کتنی تیزی سے اپنا کام کرے گا؟ آپ نے فرمایا: اس بارش کی طرح کہ جس کے پیچھے ہوا لگی ہوتی ہے (اور وہ بارش کو نہایت تیزی سے پورے علاقے میں پھیلا دیتی ہے) ، وہ کچھ لوگوں کے پاس آئے گا، انہیں دعوت دے گا تو وہ اس کو جھٹلائیں گے اور اس کی بات رد کردیں گے، لہٰذا وہ ان کے پاس سے چلا جائے گا مگر اس کے پیچھے پیچھے ان (انکار کرنے والوں) کے مال بھی چلے جائیں گے، ان کا حال یہ ہوگا کہ ان کے پاس کچھ بھی نہیں رہے، پھر وہ کچھ دوسرے لوگوں کے پاس جائے گا، انہیں دعوت دے گا، اور اس کی دعوت قبول کریں گے اور اس کی تصدیق کریں گے، تب وہ آسمان کو بارش برسانے کا حکم دے گا۔ آسمان بارش برسائے گا، وہ زمین کو غلہ اگانے کا حکم دے گا، زمین غلہ اگائے گی، ان کے چرنے والے جانور شام کو جب (چراگاہ سے) واپس آئیں گے، تو ان کے کوہان پہلے سے کہیں زیادہ لمبے ہوں گے، ان کی کوکھیں زیادہ کشادہ ہوں گی اور ان کے تھن کامل طور پر (دودھ سے) بھرے ہوں گے، پھر وہ کسی ویران جگہ میں آئے گا اور اس سے کہے گا: اپنا خزانہ نکال، پھر وہاں سے واپس ہوگا تو اس زمین کے خزانے شہد کی مکھیوں کے سرداروں کی طرح اس کے پیچھے لگ جائیں گے، پھر وہ ایک بھرپور اور مکمل جوان کو بلائے گا اور تلوار سے مار کر اس کے دو ٹکڑے کر دے گا۔ پھر اسے بلائے گا اور وہ روشن چہرے کے ساتھ ہنستا ہوا آ جائے گا، پس دجال اسی حالت میں ہوگا کہ اسی دوران عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) دمشق کی مشرقی جانب سفید مینار پر زرد کپڑوں میں ملبوس دو فرشتوں کے بازو پر ہاتھ رکھے ہوئے اتریں گے، جب وہ اپنا سر جھکائیں گے تو پانی ٹپکے گا اور جب اٹھائیں گے تو اس سے موتی کی طرح چاندی کی بوندیں گریں گی، ان کی سانس کی بھاپ جس کافر کو بھی پہنچے گی وہ مرجائے گا اور ان کی سانس کی بھاپ ان کی حد نگاہ تک محسوس کی جائے گی، وہ دجال کو ڈھونڈیں گے یہاں تک کہ اسے باب لد ٣ ؎ کے پاس پالیں گے اور اسے قتل کردیں گے۔ اسی حالت میں اللہ تعالیٰ جتنا چاہے گا عیسیٰ (علیہ السلام) ٹھہریں گے، پھر اللہ تعالیٰ ان کے پاس وحی بھیجے گا کہ میرے بندوں کو طور کی طرف لے جاؤ، اس لیے کہ میں نے کچھ ایسے بندے اتارے ہیں جن سے لڑنے کی کسی میں تاب نہیں ہے، اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کو بھیجے گا اور وہ ویسے ہی ہوں گے جیسا اللہ تعالیٰ نے کہا ہے: «من کل حدب ينسلون» ہر بلندی سے پھیل پڑیں گے (الأنبياء: ٩٦ ) ان کا پہلا گروہ (شام کی) بحیرہ طبریہ (نامی جھیل) سے گزرے گا اور اس کا تمام پانی پی جائے گا، پھر اس سے ان کا دوسرا گروہ گزرے گا تو کہے گا: اس میں کبھی پانی تھا ہی نہیں، پھر وہ لوگ چلتے رہیں گے یہاں تک کہ جبل بیت المقدس تک پہنچیں گے تو کہیں گے: ہم نے زمین والوں کو قتل کردیا اب آؤ آسمان والوں کو قتل کریں، چناچہ وہ لوگ آسمان کی طرف اپنے تیر چلائیں گے چناچہ اللہ تعالیٰ ان کو خون سے سرخ کر کے ان کے پاس واپس کر دے گا، (اس عرصے میں) عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) اور ان کے ساتھی گھرے رہیں گے، یہاں تک کہ (شدید قحط سالی کی وجہ سے) اس وقت بیل کی ایک سری ان کے لیے تمہارے سو دینار سے بہتر معلوم ہوگی (چیزیں اس قدر مہنگی ہوں گی) ، پھر عیسیٰ بن مریم اور ان کے ساتھی اللہ کی طرف متوجہ ہوں گے، تو اللہ تعالیٰ یاجوج و ماجوج کی گردنوں میں ایک کیڑا پیدا کر دے گا، جس سے وہ سب دفعتاً ایک جان کی طرح مرجائیں گے، عیسیٰ اور ان کے ساتھی (پہاڑ سے) اتریں گے تو ایک بالشت بھی ایسی جگہ نہ ہوگی جو ان کی لاشوں کی گندگی، سخت بدبو اور خون سے بھری ہوئی نہ ہو، پھر عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی اللہ کی طرف متوجہ ہوں گے اور اللہ تعالیٰ ایسے بڑے پرندوں کو بھیجے گا جن کی گردنیں بختی اونٹوں کی گردنوں کی طرح ہوں گی، وہ لاشوں کو اٹھا کر گڈھوں میں پھینک دیں گے، مسلمان ان کے کمان، تیر اور ترکش سے سات سال تک ایندھن جلائیں گے ٤ ؎۔ پھر اللہ تعالیٰ ان پر ایسی بارش برسائے گا جسے کوئی کچا اور پکا گھر نہیں روک پائے گا، یہ بارش زمین کو دھو دے گی اور اسے آئینہ کی طرح صاف شفاف کر دے گی، پھر زمین سے کہا جائے گا: اپنا پھل نکال اور اپنی برکت واپس لا، چناچہ اس وقت ایک انار ایک جماعت کے لیے کافی ہوگا، اس کے چھلکے سے یہ جماعت سایہ حاصل کرے گی، اور دودھ میں ایسی برکت ہوگی کہ لوگوں کی ایک بڑی جماعت کے لیے ایک دودھ دینے والی اونٹنی کافی ہوگی، اور دودھ دینے والی ایک گائے لوگوں کے ایک قبیلے کو کافی ہوگی اور دودھ دینے والی ایک بکری لوگوں میں سے ایک گھرانے کو کافی ہوگی، لوگ اسی حال میں (کئی سالوں تک) رہیں گے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہوا بھیجے گا جو سارے مومنوں کی روح قبض کرلے گی اور باقی لوگ گدھوں کی طرح کھلے عام زنا کریں گے، پھر انہیں لوگوں پر قیامت ہوگی ٥ ؎۔
Sayyidina Nawwas narrated: "Allahs Messenger ﷺ mentioned Dajjal one day. He exposed his baseness and emphasized his mischief till we thought he was behind the palm trees. We then dispersed from Allahs Messenger ﷺ only to return shortly. He recognized our state of mind and said, How is it with you? We said, O Messenger of Allah! ﷺ You mentioned Dajjal and made it soft as well as emphatic so that we imagined he was behind some palms. (they meant: He is so sure to come). He said: More fearful to me than the Dajjal (are some other things), for if hje emerges while I am among you then I will content with him on your behalf. And if he comes and I am not among you the let everyone of you contend with him on his behalf, and Allah is my Khalifa over every Muslim (i.e. Allah is the One to protect them from the mischief of Dajjal.) Dajjal wil be a youth with curly hair and one eye. He will resemble Abd Uzza bin Qatan-(a king of pre-Islamic era). So those of you who see him, should recite the initial verses of surah al-Kahf. He will come out from what is between Syria and Iraq and corrupt (people on) right and left. O slaves of Allah, be steadfast. We said, O Merssenger of Allah, how long will he tarry on earth? He said, Forty days, (the first) day like a year, a day like a month, a day like a week and the rest of his days like your days. We submitted, O Messenger of Allah, will a days prayer suffice us in the day that wouldf be like a year? He said, No but make an estimate for it. We submitted, O Messenger of Allah, what will be his speed of movement on earth?’ He said, “Like rain which is driven forward by the wind. He will come to a people and invite them but they will reject him and return him hl words. So, he will turn away from them and their properties will follow him and they will become bereft of everyting on their hands. He will then come upon another people whom he will invite and they will respond to him and confirm him, so he will command the sky to pour rain. It will pour rain. He will command the earth to grow and it will produce crops. Their pasturing animals will come to them with their humps high, their udders full of milk. He will come upon the waste land and command it to bring forth its treasures. So, they will come out of it and go after him like swarms of bees. He will then summon a young man his youth showing on him with fulness. He will strike him with the sword and cut him into two pieces, then he will summon him and he will come revived with a shining, laughing face. While he is like that, Eesa ibn Maryam will descend in the east of Damascus at the white minaret, donned in two Saffron coloured garments, his hands on the wings of two angels. If he lowers his head, it will drip and when he raises it, those drops will fall down like shining pearls. “(This is a description of his extreme radiance). “And no one (who disbelieves) will feel his breath but will die. And, the limit of the reach of his breath will be his sight. He will then seek the dajjal and catch up with him at the gate of LuddO, and he will kill him. Then he will stay on earth as long as Allah wills. Allah will reveal to him, ‘Collect my slaves at Tur, for I have sent there such of My slaves whom no one can fight’. Allah will then send Yajuj and Majuj. They will come as Allah has said: "And they sally forth from every mound." (21 : 96) The first of them will pass the lake Tibriyah (Tiberias) and drink all its contents. Then the last of them will pass and remark, ‘Indeed, there was once, in here water!’ They will travel till they end up at the mountain of Bayt al Maqdas (Jerusalem). They will recall, ‘We have killed all who were on earth. So, come let us kill those who are in heaven’. They will shoot their arrows into the sky and Allah will return to them their arrows reddened as with blood. (Meanwhile) Eesa ibn Maryam (AS) and his companions will surround them and the head of an ox will seem better to each of them then a hundred dinars are to one of you today. So, Eesa ibn Maryam will turn to Allah with his companions. So, Allah wil send down upon them insects on their necks, and by morning all of them would have perished as though they were one person. Eesa and his companions would descend but not find space of even a span without being filled with their fat, odour and blood. So, Eesa and his companions would again turn to Allah Who will send birds on them. Their necks will be like camel’s and they will carry the corpses away to mahbul. Thereafter, Muslims will kindle fire with their arrows, bows and quivers for seven years. Allah will send down on them rain which no mudhouse or tent will keep out but the earth will be washed and it will shine like glass. Then the earth will be commanded to grow its fruit and other produce and bring back its blessings. A whole group will eat from the pomegrenate and they will shelter themselves under its peel. There will be tremendous blessing in milk so that a whole group of men will be satiated with the milk of one she-camel, a whole tribe with the milk of a cow and a whole family with the milk of a shegoat. while they are thus living, Allah will send a wind that will take away the soul of every believer, but there will remain the evil people who will have sexual intercourse on the roads just as asses have. The Hour will come upon them. --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، الصحيحة (481)، تخريج فضائل الشام (25)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2240
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف عبدالرحمٰن یزید بن جابر کی روایت سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «فخض فيه ورفع» کے معنی و مطلب کے بارے میں دو قول ہیں: ایک «خفض»، «حقر» کے معنی میں یعنی اللہ تعالیٰ کے یہاں وہ ذلیل وحقیر ہے، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو دنیا میں کانا پیدا کیا، نبی اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ دجال اللہ رب العزت کے یہاں اس سے زیادہ ذلیل ہے یعنی وہ اس ایک آدمی کے علاوہ کسی اور کو قتل کرنے پر قدرت نہیں رکھے گا، بلکہ ایسا کرنے سے عاجز ہوگا، اس کا معاملہ کمزور پڑجائے گا، اور اس کے بعد اس کا اور اس کے اتباع و مویدین کا قتل ہوجائے گا، اور «رفع» کے معنی اس کے شر اور فتنے کی وسعت ہے اور یہ کہ اس کے پاس جو خرق عادت چیزیں ہوں گی وہ لوگوں کے لیے ایک بڑا فتنہ ہوں گی، یہی وجہ ہے کہ ہر نبی نے اپنی قوم کو اس کے فتنے سے ڈرایا، دوسرا معنی اس جملے کا یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اس کا تذکرہ اتنا زیادہ کیا کہ لمبی گفتگو کے بعد آپ کی آواز کم ہوگئی تاکہ دوران گفتگو آپ آرام فرما لیں پھر سب کو اس فتنے سے آگاہ کرنے کے لیے آپ کی آواز بلند ہوگئی۔ ٢ ؎: یعنی میری زندگی کے بعد فتنہ دجال کے وقت میری امت کا نگراں اللہ رب العالمین ہے۔ ٣ ؎: لُد: بیت المقدس کے قریب ایک شہر ہے، النہایہ فی غریب الحدیث میں ہے کہ لُد ملک شام میں ایک جگہ ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ فلسطین میں ایک جگہ ہے، (یہ آج کل اسرائیل کا ایک فوجی اڈہ ہے) ٤ ؎: ان کے اسلحہ کی مقدار اس قدر زیادہ ہوگی، یا مسلمانوں کی تعداد اس وقت اس قدر کم ہوگی۔ ٥ ؎: اس حدیث میں علامات قیامت، خروج دجال، نزول عیسیٰ بن مریم، یاجوج و ماجوج کا ظہور اور ان کے مابین ہونے والے اہم واقعات کا تذکرہ ہے، دجال کی فتنہ انگیزیوں، یاجوج و ماجوج کے ذریعہ پیدا ہونے والے مصائب اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں اور ان کی دعاؤں سے ان کے خاتمے کا بیان ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفتن ٢٠ (٢٩٣٧)، سنن ابی داود/ الملاحم ١٤ (٤٣٢١)، سنن ابن ماجہ/الفتن ٣٣ (٤٠٧٥) (تحفة الأشراف: ١١٧١١)، و مسند احمد (٤/١٨١) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے دجال کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: سنو! تمہارا رب کانا نہیں ہے جب کہ دجال کانا ہے، اس کی داہنی آنکھ انگور کی طرح ابھری ہوئی ہے ۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that the Prophet ﷺ was asked about the dajjal. He said, Know that your Lord is not one eyed, but know that the dajjal is blind in the right eye as though it were a swollen grape.’ [Muslim 169]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2241
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث عبداللہ بن عمر کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں سعد، حذیفہ، ابوہریرہ، اسماء، جابر بن عبداللہ، ابوبکرہ، عائشہ، انس، ابن عباس اور فلتان بن عاصم ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دجال مدینہ (کے قریب) آئے گا تو فرشتوں کو اس کی نگرانی کرتے ہوئے پائے گا، اللہ نے چاہا تو اس میں دجال اور طاعون نہیں داخل ہوگا ۔
Sayyidina Anas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The dajjal will head for Madinah, but will find that the angels have surrounded it. So, plague and the dajjal will not enter Madinah, Insha Allah.” [Bukhari 7134, Ahmed 12246]
صحيح، الصحيحة (2457)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2242
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ، فاطمہ بنت قیس، اسامہ بن زید، سمرہ بن جندب اور محجن ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایمان یمن کی طرف سے نکلا ہے اور کفر مشرق (پورب) کی طرف سے، سکون و اطمینان والی زندگی بکری والوں کی ہے، اور فخر و ریاکاری فدادین یعنی گھوڑے اور اونٹ والوں میں ہے، جب مسیح دجال احد کے پیچھے آئے گا تو فرشتے اس کا رخ شام کی طرف پھیر دیں گے اور شام ہی میں وہ ہلاک ہوجائے گا ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Faith came from Yaman while disbelief came from the direction of east. The shepherds possesstranquility and humility while the keepers of camels and horses are arrogant and ostentatious. When the dajjal will reach the Uhud mountain, on its other side, the angels will turn him about towards the direction of Syria. And, there he will perish.’ [Bukhari 3499, Muslim 52]
صحيح، الصحيحة (1770)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2243
مجمع بن جاریہ انصاری ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ابن مریم (علیہما السلام) دجال کو باب لد کے پاس قتل کریں گے ۔
Sayyidina Mujamma ibn Jariyah Ansari (RA) reported having heard Allah’s Messenger say, “Ibn Maryam will kill dajjal at the gate of Ludd (Lod).” [Ahmed 15466]
صحيح، الصحيحة (2457)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2244
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عمران بن حصین، نافع بن عتبہ، ابوبرزہ، حذیفہ بن اسید، ابوہریرہ، کیسان، عثمان، جابر، ابوامامہ، ابن مسعود، عبداللہ بن عمرو، سمرہ بن جندب، نواس بن سمعان، عمرو بن عوف اور حذیفہ بن یمان ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی نبی ایسا نہیں تھا جس نے اپنی امت کو کانے اور جھوٹے (دجال) سے نہ ڈرایا ہو، سنو! وہ کانا ہے، جب کہ تمہارا رب کانا نہیں ہے، اس کی دونوں آنکھوں کے بیچ «ک»، «ف»، «ر» لکھا ہوا ہے ۔
Qatadah reported having heard Sayyidina Anas (RA) narrate that Allah’s Messenger said, There has not been a Prophet ﷺ who has not warned his people of the one-eyed.Iiar. Know, that he will be one-eyed while your Lord is not one-eyed. It will be inscribed between his eyes Ka fa ra (Kafir). [Bukhari 7131, Muslim 2933]
صحيح تخريج الطحاوية (762)، الصحيحة (2457)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2245
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ حج یا عمرہ میں ابن صائد (ابن صیاد) میرے ساتھ تھا، لوگ آگے چلے گئے اور ہم دونوں پیچھے رہ گئے، جب میں اس کے ساتھ اکیلے رہ گیا تو لوگ اس کے بارے میں جو کہتے تھے اس کی وجہ سے میرے رونگٹے کھڑے ہونے لگے اور اس سے مجھے خوف محسوس ہونے لگا، چناچہ جب میں سواری سے اترا تو اس سے کہا: اس درخت کے پاس اپنا سامان رکھ دو، پھر اس نے کچھ بکریوں کو دیکھا تو پیالہ لیا اور جا کر دودھ نکال لایا، پھر میرے پاس دودھ لے آیا اور مجھ سے کہا: ابوسعید! پیو، لیکن میں نے اس کے ہاتھ کا کچھ بھی پینا پسند نہیں کیا، اس وجہ سے جو لوگ اس کے بارے میں کچھ کہتے تھے (یعنی دجال ہے) چناچہ میں نے اس سے کہا: آج کا دن سخت گرمی کا ہے اس لیے میں آج دودھ پینا بہتر نہیں سمجھتا، اس نے کہا: ابوسعید! میں نے ارادہ کیا ہے کہ ایک رسی سے اپنے آپ کو اس درخت سے باندھ لوں اور گلا گھونٹ کر مرجاؤں یہ اس وجہ سے کہ لوگ جو میرے بارے میں کہتے ہیں، بدگمانی کرتے ہیں، آپ بتائیے لوگوں سے میری باتیں بھلے ہی چھپی ہوں مگر آپ سے تو نہیں چھپی ہیں؟ انصار کی جماعت! کیا آپ لوگ رسول اللہ ﷺ کی حدیث کے سب سے بڑے جانکار نہیں ہیں؟ کیا رسول اللہ ﷺ نے (دجال کے بارے میں) یہ نہیں فرمایا ہے کہ وہ کافر ہے؟ جب کہ میں مسلمان ہوں، کیا رسول اللہ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ بانجھ ہے؟ اس کی اولاد نہیں ہوگی، جب کہ میں نے مدینہ میں اپنی اولاد چھوڑی ہے، کیا رسول اللہ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ مدینہ اور مکہ میں داخل نہیں ہوگا؟ کیا میں مدینہ کا نہیں ہوں؟ اور اب آپ کے ساتھ چل کر مکہ جا رہا ہوں، ابو سعید خدری کہتے ہیں: اللہ کی قسم! وہ ایسی ہی دلیلیں پیش کرتا رہا یہاں تک کہ میں کہنے لگا: شاید لوگ اس کے متعلق جھوٹ بولتے ہیں، پھر اس نے کہا: ابوسعید! اللہ کی قسم! اس کے بارے میں آپ کو سچی بات بتاؤں؟ اللہ کی قسم! میں دجال کو جانتا ہوں، اس کے باپ کو جانتا ہوں اور یہ بھی جانتا ہوں کہ وہ اس وقت زمین کے کس خطہٰ میں ہے تب میں نے کہا: تمہارے لیے تمام دن تباہی ہو ١ ؎۔
Sayyidina Abu Sa’eed (RA) narrated lbn Sayyad performed Hajj or Umrah with me. (During the journey), people overtook us and the two of us were left behind (to ourselves). When I was alone with him, I sensed a fear. I was terrified because people used to say things about him. When I stopped (at a place), I said to him, ‘Put down your provision by this tree,” He spied some sheep,.so took a bowl to them and brought their milk, saying to me, “Drink O Abu Sa’eed.’ I disliked to drink anything from his hands because of what people said about him. So, I said to him, “This is a hot day and I do not like milk in the heat.” He said, “O Abu Sa’eed, I have resolved to take a rope and tie it to the tree and strangulate my neck because of what people say about me. Do you see that if my condition is concealed from others, it is not concealed from you. You know better than other people the hadith of Allah’s Messenger ‘O company of the Ansar, has not Allah’s Messenger ﷺ said, He (dajjal) is a disbeliever, but I Messenger ﷺ say that he is childless, but I have left behind my son in Madinah. Did he not say that the (dajjal) cannot enter Makkah, but am I not one of the people of Madinah? And I am going to Makkah with you.” He did not cease to speak in this fashion till I thought that people might be lying about him. He then said, ‘O Abu Sa’eed ! Indeed, I will inform you Of a news a true news. By Allah, I know him° and I know his father and where he is on earth now.” So, I said, “May evil befall you, all day!” [Muslim 2927]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2246
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جو دلائل تم نے پیش کئے ان کی بنیاد پر تمہارے متعلق میں نے جو حسن ظن قائم کیا تھا تمہاری اس آخری بات کو سن کر میرا حسن ظن جاتا رہا اور مجھے تجھ سے بدگمانی ہوگئی (شاید یہ اس کے ذہنی مریض ہونے کی وجہ سے تھا، یہی وجہ ہے کہ لوگ اس کو اس کی اول فول باتوں کی وجہ سے دجال تک سمجھنے لگے)۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ جس میں عمر بن خطاب بھی تھے ابن صیاد کے پاس سے گزرے، اس وقت وہ بچوں کے ساتھ بنی مغالہ کے ٹیلوں کے پاس کھیل رہا تھا، وہ ایک چھوٹا بچہ تھا اس لیے اسے آپ کی آمد کا احساس اس وقت تک نہ ہوسکا یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اس کی پیٹھ پر مارا، پھر فرمایا: کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ ابن صیاد نے آپ کی طرف دیکھ کر کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امیوں کے رسول ہیں، پھر ابن صیاد نے نبی اکرم ﷺ سے کہا: کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا ہوں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: تمہارے پاس (غیب کی) کون سی چیز آتی ہے؟ ابن صیاد نے کہا: میرے پاس ایک سچا اور ایک جھوٹا آتا ہے، پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہارے اوپر تیرا معاملہ مشتبہ ہوگیا ہے ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: میں تمہارے لیے (دل میں) ایک بات چھپاتا ہوں اور آپ نے آیت: «يوم تأتي السماء بدخان مبين» ١ ؎ چھپالی، ابن صیاد نے کہا: وہ (چھپی ہوئی چیز) «دخ» ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پھٹکار ہو تجھ پر تو اپنی حد سے آگے نہیں بڑھ سکے گا ، عمر ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئیے میں اس کی گردن اڑا دوں، آپ ﷺ نے فرمایا: اگر وہ حقیقی دجال ہے تو تم اس پر غالب نہیں آسکتے اور اگر وہ نہیں ہے تو اسے قتل کرنے میں کوئی بھلائی نہیں ہے ۔ عبدالرزاق کہتے ہیں: «حقا» سے آپ کی مراد دجال ہے ٢ ؎۔
Sayyidina lbn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger and some of his sahabah, Umar (RA) among them, passed by Ibn Sayyad. He was playing with some children near the fort of Banu Maghalah. He was a child and did not perceive that the Prophet ﷺ come until he touched him on his back with his hand and said, Do you bear witness that I am Allah’s Messenger ?“ Ibn Sayyad looked at him and said, ‘I bear witness that you are the Messenger for the unlettered.” Then he said to the Prophet ﷺ , “Do you bear witness that I am Allah’s Messenger ?“ The Prophet ﷺ said, “I believe in Allah and His Messenger He then asked, “What do you get (of news)?” Ibn Sayyad said, “I get true and false (information).” So the Prophet ﷺ ‘ said, “It is confused over you.” He then said, “I think of something about you” and he thought for him the verse: When the heaven shall bring a manifest smoke. (44: 10). So, Ibn Sayyad said, “It is smoke.” Allah’s Messenger said, “Off you go! You cannot go beyond that.” Umar (RA) said, “O Messenger of Allah, ﷺ ‘ allow me to strike off his neck!” But, Allah’s Messenger said, “If he is true, you will have no power over him. But if he is not then there is no good in killing him.” Abdur Razzaq said, “that meant the dajjal.” [Ahmed 6368] --------------------------------------------------------------------------------
**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2249
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: آپ اس دن کے منتظر رہیں جب کہ آسمان ظاہر دھواں لائے گا۔ ٢ ؎: بعض صحابہ کرام یہ سمجھتے تھے کہ یہی وہ مسیح دجال ہے جس کے متعلق قرب قیامت میں ظہور کی خبر دی گئی ہے، لیکن فاطمہ بنت قیس کی روایت سے جس میں تمیم داری نے اپنے سمندری سفر کا حال بیان کیا ہے، معلوم ہوتا ہے کہ قطعیت اس بات میں ہے کہ ابن صیاد دجال اکبر نہیں بلکہ کوئی اور ہے، ابن صیاد تو ان دجاجلہ، کذابین میں سے ایک ہے جن کے ظہور کی رسول اللہ ﷺ نے خبر دی تھی، اور ان میں سے اکثر کا ظہور ہوچکا ہے، رہے وہ صحابہ جنہوں نے وثوق کے ساتھ قسم کھا کر ابن صیاد کو دجال کہا حتیٰ کہ آپ ﷺ کے سامنے بھی اسے دجال کہا گیا اور آپ خاموش رہے تو یہ سب تمیم داری والے واقعہ سے پہلے کی باتیں ہیں۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ابن صائد سے مدینہ کے کسی راستہ میں ملے، آپ نے اسے پکڑ لیا، وہ ایک یہودی لڑکا تھا، اس کے سر پر ایک چوٹی تھی، اس وقت آپ کے ساتھ ابوبکر اور عمر ؓ بھی تھے، آپ نے فرمایا: کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ ، اس نے کہا: کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر ایمان لایا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے پوچھا: تم کیا دیکھتے ہو؟ ١ ؎ اس نے کہا: پانی کے اوپر ایک عرش دیکھتا ہوں، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم سمندر کے اوپر ابلیس کا عرش دیکھتے ہو ، آپ نے فرمایا: اور بھی کچھ دیکھتے ہو؟ اس نے کہا: ایک سچا اور دو جھوٹے یا دو جھوٹے اور ایک سچے کو دیکھتا ہوں، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس پر معاملہ مشتبہ ہوگیا ہے ، پھر آپ نے اسے چھوڑ دیا۔
Sayyidina Abu Sa’eed (RA) narrated : Allah Messenger met Ibn Sayyad on some roads of Madinah. He stopped him. Ibn Sayyad was a Jew child who had long hair plaited on the head. Sayyidina Abu Bakr (RA) and Umar (RA) were with the Prophet ﷺ , who said to him, “Testify that I am Allah’s Messenger.” He said, “Do you testify that I am Allahs Messenger?” So, he said, ‘1 believe in Allah, His Books His Messenger ﷺ and the Last Day.’ Then the Prophet ﷺ asked him, “What do you.see?” He said, “I see a throne above water.’ The Prophet ﷺ said to him, “You see the throne of Iblis above the ocean.” He again asked him what he saw and Ibn Sayyad said, “I see one true and two false, or two true and one false.” The Prophet ﷺ said, “This has become confused for him.” And he left him alone. [Bukhari 3055, Muslim 2925]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2247
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اس باب میں عمر، حسین بن علی، ابن عمر، ابوذر، ابن مسعود، جابر اور حفصہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جو لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ ہے، اور جس کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے، اس میں سے کیا دیکھتے ہو؟۔
ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دجال کے باپ اور ماں تیس سال تک اس حال میں رہیں گے کہ ان کے ہاں کوئی لڑکا پیدا نہیں ہوگا، پھر ایک کانا لڑکا پیدا ہوگا جس میں نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہوگا، اس کی آنکھیں سوئیں گی مگر دل نہیں سوئے گا، پھر رسول اللہ ﷺ نے اس کے والدین کا حلیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: اس کا باپ دراز قد اور دبلا ہوگا اور اس کی ناک چونچ کی طرح ہوگی، اس کی ماں بھاری بھر کم اور لمبے ہاتھ والی ہوگی ، ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں: ہم نے مدینہ کے اندر یہود میں ایک ایسے ہی لڑکے کے بارے میں سنا، چناچہ میں اور زبیر بن عوام چلے یہاں تک کہ اس کے والدین کے پاس گئے تو وہ ویسے ہی تھے، جیسا رسول اللہ ﷺ نے بتایا تھا، ہم نے پوچھا: کیا تمہارا کوئی لڑکا ہے؟ انہوں نے کہا: ہمارے ہاں تیس سال تک کوئی لڑکا پیدا نہیں ہوا، پھر ہم سے ایک لڑکا پیدا ہوا جس میں نقصان زیادہ اور فائدہ کم ہے، اس کی آنکھیں سوتی ہیں مگر اس کا دل نہیں سوتا، ہم ان کے پاس سے نکلے تو وہ لڑکا دھوپ میں ایک موٹی چادر پر لیٹا تھا اور کچھ گنگنا رہا تھا، پھر اس نے اپنے سر سے کپڑے ہٹایا اور پوچھا: تم دونوں نے کیا کہا ہے؟ ہم نے کہا: ہم نے جو کہا ہے کیا تم نے اسے سن لیا؟ اس نے کہا: ہاں، میری آنکھیں سوتی ہیں، مگر دل نہیں سوتا ہے ۔
Sayyidina Abu Bakrah reported that for thirty years the dajjal’s parents will have no children. Then a child will be born to them with one eye. He will be more harmful than beneficial. His eyes will sleep, but his heart will not sleep. Allah’s Messenger then described to them the dajjals parents, saying, “His father would be tall and lean with a nose pointed like a hen’s beak. His mother will be a large woman with long arms.” Abu Bakrah said that he heard of the birth of a Jew child, so he and Zubayr ibn Awwam (RA) went to see him. They found his parents as described by Allah’s Messenger ﷺ . They said, “We waited for a child for thirty years. Then, a child blind in one eye was born to us, more harmful than of benefit. His eyes sleep, but not his heart.” Then they went out from them. Their sight fell on the child lying in a thick sheet of cloth in the sun. He was murmuring something. He asked them, “What did you say?” We asked, “Did you hear us?” He said, “Yes, My eyes sleep but my heart keeps awake.” [Ahmed 20440]
ضعيف، المشکاة (5503 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (6445) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2248
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف حماد بن سلمہ کی روایت سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١١٦٨٨) (ضعیف) (سند میں ” علی بن زید بن جدعان “ ضعیف ہیں )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آج روئے زمین پر جو بھی زندہ ہے سو سال بعد نہیں رہے گا ١ ؎۔
Sayyidina Jabir (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “There is not on earth a soul living today and having gone through a hundred years.” [Muslim 2538j
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2250
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اس باب میں ابن عمر، ابو سعید خدری اور بریدہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ایک قرن ختم ہوجائے گا اور دوسرا قرن شروع ہوجائے گا۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی آخری عمر میں ایک رات ہمیں عشاء پڑھائی، جب آپ سلام پھیر چکے تو کھڑے ہوئے اور فرمایا: کیا تم نے اپنی اس رات کو دیکھا اس وقت جتنے بھی آدمی اس روئے زمین پر ہیں سو سال گزر جانے کے بعد ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا ۔ ابن عمر ؓ کہتے ہیں: یہ سن کر لوگ مغالطے میں پڑگئے کہ یہ تو رسول اللہ ﷺ سے ایسی حدیث بیان کرتے ہیں کہ سو سال کے بعد قیامت آ جائے گی، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا تھا کہ جو آج باقی ہیں ان میں سے کوئی روئے زمین پر باقی نہیں رہے گا، یعنی اس نسل اور قرن کے لوگ ختم ہوجائیں گے۔
Sayyidina Abdullah ibn Umar (RA) narrated : Allah’s Messenger led us in the salah of isha towards the end of his life. When he had finished, he stood up and said, “Do you see this night of yours ? After a hundred years from it, there will not remain anyone of those on the face of the earth today.” Ibn Umar (RA) said that the people misinterpreted Allah’s Messenger ﷺ saying as not remaining for a hundred years though he only said, “There will not remain anyone of those today on the face of the earth after a qarn” (which is a hundred years or a generation). [Bukhari 116, Muslim 2537, Abu Dawud 4348] --------------------------------------------------------------------------------
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2251
ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہوا کو گالی مت دو، اگر اس میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھو تو یہ دعا پڑھو «اللهم إنا نسألک من خير هذه الريح وخير ما فيها وخير ما أمرت به ونعوذ بک من شر هذه الريح وشر ما فيها وشر ما أمرت به» یعنی اے اللہ! ہم تجھ سے اس ہوا کی بہتری مانگتے ہیں اور وہ بہتری جو اس میں ہے اور وہ بہتری جس کی یہ مامور ہے، اور تیری پناہ مانگتے ہیں اس ہوا کی شر سے اور اس شر سے جو اس میں ہے اور اس شر سے جس کی یہ مامور ہے ۔
Sayyidina Ubayy ibn Ka’b (RA) reported that Allah’s Messenger said, “Do not revile the wind. When you experience that which you dislike then say: O Allah, we ask you for the good of this wind and the good of what is in it and the good with which it is commanded. And we seek refuge in You from the evil of this wind and the evil of what it is commanded. [Muslim 942] --------------------------------------------------------------------------------
فاطمہ بنت قیس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ منبر پر چڑھے، ہنسے پھر فرمایا: تمیم داری نے مجھ سے ایک بات بیان کی ہے جس سے میں بےحد خوش ہوں اور چاہتا ہوں کہ تم سے بھی بیان کروں، انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ فلسطین کے کچھ لوگ سمندر میں ایک کشتی پر سوار ہوئے، وہ کشتی (طوفان میں پڑنے کی وجہ سے) کسی اور طرف چلی گئی حتیٰ کہ انہیں سمندر کے کسی جزیرہ میں ڈال دیا، اچانک ان لوگوں نے بہت کپڑے پہنے ایک رینگنے والی چیز کو دیکھا جس کے بال بکھرے ہوئے تھے، ان لوگوں نے پوچھا: تم کیا ہو؟ اس نے کہا: میں جساسہ (جاسوسی کرنے والی) ہوں، ان لوگوں نے کہا: ہمیں (اپنے بارے میں) بتاؤ، اس نے کہا: نہ میں تم لوگوں کو کچھ بتاؤں گی اور نہ ہی تم لوگوں سے کچھ پوچھوں گی، البتہ تم لوگ بستی کے آخر میں جاؤ وہاں ایک آدمی ہے، جو تم کو بتائے گا اور تم سے پوچھے گا، چناچہ ہم لوگ بستی کے آخر میں آئے تو وہاں ایک آدمی زنجیر میں بندھا ہوا تھا اس نے کہا: مجھے زغر (ملک شام کی ایک بستی کا نام ہے) کے چشمہ کے بارے میں بتاؤ، ہم نے کہا: بھرا ہوا ہے اور چھلک رہا ہے، اس نے کہا: مجھے بیسان کی کھجوروں کے بارے میں بتاؤ جو اردن اور فلسطین کے درمیان ہے، کیا اس میں پھل آیا؟ ہم نے کہا: ہاں، اس نے کہا: مجھے نبی (آخرالزماں ﷺ ) کے بارے میں بتاؤ کیا وہ مبعوث ہوئے؟ ہم نے کہا: ہاں، اس نے کہا: بتاؤ لوگ ان کی طرف کیسے جاتے ہیں؟ ہم نے کہا: تیزی سے، اس نے زور سے چھلانگ لگائی حتیٰ کہ آزاد ہونے کے قریب ہوگیا، ہم نے پوچھا: تم کون ہو؟ اس نے کہا کہ وہ دجال ہے اور طیبہ کے علاوہ تمام شہروں میں داخل ہوگا، طیبہ سے مراد مدینہ ہے۔
Sayyidah Fatimah bint Qays (RA) narrated : Once, the Prophet ﷺ went up the pulpit and he laughed and said : “Tamim Dan related to me an account which pleased me and I loved to recount it to you. Some people of Palestine boarded a ship and sailed in the ocean. The waves menaced it till it took them to an island of the several in the ocean. There they encountered a beast with so much hair on it (that it covered all its body). They said, “What are you ?“ It said, “I am jassasah. They said, “Tell us something.” It said, “I will neither tell you anything nor ask you about anything. But, approach the farthest village. There, someone will inform you and ask you.” So, they went to the edge of the village and found a man fettered by a chain. He asked them, “Tell me about the spring Zughar.” They told him that it was full with water bubbling out. He asked them about the palm trees of Baisan between Jordan and Palestine. “Is it fruit-bearing?” They said, “Yes.” He asked whether the Prophet ﷺ was sent and they affirmed that he was. Heasked, “How do the people respond to him?” They said, “With speed.” He jerked himself with great force till he almost freed himself. They asked, “Who are you?” He said, “I am the dajjal.” And he will go to all cities except Taybah. And Taybah is Madinah. [Muslim 2942] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح قصة نزول عيسى عليه السلامصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2253
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث شعبہ کے واسطہ سے قتادہ کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اسے کئی لوگوں نے شعبی کے واسطہ سے فاطمہ بنت قیس سے روایت کیا ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث جساسہ کی تفصیل کے لیے صحیح مسلم میں کتاب الفتن کا مطالعہ کریں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفتن ٢٤ (٢٩٤٢)، سنن ابی داود/ الملاحم ١٥ (٤٣٢٦)، سنن ابن ماجہ/الفتن ٣٣ (٤٠٧٤) (تحفة الأشراف: ١٨٠٢٤)، و مسند احمد (٦/٣٧٤، ٤١٨) (صحیح )
حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مومن کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنے نفس کو ذلیل کرے ، صحابہ نے عرض کیا: اپنے نفس کو کیسے ذلیل کرے گا؟ آپ نے فرمایا: اپنے آپ کو ایسی مصیبت سے دو چار کرے جسے جھیلنے کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو ۔
Sayyidina Hudhayfah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “It does not behove a Muslim to humiliate himself.” Someone asked, “How can one humiliate himself?” He said, “He involves himself in a difficulty out of which he cannot extract himself. [Ibn Majah 4016]
صحيح، ابن ماجة (4016)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2254
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الفتن ٢١ (٤٠١٦) (تحفة الأشراف: ٣٣٠٥)، و مسند احمد (٥/٤٠٥) (صحیح )
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم ، صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے مظلوم ہونے کی صورت میں تو اس کی مدد کی لیکن ظالم ہونے کی صورت میں اس کی مدد کیسے کروں؟ آپ نے فرمایا: اسے ظلم سے باز رکھو، اس کے لیے یہی تمہاری مدد ہے ۔
Sayyidina Anas ibn Malik (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Help your brother whether he is an oppressor or an oppressed.” Someone asked, “O Messenger of Allah, ﷺ I did help the oppressed. But how do I help the oppressor?” He said, “Prevent him from being oppressive. That is your help to him.” [Bukhari 2443] --------------------------------------------------------------------------------
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے بادیہ (صحراء و بیابان) کی سکونت اختیار کی وہ سخت طبیعت والا ہوگیا، جس نے شکار کا پیچھا کیا وہ غافل ہوگیا اور جو بادشاہ کے دروازے پر آیا وہ فتنوں کا شکار ہوگیا ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “He who stays in the desert is harsh and unfriendly. He who pursues game is careless and neglectful. And, hewho frequents the gates of the monarchs faces trials and corruption.” [Abu Dawud 2859, Nisai 4320] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، المشکاة (3701 / التحقيق الثانی)، صحيح أبي داود (2547)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2256
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث ابن عباس ؓ کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف ثوری کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ صحراء و بیابان کی سکونت اختیار کرنے والا اگر جمعہ و جماعت میں حاضر نہیں ہوتا ہے اور علماء کی مجالس سے دور رہتا ہے تو ایسا شخص تمدن و تہذیب سے دور، سخت طبیعت والا ہوگا، اسی طرح جو لہو و لعب کی غرض سے شکار کا عادی ہوا وہ غفلت میں مبتلا ہوجائے گا، البتہ جو رزق کی خاطر شکار کا ارادہ رکھتا ہو تو یہ عمل اس کے لیے جائز ہے۔ کیونکہ بعض صحابہ کرام نے بھی یہ عمل اپنا یا ہے، بادشاہوں کے دربار میں حاضری دینے والا اگر مداہنت سے کام لیتا ہے تو فتنہ میں پڑجائے گا، البتہ جو بادشاہوں کے پاس رہ کر انہیں نصیحت کرے اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا فریضہ انجام دے تو یہ اس کے لیے افضل جہاد ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصید ٤ (٢٨٥٩)، سنن النسائی/الصید ٢٤ (٤٣١٤) (تحفة الأشراف: ٦٥٣٩)، و مسند احمد (١/٣٥٧) (صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: (دشمنوں پر) تمہاری مدد کی جائے گی، تمہیں مال و دولت ملے گی اور تمہارے لیے قلعے کے دروازے کھولے جائیں گے، پس تم میں سے جو شخص ایسا وقت پائے اسے چاہیئے کہ وہ اللہ سے ڈرے، بھلائی کا حکم دے اور برائی سے روکے اور جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولے تو اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔
Sayyidina Abdullah ibn Mas’ud (RA) reported that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, “You are those who will be helped, who will bestowed wealth, and who will be granted victories. So, those of you who are among them must fear Allah, and enjoin piety and forbid evil. And he who ascribes lies to me must take his place in the fire.” [Ahmed 380]
صحيح، الصحيحة (1383)، وانظر الحديث (2809)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2257
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: ٩٣٥٩) (ویأتي الجزء الأخیر منہ برقم: ٢٦٥٩) (صحیح )