ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تقریباً تیس دجال اور کذاب نکلیں گے، ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The Hour will not come till the liars and dajjals, nearly thirty all of them, make their appearance each pretending that he is Allah’s messenger.” [Bukhari 3609]
صحيح، الصحيحة (683)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2218
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں جابر بن سمرہ اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مسیلمہ کذاب، اسود عنسی، شجاح، بہاء اللہ، باب اللہ، اور مرزا غلام احمد قادیانی انہیں کذابوں میں سے ہیں۔
ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ میری امت کے کچھ قبیلے مشرکین سے مل جائیں، اور بتوں کی پرستش کریں، اور میری امت میں عنقریب تیس جھوٹے (دعویدار) نکلیں گے، ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے، حالانکہ میں خاتم النبین ہوں میرے بعد کوئی (دوسرا) نبی نہیں ہوگا ۔
Sayyidina Thawban reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The Hour will not come till tribes of my ummah join the polytheists and worship idols. And, in my ummah there will be thirty liars each of them assuming that he is a Prophet ﷺ while I am the seal (or last) of the Prophet ﷺ s. There is no Prophet ﷺ after me.” --------------------------------------------------------------------------------
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بنو ثقیف میں ایک جھوٹا اور ہلاک کرنے والا ہوگا ۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “There will arise among the Banu Thaqif a liar and Mubir i.e. one who is destructive.” *It is said that liar was Mukhtar bin Abu Ubaid and mubir was Hajjaj bin Yousuf --------------------------------------------------------------------------------
صحيح
صحيح
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2220
اس سند سے ہشام بن حسان سے روایت ہے، انہوں نے کہا: حجاج نے جن لوگوں کو باندھ کر قتل کیا تھا انہیں شمار کیا گیا تو ان کی تعداد ایک لاکھ بیس ہزار تک پہنچی تھی۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2220
اس سند سے بھی ابن عمر ؓ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے، اور یہ حدیث ابن عمر ؓ کی روایت سے حسن غریب ہے۔ شریک نے اپنے استاذ کا نام عبداللہ بن عصم بیان کیا ہے، جب کہ اسرائیل نے عبداللہ بن عصمہ بیان کیا ہے۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2220
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
کہا جاتا ہے کذاب اور جھوٹے سے مراد مختار بن ابی عبید ثقفی اور ہلاک کرنے والا سے مراد حجاج بن یوسف ہے ١ ؎۔
اس باب میں اسماء بنت ابوبکر ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مختار بن ابوعبید بن مسعود ثقفی کی شہرت اس وقت ہوئی جب اس نے حادثہ حسین کے بعد ان کے خون کا بدلہ لینے کا اعلان محض اس غرض سے کیا کہ لوگوں کو اپنی جانب مائل کرسکے، اور امارت (حکومت) کے حصول کا راستہ آسان بنا سکے، علم و فضل میں پہلے یہ بہت مشہور تھا، آگے چل کر اس نے اپنی شیطنت کا اظہار کچھ اس طرح کیا کہ اس کے عقیدے اور دین کا بگاڑ لوگوں پر واضح ہوگیا، یہ امارت اور دنیا کا طالب تھا، بالآخر ٦٧ ھ میں مصعب بن زبیر ؓ کے زمانے میں مارا گیا۔ حجاج بن یوسف ثقفی اپنے ظلم، قتل، اور خون ریزی میں ضرب المثل ہے، یہ عبدالملک بن مروان کا گورنر تھا، عبداللہ بن زبیر ؓ کا اندوہناک حادثہ اسی کے ہاتھ پیش آیا۔ مقام واسط پر ٧٥ ھ میں اس کا انتقال ہوا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وأعادہ في المناقب ٧٤ (٣٩٤٤) (تحفة الأشراف: ٧٢٨٣) (صحیح )
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٩٥٠٨) (صحیح الإسناد )
انظر رقم ٢٢٢٠ (صحیح )
عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: تمام لوگوں سے بہتر میرے زمانہ کے لوگ ہیں، پھر ان کے بعد آنے والے، پھر ان کے بعد آنے والے، پھر ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو موٹے تازے ہوں گے، موٹاپا پسند کریں گے اور گواہی طلب کرنے سے پہلے ہی گواہی دیتے پھریں گے ١ ؎۔
Sayyidina Imran ibn Husayn reported that he heard Allah’s Messenger say, “The best of people are my generation, then those who follow them. Then, there will comeafter them a people who would seek to be fat,° and love corpulence, they will offer testimony before they are asked to give it.” [Bukhari 3650]
صحيح، الصحيحة (1840)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2221
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
محمد بن فضیل نے یہ حدیث اسی طرح «عن الأعمش عن علي بن مدرک عن هلال بن يساف» کی سند سے روایت کی ہے، کئی حفاظ نے اسے «عن الأعمش عن هلال بن يساف» کی سند سے روایت کی ہے، اس میں علی بن مدرک کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: چونکہ یہ لوگ دین و ایمان کی فکر سے خالی ہوں گے، کسی کے سامنے جواب دہی کا کوئی خوف ان کے دلوں میں باقی نہیں رہے گا، اور عیش و آرام کی زندگی کی مستیاں لے رہے ہوں گے، اس لیے موٹاپا ان میں عام ہوگا۔
عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت کے سب سے بہتر لوگ وہ ہیں جن کے درمیان میں بھیجا گیا ہوں، پھر وہ لوگ ہیں جو ان کے بعد ہوں گے ، عمران بن حصین کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے تیسرے زمانہ کا ذکر کیا یا نہیں، پھر اس کے بعدا ی سے لوگ پیدا ہوں گے جن سے گواہی نہیں طلب کی جائے گی پھر بھی گواہی دیتے رہیں گے، خیانت کریں گے امانت دار نہیں ہوں گے اور ان میں موٹاپا عام ہوجائے گا ۔
Sayyidina lmran ibn Husayn (RA) reported that Allah’s Messenger said, The best of my ummah is the generation to which 1 have been sent, then they who will follow them.’ The narrator said, ‘And I do not remember if he mentioned the third (generation) or not, “After that’, the Prophet ﷺ said, “A people will come who will voluntarily give testimony, they will commit treachery and will not be trustworthy. They will be corpulent, generally. [Bukhari 2651]
صحيح، الصحيحة (1840)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2222
جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے بعد بارہ امیر (خلیفہ) ہوں گے ، پھر آپ نے کوئی ایسی بات کہی جسے میں نہیں سمجھ سکا، لہٰذا میں نے اپنے قریب بیٹھے ہوئے آدمی سے سوال کیا تو اس نے کہا کہ آپ نے فرمایا: یہ بارہ کے بارہ (خلیفہ) قبیلہ قریش سے ہوں گے ۔
Sayyidina Jabir ibn Samurah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “There will he, after me, twelve amirs.” The narrator reported that he said more but he, could not grasp it, so he asked one who was next to him and he disclosed that the Prophet ﷺ said, “Everone from Quraysh.” [Bukhari 7222] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، الصحيحة (1075)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2223
زیاد بن کسیب عدوی کہتے ہیں کہ میں ابوبکرہ ؓ کے ساتھ ابن عامر کے منبر کے نیچے تھا، اور وہ خطبہ دے رہے تھے، ان کے بدن پر باریک کپڑا تھا، ابوبلال نے کہا: ہمارے امیر کو دیکھو فاسقوں کا لباس پہن رکھا ہے، ابوبکرہ ؓ نے کہا: خاموش رہو، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: جو شخص زمین پر اللہ کے بنائے ہوئے سلطان (حاکم) کو ذلیل کرے تو اللہ اسے ذلیل کرے گا ۔
Ziyad ibn Kusayb Adawi narrated: I was sitting with Abu Bakrah (RA) at the foot of the pulpit of Ibn Aamir while he was delivering a sermon. He was wearing a thin dress. Abu Bilal (RA) remarked, Look at our amir wearing garments of the sinners.’ So Abu Bakrah said to me, ‘Keep quiet. I had heard Allah’s Messenger say, “He who offends Allahs king on earth, Allah humiliates him.”
صحيح، الصحيحة (2296)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2224
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١١٦٧٤) (حسن) (سند میں ” زیاد بن کسیب “ لین الحدیث (مقبول) ہیں، لیکن باب میں ابو بکرہ کی حدیث کے شاہد کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے، تفصیل دیکھیے: الصحیحة رقم: ٢٢٩٧، تراجع الالبانی ٢٢٣ )
سعید بن جمہان کہتے ہیں کہ ہم سے سفینہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت میں تیس سال تک خلافت رہے گی، پھر اس کے بعد ملوکیت آ جائے گی ، پھر مجھ سے سفینہ ؓ نے کہا: ابوبکر ؓ کی خلافت، عمر ؓ کی خلافت، عثمان ؓ کی خلافت اور علی ؓ کی خلافت، شمار کرو ١ ؎، راوی حشرج بن نباتہ کہتے ہیں کہ ہم نے اسے تیس سال پایا، سعید بن جمہان کہتے ہیں کہ میں نے سفینہ ؓ سے کہا: بنو امیہ یہ سمجھتے ہیں کہ خلافت ان میں ہے؟ کہا: بنو زرقاء جھوٹ اور غلط کہتے ہیں، بلکہ ان کا شمار تو بدترین بادشاہوں میں ہے۔
Sayyidina Safinah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The Khilafah (Caliphate) will last among my ummah for thirty years. Then there will be kingdom after that.” Thereafter, Safinah said, “Count the khilafah of Abu bakr.” Then he said, “And of Umar (RA) andUthman, and count the Khilafah of Ali . We will find the total to be thirty years. Saeed said that he told him that the Banu Umayyah imagined that the Khilafah rested with them. He said, The Banu Zarqa lie. Rather, they were kings, the worst of kings. [Ahmed 21978]
صحيح، الصحيحة (459 و 1534 و 1535)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2226
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - کئی لوگوں نے یہ حدیث سعید بن جمہان سے روایت کی ہے، ہم اسے صرف سعید بن جمہان ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ٣ - اس باب میں عمر اور علی ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے خلافت کے بارے میں کسی چیز کی وصیت نہیں فرمائی۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مسند احمد میں سفینہ ؓ سے ہر خلیفہ کے دور کی تصریح موجود ہے، اس تصریح کے مطابق ابوبکر ؓ کی مدت خلافت دو سال، عمر ؓ کی دس سال، عثمان ؓ کی بارہ سال اور علی ؓ کی چھ سال ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ السنة ٩ (٤٦٤٦، ٤٦٤٧) (تحفة الأشراف: ٤٤٨٠)، و مسند احمد (٥/٢٢١) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب ؓ سے کہا گیا: کاش! آپ کسی کو خلیفہ نامزد کردیتے، انہوں نے کہا: اگر میں کسی کو خلیفہ مقرر کروں تو ابوبکر ؓ نے خلیفہ مقرر کیا ہے اور اگر کسی کو خلیفہ نہ مقرر کروں تو رسول اللہ ﷺ نے خلیفہ نہیں مقرر کیا ہے ١ ؎۔
Sayyidina Abdullah ibn Umar (RA) reported that Sayyidina Umar (RA) ibn Khattab was asked, “Had you appointed a Khaufah! He said, “If I appoint one then indeed Abu Bakr (RA) had appointed one. And if I do not then Allah’s Messenger ﷺ had not appointed a khaufah.” The had ith has a lengthy narration. [Bukhari 7218]
صحيح، صحيح أبي داود (2605)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2225
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس حدیث میں ایک قصہ بھی مذکور ہے ٢ ؎، ٢ - یہ حدیث صحیح ہے، اور کئی سندوں سے ابن عمر ؓ سے مروی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اگر میں کسی کو خلافت کے لیے نامزد کر دوں تو اپنے پیش رو کی اقتداء میں ایسا ہوسکتا ہے، اور اگر نہ مقرر کروں تو یہ رسول اللہ ﷺ کی اقتداء ہے کہ آپ ﷺ نے کسی کو اپنا خلیفہ نہیں بنایا تھا۔ ٢ ؎: یہ قصہ صحیح مسلم میں کتاب الإمارہ کے شروع میں مذکور ہے۔
عبداللہ بن ابی ہذیل کہتے ہیں کہ قبیلہ ربیعہ کے کچھ لوگ عمرو بن العاص ؓ کے پاس تھے، قبیلہ بکر بن وائل کے ایک آدمی نے کہا: قریش باز رہیں ١ ؎، ورنہ اللہ تعالیٰ خلافت کو ان کے علاوہ جمہور عرب میں کر دے گا، عمرو بن العاص ؓ نے کہا: تم جھوٹ اور غلط کہہ رہے ہو، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: قریش قیامت تک خیر (اسلام) و شر (جاہلیت) میں لوگوں کے حاکم ہیں ٢ ؎۔
Abdullah ibn Abu Hudhayl narrated Some of the (tribe) Rabiah were sitting with Sayyidina Amr ibn Aas (RA) when a man of Bakr ibn Wail (tribe) said, ‘The Quraysh must refrain themselves, or Allah will hand over this affair to the Arabs collectively, apart from them.” So, Amr ibn Aas (RA) said, ‘You lie I had heard Allah’s Messenger ‘ say, The Quraysh are rulers of men, in good or bad, till the Last Day.’”
صحيح، الصحيحة (1155)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2227
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن مسعود، ابن عمر اور جابر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی فسق و فجور سے قریش باز رہیں۔ ٢ ؎: یعنی زمانہ جاہلیت اور اسلام دونوں میں قریش حاکم و خلیفہ ہیں، اور قیامت تک خلافت انہیں میں باقی رہنی چاہیئے، یہ الگ بات ہے کہ مسلمانوں نے رسول اللہ ﷺ کا یہ حکم نہیں مانا، جیسے دوسرے فرمان رسول کو نہیں مان رہے ہیں۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: رات اور دن اس وقت تک باقی رہیں گے (یعنی قیامت نہیں آئے گی) یہاں تک کہ جہجاہ نامی ایک غلام بادشاہت کرے گا ۔
Umar (RA) ibn Hakam reported having heard Sayyidina Abu Hurairah (RA) narrate the words of Allah’s Messenger He said, “The night and day will not pass away before a man, the freedman, of Jahjah will take over authority(rule)” *Other Ahadith disclose that the Jahaja will be a tribe of Qahtan and that person will rule after Imam Mahdi and he will be among righteous rulers. [Muslim 2911]
صحيح، الصحيحة (2441)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2228
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفتن ١٨ (٢٩١١) (تحفة الأشراف: ١٤٢٦٧)، و مسند احمد (٢/٣٢٩) (صحیح )
ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں اپنی امت پر گمراہ کن اماموں (حاکموں) سے ڈرتا ہوں ١ ؎، نیز فرمایا: میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر غالب رہے گی، ان کی مدد نہ کرنے والے انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے یہاں تک کہ اللہ کا حکم (قیامت) آ جائے ۔
Sayyidina Thawban (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “I fear for the misled rulers over my ummah.’ He also said, “A section of my ummah will never cease to be on the right. They will prevail and they will not be harmed by those who desert them till the command of Allah comes.” [Muslim 1920]
صحيح، الصحيحة (4 / 110 و 1957)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2229
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ میں نے علی بن مدینی کو کہتے سنا کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی یہ حدیث میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر غالب رہے گی ذکر کی اور کہا: وہ اہل حدیث ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی یہ حکمراں ایسے ہوں گے جو بدعت اور فسق و فجور کے داعی ہوں گے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٥٣ (١٩٢٠)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١ (١٠) (تحفة الأشراف: ٢١٠٢)، و مسند احمد (٥/٢٧٩) (کلہم بالشطر الثاني فحسب) (صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک کہ میرے گھرانے کا ایک آدمی جو میرا ہم نام ہوگا عرب کا بادشاہ نہ بن جائے گا ۔
Sayyidina Abdullah reported that Allahs Messenger ﷺ said, “The world will not end before a man of my house rules over the Arabs. His name will be the same as mine.” [Ahmed 3573]
حسن صحيح، المشکاة (5452)، فضائل الشام ص (16)، الروض النضير (647)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2230
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں علی، ابو سعید خدری، ام سلمہ اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میرے گھرانے کا ایک آدمی جو میرا ہم نام ہوگا حکومت کرے گا ۔ ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں: اگر دنیا کا صرف ایک دن بھی باقی رہے تو اللہ تعالیٰ اس دن کو لمبا کر دے گا یہاں تک کہ وہ آدمی حکومت کرلے۔
Sayyidina Abdullah (RA) reported from the Prophet ﷺ that he said, “A man of my house, his name being as my name, will follow (to rule over the world).
حسن صحيح انظر ما قبله (2230)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2231
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ہم اس بات سے ڈرے کہ ہمارے نبی کے بعد کچھ حادثات پیش آئیں، لہٰذا ہم نے آپ ﷺ سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا: میری امت میں مہدی ہیں جو نکلیں گے اور پانچ، سات یا نو تک زندہ رہیں گے، (اس گنتی میں زیدالعمی کی طرف سے شک ہوا ہے ، راوی کہتے ہیں: ہم نے عرض کیا: ان گنتیوں سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: سال) آپ ﷺ نے فرمایا: پھر ان کے پاس ایک آدمی آئے گا اور کہے گا: مہدی! مجھے دیجئیے، مجھے دیجئیے، آپ نے فرمایا: وہ اس آدمی کے کپڑے میں (دینار و درہم) اتنا رکھ دیں گے کہ وہ اٹھا نہ سکے گا ۔
Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) narrated We were apprehensive lest innovations begin after our Prophet ﷺ So we asked the Prophet ﷺ (about it). He said, There will be in my ummah a Mahdi who will live five, seven or nine” the narrator Zayd was unsure (of the figure). They asked what was that and he said, “Years.” He then said, “A man will come to him and say, ‘O Mahdi, give me, give me!’ So, he will pour out for him in his garment as much as he is able to carly.” [Ibn Majah 4083]
حسن، ابن ماجة (4083)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2232
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - ابو سعید خدری کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے کئی سندوں سے یہ حدیث مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الفتن ٢٤ (٤٠٨٣) (تحفة الأشراف: ٣٩٧٦) (حسن )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! عنقریب تمہارے درمیان عیسیٰ بن مریم حاکم اور منصف بن کر اتریں گے، وہ صلیب کو توڑیں گے، سور کو قتل کریں گے، جزیہ ختم کردیں گے، اور مال کی زیادتی اس طرح ہوجائے گی کہ اسے کوئی قبول کرنے والا نہ ہوگا ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “By Him in Whose hand is my soul, Ibn Maryam will soon descend among you as a just judge. He will break the cross, kill swine and abolish the jizyah, and wealth will flow to such abundance that no one will take it.” [Ahmed 10944, Bukhari 2222, Muslim 155, Ibn Majah 4078] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (4078)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2233
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: علماء کا کہنا ہے کہ دیگر انبیاء کو چھوڑ کر عیسیٰ (علیہ السلام) کے نزول میں یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ اس نزول سے یہود کے اس زعم کو کہ انہوں نے عیسیٰ کو قتل کیا ہے، باطل کرنا مقصود ہے، چناچہ نزول عیسیٰ سے ان کے جھوٹ کی قلعی کھل جائے گی۔
ابوعبیدہ بن جراح ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: نوح (علیہ السلام) کے بعد کوئی نبی ایسا نہیں ہے جس نے اپنی امت کو دجال سے نہ ڈرایا ہو اور میں بھی تمہیں اس سے ڈرا رہا ہوں ، پھر رسول اللہ ﷺ نے ہم سے اس کا حال بیان کیا اور فرمایا: ہوسکتا ہے مجھے دیکھنے والے یا میری بات سننے والے کچھ لوگ اسے پالیں ، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس دن ہمارے دل کیسے ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: آج کی طرح یا اس سے بہتر ۔
Sayyidina Abu Ubaydah ibn Jarrah (RA) reported that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, “There has not been a Prophet ﷺ after Nuh who has not warned his people of dajjal. And I warn you of him.’ And he described him for them, saying, “Perhaps of those who see me or hear my words, some might encounter him.” They submitted, “O Messenger of Allah, ﷺ , how will (the condition of) our hearts be on that day?” He said, “Like this (as today) or better” [Ahmed 1693].
ضعيف، المشکاة (5486 / التحقيق الثاني) //، ضعيف أبي داود (1019 / 4756) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2234
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث ابوعبیدہ بن جراح کی روایت سے حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن بسر، عبداللہ بن حارث بن جزی، عبداللہ بن مغفل اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ السنة ٢٩ (٤٧٥٦) (تحفة الأشراف: ٥٠٤٦) (ضعیف) (سند میں ” عبد اللہ بن سراقہ “ کا سماع ” ابو عبیدہ ؓ “ سے نہیں ہے، یعنی سند میں انقطاع ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور اللہ کی شان کے لائق اس کی تعریف کی پھر دجال کا ذکر کیا اور فرمایا: میں تمہیں دجال سے ڈرا رہا ہوں اور تمام نبیوں نے اس سے اپنی قوم کو ڈرایا ہے، نوح (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرایا ہے، لیکن میں اس کے بارے میں تم سے ایک ایسی بات کہہ رہا ہوں جسے کسی نبی نے اپنی قوم سے نہیں کہی، تم لوگ اچھی طرح جان لو گے کہ وہ کانا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں ، زہری کہتے ہیں: ہمیں عمر بن ثابت انصاری نے خبر دی کہ انہیں نبی اکرم ﷺ کے بعض صحابہ نے بتایا: نبی اکرم ﷺ جس دن لوگوں کو دجال کے فتنے سے ڈرا رہے تھے (اس دن) آپ نے فرمایا: تم جانتے ہو کہ کوئی آدمی اپنے رب کو مرنے سے پہلے نہیں دیکھ سکتا، اور اس کی آنکھوں کے درمیان ک، ف، ر لکھا ہوگا، اس کے عمل کو ناپسند سمجھنے والے اسے پڑھ لیں گے ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported Once, Allah’s Messenger ﷺ stood among the people and glorified Allah as He is worthy of it. Then he mentioned the dajjal, saying, “Indeed, I do warn you of him, and there has not been a Prophet ﷺ who has not warned his people (of him). And indeed, Nuh warned his people, but I will speak a word on it which no Prophet ﷺ has spoken to his people. You know that he is blind in one eye while your Lord is not one-eyed.” Zuhri said that Umar (RA) ibn Thabit Ansari informed him on the authorityof same sahabah that the Prophet ﷺ warned the people that day of the mischief of dajjal and said, “You know that none of you will ever see his Lord till he dies. And that it is written between dajjal’s eyes kafir (infidel). Those who will detest his conduct will (be able to) read it.” [Bukhari 1304]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2235
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی دجال دنیا میں ربوبیت کا دعویدار ہوگا اور ساتھ ہی کانا بھی ہوگا، جب کہ لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ رب تعالیٰ کو کوئی مرنے سے قبل دنیا میں نہیں دیکھ سکتا، وہ ہر عیب سے پاک ہے، دجال کے کفر سے وہی لوگ آگاہ ہوں گے جو اس کے عمل سے بےزار ہوں گے۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہود تم سے لڑیں گے اور تم ان پر غالب ہوجاؤ گے یہاں تک کہ پتھر کہے گا: اے مسلمان! میرے پیچھے یہ یہودی ہے اسے قتل کر دو ١ ؎۔
Sayyidina lbn Umar (RA) reported that Allah’s MessengerL said, The Jews will fight you and the Muslims will be empowered over them so much so that a stone will disclose : O Muslim! This is a Jew behind me, so kill him.’ [Bukhari 2925, Muslim 2921]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2236
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: دیگر احادیث کے مطالعہ سے اس ضمن میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایسا مہدی اور عیسیٰ بن مریم (علیہم السلام) کے دور میں جاری جہاد کے وقت ہوگا۔
ابوبکر صدیق ؓ کہتے ہیں کہ ہم سے رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا: دجال مشرق (پورب) میں ایک جگہ سے نکلے گا جسے خراسان کہا جاتا ہے، اس کے پیچھے ایسے لوگ ہوں گے جن کے چہرے تہ بہ تہ ڈھال کی طرح ہوں گے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Bakr (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ “The dajjal will emerge from a land of the east called Khurasan. There will he people with him, their faces flat like shields.’ [Ibn Majah 4072] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (4072)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2237
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - عبداللہ بن شوذب اور کئی لوگوں نے اسے ابوالتیاح سے روایت کیا ہے، ہم اسے صرف ابوتیاح کی روایت سے جانتے ہیں، ٣ - اس باب میں ابوہریرہ اور عائشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی دجال کی پیروی کرنے والے چوڑے چہرے اور ابھرے رخسار والے ہوں گے۔ صحیح مسلم کی حدیث ہے کہ (ملک ایران کے شہر) اصفہان کے ستر ہزار یہودی دجال کا لشکر بن کر نکلیں گے اور ان پر کالے لباس ہوں گے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الفتن ٣٣ (٤٠٧٢) (تحفة الأشراف: ٦٦١٤) (صحیح )