حسن بصری کہتے ہیں کہ اس حدیث صبح کو آدمی مومن ہوگا اور شام کو کافر ہوجائے گا اور شام کو مومن ہوگا اور صبح کو کافر ہوجائے گا، کا مطلب یہ ہے کہ آدمی صبح کو اپنے بھائی کی جان، عزت اور مال کو حرام سمجھے گا اور شام کو حلال سمجھے گا۔
Hasan said in explanation of this hadith (A man begins his morning a believer and turns a disbeliever in the evening, or begins his evening as a believer and turns a disbeliever in the morning). He said, Morning finds him holding the blood, honour and property of his brother sacred (and disallawed to him), but by evening he will regard them as lawful to him. And evening finds him holding his brothers blood, honour and property as sacred (and forbidden to him), but by morning he regards them as lawful to him.
صحيح الإسناد عن الحسن، وهو البصریصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2198
وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، اس وقت آپ سے ایک آدمی سوال کرتے ہوئے کہہ رہا تھا: آپ بتائیے اگر ہمارے اوپر ایسے حکام الحکمرانی کریں جو ہمارا حق نہ دیں اور اپنے حق کا مطالبہ کریں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ان کا حکم سنو اور ان کی اطاعت کرو، اس لیے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کے جواب دہ ہیں اور تم اپنی ذمہ داریوں کے جواب دہ ہو ١ ؎۔
Sayyidina Wail ibn Hujr (RA) narrated I heard a man ask Allah’s Messenger ‘If such rulers govern us who deny us our rights but demand their own rigths, what should we do? le said, Listen and obey, for on them is what they carry and on you is what you carry.” (‘[heir deeds are with them and yours are with you). [Muslim 1846]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2199
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مفہوم یہ ہے کہ اگر حکام مال غنیمت وغیرہ میں سے تمہارا حق نہ دیں، پھر بھی تم ان کی اطاعت کرو، ان کے خلاف سر مت اٹھاؤ تمہارا حق تمہیں آخرت میں ایسے ہی ملے گا جس طرح ان ظالم حکمرانوں کو ان کے ظلم کی سزا ملے گی۔
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے بعد ایسے دن آنے والے ہیں جس میں علم اٹھا لیا جائے گا، اور ہرج زیادہ ہوجائے گا ، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہرج کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا: قتل و خوں ریزی ۔
Sayyidina Abu Musa (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘A time will come after you when knowledge (and learning) will be removed and harj will be rampant.” The companions asked what harj was and he said, Killing!.’ [Bukhari 7064)
صحيح صحيح الجامع (2233)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2200
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ، خالد بن ولید اور معقل بن یسار ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
معقل بن یسار ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: قتل و خوں ریزی کے زمانہ میں عبادت کرنا میری طرف ہجرت کرنے کے مانند ہے ١ ؎۔
Sayyidina Ma’qil ibn Yasari reported the Prophet ﷺ as saying, ‘Worship during harj will be like making hijrah to me.” (Harj is turmoil, killing, and hijrah is migration). [Muslim 2348]
صحيح، ابن ماجة (3985)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2201
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث صحیح غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف حماد بن زید کی روایت سے جانتے ہیں، جسے وہ معلی سے روایت کرتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: قتل و خوں ریزی یعنی فتنہ کے زمانہ میں فتنہ سے دور رہ کر عبادت میں مشغول رہنا مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کے مثل ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفتن ٢٦ (٢٩٤٨)، سنن ابن ماجہ/الفتن ١٤ (٣٩٨٥) (تحفة الأشراف: ١١٤٧٦)، و مسند احمد (٥/٢٥) (صحیح )
ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب میری امت میں تلوار چل پڑے گی تو وہ قیامت تک نہ رکے گی ١ ؎۔
Sayyidina Thawban (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “When the sword is placed in my ummah, it will not be with drawn from them till the Last Hour” [Ahmed 22515]
صحيح، المشکاة (5406)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2202
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جب وہ آپس میں لڑنے لگیں گے تو قیامت تک یہ لڑائی چلتی رہے گی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الفتن ١ (٤٢٥٢)، سنن ابن ماجہ/الفتن ٩ (٣٩٥٢) والفتن (٢١٠٨)، و مسند احمد (٥/٢٧٨، ٢٨٤) (کلہم: ١٧٣٤) (صحیح )
عدیسہ بنت اہبان غفاری کہتی ہیں کہ میرے والد کے پاس علی ؓ آئے اور ان کو اپنے ساتھ لڑائی کے لیے نکلنے کو کہا، ان سے میرے والد نے کہا: میرے دوست اور آپ کے چچا زاد بھائی (رسول اللہ ﷺ ) نے مجھے وصیت کی کہ جب لوگوں میں اختلاف ہوجائے تو میں لکڑی کی تلوار بنا لوں ، لہٰذا میں نے بنا لی ہے، اگر آپ چاہیں تو اسے لے کر آپ کے ساتھ نکلوں، عدیسہ کہتی ہیں: چناچہ علی ؓ نے میرے والد کو چھوڑ دیا ١ ؎۔
Sayyidah Udaysah bint Uhban ibn Sayfi (RA) narrated Sayyidina Ali ibn Abu Taub (RA) came to my father and asked him to enlist with him (for a battle). My father said to him, My friend and your cousin took a promise from me that when people dispute with each other, I should make for myself a sword of wood. So, I have taken it up and if you like I will come out with you.’ So, he left him alone. [Ibn Majah 3960]
حسن صحيح، ابن ماجة (3960)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2203
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف عبداللہ بن عبیداللہ کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - اس باب میں محمد بن مسلمہ ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: لکڑی کی تلوار بنانے کا مطلب فتنہ کے وقت قتل و خوں ریزی سے اپنے آپ کو دور رکھنا ہے۔
ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فتنہ کے بارے میں فرمایا: اس وقت تم اپنی کمانیں توڑ ڈالو، کمانوں کی تانت کاٹ ڈالو، اپنے گھروں کے اندر چپکے بیٹھے رہو اور آدم کے بیٹے (ہابیل) کے مانند ہوجاؤ ١ ؎۔
Sayyidina Abu Musa (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “During the commotion, break your bows. Cut your bowstrings during it and bind yourself to the inside of your houses during it, and be like the son of Adam.” [Ahmed 19751] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (3361)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2204
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ہابیل نے اپنے بھائی قابیل سے کہا تھا: «لئن بسطت إلي يدک لتقتلني ما أنا بباسط يدي إليك لأقتلک إني أخاف اللہ رب العالمين إني أريد أن تبوئ بإثمي وإثمك» گو تو میرے قتل کے لیے دست درازی کرے لیکن میں تیرے قتل کی طرف اپنے ہاتھ نہ بڑھاؤں گا، میں تو اللہ رب العالمین سے خوف کھاتا ہوں، میں تو چاہتا ہوں کہ تو میرا گناہ اور اپنے گناہ اپنے سر پر رکھ لے (المائدة: ٢٨، ٢٩)۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں تم لوگوں سے ایک ایسی حدیث بیان کر رہا ہوں جسے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے اور میرے بعد تم سے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہوئی حدیث کوئی نہیں بیان کرے گا ١ ؎، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے: علم کا اٹھایا جانا، جہالت کا پھیل جانا، زنا کا عام ہوجانا، شراب نوشی، عورتوں کی کثرت اور مردوں کی قلت یہاں تک کہ پچاس عورتوں پر ایک نگراں ہوگا۔
Sayyidina Anas ibn Malik reported having heard a hadith from Allah’s Messenger which he said, “I would narrate to yu. No one will narrate it after me as having heard from Allah’s Messenger.’(The Prophet ﷺ said:) Of the signs of the last Hour is that knowledge will be taken away, ignorance will be apparent, adultery will be widespread, wine will be consumed, women will outnumber (men) and men will be few so that for every fifty women there will be one male as (their) overseer. [Bukhari 80, Muslim 2671] --------------------------------------------------------------------------------
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2205
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوموسیٰ اشعری اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: انس ؓ وہ آخری صحابی ہیں جن کا انتقال بصرہ میں ہوا ہے، ممکن ہے یہ بات انہوں نے اپنی زندگی کے آخری دور میں کہی ہو، ظاہر ہے اس وقت گنے چنے ایسے صحابہ موجود رہے ہوں گے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ حدیث نہیں سنی ہوگی۔
زبیر بن عدی کہتے ہیں کہ ہم لوگ انس بن مالک ؓ کے گھر گئے اور ان سے حجاج کے مظالم کی شکایت کی، تو انہوں نے کہا: آنے والا ہر سال (گزرے ہوئے سال سے) برا ہوگا، یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جا ملو ، اسے میں نے تمہارے نبی اکرم ﷺ سے سنا ہے۔
Zubayr ibn Adi narrated : We went to Anas ibn Malik (RA) and complained to him of what we faced at the hands of Hajjaj. He said, “There is not a year but the one following it is worse than it till you meet your Lord. I heard this from your Prophet ﷺ . [Bukhari 7068]
صحيح، الصحيحة (1 / 10 و 1218)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2206
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک روئے زمین پر اللہ اللہ کہا جائے گا ١ ؎۔
Sayyidina Anas (RA) reported that Allah’s Messenger said, “The Hour will not come as Long as there is on earth the sound of ‘Allah, Allah’.”
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2207
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ قیامت اس وقت قائم ہوگی جب روئے زمین پر اللہ کا نام لینے والا کوئی باقی نہیں رہے گا، صرف وہ لوگ رہ جائیں گے جو مخلوق میں سب سے بدتر ہوں گے، کیونکہ یمن کی جانب سے ایک ہوا ایسی چلے گی جو مومنوں کی روحوں کو قبض کرلے گی، صرف غیر مومن رہ جائیں گے۔
حذیفہ بن یمان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک بیوقوفوں کی اولاد دنیا میں سب سے زیادہ خوش نصیب نہ ہوجائیں ١ ؎۔
Sayyidina Hudhayfah ibn Yaman (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The Hour will not come till the stupid son of the stupid becomes the most fortunate of all. men.’ [Ahmed 22363]
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (قیامت کے قریب) زمین اپنے جگر گوشے یعنی کھمبے کی طرح سونا اور چاندی اگلے گی، اس وقت چور آئے گا اور کہے گا: اسی کے لیے میرا ہاتھ کاٹا گیا ہے، قاتل آئے گا اور کہے گا: اسی کے لیے میں نے قتل کیا ہے، رشتہ ناطہٰ توڑنے والا آئے گا اور کہے گا: اسی کے لیے میں نے رشتہ ناطہٰ توڑا تھا، پھر وہ لوگ اسے چھوڑ دیں گے اور اس میں سے کچھ نہیں لیں گے ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, When the fa’i (war booty gained without fighting) is taken as wealth, trust as a booty, zakah as a tax, knowledge is imparted for purposes other than religion, a man obeys his wife but is disloyal to his mother, he draws, near his friend but keeps away from his father, voices are raised in mosques, cjuiefs of the tribe are the most sinful of them, a leader of the people is the basest of them, a man is honoured because of fear of mischief from him, singing girls and musical instruments become common, wine is drunk, the last of this ummah curse the first of them, then await, at such time a violent red wind, earthquakes, being swallowed up by earth, transfiguration, pelting of stones from heaven and signs following each other as though beads of a rosary fall in succession when the thread has broken.” --------------------------------------------------------------------------------
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2208
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب میری امت پندرہ چیزیں کرنے لگے تو اس پر مصیبت نازل ہوگی ، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! وہ کون کون سی چیزیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: جب مال غنیمت کو دولت، امانت کو غنیمت اور زکاۃ کو تاوان سمجھا جائے، آدمی اپنی بیوی کی فرمانبرداری کرے، اور اپنی ماں کی نافرمانی کرے گا، اپنے دوست پر احسان کرے اور اپنے باپ پر ظلم کرے، مساجد میں آوازیں بلند ہونے لگیں، رذیل آدمی قوم کا لیڈر بن جائے گا، شر کے خوف سے آدمی کی عزت کی جائے، شراب پی جائے، ریشم پہنا جائے، (گھروں میں) گانے والی لونڈیاں اور باجے رکھے جائیں اور اس امت کے آخر میں آنے والے پہلے والوں پر لعنت بھیجیں تو اس وقت تم سرخ آندھی یا زمین دھنسنے اور صورت تبدیل ہونے کا انتظار کرو ۔
Sayyidina Ali ibn Abu Talib (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “When my ummah perform fifteen particular things, trials will come down on them.” He was asked, “What are they,O Messenger of Allah, ﷺ ? He said, “When booty is wealth, and trust is booty, and zakah is tax, and a husband obeys his wife and disobeys his mother, and he is faithful to his friend but unfaithfrl to his father, and voices are raised in the masques, and leaders of men are the most wicked of them, and a man is honoured for fear of his evil, and wine is drunk, and silk is worn, and singing girls and stringed instruments are taken up, and the last of this ummah curse the first of them. So at that time await a red violent wind, or sinking down the earth or metamorphosis.”
ضعيف، المشکاة (5451) // ضعيف الجامع الصغير (608) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2210
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف اسی سند سے علی بن ابوطالب کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - ہم فرج بن فضالہ کے علاوہ دوسرے کسی کو نہیں جانتے جس نے یہ حدیث یحییٰ بن سعید انصاری سے روایت کی ہو اور فرج بن فضالہ کے بارے میں کچھ محدثین نے کلام کیا ہے اور ان کے حافظے کے تعلق سے انہیں ضعیف کہا ہے، ان سے وکیع اور کئی ائمہ نے روایت حدیث کی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٠٢٧٣) (ضعیف) (سند میں ” فرج بن فضالة “ ضعیف ہیں، اور ” محمد بن عمرو بن علی “ مجہول ہیں )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب مال غنیمت کو دولت، امانت کو مال غنیمت اور زکاۃ کو تاوان سمجھا جائے، دین کی تعلیم کسی دوسرے مقصد سے حاصل کی جائے، آدمی اپنی بیوی کی فرمانبرداری کرے، اور اپنی ماں کی نافرمانی کرے، اپنے دوست کو قریب کرے اور اپنے باپ کو دور کرے گا، مساجد میں آوازیں بلند ہونے لگیں، فاسق و فاجر آدمی قبیلہ کا سردار بن جائے، گھٹیا اور رذیل آدمی قوم کا لیڈر بن جائے گا، شر کے خوف سے آدمی کی عزت کی جائے گی، گانے والی عورتیں اور باجے عام ہوجائیں، شراب پی جائے اور اس امت کے آخر میں آنے والے اپنے سے پہلے والوں پر لعنت بھیجیں گے تو اس وقت تم سرخ آندھی، زلزلہ، زمین دھنسنے، صورت تبدیل ہونے، پتھر برسنے اور مسلسل ظاہر ہونے والی علامتوں کا انتظار کرو، جو اس پرانی لڑی کی طرح مسلسل نازل ہوں گی جس کا دھاگہ ٹوٹ گیا ہو ۔
Sayyidina Imran ibn Husayn (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘This ummah will face being swallowed up, metamorphosis and pelting rain.” A man among the Muslims submitted, “O Messenger of Allah, ﷺ , and when will that be?” He said, “When singing girls and musical instruments show themselves up and wine is drunk.” --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف، المشکاة (5450) // ضعيف الجامع الصغير (287) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2211
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - اس باب میں علی ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٢٨٩٥) (ضعیف) (سند میں ” رمیح جذامی “ مجہول ہیں )
عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس امت میں «خسف»، «مسخ» اور «قذف» واقع ہوگا ١ ؎، ایک مسلمان نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایسا کب ہوگا؟ آپ نے فرمایا: جب ناچنے والیاں اور باجے عام ہوجائیں گے اور شراب خوب پی جائے گی ۔
صحيح، الصحيحة (1604)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2212
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث «عن الأعمش عن عبدالرحمٰن بن سابط عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے مرسلاً مروی ہے، ٢ - یہ حدیث غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «خسف»: زمین کا دھنسنا، «مسخ»: صورتوں کا تبدیل ہونا، «قذف»: پتھروں کی بارش ہونا۔ اتنی دوری ہے جتنی دوری شہادت اور بیچ والی انگلی کے درمیان ہے۔
مستورد بن شداد فہری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں قیامت کے زمانہ ہی میں بھیجا گیا پھر میں اس پر سبقت لے گیا جیسے یہ انگلی اس انگلی پر سبقت لے گئی، اور آپ نے اپنی شہادت اور بیچ کی انگلی کی طرف اشارہ کیا ١ ؎۔
Sayyidina Mustawrid ibn Shaddad Fihri reported from the Prophet ﷺ that he said, have been sent in the very Hour, so I precede it just as this precedes this”, showing his for finger and his middle finger.
ضعيف، المشکاة (5513)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2213
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث مستورد بن شداد کی روایت سے غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے اشارہ قیامت کے قریب ہونے کی طرف ہے، گویا آپ کی بعثت اور قیامت کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ہے، جس طرح شہادت اور بیچ کی انگلی کے درمیان کوئی دوسری انگلی نہیں ہے، اس کا یہ بھی مطلب بیان کیا جاتا ہے کہ میرے اور قیامت کے درمیان کوئی دوسرا نبی آنے والا نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١١٢٦٢) (ضعیف) (سند میں ” مجالد بن سعید “ ضعیف ہیں )
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں اور قیامت اس طرح بھیجے گئے ہیں (یہ بتانے کے لیے) ابوداؤد نے شہادت اور بیچ کی انگلی کی طرف اشارہ کیا، چناچہ ان دونوں کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ ہے۔
Sayyidina Anas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “I have been sent and the Last Hour like these two and Abu Dawud indicated the forefinger and the middle finger, and he said, And like the excellence of one over the other. [Bukhari 6504] --------------------------------------------------------------------------------
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2214
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تم ایسی قوم سے لڑو جس کے جوتے بال کے ہوں گے، اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تم ایسی قوم سے لڑو جس کے چہرے تہہ بہ تہہ جمی ہوئی ڈھالوں کے مانند ہوں گے۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “The Last Hour will not come till you fight a people wearing shoes.{or sandals) made of hair. And the Hour will not come till you fight a people whose faces are flat like shields.” [Bukhari 2929] --------------------------------------------------------------------------------
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2215
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوبکر صدیق، بریدہ، ابوسعید، عمرو بن تغلب اور معاویہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کسریٰ ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں ہوگا، جب قیصر ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں ہوگا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم ان کے خزانے کو اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے (اور یہ واقع ہوچکا ہے) ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “When the Chosroes is killed, there will be no Chosroes after him. When the Caesar is killed, there will be no Caesar after him. By Him in Whose hand is my soul, you will give away their treasures in the cause of Allah (in jihad).” [Bukhari 3027]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2216
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت سے پہلے حضر موت یا حضر موت کے سمندر کی طرف سے ایک آگ نکلے گی جو لوگوں کو اکٹھا کرے گی ، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس وقت آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں، آپ نے فرمایا: تم شام چلے جانا ۔
Saalum ibn Abdullah reported on the Authority of his father that Allah’s Messenger ﷺ said, “There will emerge a fire from Hadramawt or from the surrounding of the sea of Hadramawt before the Last Hour. It will gather mankind.” The sahabah asked, “O Messenger of Allah, ﷺ ‘ what do you then command us?” He said, “You must go to Syria.” [Ahmed 5376] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح فضائل الشام (11)، المشکاة (6265)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2217
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث ابن عمر ؓ کی روایت سے حسن غریب صحیح ہے، ٢ - اس باب میں حذیفہ بن اسید، انس، ابوہریرہ اور ابوذر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔