فتنوں کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 31 · 123 hadiths · Page 2 of 6

2178Sunan At-Tirmidhi

جو شخص فتنے کے وقت ہو وہ کیا عمل کرے

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سِيمِينْ كُوش، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَكُونُ فِتْنَةٌ تَسْتَنْظِفُ الْعَرَبَ قَتْلَاهَا فِي النَّارِ، اللِّسَانُ فِيهَا أَشَدُّ مِنَ السَّيْفِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل، يَقُولُ: لَا يُعْرَفُ لِزِيَادِ بْنِ سِيمِينَ كُوشْ غَيْرُ هَذَا الْحَدِيثِ، رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ لَيْثٍ فَرَفَعَهُ، وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ لَيْثٍ فَوَقَفَهُ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک فتنہ ایسا ہوگا جو تمام عرب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا، اس کے مقتول جہنمی ہوں گے، اس وقت زبان کھولنا تلوار مارنے سے زیادہ سخت ہوگا ۔

Sayyidina Abdullah ibn Amr (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘There will be a fitnah (commotion) that will exhaust the Arabs. Those killed during this commotion will go to the fire. During this, the tongue will be more severe than the sword. [Abu Dawud 426, Ibn Majah 3967]

ضعيف، ابن ماجة (3967) // ضعيف سنن ابن ماجة (859)، ضعيف أبي داود (918 / 4265)، ضعيف الجامع الصغير (2475) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2178
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: زیاد بن سیمین کوش کی اس کے علاوہ دوسری کوئی حدیث نہیں معلوم ہے، ٣ - حماد بن سلمہ نے اسے لیث سے روایت کرتے ہوئے مرفوعاً بیان کیا ہے، اور حماد بن زید نے اسے لیث سے روایت کرتے ہوئے موقوفاً بیان کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الفتن ٣ (٤٢٦٥)، سنن ابن ماجہ/الفتن ١٢ (٣٩٦٧) (تحفة الأشراف: ٨٦٣١)، و مسند احمد (٢/٢١٢) (ضعیف) (سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف راوی ہیں، اور زیاد بن سیمین گوش لین الحدیث )
2179Sunan At-Tirmidhi

امانت داری کے اٹھ جانے کے متعلق

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَيْنِ قَدْ رَأَيْتُ أَحَدَهُمَا، وَأَنَا أَنْتَظِرُ الْآخَرَ، حَدَّثَنَا: أَنَّ الْأَمَانَةَ نَزَلَتْ فِي جَذْرِ قُلُوبِ الرِّجَالِ، ثُمَّ نَزَلَ الْقُرْآنُ فَعَلِمُوا مِنَ الْقُرْآنِ، وَعَلِمُوا مِنَ السُّنَّةِ ، ثُمَّ حَدَّثَنَا عَنْ رَفْعِ الْأَمَانَةِ، فَقَالَ: يَنَامُ الرَّجُلُ النَّوْمَةَ، فَتُقْبَضُ الْأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ فَيَظَلُّ أَثَرُهَا مِثْلَ الْوَكْتِ، ثُمَّ يَنَامُ نَوْمَةً، فَتُقْبَضُ الْأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ، فَيَظَلُّ أَثَرُهَا مِثْلَ أَثَرِ الْمَجْلِ كَجَمْرٍ دَحْرَجْتَهُ عَلَى رِجْلِكَ، فَنَفَطَتْ، فَتَرَاهُ مُنْتَبِرًا وَلَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ، ثُمَّ أَخَذَ حَصَاةً فَدَحْرَجَهَا عَلَى رِجْلِهِ، قَالَ: فَيُصْبِحُ النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ لَا يَكَادُ أَحَدُهُمْ يُؤَدِّي الْأَمَانَةَ حَتَّى يُقَالَ: إِنَّ فِي بَنِي فُلَانٍ رَجُلًا أَمِينًا، وَحَتَّى يُقَالَ لِلرَّجُلِ: مَا أَجْلَدَهُ وَأَظْرَفَهُ وَأَعْقَلَهُ، وَمَا فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ، قَالَ: وَلَقَدْ أَتَى عَلَيَّ زَمَانٌ، وَمَا أُبَالِي أَيُّكُمْ بَايَعْتُ فِيهِ لَئِنْ كَانَ مُسْلِمًا لَيَرُدَّنَّهُ عَلَيَّ دِينُهُ، وَلَئِنْ كَانَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا لَيَرُدَّنَّهُ عَلَيَّ سَاعِيهِ، فَأَمَّا الْيَوْمَ فَمَا كُنْتُ لِأُبَايِعَ مِنْكُمْ إِلَّا فُلَانًا وَفُلَانًا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

حذیفہ بن یمان ؓ کہتے ہیں کہ ہم سے رسول اللہ ﷺ نے دو حدیثیں بیان کیں، جن میں سے ایک کی حقیقت تو میں نے دیکھ لی ١ ؎، اور دوسری کا انتظار کر رہا ہوں، آپ نے فرمایا: امانت لوگوں کے دلوں کے جڑ میں اتری پھر قرآن کریم اترا اور لوگوں نے قرآن سے اس کی اہمیت قرآن سے جانی اور سنت رسول سے اس کی اہمیت جانی ٢ ؎، پھر آپ نے ہم سے امانت کے اٹھ جانے کے بارے میں بیان کرتے ہوئے فرمایا: آدمی (رات کو) سوئے گا اور اس کے دل سے امانت اٹھا لی جائے گی (اور جب وہ صبح کو اٹھے گا) تو اس کا تھوڑا سا اثر ایک نقطہٰ کی طرح دل میں رہ جائے گا، پھر جب دوسری بار سوئے گا تو اس کے دل سے امانت اٹھا لی جائے گی اور اس کا اثر کھال موٹا ہونے کی طرح رہ جائے گا ٣ ؎، جیسے تم اپنے پاؤں پر چنگاری پھیرو تو آبلہ (پھپھولا) پڑجاتا ہے، تم اسے پھولا ہوا پاتے ہو حالانکہ اس میں کچھ نہیں ہوتا ، پھر حذیفہ ؓ ایک کنکری لے کر اپنے پاؤں پر پھیرنے لگے اور فرمایا: لوگ اس طرح ہوجائیں گے کہ خرید و فروخت کریں گے لیکن ان میں کوئی امانت دار نہ ہوگا، یہاں تک کہ کہا جائے گا: فلاں قبیلہ میں ایک امانت دار آدمی ہے، اور کسی آدمی کی تعریف میں یہ کہا جائے گا: کتنا مضبوط شخص ہے! کتنا ہوشیار اور عقلمند ہے! حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانہ برابر بھی ایمان نہ ہوگا ، حذیفہ ؓ کہتے ہیں: میرے اوپر ایک ایسا وقت آیا کہ خرید و فروخت میں کسی کی پرواہ نہیں کرتا تھا، اگر میرا فریق مسلمان ہوتا تو اس کی دینداری میرا حق لوٹا دیتی اور اگر یہودی یا نصرانی ہوتا تو اس کا سردار میرا حق لوٹا دیتا، جہاں تک آج کی بات ہے تو میں تم میں سے صرف فلاں اور فلاں سے خرید و فروخت کرتا ہوں۔

Sayyidina Hudhayfah (RA) narrated: Allah’s Messenger ﷺ related to us two ahadith one of which I have seen take place and I await the other to happen. He said to us, “Faith came down deep into the roots of men’s hearts. Then the Qur’an descended, so they learnt from the Qur’an and they learnt from the Sunnah (the right of faith).” After that he told us about withdrawal of trust (faith). He said, “A man will sleep and faith will be withdrawn from his heart leaving its mark like a speckle. He will sleep again and faith will be withdrawn leaving a mark like if a live coal dropped on your foot causing a water blister with nothing in it.” Then, he picked up a pebble and dropped it on his foot. He said, “People will transact business with each other but there would hardly be one who honours his commitment, so that it would be said that among such-and-such tribe there is a man worth trusting, and a man will be praised as wise, very good and firm, though he will not have in his heart even so much faith as a grain of mustard seed.” Indeed I had gone through the times when I bought and sold without hesitation. If a Muslim had to pay me my right then he came there himself to hand it over to me. If right he was a Jew or Christian, their chiefs got for me my rights. But, now-a-days, I do not deal with anyone though so-and-so and so-and-so do make transactions. [Bukhari 6497, Muslim 143] --------------------------------------------------------------------------------

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2179
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کا ظہور ہوچکا ہے اور قرآن و سنت کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اس امانت سے متعلق لوگوں کے دلوں میں مزید پختگی پیدا ہوئی، اور اس سے متعلق ایمانداری اور بڑھ گئی ہے۔ ٢ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کی تشریح و تفسیر خود قرآن سے اور پھر سنت و حدیث نبوی سے سمجھنی چاہیئے، اسی طرح قرآن کے سمجھنے میں تیسرا درجہ فہم صحابہ ہے ؓ اجمعین چوتھے درجہ میں تابعین و تبع تابعین ہیں جیسا کہ پیچھے حدیث ( ٢١٥٦ ) سے بھی اس کا معنی واضح ہوتا ہے۔ ٣ ؎: یعنی جس طرح جسم پر نکلے ہوئے پھوڑے کی کھال اس کے اچھا ہونے کے وقت موٹی ہوجاتی ہے اسی طرح امانت کا حال ہوگا، گویا اس امانت کا درجہ اس امانت سے کہیں کم تر ہے جو ایک نقطہٰ کے برابر رہ گئی تھی، کیونکہ یہاں صرف نشان باقی رہ گیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الرقاق ٣٥ (٦٤٩٧)، والفتن ١٣ (٧٠٨٦)، والإعتصام ٣ (٧٢٧٦)، صحیح مسلم/الإیمان ٦٤ (١٤٣) (تحفة الأشراف: ٣٣٢٨) (صحیح )
2180Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں سابقہ امتوں کی عادات اس امت میں بھی ہوگی

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا خَرَجَ إِلَى خُيْبَرَ، مَرَّ بِشَجَرَةٍ لِلْمُشْرِكِينَ، يُقَالُ لَهَا: ذَاتُ أَنْوَاطٍ، يُعَلِّقُونَ عَلَيْهَا أَسْلِحَتَهُمْ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اجْعَلْ لَنَا ذَاتَ أَنْوَاطٍ كَمَا لَهُمْ ذَاتُ أَنْوَاطٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، هَذَا كَمَا قَالَ قَوْمُ مُوسَى: اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ سورة الأعراف آية 138، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَرْكَبُنَّ سُنَّةَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو وَاقِدٍ اللَّيْثِيُّ اسْمُهُ الْحَارِثُ بْنُ عَوْفٍ، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ.

ابو واقد لیثی ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ حنین کے لیے نکلے تو آپ کا گزر مشرکین کے ایک درخت کے پاس سے ہوا جسے ذات انواط کہا جاتا تھا، اس درخت پر مشرکین اپنے ہتھیار لٹکاتے تھے ١ ؎، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے لیے بھی ایک ذات انواط مقرر فرما دیجئیے جیسا کہ مشرکین کا ایک ذات انواط ہے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سبحان اللہ! یہ تو وہی بات ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے کہی تھی کہ ہمارے لیے بھی معبود بنا دیجئیے جیسا ان مشرکوں کے لیے ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم گزشتہ امتوں کی پوری پوری پیروی کرو گے ٢ ؎۔

Sayyidina Abu Waqid Laythi reported that when the Prophet ﷺ went out for the Battle of Hunayn, he passed by a tree belonging to the polytheists. It was known as dhaat anwat. They used to hang down their weapons over it. The sahabah said, “O Messenger of Allah, ﷺ make for us a dhaat anwat as there is for them a dhaat anwat.” He said, “Glory be to Allah! This is as what the people of Musa (AS) said, “Make for us a god as there is for them a god. By Him who has my soul in His hand, you will perpetrate the practices of the people gone before you.” [Ahmed 21956] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح ظلال الجنة (76)، المشکاة (5369)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2180
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ابو واقد لیثی کا نام حارث بن عوف ہے، ٣ - اس باب میں ابو سعید خدری اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ذات انواط نامی درخت جھاؤ کی قسم سے تھا، مشرکین بطور حاجت برآری اس پر اپنا ہتھیار لٹکاتے اور اس درخت کے اردگرد اعتکاف کرتے تھے۔ ٢ ؎: مفہوم یہ ہے کہ تم خلاف شرع نافرمانی کے کاموں میں اپنے سے پہلے کی امتوں کے نقش قدم پر چلو گے، نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان کے مطابق آج مسلمانوں کا حال حقیقت میں ایسا ہی ہے، چناچہ یہود و نصاری اور مشرکین کی کون سی عادات و اطوار ہیں جنہیں مسلمانوں نے نہ اپنایا ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: ١٤٥١٦) (صحیح )
2181Sunan At-Tirmidhi

درندوں کے کلام سے متعلق

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ الْعَبْدِيُّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُكَلِّمَ السِّبَاعُ الْإِنْسَ، وَحَتَّى تُكَلِّمَ الرَّجُلَ عَذَبَةُ سَوْطِهِ، وَشِرَاكُ نَعْلِهِ، وَتُخْبِرَهُ فَخِذُهُ بِمَا أَحْدَثَ أَهْلُهُ مِنْ بَعْدِهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْقَاسِمِ بْنِ الْفَضْلِ، وَالْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ ثِقَةٌ مَأْمُونٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، وَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک کہ درندے انسانوں سے گفتگو نہ کرنے لگیں، آدمی سے اس کے کوڑے کا کنارہ گفتگو کرنے لگے، اس کے جوتے کا تسمہ گفتگو کرنے لگے اور اس کی ران اس کام کی خبر دینے لگے جو اس کی بیوی نے اس کی غیر حاضری میں انجام دیا ہے ۔

Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘By Him Who has my life in His grasp, the Last Hour will not come before the beasts speak to men and before the tip of his whip and the thong of his sandal speak toman and his thigh informs him what his family members have been doing since he had left them.” [Ahmed 11792]

صحيح، الصحيحة (22)، المشکاة (5459)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2181
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف قاسم بن فضل کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - قاسم بن فضل محدثین کے نزدیک ثقہ اور مامون ہیں، یحییٰ بن سعید قطان اور عبدالرحمٰن بن مہدی نے ان کی توثیق کی ہے، ٣ - اس باب میں ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٣٧١)، و مسند احمد (٣/٨٣-٨٤) (صحیح )
2182Sunan At-Tirmidhi

چاند کے پھٹنے کے متعلق

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: انْفَلَقَ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اشْهَدُوا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَنَسٍ، وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں چاند (دو ٹکڑوں میں) ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ گواہ رہو ١ ؎۔

Sayyidina lbn Umar (RA) said that in the era of Allah’s Messenger ﷺ the moon was split, and he said, “Be you witnesses!.” [Muslim 2800]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2182
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن مسعود، انس اور جبیر بن مطعم ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: چاند کا دو ٹکڑوں میں بٹ جانا نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں ہوا، اس معجزہ کا ظہور اہل مکہ کے مطالبے پر ہوا تھا صحیحین میں ہے کہ چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے، یہاں تک کہ لوگوں نے حرا پہاڑ کو اس کے درمیان دیکھا، اس کا ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر اور دوسرا اس سے نیچے تھا، یہ آپ ﷺ کے واضح معجزات میں سے ہے، ایسی متواتر احادیث سے اس کا ثبوت ہے جو صحیح سندوں سے ثابت ہیں، جمہور علماء اس معجزہ کے قائل ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/صفات المنافقین ٨ (٢٨٠١) (تحفة الأشراف: ٧٣٩٠) (صحیح )
2183Sunan At-Tirmidhi

زمین کے دھنسنے کے بارے میں

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ، قَالَ: أَشْرَفَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غُرْفَةٍ، وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ السَّاعَةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَرَوْا عَشْرَ آيَاتٍ: طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَيَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، وَالدَّابَّةَ، وَثَلَاثَةَ خُسُوفٍ: خَسْفٍ بِالْمَشْرِقِ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ، وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَنَارٌ تَخْرُجُ مِنْ قَعْرِ عَدَنَ تَسُوقُ النَّاسَ أَوْ تَحْشُرُ النَّاسَ، فَتَبِيتُ مَعَهُمْ حَيْثُ بَاتُوا، وَتَقِيلُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَالُوا .

حذیفہ بن اسید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہماری طرف اپنے کمرے سے جھانکا، اس وقت ہم قیامت کا ذکر کر رہے تھے، تو آپ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم دس نشانیاں نہ دیکھ لو! مغرب (پچھم) سے سورج کا نکلنا، یاجوج ماجوج کا نکلنا، دابہ (جانور) کا نکلنا، تین بار زمین کا دھنسنا: ایک پورب میں، ایک پچھم میں اور ایک جزیرہ عرب میں، عدن کے اندر سے آگ کا نکلنا جو لوگوں کو ہانکے یا اکٹھا کرے گی، جہاں لوگ رات گزاریں گے وہیں رات گزارے گی اور جہاں لوگ قیلولہ کریں گے وہیں قیلولہ کرے گی۔

Sayyidina Hudhayfah ibn Usayd (RA) narrated : Allah’s Messenger ﷺ observed us from his room while we were discussing the Hour. He said, “The hour will not come till you witness ten signs. (They are:) (1) Rising of the sun from the west, (2) Yajuj and Majuj, (3) The beast,Three times sinking down of the earth. (4) Sinking in the east, (5) Sinking in the west and, (6) Sinking in the Arabian peninsula, and (7) The fire that will emanate from the depths of Aden and drive men or assemble them and spend the night with them wherever they do and wait over them where they have a nap (in the afternoon). [Muslim 2901]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2183
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفتن ١٣ (٢٩٠١)، سنن ابی داود/ الملاحم ١٢ (٤٣١١)، سنن ابن ماجہ/الفتن ٢٨ (٤٠٤١) (تحفة الأشراف: ٧٣٩٧)، و مسند احمد (٤/٧) (صحیح )
2184Sunan At-Tirmidhi

زمین کے دھنسنے کے بارے میں

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْمُرْهِبِيِّ، عَنْمُسْلِمِ بْنِ صَفْوَانَ، عَنْ صَفِيَّةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَنْتَهِي النَّاسُ عَنْ غَزْوِ هَذَا الْبَيْتِ حَتَّى يَغْزُوَ جَيْشٌ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ أَوْ بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ، خُسِفَ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ، وَلَمْ يَنْجُ أَوْسَطُهُمْ ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَنْ كَرِهَ مِنْهُمْ، قَالَ: يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ عَلَى مَا فِي أَنْفُسِهِمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ام المؤمنین صفیہ بنت حی ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگ (اللہ کے) اس گھر پر حملہ کرنے سے باز نہیں آئیں گے، یہاں تک کہ ایک ایسا لشکر لڑائی کرنے کے لیے آئے گا کہ جب اس لشکر کے لوگ مقام بیدا میں ہوں گے، تو ان کے آگے والے اور پیچھے والے دھنسا دے جائیں گے اور ان کے بیچ والے بھی نجات نہیں پائیں گے (یعنی تمام لوگ دھنسا دے جائیں گے) ۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان میں سے جو ناپسند کرتے رہے ہوں ان کے افعال کو وہ بھی؟ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ان کی نیتوں کے مطابق انہیں اٹھائے گا ۔

Sayyidah Safiyah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “People will not cease to attack this House till an army, when it is at the land of Bayda, is swallowed up with the first of it and the last of it, neither will the middle of it be spared.” She asked, “And (what about those) who disapprove of this attack?” He said, “Allah will resurrect them according to what is in their minds.” (That is, their fate depends on their ion. But, in the world they will all perish.) [Ibn Majah 4064]

صحيح، ابن ماجة (4064)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2184
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الفتن ٣٠ (٤٠٦٤) (تحفة الأشراف: ١٥٩٠٢) (صحیح )
2185Sunan At-Tirmidhi

زمین کے دھنسنے کے بارے میں

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا صَيْفِيُّ بْنُ رِبْعِيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَكُونُ فِي آخِرِ الْأُمَّةِ خَسْفٌ، وَمَسْخٌ، وَقَذْفٌ ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِذَا ظَهَرَ الْخُبْثُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ تَكَلَّمَ فِيهِ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس امت کے آخری عہد میں یہ واقعات ظاہر ہوں گے زمین کا دھنسنا، صورت تبدیل ہونا اور آسمان سے پتھر برسنا ، عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم ہلاک کر دئیے جائیں گے حالانکہ ہم میں نیک لوگ بھی ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ہاں، جب فسق و فجور عام ہوجائے گا ۔

Sayyidah Aisha (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said, “Towards the concluding period of this ummah, there will be (punishment through) sinking of the earth, metamorphosis and rain of stones from the sky. She asked, O Messenger of Allah, ﷺ will we perish while among us are the righteous?” He said, ‘Yes when evil is rampant (and overpowering).’

صحيح، الصحيحة (987)، الروض النضير (2 / 394)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2185
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث عائشہ کی روایت سے غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - راوی عبداللہ بن عمر عمری کے حفظ کے تعلق سے یحییٰ بن سعید نے کلام کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٧٥٤٢) (صحیح )
2186Sunan At-Tirmidhi

سورج کا مغرب سے نکلنا

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ، أَتَدْرِي أَيْنَ تَذْهَبُ هَذِهِ ؟ قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّهَا تَذْهَبُ تَسْتَأْذِنُ فِي السُّجُودِ، فَيُؤْذَنُ لَهَا وَكَأَنَّهَا قَدْ قِيلَ لَهَا اطْلُعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ، فَتَطْلُعُ مِنْ مَغْرِبِهَا، قَالَ: ثُمَّ قَرَأَ 0 وَذَلِكَ مُسْتَقَرٌّ لَهَا 0 ، قَالَ: وَذَلِكَ قِرَاءَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، وَحُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي مُوسَى، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ سورج ڈوبنے کے بعد میں مسجد میں داخل ہوا، اس وقت نبی اکرم ﷺ تشریف فرما تھے، آپ ﷺ نے پوچھا: ابوذر! جانتے ہو سورج کہاں جاتا ہے؟ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: وہ سجدے کی اجازت لینے جاتا ہے، اسے اجازت مل جاتی ہے لیکن ایک وقت اس سے کہا جائے گا: اسی جگہ سے نکلو جہاں سے آئے ہو، لہٰذا وہ پچھم سے نکلے گا ، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی: «وذلک مستقر لها» یہ اس کا ٹھکانا ہے ، راوی کہتے ہیں: عبداللہ بن مسعود ؓ کی قرأت یہی ہے۔

Sayvidina Abu Dharr (RA) narrated : I went into the mosque after sunset. The Prophet ﷺ was already seated there. He asked me, “O Abu Dharr, do you know where this (sun) goes?” I said, Allah and His Messenger know best.” He said, “It goes to seek permission to make prostration and it is given permission, as though it is said to it, Rise from where you have come. So it rises from its west.” And he recited That is determined for it. This is the recital of Abdullah ibn Mas’ud. [Bukhari 3199, Muslim 159] --------------------------------------------------------------------------------

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2186
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں صفوان بن عسال، حذیفہ، اسید، انس اور ابوموسیٰ اشعری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الخلق ٤ (٣١٩٩)، والتوحید ٢٢ (٧٤٢٤)، صحیح مسلم/الإیمان ٧٢ (١٥٩)، ویأتي في تفسیر یسین برقم: ٣٢٢٧) (تحفة الأشراف: ١١٩٩٣) (صحیح )
2187Sunan At-Tirmidhi

یاجوج اور ماجوج کے نکلنے کے متعلق

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِالزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ حَبِيبَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، قَالَتْ: اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَوْمٍ مُحْمَرًّا وَجْهُهُ وَهُوَ يَقُولُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، يُرَدِّدُهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ، فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِثْلُ هَذِهِ ، وَعَقَدَ عَشْرًا، قَالَتْ زَيْنَبُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَنَهْلَكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِذَا كَثُرَ الْخُبْثُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ جَوَّدَ سُفْيَانُ هَذَا الْحَدِيثَ، هَكَذَا رَوَى الْحُمَيْدِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْحُفَّاظِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ نَحْوَ هَذَا، وَقَالَ الْحُمَيْدِيُّ: قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ: حَفِظْتُ مِنَ الزُّهْرِيِّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَرْبَعَ نِسْوَةٍ: زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ حَبِيبَةَ، وَهُمَا رَبِيبَتَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، زَوْجَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَكَذَا رَوَى مَعْمَرٌ، وَغَيْرُهُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ حَبِيبَةَ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُ أَصْحَابِ ابْنِ عُيَيْنَةَ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ.

زینب بنت جحش ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سو کر اٹھے تو آپ کا چہرہ مبارک سرخ تھا اور آپ فرما رہے تھے: «لا إله إلا الله» اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں آپ نے اسے تین بار دہرایا، پھر فرمایا: اس شر (فتنہ) سے عرب کے لیے تباہی ہے جو قریب آگیا ہے، آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں اتنا سوراخ ہوگیا ہے اور آپ نے (ہاتھ کی انگلیوں سے) دس کی گرہ لگائی ١ ؎، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم ہلاک کر دئیے جائیں گے حالانکہ ہم میں نیک لوگ بھی ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ہاں، جب برائی زیادہ ہوجائے گی ۔

Sayyidah Zaynab bint Jahsh (RA) narrated Allah’s Messenger ﷺ got up from sleep once and his face had turned red. He was reciting, There is no God but Allah. He repeated it three times. “There is trouble for the Arabs from this mischief which is near. he waH of Yajuj and Majuj has been opened this much”, indicating with his fingers a round circle. Sayyidah Zaynab (RA) said, “O Messenger of Allah, ﷺ will they perish while we, righteous people are among them?” He said, “Yes if evil overwhelms.” [Bukhari 3346, Muslim 2880]

صحيح، ابن ماجة (3953)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2187
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - (سند میں چار عورتوں کا تذکرہ کر کے) سفیان بن عیینہ نے یہ حدیث اچھی طرح بیان کی ہے، حمیدی، علی بن مدینی اور دوسرے کئی محدثین نے یہ حدیث سفیان بن عیینہ سے اسی طرح روایت کی ہے، ٣ - حمیدی کہتے ہیں کہ سفیان بن عیینہ نے کہا: میں نے اس حدیث کی سند میں زہری سے چار عورتوں کا واسطہ یاد کیا ہے: «عن زينب بنت أبي سلمة، عن حبيبة، عن أم حبيبة، عن زينب بنت جحش»، زینب بنت ابی سلمہ اور حبیبہ نبی اکرم ﷺ کی سوتیلی لڑکیاں ہیں اور ام حبیبہ اور زینب بنت جحش نبی اکرم ﷺ کی ازواج مطہرات ہیں، ٤ - معمر اور کئی لوگوں نے یہ حدیث زہری سے اسی طرح روایت کی ہے مگر اس میں حبیبہ کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے، ابن عیینہ کے بعض شاگردوں نے ابن عیینہ سے یہ حدیث روایت کرتے وقت اس میں ام حبیبہ کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے اس سوراخ کی مقدار بتائی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ٧ (٣٣٤٦)، والمناقب ٢٥ (٣٥٩٨)، والفتن ٤ (٧٠٥٩)، و ٢٨ (٧١٣٥)، صحیح مسلم/الفتن ١ (٢٨٨٠)، سنن ابن ماجہ/الفتن ٩ (٣٩٥٢) (تحفة الأشراف: ١٥٨٨٠)، و مسند احمد (٦/٤٢٨، ٤٢٩) (صحیح )
2188Sunan At-Tirmidhi

خارجی گروہ کی نشانی کے بارے میں

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَخْرُجُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ قَوْمٌ أَحْدَاثُ الْأَسْنَانِ، سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَقُولُونَ مِنْ قَوْلِ خَيْرِ الْبَرِيَّةِ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي ذَرٍّ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ فِي غَيْرِ هَذَا الْحَدِيثِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ وَصَفَ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ الَّذِينَ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، إِنَّمَا هُمْ الْخَوَارِجُ الْحَرُورِيَّةُ، وَغَيْرُهُمْ مِنَ الْخَوَارِجِ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آخری زمانہ ١ ؎ میں ایک قوم نکلے گی جس کے افراد نوعمر اور سطحی عقل والے ہوں گے، وہ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، قرآن کی بات کریں گے لیکن وہ دین سے اسی طرح نکل جائیں گے جیسے شکار سے تیر آر پار نکل جاتا ہے ۔

Sayyidina Abdullah ibn Mas’ud (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “There will rise in the final period a people, young of age but poor of intelligence. They will recite the Qur’an but it will not get past their throats. They will mention from the sayings of the best of creation (the Prophet ﷺ but will come out of religion as an arrow comes out of the game.” [Ibn Majah 168]

حسن صحيح، ابن ماجة (168)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2188
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - دوسری حدیث میں نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے جس میں آپ نے انہیں لوگوں کی طرح اوصاف بیان کیا کہ وہ لوگ قرآن پڑھیں گے، مگر ان کے گلے کے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے ایسے ہی نکل جائیں گے جیسے کمان سے تیر نکل جاتا ہے، ان سے مقام حروراء کی طرف منسوب خوارج اور دوسرے خوارج مراد ہیں، ٣ - اس باب میں علی، ابوسعید اور ابوذر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے مراد خلافت راشدہ کا اخیر زمانہ ہے، اس خلافت کی مدت تیس سال ہے، خوارج کا ظہور علی ؓ کے دور خلافت میں ہوا، جب خلافت راشدہ کے دو سال باقی تھے تو علی ؓ نے نہروان کے مقام پر ان سے جنگ کی، اور انہیں قتل کیا، خوارج میں نوعمر اور غیر پختہ عقل کے لوگ تھے جو پرفریب نعروں کا شکار ہوگئے تھے۔ اور رسول اللہ ﷺ کی یہ پیش گوئی ہر زمانہ میں ظاہر ہو رہے ہیں آج کے پرفتن دور میں اس کا مظاہرہ جگہ جگہ نظر آ رہا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی صحیح سمجھ دے اور ہر طرح کے فتنوں سے محفوظ رکھے، آمین۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٢ (١٦٨) (تحفة الأشراف: ٩٢١٠)، و مسند احمد (١/٤٠٤) (صحیح )
2189Sunan At-Tirmidhi

اثرہ کے بارے میں

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، عَنِ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَعْمَلْتَ فُلَانًا وَلَمْ تَسْتَعْمِلْنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

اسید بن حضیر ؓ سے روایت ہے کہ ایک انصاری نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے فلاں کو عامل بنادیا اور مجھے عامل نہیں بنایا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ میرے بعد (غلط) ترجیح دیکھو گے، لہٰذا تم اس پر صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے حوض کوثر پر ملو ۔

Sayyidina Usayd ibn Hudayr (RA) reported that an Ansar submitted, “O Messenger of Allah, ﷺ you availed of the services of ‘that.’ man but did not ask for me to serve you.” So, he said, “You people will see atharah after me, so be patient till you meet me at the pond (Kawthar in Paradise).” [Bukhari 3792, Muslim 1845, Nisai 5398]

صحيح الظلال (752 و 753)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2189
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/مناقب الأنصار ٨ (٣٧٩٢)، والفتن ٢ (٧٠٥٧)، صحیح مسلم/الإمارة ١١ (١٨٤٥)، سنن النسائی/آداب القضاة ٤ (٥٣٨٥) (تحفة الأشراف: ١٤٨)، و مسند احمد (٤/٣٥١، ٣٥٢) (صحیح )
2190Sunan At-Tirmidhi

اثرہ کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً وَأُمُورًا تُنْكِرُونَهَا ، قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: أَدُّوا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ وَسَلُوا اللَّهَ الَّذِي لَكُمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میرے بعد عنقریب (غلط) ترجیح اور ایسے امور دیکھو گے جنہیں تم برا جانو گے ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایسے وقت میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: تم حکام کا حق ادا کرنا (ان کی اطاعت کرنا) اور اللہ سے اپنا حق مانگو ١ ؎۔

Sayyidina Abdullah reported from the Prophet ﷺ that he said, you will see, after me, the atharah and such things as you would dislike.” They said, ‘Then, what do you command us (to do)?” He said, “Give them their rights (and obey them without rebelling against their rule), and ask Allah for that which is yours.” [Bukhari 3603, Muslim 1843, Ahmed 4166] --------------------------------------------------------------------------------

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2190
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی حکام اگر ایسے لوگوں کو دوسروں پر ترجیح دیں جو قابل ترجیح نہیں ہیں تو تم صبر سے کام لیتے ہوئے ان کی اطاعت کرو اور اپنا معاملہ اللہ کے حوالہ کرو، کیونکہ اللہ نیکو کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ٢٥ (٣٦٠٣)، والفتن ٢ (٧٠٥٢)، صحیح مسلم/الإمارة ١٠ (١٨٤٣) (تحفة الأشراف: ٩٢٢٩)، و مسند احمد (١/٣٨٤، ٣٨٧، ٤٣٣) (صحیح )
2191Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ نبی ﷺ نے صحابہ کرام کو قیامت تک کے واقعات کی خبر دی

حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ الْقُرَشِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا صَلَاةَ الْعَصْرِ بِنَهَارٍ، ثُمَّ قَامَ خَطِيبًا فَلَمْ يَدَعْ شَيْئًا يَكُونُ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ إِلَّا أَخْبَرَنَا بِهِ، حَفِظَهُ مَنْ حَفِظَهُ، وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ، وَكَانَ فِيمَا قَالَ: إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ، وَإِنَّ اللَّهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا، فَنَاظِرٌ كَيْفَ تَعْمَلُونَ، أَلَا فَاتَّقُوا الدُّنْيَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَكَانَ فِيمَا قَالَ: أَلَا لَا يَمْنَعَنَّ رَجُلًا هَيْبَةُ النَّاسِ أَنْ يَقُولَ بِحَقٍّ إِذَا عَلِمَهُ ، قَالَ: فَبَكَى أَبُو سَعِيدٍ، فَقَالَ: قَدْ وَاللَّهِ رَأَيْنَا أَشْيَاءَ فَهِبْنَا. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) فَكَانَ فِيمَا قَالَ: أَلَا إِنَّهُ يُنْصَبُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَدْرِ غَدْرَتِهِ، وَلَا غَدْرَةَ أَعْظَمُ مِنْ غَدْرَةِ إِمَامِ عَامَّةٍ يُرْكَزُ لِوَاؤُهُ عِنْدَ اسْتِهِ . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) فَكَانَ فِيمَا حَفِظْنَا يَوْمَئِذٍ: أَلَا إِنَّ بَنِي آدَمَ خُلِقُوا عَلَى طَبَقَاتٍ شَتَّى، فَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ مُؤْمِنًا وَيَحْيَا مُؤْمِنًا وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا، وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ كَافِرًا وَيَحْيَا كَافِرًا وَيَمُوتُ كَافِرًا، وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ مُؤْمِنًا وَيَحْيَا مُؤْمِنًا وَيَمُوتُ كَافِرًا، وَمِنْهُمْ مَنْ يُولَدُ كَافِرًا وَيَحْيَا كَافِرًا وَيَمُوتُ مُؤْمِنًا، أَلَا وَإِنَّ مِنْهُمُ الْبَطِيءَ الْغَضَبِ سَرِيعَ الْفَيْءِ، وَمِنْهُمْ سَرِيعُ الْغَضَبِ سَرِيعُ الْفَيْءِ فَتِلْكَ بِتِلْكَ، أَلَا وَإِنَّ مِنْهُمْ سَرِيعَ الْغَضَبِ بَطِيءَ الْفَيْءِ، أَلَا وَخَيْرُهُمْ بَطِيءُ الْغَضَبِ سَرِيعُ الْفَيْءِ، أَلَا وَشَرُّهُمْ سَرِيعُ الْغَضَبِ بَطِيءُ الْفَيْءِ، أَلَا وَإِنَّ مِنْهُمْ حَسَنَ الْقَضَاءِ حَسَنَ الطَّلَبِ، وَمِنْهُمْ سَيِّئُ الْقَضَاءِ حَسَنُ الطَّلَبِ، وَمِنْهُمْ حَسَنُ الْقَضَاءِ سَيِّئُ الطَّلَبِ فَتِلْكَ بِتِلْكَ، أَلَا وَإِنَّ مِنْهُمُ السَّيِّئَ الْقَضَاءِ السَّيِّئَ الطَّلَبِ، أَلَا وَخَيْرُهُمُ الْحَسَنُ الْقَضَاءِ الْحَسَنُ الطَّلَبِ، أَلَا وَشَرُّهُمْ سَيِّئُ الْقَضَاءِ سَيِّئُ الطَّلَبِ، أَلَا وَإِنَّ الْغَضَبَ جَمْرَةٌ فِي قَلْبِ ابْنِ آدَمَ، أَمَا رَأَيْتُمْ إِلَى حُمْرَةِ عَيْنَيْهِ وَانْتِفَاخِ أَوْدَاجِهِ فَمَنْ أَحَسَّ بِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ فَلْيَلْصَقْ بِالْأَرْضِ . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: قَالَ: وَجَعَلْنَا نَلْتَفِتُ إِلَى الشَّمْسِ هَلْ بَقِيَ مِنْهَا شَيْءٌ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا فِيمَا مَضَى مِنْهَا إِلَّا كَمَا بَقِيَ مِنْ يَوْمِكُمْ هَذَا فِيمَا مَضَى مِنْهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ حُذَيْفَةَ، وَأَبِي مَرْيَمَ، وَأَبِي زَيْدِ بْنِ أَخْطَبَ، وَالْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، وَذَكَرُوا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُمْ بِمَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى أَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے ہمیں عصر کچھ پہلے پڑھائی پھر خطبہ دینے کھڑے ہوئے، اور آپ نے قیامت تک ہونے والی تمام چیزوں کے بارے میں ہمیں خبر دی، یاد رکھنے والوں نے اسے یاد رکھا اور بھولنے والے بھول گئے، آپ نے جو باتیں بیان فرمائیں اس میں سے ایک بات یہ بھی تھی: دنیا میٹھی اور سرسبز ہے، اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں خلیفہ بنائے گا ١ ؎، پھر دیکھے گا کہ تم کیسا عمل کرتے ہو؟ خبردار! دنیا سے اور عورتوں سے بچ کے رہو ٢ ؎، آپ نے یہ بھی فرمایا: خبردار! حق جان لینے کے بعد کسی آدمی کو لوگوں کا خوف اسے بیان کرنے سے نہ روک دے ، ابو سعید خدری ؓ نے روتے ہوئے کہا: اللہ کی قسم! ہم نے بہت ساری چیزیں دیکھی ہیں اور (بیان کرنے سے) ڈر گئے آپ نے یہ بھی بیان فرمایا: خبردار! قیامت کے دن ہر عہد توڑنے والے کے لیے اس کے عہد توڑنے کے مطابق ایک جھنڈا ہوگا اور امام عام کے عہد توڑنے سے بڑھ کر کوئی عہد توڑنا نہیں، اس عہد کے توڑنے والے کا جھنڈا اس کے سرین کے پاس نصب کیا جائے گا ، اس دن کی جو باتیں ہمیں یاد رہیں ان میں سے ایک یہ بھی تھی: جان لو! انسان مختلف درجہ کے پیدا کیے گئے ہیں کچھ لوگ پیدائشی مومن ہوتے ہیں، مومن بن کر زندگی گزارتے ہیں اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوتے ہیں، کچھ لوگ کافر پیدا ہوتے ہیں، کافر بن کر زندگی گزارتے ہیں اور کفر کی حالت میں مرتے ہیں، کچھ لوگ مومن پیدا ہوتے ہیں، مومن بن کر زندگی گزارتے ہیں اور کفر کی حالت میں ان کی موت آتی ہے، کچھ لوگ کافر پیدا ہوتے ہیں، کافر بن کر زندہ رہتے ہیں، اور ایمان کی حالت میں ان کی موت آتی ہے، کچھ لوگوں کو غصہ دیر سے آتا ہے اور جلد ٹھنڈا ہوجاتا ہے، کچھ لوگوں کو غصہ جلد آتا ہے اور دیر سے ٹھنڈا ہوتا ہے، یہ دونوں برابر ہیں، جان لو! کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں جلد غصہ آتا ہے اور دیر سے ٹھنڈا ہوتا ہے، جان لو! ان میں سب سے بہتر وہ ہیں جو دیر سے غصہ ہوتے ہیں اور جلد ٹھنڈے ہوجاتے ہیں، اور سب سے برے وہ ہیں جو جلد غصہ ہوتے ہیں اور دیر سے ٹھنڈے ہوتے ہیں، جان لو! کچھ لوگ اچھے ڈھنگ سے قرض ادا کرتے ہیں اور اچھے ڈھنگ سے قرض وصول کرتے ہیں، کچھ لوگ بدسلوکی سے قرض ادا کرتے ہیں، اور بدسلوکی سے وصول کرتے ہیں، جان لو! ان میں سب سے اچھا وہ ہے جو اچھے ڈھنگ سے قرض ادا کرتا ہے اور اچھے ڈھنگ سے وصول کرتا ہے، اور سب سے برا وہ ہے جو برے ڈھنگ سے ادا کرتا ہے، اور بدسلوکی سے وصول کرتا ہے، جان لو! غصہ انسان کے دل میں ایک چنگاری ہے کیا تم غصہ ہونے والے کی آنکھوں کی سرخی اور اس کی گردن کی رگوں کو پھولتے ہوئے نہیں دیکھتے ہو؟ لہٰذا جس شخص کو غصہ کا احساس ہو وہ زمین سے چپک جائے ، ابو سعید خدری کہتے ہیں: ہم لوگ سورج کی طرف مڑ کر دیکھنے لگے کہ کیا ابھی ڈوبنے میں کچھ باقی ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جان لو! دنیا کے گزرے ہوئے حصہ کی بہ نسبت اب جو حصہ باقی ہے وہ اتنا ہی ہے جتنا حصہ آج کا تمہارے گزرے ہوئے دن کی بہ نسبت باقی ہے ٣ ؎۔

Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) reported : Allah’s Messenger ﷺ offered the salah of asr with us one day. Then, he got up and addressed us, leaving out nothing that would happen till the Last Hour and informed us of all that. So, he who did, remembered it and he who forgot, forgot it. Of what he said is, “The world is green and sweet and Allah has made you khaufah here. He will see how you work. Beware! Preserve yourself from the world and preserve yourself from women. Beware ! Let not awe of the people prevent one who has knowledge from speaking the truth. “The sub-narrator said that Abu Sa’eed (RA) wept and said, “By Allah, we saw something and were awe-stricken.” The Prophet ﷺ also said, “Beware! The standard will be set up on the Day of Resurrection for the betrayer according to the degree of his betrayal. And no betrayal is greater then the betrayal of the general imam. His standard will he posted on his back.” Sayyidina Abu Sa’eed reported that of what they remembered that day is (the Prophet ﷺ saying), “Beware ! The children of Adam are created on different stages: Among them is he who is born a Believer, lives a Believer and dies a Believer. Among them is he too who is born an infidel, lives as an infidel and dies an infidel. Among them is he who is born Believer, Lives as a Believer hut dies an infidel. And among them is he who is born an infidel, lives as an infidel but dies a Believer. Beware! And among them is one who is slow to get angry but quick to cool down. And among them is he who is quick to get angry and also quick to cool down. They are auke, equal. And of them is one who is quick to get angry, but slow to cool down. Beware! The best of them is the slow to get angry and quick to cool down and the worst of them is the quick to get angry and the slow to cool down. Beware! Among them is the one who is a good pay master and mild in demanding repayment. And among them is he who is had at repayment and mild in demanding repayment. And among them is he who is good at repaymant and harsh in demanding repayment. That is the equilibrium. Beware! Among them is he who is a bad paymaster and a harsh collector (of debts). Beware, the best of them is the good paymaster and mild in demanding repayment. Beware! And the worst of them is he who is bad at repayment and harsh in demanding. Beware! Anger is a firebrand in the heart of the son of Adam. Do you not see the redness of his eyes and the swollen vein on his neck. Thus, one who feels something of that, let him cling down to earth, close to it.’ The narrator said that they looked at the sun to see if it was there or had set down. The Prophet ﷺ then said, Beware! The world’s life will not last but onv as much as is past, except like this day of yours compared to what has gone by of it.’ [ Ibn Majah 4000] --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف، لکن بعض فقراته صحيح . فانظر مثلا ابن ماجة (4000) الرد علی بليق (86)، ابن ماجة (4000) // ضعيف سنن ابن ماجة (865 ) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2191
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں حذیفہ، ابومریم، ابوزید بن اخطب اور مغیرہ بن شعبہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ان لوگوں نے بیان کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ان سے قیامت تک ہونے والی چیزوں کو بیان فرمایا۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی تم کو پچھلی قوموں کا وارث و نائب بنائے گا، یہ نہیں کہ انسان اللہ کا خلفیہ و نائب ہے یہ غلط بات ہے، بلکہ اللہ خود انسان کا خلیفہ ہے جیسا کہ خضر کی دعا میں ہے «والخلیف ۃ بعد»۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الفتن ١٩ (٤٠٠٠) (تحفة الأشراف: ٤٣٦٦) (ضعیف) (سند میں ” علی بن زید بن جدعان “ ضعیف ہیں، اس لیے یہ حدیث اس سیاق سے ضعیف ہے، لیکن اس حدیث کے کئی ٹکڑوں کے صحیح شواہد موجود ہیں، دیکھیے: الصحیحہ: ٤٨٦، و ٩١١ )
2192Sunan At-Tirmidhi

اہل شام کی فضلیت کے بارے میں

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا فَسَدَ أَهْلُ الشَّامِ فَلَا خَيْرَ فِيكُمْ، لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي مَنْصُورِينَ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، هُمْ أَصْحَابُ الْحَدِيثِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

قرہ بن ایاس المزنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب ملک شام والوں میں خرابی پیدا ہوجائے گی تو تم میں کوئی اچھائی باقی نہیں رہے گی، میری امت کے ایک گروہ کو ہمیشہ اللہ کی مدد سے حاصل رہے گی، اس کی مدد نہ کرنے والے قیامت تک اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے ١ ؎۔

Sayyidina Qurrah reported that Allah’s Messenger said, “When people of Syria become bad, there remains no good in you. There continues to be a section of my ummah who are helped always and they will suffer no harm if anyone lets them down, till the Hour comes. Muhammad ibn Isma’il (Bukhari) said that Ali ibn Madini explained that they were scholars of hadith. [Ahmed 20383, Ibn Majah 6]

صحيح، ابن ماجة (6)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2192
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن حوالہ، ابن عمر، زید بن ثابت اور عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - محمد بن اسماعیل بخاری نے کہا کہ علی بن مدینی نے کہا: ان سے مراد اہل حدیث ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی یہ گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا، اللہ کی نصرت و مدد سے سرفراز رہے گا، اس کی نصرت و تائید نہ کرنے والے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، امام نووی کہتے ہیں: یہ گروہ اقطار عالم میں منتشر ہوگا، جس میں بہادر قسم کے جنگجو، فقہاء، محدثین، زہداء اور معروف و منکر کا فریضہ انجام دینے والے لوگ ہوں گے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١ (٦) (تحفة الأشراف: ١١٠٨١)، و مسند احمد (٥/٣٤، ٣٥) (صحیح )
2193Sunan At-Tirmidhi

میرے بعد کافر ہو کر ایک دوسرے کو قتل نہ کرنے لگ جانا

حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَجَرِيرٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَكُرْزِ بْنِ عَلْقَمَةَ، وَوَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ، وَالصُّنَابِحِيِّ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میرے بعد کافر ہو کر ایک دوسرے کی گردنیں مت مارنا ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Do not return to disbelief, some of you striking the neck of some others, after me.” [Bukhari 1739] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (3942 و 3943)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2193
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن مسعود، جریر، ابن عمر، کرز بن علقمہ، واثلہ اور صنابحی ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ ـ: یعنیکفار سے مشابہتمتاختیارکرنا اور کفریہاعمالکونہاپنانا، اسحدیث میں کافرکالفظزجروتوبیخ کے طورپ رہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ١٣٢ (١٧٣٩)، والفتن ٨ (٧٠٧٩) (تحفة الأشراف: ٦١٨٥)، و مسند احمد (١/٢٣٠، ٤٠٢) (صحیح )
2194Sunan At-Tirmidhi

ایسا فتنہ جس میں بیٹھا رہنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّسَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ عِنْدَ فِتْنَةِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ: أَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّهَا سَتَكُونُ فِتْنَةٌ الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمُ خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي، وَالْمَاشِي خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي ، قَالَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ دَخَلَ عَلَيَّ بَيْتِي وَبَسَطَ يَدَهُ إِلَيَّ لِيَقْتُلَنِي، قَالَ: كُنْ كَابْنِ آدَمَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَخَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ، وَأَبِي بَكْرَةَ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي وَاقِدٍ، وَأَبِي مُوسَى، وَخَرَشَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، وَزَادَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ رَجُلًا، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ.

بسر بن سعید ؓ سے روایت ہے کہ سعد بن ابی وقاص ؓ نے عثمان بن عفان ؓ کے دور خلافت میں ہونے والے فتنہ کے وقت کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عنقریب ایک ایسا فتنہ ہوگا جس میں بیٹھنے والا کھڑا ہونے والے سے بہتر ہوگا، کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا ، میں نے عرض کیا: آپ بتائیے اگر کوئی میرے گھر میں گھس آئے اور قتل کرنے کے لیے میری طرف اپنا ہاتھ بڑھائے تو میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا: آدم کے بیٹے (ہابیل) کی طرح ہوجانا ۔

Busr ibn Sa’eed reported on the authorityof Sayyidina Sa’d ibn Waqqas (RA) that Sayyid ma Uthman ibn Affan (RA) bore testimony that Allah’s Messenger said concerning trial, “There will come a trial when the sitter during it will be better than one who is standing. He who keeps standing will be better than he who walks while the walker will be better than the runner.’ He asked, “What should I do if anyone intrudes into my home and raises his hand over me to kill me?” He said, “Be like the son of Adam.” (Habil was killed at the hands of his brother). [Muslim 2887, Ahmed 20434] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، الصحيحة (758)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2194
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - بعض لوگوں نے اسے لیث بن سعد سے روایت کرتے ہوئے سند میں «رجلا» (ایک آدمی) کا اضافہ کیا ہے، ٣ - سعد بن ابی وقاص ؓ کی روایت سے نبی اکرم ﷺ سے یہ حدیث دوسری سند سے بھی آئی ہے، ٤ - اس باب میں ابوہریرہ، خباب بن ارت، ابوبکرہ، ابن مسعود، ابو واقد، ابوموسیٰ اشعری اور خرشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٣٨٤٦) (صحیح )
2195Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ ایک فتنہ ایسا ہوگا جو اندھیری رات کی طرح ہوگا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا، يَبِيعُ أَحَدُهُمْ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ نیک اعمال کی طرف جلدی کرو، ان فتنوں کے خوف سے جو سخت تاریک رات کی طرح ہیں جس میں آدمی صبح کے وقت مومن اور شام کے وقت کافر ہوگا، شام کے وقت مومن اور صبح کے وقت کافر ہوگا، دنیاوی ساز و سامان کے بدلے آدمی اپنا دین بیچ دے گا ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger said, “Set about doing (good) deeds before trials engulf you like a portion of a dark night (when) a man commences his morning as a believer but becomes a disbeliever by evening, or is a believer in the evening and morning finds him a disbeliever. He sells his religion against a little of this world.” [Ahmed 8036, Muslim 118]

Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی قرب قیامت کے وقت بکثرت فتنوں کا ظہور ہوگا، ہر ایک دنیا کا طالب ہوگا، لوگوں کی نگاہ میں دین و ایمان کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہے گی، انسان مختلف قسم کے روپ اختیار کرے گا، یہاں تک کہ دنیوی مفادات کی خاطر اپنا دین و ایمان فروخت کر بیٹھے گا، اس حدیث میں ایسے حالات میں اہل ایمان کو استقامت کی اور بلا تاخیر اعمال صالحہ بجا لانے کی تلقین کی گئی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٥١ (١١٨) (تحفة الأشراف: ١٤٠٧٥) (صحیح )
2196Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ ایک فتنہ ایسا ہوگا جو اندھیری رات کی طرح ہوگا

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ هِنْدٍ بِنْتِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَيْقَظَ لَيْلَةً، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، مَاذَا أُنْزِلَ اللَّيْلَةَ مِنَ الْفِتْنَةِ ؟ مَاذَا أُنْزِلَ مِنَ الْخَزَائِنِ ؟ مَنْ يُوقِظُ صَوَاحِبَ الْحُجُرَاتِ ؟ يَا رُبَّ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٌ فِي الْآخِرَةِ ، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ایک رات بیدار ہوئے اور فرمایا: سبحان اللہ! آج کی رات کتنے فتنے اور کتنے خزانے نازل ہوئے! حجرہ والیوں (امہات المؤمنین) کو کوئی جگانے والا ہے؟ سنو! دنیا میں کپڑا پہننے والی بہت سی عورتیں آخرت میں ننگی ہوں گی ١ ؎۔

Sayyidah Umm Salamah (RA) reported that one night the Prophet ﷺ woke up and said, “SubhanAllah (Glory be to Allah)! How many trials descended tonight! And how many treasures came down tonight! Who will wake up the ladies of the chamber (the pure wives of the Prophet ﷺ ? Most of the dressed in this world will be bare in the hereafter.” [Bukhari 115, Ahmed 26607]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2196
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے مراد وہ عورتیں ہیں جو بےانتہا باریک لباس پہنتی ہیں، یا وہ عورتیں مراد ہیں جن کے لباس مال حرام سے بنتے ہیں، یا وہ عورتیں ہیں جو بطور زینت بہت سے کپڑے استعمال کرتی ہیں، لیکن عریانیت سے اپنے آپ کو محفوظ نہیں رکھتیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٤٠ (١١٥)، والتھجد ٥ (١١٢٦)، والمناقب ٢٥ (٣٥٩٩)، واللباس ٣١ (٥٨٤٤)، والأدب ١٢١ (٦٢١٨)، والفتن ٦ (٧٠٦٩) (تحفة الأشراف: ١٨٢٩٠)، و مسند احمد (٦/٢٩٧) (صحیح )
2197Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ ایک فتنہ ایسا ہوگا جو اندھیری رات کی طرح ہوگا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: تَكُونُ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ، فِتَنٌ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا، يَبِيعُ أَقْوَامٌ دِينَهُمْ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَجُنْدَبٍ، وَالنُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، وَأَبِي مُوسَى، وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت سے پہلے سخت تاریک رات کی طرح فتنے (ظاہر) ہوں گے، جن میں آدمی صبح کو مومن ہوگا اور شام میں کافر ہوجائے گا، شام میں مومن ہوگا اور صبح کو کافر ہوجائے گا، دنیاوی ساز و سامان کے بدلے کچھ لوگ اپنا دین بیچ دیں گے ۔

Sayyidina Anas ibn Malik (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “As the Hour approaches, there will be trials like a portion of a dark night. A man who wakes up in it as a believer turns a disbeliever in the evening. Or, he is believer in the evening but wakes up a disbeliever in the morning. People will sell their religion for a little of this world.”

حسن صحيح، الصحيحة (758 و 810 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2197
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ، جندب، نعمان بن بشیر اور ابوموسیٰ اشعری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ الموٌلف (تحفة الأشراف: ٨٥٠) (حسن صحیح )