Sunan At-Tirmidhi 2184

فتنوں کا بیان

2184Sunan At-Tirmidhi

زمین کے دھنسنے کے بارے میں

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْمُرْهِبِيِّ، عَنْمُسْلِمِ بْنِ صَفْوَانَ، عَنْ صَفِيَّةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَنْتَهِي النَّاسُ عَنْ غَزْوِ هَذَا الْبَيْتِ حَتَّى يَغْزُوَ جَيْشٌ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ أَوْ بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ، خُسِفَ بِأَوَّلِهِمْ وَآخِرِهِمْ، وَلَمْ يَنْجُ أَوْسَطُهُمْ ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَنْ كَرِهَ مِنْهُمْ، قَالَ: يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ عَلَى مَا فِي أَنْفُسِهِمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ام المؤمنین صفیہ بنت حی ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگ (اللہ کے) اس گھر پر حملہ کرنے سے باز نہیں آئیں گے، یہاں تک کہ ایک ایسا لشکر لڑائی کرنے کے لیے آئے گا کہ جب اس لشکر کے لوگ مقام بیدا میں ہوں گے، تو ان کے آگے والے اور پیچھے والے دھنسا دے جائیں گے اور ان کے بیچ والے بھی نجات نہیں پائیں گے (یعنی تمام لوگ دھنسا دے جائیں گے) ۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان میں سے جو ناپسند کرتے رہے ہوں ان کے افعال کو وہ بھی؟ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ان کی نیتوں کے مطابق انہیں اٹھائے گا ۔

Sayyidah Safiyah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “People will not cease to attack this House till an army, when it is at the land of Bayda, is swallowed up with the first of it and the last of it, neither will the middle of it be spared.” She asked, “And (what about those) who disapprove of this attack?” He said, “Allah will resurrect them according to what is in their minds.” (That is, their fate depends on their ion. But, in the world they will all perish.) [Ibn Majah 4064]

صحيح، ابن ماجة (4064)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2184
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الفتن ٣٠ (٤٠٦٤) (تحفة الأشراف: ١٥٩٠٢) (صحیح )