Sunan At-Tirmidhi 2190

فتنوں کا بیان

2190Sunan At-Tirmidhi

اثرہ کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً وَأُمُورًا تُنْكِرُونَهَا ، قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: أَدُّوا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ وَسَلُوا اللَّهَ الَّذِي لَكُمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میرے بعد عنقریب (غلط) ترجیح اور ایسے امور دیکھو گے جنہیں تم برا جانو گے ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ایسے وقت میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: تم حکام کا حق ادا کرنا (ان کی اطاعت کرنا) اور اللہ سے اپنا حق مانگو ١ ؎۔

Sayyidina Abdullah reported from the Prophet ﷺ that he said, you will see, after me, the atharah and such things as you would dislike.” They said, ‘Then, what do you command us (to do)?” He said, “Give them their rights (and obey them without rebelling against their rule), and ask Allah for that which is yours.” [Bukhari 3603, Muslim 1843, Ahmed 4166] --------------------------------------------------------------------------------

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2190
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی حکام اگر ایسے لوگوں کو دوسروں پر ترجیح دیں جو قابل ترجیح نہیں ہیں تو تم صبر سے کام لیتے ہوئے ان کی اطاعت کرو اور اپنا معاملہ اللہ کے حوالہ کرو، کیونکہ اللہ نیکو کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ٢٥ (٣٦٠٣)، والفتن ٢ (٧٠٥٢)، صحیح مسلم/الإمارة ١٠ (١٨٤٣) (تحفة الأشراف: ٩٢٢٩)، و مسند احمد (١/٣٨٤، ٣٨٧، ٤٣٣) (صحیح )