چاند کے پھٹنے کے متعلق
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: انْفَلَقَ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اشْهَدُوا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَنَسٍ، وَجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں چاند (دو ٹکڑوں میں) ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ گواہ رہو ١ ؎۔
Sayyidina lbn Umar (RA) said that in the era of Allah’s Messenger ﷺ the moon was split, and he said, “Be you witnesses!.” [Muslim 2800]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2182
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن مسعود، انس اور جبیر بن مطعم ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: چاند کا دو ٹکڑوں میں بٹ جانا نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں ہوا، اس معجزہ کا ظہور اہل مکہ کے مطالبے پر ہوا تھا صحیحین میں ہے کہ چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے، یہاں تک کہ لوگوں نے حرا پہاڑ کو اس کے درمیان دیکھا، اس کا ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر اور دوسرا اس سے نیچے تھا، یہ آپ ﷺ کے واضح معجزات میں سے ہے، ایسی متواتر احادیث سے اس کا ثبوت ہے جو صحیح سندوں سے ثابت ہیں، جمہور علماء اس معجزہ کے قائل ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/صفات المنافقین ٨ (٢٨٠١) (تحفة الأشراف: ٧٣٩٠) (صحیح )