Sunan At-Tirmidhi 2180

فتنوں کا بیان

2180Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں سابقہ امتوں کی عادات اس امت میں بھی ہوگی

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا خَرَجَ إِلَى خُيْبَرَ، مَرَّ بِشَجَرَةٍ لِلْمُشْرِكِينَ، يُقَالُ لَهَا: ذَاتُ أَنْوَاطٍ، يُعَلِّقُونَ عَلَيْهَا أَسْلِحَتَهُمْ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اجْعَلْ لَنَا ذَاتَ أَنْوَاطٍ كَمَا لَهُمْ ذَاتُ أَنْوَاطٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، هَذَا كَمَا قَالَ قَوْمُ مُوسَى: اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ سورة الأعراف آية 138، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَرْكَبُنَّ سُنَّةَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو وَاقِدٍ اللَّيْثِيُّ اسْمُهُ الْحَارِثُ بْنُ عَوْفٍ، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ.

ابو واقد لیثی ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ حنین کے لیے نکلے تو آپ کا گزر مشرکین کے ایک درخت کے پاس سے ہوا جسے ذات انواط کہا جاتا تھا، اس درخت پر مشرکین اپنے ہتھیار لٹکاتے تھے ١ ؎، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے لیے بھی ایک ذات انواط مقرر فرما دیجئیے جیسا کہ مشرکین کا ایک ذات انواط ہے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سبحان اللہ! یہ تو وہی بات ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے کہی تھی کہ ہمارے لیے بھی معبود بنا دیجئیے جیسا ان مشرکوں کے لیے ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم گزشتہ امتوں کی پوری پوری پیروی کرو گے ٢ ؎۔

Sayyidina Abu Waqid Laythi reported that when the Prophet ﷺ went out for the Battle of Hunayn, he passed by a tree belonging to the polytheists. It was known as dhaat anwat. They used to hang down their weapons over it. The sahabah said, “O Messenger of Allah, ﷺ make for us a dhaat anwat as there is for them a dhaat anwat.” He said, “Glory be to Allah! This is as what the people of Musa (AS) said, “Make for us a god as there is for them a god. By Him who has my soul in His hand, you will perpetrate the practices of the people gone before you.” [Ahmed 21956] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح ظلال الجنة (76)، المشکاة (5369)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2180
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ابو واقد لیثی کا نام حارث بن عوف ہے، ٣ - اس باب میں ابو سعید خدری اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ذات انواط نامی درخت جھاؤ کی قسم سے تھا، مشرکین بطور حاجت برآری اس پر اپنا ہتھیار لٹکاتے اور اس درخت کے اردگرد اعتکاف کرتے تھے۔ ٢ ؎: مفہوم یہ ہے کہ تم خلاف شرع نافرمانی کے کاموں میں اپنے سے پہلے کی امتوں کے نقش قدم پر چلو گے، نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان کے مطابق آج مسلمانوں کا حال حقیقت میں ایسا ہی ہے، چناچہ یہود و نصاری اور مشرکین کی کون سی عادات و اطوار ہیں جنہیں مسلمانوں نے نہ اپنایا ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: ١٤٥١٦) (صحیح )