اس بارے میں کہ ایک فتنہ ایسا ہوگا جو اندھیری رات کی طرح ہوگا
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ هِنْدٍ بِنْتِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَيْقَظَ لَيْلَةً، فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، مَاذَا أُنْزِلَ اللَّيْلَةَ مِنَ الْفِتْنَةِ ؟ مَاذَا أُنْزِلَ مِنَ الْخَزَائِنِ ؟ مَنْ يُوقِظُ صَوَاحِبَ الْحُجُرَاتِ ؟ يَا رُبَّ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٌ فِي الْآخِرَةِ ، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ایک رات بیدار ہوئے اور فرمایا: سبحان اللہ! آج کی رات کتنے فتنے اور کتنے خزانے نازل ہوئے! حجرہ والیوں (امہات المؤمنین) کو کوئی جگانے والا ہے؟ سنو! دنیا میں کپڑا پہننے والی بہت سی عورتیں آخرت میں ننگی ہوں گی ١ ؎۔
Sayyidah Umm Salamah (RA) reported that one night the Prophet ﷺ woke up and said, “SubhanAllah (Glory be to Allah)! How many trials descended tonight! And how many treasures came down tonight! Who will wake up the ladies of the chamber (the pure wives of the Prophet ﷺ ? Most of the dressed in this world will be bare in the hereafter.” [Bukhari 115, Ahmed 26607]