Sunan At-Tirmidhi 2205

فتنوں کا بیان

2205Sunan At-Tirmidhi

علامت قیامت کے متعلق

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ قَالَ: أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُحَدِّثُكُمْ أَحَدٌ بَعْدِي أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ: أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ، وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ، وَيَفْشُوَ الزِّنَا، وَتُشْرَبَ الْخَمْرُ، وَيَكْثُرَ النِّسَاءُ، وَيَقِلَّ الرِّجَالُ، حَتَّى يَكُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةً قَيِّمٌ وَاحِدٌ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي مُوسَى، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں تم لوگوں سے ایک ایسی حدیث بیان کر رہا ہوں جسے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے اور میرے بعد تم سے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہوئی حدیث کوئی نہیں بیان کرے گا ١ ؎، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے: علم کا اٹھایا جانا، جہالت کا پھیل جانا، زنا کا عام ہوجانا، شراب نوشی، عورتوں کی کثرت اور مردوں کی قلت یہاں تک کہ پچاس عورتوں پر ایک نگراں ہوگا۔

Sayyidina Anas ibn Malik reported having heard a hadith from Allah’s Messenger which he said, “I would narrate to yu. No one will narrate it after me as having heard from Allah’s Messenger.’(The Prophet ﷺ said:) Of the signs of the last Hour is that knowledge will be taken away, ignorance will be apparent, adultery will be widespread, wine will be consumed, women will outnumber (men) and men will be few so that for every fifty women there will be one male as (their) overseer. [Bukhari 80, Muslim 2671] --------------------------------------------------------------------------------

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2205
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوموسیٰ اشعری اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: انس ؓ وہ آخری صحابی ہیں جن کا انتقال بصرہ میں ہوا ہے، ممکن ہے یہ بات انہوں نے اپنی زندگی کے آخری دور میں کہی ہو، ظاہر ہے اس وقت گنے چنے ایسے صحابہ موجود رہے ہوں گے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ حدیث نہیں سنی ہوگی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٢١ (٨٠، ٨١)، والنکاح ١١٠ (٥٢٣١)، والأشربة ١ (٥٥٧٧)، صحیح مسلم/العلم ٥ (٢٦٧١)، سنن ابن ماجہ/الفتن ٢٥ (٤٠٤٥) (تحفة الأشراف: ١٢٤٠) (صحیح )