Sunan At-Tirmidhi 14

طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے

14Sunan At-Tirmidhi

قضائے حاجت کے وقت پردہ کرنا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ الْمُلَائِيُّ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ الْحَاجَةَ لَمْ يَرْفَعْ ثَوْبَهُ حَتَّى يَدْنُوَ مِنَ الْأَرْضِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَكَذَا رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَنَسٍ هَذَا الْحَدِيثَ، وَرَوَى وَكِيعٌ، وَأَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، عَنْ الْأَعْمَشِ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ الْحَاجَةَ لَمْ يَرْفَعْ ثَوْبَهُ حَتَّى يَدْنُوَ مِنَ الْأَرْضِ . وَكِلَا الْحَدِيثَيْنِ مُرْسَلٌ، وَيُقَالُ: لَمْ يَسْمَعْ الْأَعْمَشُ مِنْ أَنَسٍ وَلَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ نَظَرَ إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: رَأَيْتُهُ يُصَلِّي، فَذَكَرَ عَنْهُ حِكَايَةً فِي الصَّلَاةِ، وَالْأَعْمَشُ اسْمُهُ: سُلَيْمَانُ بْنُ مِهْرَانَ أَبُو مُحَمَّدٍ الْكَاهِلِيُّ، وَهُوَ مَوْلًى لَهُمْ، قَالَ الْأَعْمَشُ: كَانَ أَبِي حَمِيلًا فَوَرَّثَهُ مَسْرُوقٌ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب قضائے حاجت کا ارادہ فرماتے تو جب تک زمین سے بالکل قریب نہ ہوجاتے اپنے کپڑے نہیں اٹھاتے تھے۔ دوسری سند میں اعمش سے روایت ہے، ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب قضائے حاجت کا ارادہ فرماتے کپڑے جب تک زمین سے قریب نہیں ہوجاتے نہیں اٹھاتے تھے ١ ؎۔

Anas (RA) said that when Prophet ﷺ (Peace be upon him) wanted to relieve himself did not raise his lower garment till he was very near the ground.

صحيح، صحيح أبي داود (11)، الصحيحة (1071)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 14
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ دونوں احادیث مرسل ہیں، اس لیے کہ کہا جاتا ہے: دونوں احادیث کے راوی سلیمان بن مہران الأعمش نے نہ ہی تو انس بن مالک ؓ سے سماعت کی ہے اور نہ ہی کسی اور صحابی سے، صرف اتنا ہے کہ انس کو صرف انہوں نے دیکھا ہے، اعمش کہتے ہیں کہ میں نے انہیں نماز پڑھتے دیکھا ہے پھر ان کی نماز کی کیفیت بیان کی۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں مرسل سے منقطع مراد ہے، اس کی تشریح خود امام ترمذی نے کردی ہے کہ اعمش کا انس ؓ سے سماع نہیں ہے، ویسے عام اصطلاحی مرسل: وہ حدیث ہوتی ہے جس کی سند کے آخر سے تابعی کے بعد والا راوی ساقط ہو، ایسی روایت ضعیف ہوتی ہے کیونکہ اس میں اتصال سند مفقود ہوتا ہے جو صحیح حدیث کی ایک لازمی شرط ہے، اسی طرح محذوف راوی کا کوئی تعین نہیں ہوتا، ممکن ہے وہ کوئی غیر صحابی ہو، اس صورت میں اس کے ضعیف ہونے کا احتمال بڑھ جاتا ہے۔ اور انقطاع کا مطلب یہ ہے کہ سند میں کوئی راوی چھوٹا ہوا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطہارة ٦ (١٤) (تحفة الأشراف: ٨٩٢) سنن الدارمی/ الطہارة ٧ (٦٩٣) (صحیح)