Sunan At-Tirmidhi 1236

خرید وفروخت کا بیان

1236Sunan At-Tirmidhi

حق ولاء کا بیچنا اور ہبہ کرنا صحیح نہیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، وَشُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَهِبَتِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَقَدْ رَوَى يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَهِبَتِهِ ، وَهُوَ وَهْمٌ وَهِمَ فِيهِ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، وَرَوَى عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمٍ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ولاء ١ ؎ کو بیچنے اور ہبہ کرنے سے منع فرمایا ٢ ؎۔

Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ disallowed the selling of wala, or giving it as gift. [Bukhari 1244, Muslim 1506, Ahmed 4560, Abu Dawud 2919, Nisai 4668, Ibn e Majah 2747] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (2747 و 2748)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1236
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ہم اسے صرف بروایت عبداللہ بن دینار جانتے ہیں جسے انہوں نے ابن عمر سے روایت کی ہے، ٣ - یحییٰ بن سلیم نے یہ حدیث بطریق: «عبيد اللہ بن عمر عن نافع عن ابن عمر عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے کہ آپ نے ولاء کو بیچنے اور ہبہ کرنے سے منع فرمایا۔ اس سند میں وہم ہے۔ اس کے اندر یحییٰ بن سلیم سے وہم ہوا ہے، ٤ - عبدالوھاب ثقفی، اور عبداللہ بن نمیر اور دیگر کئی لوگوں نے بطریق: «عن عبيد اللہ بن عمر عن عبد اللہ بن دينار عن ابن عمر عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے اور یہ یحییٰ بن سلیم کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ٥ - اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ولاء اس حق وراثت کو کہتے ہیں جو آزاد کرنے والے کو آزاد کردہ غلام کی طرف سے ملتا ہے۔ ٢ ؎: عرب آزاد ہونے والے کی موت سے پہلے ہی ولاء کو فروخت کردیتے یا ہبہ کردیتے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے ممنوع قرار دیا تاکہ ولاء آزاد کرنے والے کے وارثوں کو ملے یا اگر خود زندہ ہے تو وہ خود حاصل کرے، لہٰذا ایسے غلام کا بیچنا یا اسے ہبہ کرنا جائز نہیں جمہور علماء سلف وخلف کا یہی مذہب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العتق ١٠ (٢٥٣٥)، و الفرائض ٢١ (٦٧٥٦)، صحیح مسلم/ العتق ٣ (١٥٠٦)، سنن ابی داود/ الفرائض ١٤ (٢٩١٩)، سنن النسائی/البیوع ٨٧ (٤٦٦٦)، سنن ابن ماجہ/ الفرائض ١٥ (٢٧٤٧)، ویأتي برقم (٢١٢٦)، (التحفہ: ٧١٥، و ٧١٨٩)، و موطا امام مالک/العتق ١٠ (٢٠)، و مسند احمد (٢/٩، ٧٩، ١٠٧)، سنن الدارمی/ البیوع ٣٦ (٢٦١٤)، والفرائض ٥٣ (٣٢٠٠) (صحیح )