Sunan At-Tirmidhi 1234

خرید وفروخت کا بیان

1234Sunan At-Tirmidhi

جو چیز بیچنے والے کے پاس نہ ہو اس کو بیچنا منع ہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْأَبِيهِ، حَتَّى ذَكَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَحِلُّ سَلَفٌ، وَبَيْعٌ وَلَا شَرْطَانِ فِي بَيْعٍ، وَلَا رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ، وَلَا بَيْعُ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، قَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، رَوَى أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، وَأَبُو بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَوْفٌ، وَهِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَذَا حَدِيثٌ مُرْسَلٌ، إِنَّمَا رَوَاهُ ابْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیع کے ساتھ قرض جائز نہیں ہے ١ ؎، اور نہ ایک بیع میں دو شرطیں جائز ہیں ٢ ؎ اور نہ ایسی چیز سے فائدہ اٹھانا جائز ہے جس کا وہ ضامن نہ ہو ٣ ؎ اور نہ ایسی چیز کی بیع جائز ہے جو تمہارے پاس نہ ہو۔

Ahmad ibn Mani reported from Isma’il ibn Ibrahim, from Ayyub, from Amr ibn Shu’ayh who from his father and he from the grandfather of Amr ascending up to Abdullah ibn Amr that Allah’s Messenger ﷺ said, salaf. Wa Bai are not lawful . Also, two conditions in one sale are not allowed. Also, profit of what he is not a guarantor is not allowed. In the same way, it is not lawful to sell that which is not in one’s possession.” [Ahmed 6683, Abu Dawud 3504, Nisai 4642, Ibn e Majah 2188] --------------------------------------------------------------------------------

حسن صحيح، ابن ماجة (2188)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1234
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - حکیم بن حزام کی حدیث حسن ہے ( ١٢٣٢ ، ١٢٣٣ ) ، یہ ان سے اور بھی سندوں سے مروی ہے۔ اور ایوب سختیانی اور ابوبشر نے اسے یوسف بن ماہک سے اور یوسف نے حکیم بن حزام سے روایت کیا ہے۔ اور عوف اور ہشام بن حسان نے اس حدیث کو ابن سیرین سے اور ابن سیرین نے حکیم بن حزام سے اور حکیم بن حزام نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے اور یہ حدیث (روایت) مرسل (منقطع) ہے۔ اسے (اصلاً ) ابن سیرین نے ایوب سختیانی سے اور ایوب نے یوسف بن ماہک سے اور یوسف بن ماہک نے حکیم بن حزام سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کی صورت یہ ہے کہ فروخت کنندہ، بائع کہے کہ میں یہ کپڑا تیرے ہاتھ دس روپے میں فروخت کرتا ہوں بشرطیکہ مجھے دس روپے قرض دے دو یا یوں کہے کہ میں تمہیں دس روپے قرض دیتا ہوں بشرطیکہ تم اپنا یہ سامان میرے ہاتھ سے بیچ دو۔ ٢ ؎: اس کے متعلق ایک قول یہ ہے اس سے مراد ایک بیع میں دو فروختیں اور امام احمد کہتے ہیں اس کی شکل یہ ہے کہ بیچنے والا کہے میں یہ کپڑا تیرے ہاتھ بیچ رہا ہوں اس شرط پر کہ اس کی سلائی اور دھلائی میرے ذمہ ہوگی۔ ٣ ؎: یعنی کسی سامان کا منافع حاصل کرنا اس وقت تک جائز نہیں جب تک کہ وہ اس کا مالک نہ ہوجائے اور اسے اپنے قبضہ میں نہ لے لے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ البیوع ٧٠ (٣٥٠٤)، سنن النسائی/البیوع ٦٠ (٤٦١٥)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٢٠ (٢١٨٨)، (تحفة الأشراف: ٨٦٦٤)، مسند احمد (٢/١٧٩) (حسن صحیح )