خرید وفروخت کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 14 · 127 hadiths · Page 3 of 6

1245Sunan At-Tirmidhi

بائع اور مشتری کو افتراق سے پہلے اختیار ہے

حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا الْكوِفِيُّ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا أَوْ يَخْتَارَا ، قَالَ: فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا ابْتَاعَ بَيْعًا وَهُوَ قَاعِدٌ، قَامَ لِيَجِبَ لَهُ الْبَيْعُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، وَحَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَسَمُرَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، وَهُوَ قَوْلُ: الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَقَالُوا: الْفُرْقَةُ بِالْأَبْدَانِ لَا بِالْكَلَامِ، وَقَدْ قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا يَعْنِي الْفُرْقَةَ بِالْكَلَامِ ، وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ لِأَنَّ ابْنَ عُمَرَ هُوَ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَعْنَى مَا رَوَى. وَرُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُوجِبَ الْبَيْعَ مَشَى لِيَجِبَ لَهُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: بیچنے والا اور خریدنے والا دونوں کو جب تک وہ جدا نہ ہوں بیع کو باقی رکھنے اور فسخ کرنے کا اختیار ہے ١ ؎ یا وہ دونوں اختیار کی شرط کرلیں ٢ ؎۔ نافع کہتے ہیں: جب ابن عمر ؓ کوئی چیز خریدتے اور بیٹھے ہوتے تو کھڑے ہوجاتے تاکہ بیع واجب (پکی) ہوجائے (اور اختیار باقی نہ رہے) ۔

Sayyidina lbn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “They two parties (to a transaction) have aright to annul the transaction till they have not separated, or kept the right intact (in the transaction to annul it (later).” The sub narrator said that when Ibn Umar (RA) concluded a bargain and he was seated, he would stand up so that the bargain become wajib (obligatory). [Bukhari 1062, Muslim 1531]

صحيح، ابن ماجة (2181)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1245
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابن عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوبرزہ، حکیم بن حزام، عبداللہ بن عباس، عبداللہ بن عمرو، سمرہ اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اور یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ تفرق سے مراد جسمانی جدائی ہے نہ کہ قولی جدائی، یعنی مجلس سے جدائی مراد ہے گفتگو کا موضوع بدلنا مراد نہیں، ٤ - اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے قول «مالم يتفرقا» سے مراد قولی جدائی ہے، پہلا قول زیادہ صحیح ہے، اس لیے کہ ابن عمر ؓ نے ہی اس کو نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے۔ اور وہ اپنی روایت کردہ حدیث کا معنی زیادہ جانتے ہیں اور ان سے مروی ہے کہ جب وہ بیع واجب (پکی) کرنے کا ارادہ کرتے تو (مجلس سے اٹھ کر) چل دیتے تاکہ بیع واجب ہوجائے، ٥ - ابوبرزہ ؓ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی عقد کو فسخ کرنے سے پہلے مجلس عقد سے اگر بائع (بیچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا) دونوں جسمانی طور پر جدا ہوگئے تو بیع پکی ہوجائے گی اس کے بعد ان دونوں میں سے کسی کو فسخ کا اختیار حاصل نہیں ہوگا۔ ٢ ؎: اس صورت میں جدا ہونے کے بعد بھی شرط کے مطابق اختیار کا حق رہے گا، یعنی خیار کی شرط کرلی ہو تو مجلس سے علاحدگی کے بعد بھی شروط کے مطابق خیار باقی رہے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٤٢ (٢١٠٧)، صحیح مسلم/البیوع ١٠ (١٥٣١)، سنن النسائی/البیوع ٩ (٤٤٧٨)، (تحفة الأشراف: ٨٥٢٢) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/البیوع ٤٣ (٢١٠٩)، و ٤٤ (٢١١١)، و ٤٥ (٢١١٢)، و ٤٦ (٢١١٣)، صحیح مسلم/البیوع (المصدر المذکور)، سنن ابی داود/ البیوع ٥٣ (٣٤٥٤)، سنن النسائی/البیوع ٩ (٤٤٧٠-٤٤٧٧)، سنن ابن ماجہ/التجارات ١٧ (٢١٨١)، موطا امام مالک/البیوع ٣٨ (٧٩)، مسند احمد (٢/٤، ٩، ٥٢، ٥٤، ٧٣، ١١٩، ١٣٥) من غیر ہذا الوجہ ۔
1246Sunan At-Tirmidhi

بائع اور مشتری کو افتراق سے پہلے اختیار ہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا، وَإِنْ كَتَمَا وَكَذَبَا مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا ، هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَهَكَذَا رُوِيَ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَيْهِ فِي فَرَسٍ بَعْدَ مَا تَبَايَعَا، وَكَانُوا فِي سَفِينَةٍ، فَقَالَ: لَا أَرَاكُمَا افْتَرَقْتُمَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا . وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ وَغَيْرِهِمْ، إِلَى أَنَّ الْفُرْقَةَ بِالْكَلَامِ، وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ. وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَرُوِي عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، أَنَّهُ قَالَ: كَيْفَ أَرُدُّ هَذَا ؟ وَالْحَدِيثُ فِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَحِيحٌ وَقَوَّى هَذَا الْمَذْهَبَ، وَمَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ مَعْنَاهُ: أَنْ يُخَيِّرَ الْبَائِعُ الْمُشْتَرِيَ بَعْدَ إِيجَابِ الْبَيْعِ، فَإِذَا خَيَّرَهُ فَاخْتَارَ الْبَيْعَ، فَلَيْسَ لَهُ خِيَارٌ بَعْدَ ذَلِكَ فِي فَسْخِ الْبَيْعِ، وَإِنْ لَمْ يَتَفَرَّقَا هَكَذَا فَسَّرَهُ الشَّافِعِيُّ، وَغَيْرُهُ، وَمِمَّا يُقَوِّي قَوْلَ: مَنْ يَقُولُ الْفُرْقَةُ بِالْأَبْدَانِ، لَا بِالْكَلَامِ حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

حکیم بن حزام ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بائع (بیچنے والا) اور مشتری (خریدار) جب تک جدا نہ ہوں ١ ؎ دونوں کو بیع کے باقی رکھنے اور فسخ کردینے کا اختیار ہے، اگر وہ دونوں سچ کہیں اور سامان خوبی اور خرابی واضح کردیں تو ان کی بیع میں برکت دی جائے گی اور اگر ان دونوں نے عیب کو چھپایا اور جھوٹی باتیں کہیں تو ان کی بیع کی برکت ختم کردی جائے گی۔

Sayyidina Hakim ibn Hizam (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The seller and the buyer have a right to annul the transaction as long as they do not separate. If they speak the truth and clarify everything then there will be blessing in their deal, but if they lie and conceal then blessing will be taken away from their deal.” [Bukhari 1053, Muslim 1532]

صحيح، الإرواء (1281)، أحاديث البيوعصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1246
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث صحیح ہے، ٢ - اسی طرح ابوبرزہ اسلمی سے بھی مروی ہے کہ دو آدمی ایک گھوڑے کی بیع کرنے کے بعد اس کا مقدمہ لے کر ان کے پاس آئے، وہ لوگ ایک کشتی میں تھے۔ ابوبرزہ نے کہا: میں نہیں سمجھتا کہ تم دونوں جدا ہوئے ہو اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: بائع اور مشتری کو جب تک (مجلس سے) جدا نہ ہوں اختیار ہے ، ٣ - اہل کوفہ وغیرہم میں سے بعض اہل علم اس طرف گئے ہیں کہ جدائی قول سے ہوگی، یہی سفیان ثوری کا قول ہے، اور اسی طرح مالک بن انس سے بھی مروی ہے، ٤ - اور ابن مبارک کا کہنا ہے کہ میں اس مسلک کو کیسے رد کر دوں؟ جب کہ نبی اکرم ﷺ سے وارد حدیث صحیح ہے، ٥ - اور انہوں نے اس کو قوی کہا ہے۔ نبی اکرم ﷺ کے قول «إلا بيع الخيار» کا مطلب یہ ہے کہ بائع مشتری کو بیع کے واجب کرنے کے بعد اختیار دیدے، پھر جب مشتری بیع کو اختیار کرلے تو اس کے بعد اس کو بیع فسخ کرنے کا اختیار نہیں ہوگا، اگرچہ وہ دونوں جدا نہ ہوئے ہوں۔ اسی طرح شافعی وغیرہ نے اس کی تفسیر کی ہے، ٦ - اور جو لوگ جسمانی جدائی (تفرق بالابدان) کے قائل ہیں ان کے قول کو عبداللہ بن عمرو کی حدیث تقویت دے رہی ہے جسے وہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں (آگے ہی آرہی ہے) ۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جدا نہ ہوں سے مراد مجلس سے ادھر ادھر چلے جانا ہے، خود راوی حدیث ابن عمر ؓ سے بھی یہی تفسیر مروی ہے، بعض نے بات چیت ختم کردینا مراد لیا ہے جو ظاہر کے خلاف ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ١٩ (٢٠٧٩)، و ٢٢ (٢٠٨٢)، و ٤٢ (٢١٠٨)، و ٤٤ (٢١١٠)، و ٤٦ (٢١١٤)، صحیح مسلم/البیوع ١ (١٥٣٢)، سنن ابی داود/ البیوع ٥٣ (٣٤٥٩)، سنن النسائی/البیوع ٥ (٤٤٦٢)، (تحفة الأشراف: ٣٤٢٧) و مسند احمد (٣/٤٠٢، ٤٠٣، ٤٣٤) (صحیح )
1247Sunan At-Tirmidhi

بائع اور مشتری کو افتراق سے پہلے اختیار ہے

أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْجَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَفْقَةَ خِيَارٍ، وَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يُفَارِقَ صَاحِبَهُ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَقِيلَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَمَعْنَى هَذَا أَنْ يُفَارِقَهُ بَعْدَ الْبَيْعِ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَقِيلَهُ، وَلَوْ كَانَتِ الْفُرْقَةُ بِالْكَلَامِ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ خِيَارٌ بَعْدَ الْبَيْعِ لَمْ يَكُنْ لِهَذَا الْحَدِيثِ مَعْنًى حَيْثُ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يُفَارِقَهُ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَقِيلَهُ .

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بائع اور مشتری جب تک جدا نہ ہوں ان کو اختیار ہے الا یہ کہ بیع خیار ہو (تب جدا ہونے کے بعد بھی واپسی کا اختیار باقی رہتا ہے) ، اور بائع کے لیے جائز نہیں ہے کہ اپنے ساتھی (مشتری) سے اس ڈر سے جدا ہوجائے کہ وہ بیع کو فسخ کر دے گا ۔

Amr ibn Shu’ayb (RA) reported from his father who from his grandfather that Allah’s Messenger ﷺ said, “As long as they do not separate the seller and the buyer have a right to annul the transaction unless it is a transaction with the right to annul included in it, and it is not allowed to one to separate from his friend apprehending that he might ask for an annulment.’ [Abu Dawud 3456, Nisai 4490]

حسن، الإرواء (1311)، أحاديث البيوعصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1247
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اور اس کا معنی یہی ہے کہ بیع کے بعد وہ مشتری سے جدا ہوجائے اس ڈر سے کہ وہ اسے فسخ کر دے گا اور اگر جدائی صرف کلام سے ہوجاتی، اور بیع کے بعد مشتری کو اختیار نہ ہوتا تو اس حدیث کا کوئی معنی نہ ہوگا جو کہ آپ نے فرمایا ہے: بائع کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ مشتری سے اس ڈر سے جدا ہوجائے کہ وہ اس کی بیع کو فسخ کر دے گا ۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ البیوع ٥٣ (٣٤٥٨)، (تحفة الأشراف: ٨٧٩٧)، و مسند احمد (٢/١٨٣) (حسن صحیح )
1248Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَهُوَ الْبَجَلِيُّ الكوفي، قَال: سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ بْنَ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَتَفَرَّقَنَّ عَنْ بَيْعٍ إِلَّا عَنْ تَرَاضٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بائع اور مشتری بیع (کی مجلس) سے رضا مندی کے ساتھ ہی جدا ہوں ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “The seller and the buyer must not separate except with mutual consent.” [Abu Dawud 3458]

حسن صحيح، الإرواء (5 / 125 - 126)، أحاديث البيوعصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1248
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ البیوع ٥٣ (٣٤٥٨)، (تحفة الأشراف: ١٤٩٢٤)، و مسند احمد (٢/٥٣٦) (حسن صحیح )
1249Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ الشَّيْبَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيَّرَ أَعْرَابِيَّا بَعْدَ الْبَيْعِ . وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے بیع کے بعد ایک اعرابی کو اختیار دیا۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔

Sayyidina Jabir (RA) reported that the Prophet ﷺ gave option to a villager after the sale transaction. --------------------------------------------------------------------------------

حسن أحاديث البيوعصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1249
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/التجارات ١٨ (٢١٨٤)، (تحفة الأشراف: ٢٨٣٤) (حسن )
1250Sunan At-Tirmidhi

جو آدمی بیع میں دھوکہ کھا جائے

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ فِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ، وَكَانَ يُبَايِعُ، وَأَنَّ أَهْلَهُ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، احْجُرْ عَلَيْهِ، فَدَعَاهُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَاهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَا أَصْبِرُ عَنِ الْبَيْعِ، فَقَالَ: إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ: هَاءَ وَهَاءَ، وَلَا خِلَابَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عُمَرَ. وَحَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَقَالُوا: الْحَجْرُ عَلَى الرَّجُلِ الْحُرِّ فِي الْبَيْعِ وَالشِّرَاءِ إِذَا كَانَ ضَعِيفَ الْعَقْلِ، وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَلَمْ يَرَ بَعْضُهُمْ أَنْ يُحْجَرَ عَلَى الْحُرِّ الْبَالِغِ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی خرید و فروخت کرنے میں بودا ١ ؎ تھا اور وہ (اکثر) خرید و فروخت کرتا تھا، اس کے گھر والے نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور ان لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اس کو (خرید و فروخت سے) روک دیجئیے، تو نبی اکرم ﷺ نے اس کو بلوایا اور اسے اس سے منع فرما دیا۔ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں بیع سے باز رہنے پر صبر نہیں کرسکوں گا، آپ نے فرمایا: (اچھا) جب تم بیع کرو تو یہ کہہ لیا کرو کہ ایک ہاتھ سے دو اور دوسرے ہاتھ سے لو اور کوئی دھوکہ دھڑی نہیں ٢ ؎۔

Sayyidina Anas reported that a man who traded often always ended up deceived. The people of his house met the Prophet ﷺ and said, “O Messenger of Allah, forbid him from committing any transaction.” So, he summoned him and disallowed him to trade, but he said, ‘O Messenger of Allah ﷺ I cannot endure without engaging in trade.” The Prophet ﷺ said, ‘Say when you engage in buying and selling this is a transaction on equal terms and there is no fraud or deceiving.” [Abu Dawud 3501, Nisai 4492]

صحيح، ابن ماجة (2354)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1250
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - انس کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابن عمر ؓ سے بھی روایت ہے، ٣ - بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ آزاد شخص کو خرید و فروخت سے اس وقت روکا جاسکتا ہے جب وہ ضعیف العقل ہو، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ٤ - اور بعض لوگ آزاد بالغ کو بیع سے روکنے کو درست نہیں سمجھتے ہیں ٣ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حبان بن منقذ بن عمرو انصاری تھے اور ایک قول کے مطابق اس سے مراد ان کے والد تھے ان کے سر میں ایک غزوے کے دوران جو انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ لڑا تھا پتھر سے شدید زخم آگیا تھا جس کی وجہ سے ان کے حافظے اور عقل میں کمزوری آ گئی تھی اور زبان میں بھی تغیر آگیا تھا لیکن ابھی تمیز کے دائرہ سے خارج نہیں ہوئے تھے۔ ٢ ؎: مطلب یہ ہے کہ دین میں دھوکہ و فریب نہیں کیونکہ دین تو نصیحت وخیر خواہی کا نام ہے۔ ٣ ؎: ان کا کہنا ہے کہ یہ حبان بن منقذ کے ساتھ خاص تھا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ البیوع ٦٨ (٣٥٠١)، سنن النسائی/البیوع ١٢ (٤٤٩٠)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٢٤ (٢٣٥٤)، (تحفة الأشراف: ١١٧٥)، و مسند احمد ٣/٢١٧) (صحیح )
1251Sunan At-Tirmidhi

دودھ روکے ہوئے جانور کی بیع

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ اشْتَرَى مُصَرَّاةً فَهُوَ بِالْخِيَارِ إِذَا حَلَبَهَا إِنْ شَاءَ رَدَّهَا وَرَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَنَسٍ، وَرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے کوئی ایسا جانور خریدا جس کا دودھ تھن میں (کئی دنوں سے) روک دیا گیا ہو، تو جب وہ اس کا دودھ دو ہے تو اسے اختیار ہے اگر وہ چاہے تو ایک صاع کھجور کے ساتھ اس کو واپس کر دے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger said, ‘If anyone buys much animal whose owner had accumulated its milk for many days then he has the right to return it after milking it, but he must also give one sa’ dates with it.” [Bukhari 1083, Muslim 1524, Ahmed 9016] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (2239)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1251
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس باب میں انس اور ایک اور صحابی سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک صاع کھجور کی واپسی کا جو حکم دیا گیا ہے اس لیے ہے کہ اس جانور سے حاصل کردہ دودھ کا معاوضہ ہوجائے کیونکہ کچھ دودھ تو خریدار کی ملکیت میں نئی چیز ہے اور کچھ دودھ اس نے خریدا ہے اب چونکہ خریدار کو یہ تمیز کرنا مشکل ہے کہ کتنا دودھ خریدا ہوا ہے اور کتنا نیا داخل ہے چناچہ عدم تمیز کی بنا پر اسے واپس کرنا یا اس کی قیمت واپس کرنا ممکن نہیں تھا اس لیے شارع نے ایک صاع مقرر فرما دیا کہ فروخت کرنے والے اور خریدار کے مابین تنازع اور جھگڑا پیدا نہ ہو خریدار نے جو دودھ حاصل کیا ہے اس کا معاوضہ ہوجائے قطع نظر اس سے کہ دودھ کی مقدار کم تھی یا زیادہ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٤٣٦٥)، ولہ طریق آخر انظر الحدیث الآتی (صحیح )
1252Sunan At-Tirmidhi

دودھ روکے ہوئے جانور کی بیع

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنِ اشْتَرَى مُصَرَّاةً فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنْ رَدَّهَا رَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ طَعَامٍ لَا سَمْرَاءَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَصْحَابِنَا مِنْهُمْ: الشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: لَا سَمْرَاءَ يَعْنِي: لَا بُرَّ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے کوئی ایسا جانور خریدا جس کا دودھ تھن میں روک دیا گیا ہو تو اسے تین دن تک اختیار ہے۔ اگر وہ اسے واپس کرے تو اس کے ساتھ ایک صاع کوئی غلہ بھی واپس کرے جو گیہوں نہ ہو ۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that the Prophet ﷺ said, “If anyone buys a musarrah (an animal whose teats were up that milk might accumulate) then he has the option (or three days to return it, and he must return with it a sa’ of provision. But that must not he wheat, something other than wheat. [Muslim 1524, Abu Dawud 3444]

صحيح، ابن ماجة (2239)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1252
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ہمارے اصحاب کا اسی پر عمل ہے۔ ان ہی میں شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ ہیں۔ آپ کے قول «لا سمراء» کا مطلب «لابُرّ» ہے یعنی گیہوں نہ ہو (کھانے کی کوئی اور چیز ہو، پچھلی حدیث میں کھجور کا تذکرہ ہے) ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٦٤ (٢١٤٨)، صحیح مسلم/البیوع ٤ (١٥١٥)، سنن النسائی/البیوع ١٤ (٤٤٩٣، ٤٤٩٤)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٤٢ (٢٢٣٩)، (تحفة الأشراف: ١٤٥٠٠) (صحیح )
1253Sunan At-Tirmidhi

جانور بیچتے وقت سواری کی شرط لگانا

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ بَاعَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا، وَاشْتَرَطَ ظَهْرَهُ إِلَى أَهْلِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ جَابِرٍ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، يَرَوْنَ الشَّرْطَ فِي الْبَيْعِ جَائِزًا، إِذَا كَانَ شَرْطًا وَاحِدًا، وَهُوَ قَوْلُ: ، أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: لَا يَجُوزُ الشَّرْطُ فِي الْبَيْعِ وَلَا يَتِمُّ الْبَيْعُ إِذَا كَانَ فِيهِ شَرْطٌ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے (راستے میں) نبی اکرم ﷺ سے ایک اونٹ بیچا اور اپنے گھر والوں تک سوار ہو کر جانے کی شرط رکھی لگائی ١ ؎۔

Sayyidina Jabir ibn Ahdullah (RA) said that he sold a camel to the Prophet ﷺ on condition that he would ride it till his home (before handing it over). [Bukhari 2967, Muslim 715]

صحيح، ابن ماجة (2205)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1253
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ اور بھی سندوں سے جابر سے مروی ہے، ٣ - صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ بیع میں شرط کو جائز سمجھتے ہیں جب شرط ایک ہو۔ یہی قول احمد اور اسحاق بن راہویہ کا ہے، ٤ - اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ بیع میں شرط جائز نہیں ہے اور جب اس میں شرط ہو تو بیع تام نہیں ہوگی۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ بیع میں اگر جائز شرط ہو تو بیع اور شرط دونوں درست ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٤٣ (٢٠٩٧)، والاستقراض ١ (٢٣٨٥)، و ١٨ (٢٤٠٦)، والمظالم ٢٦ (٢٤٧٠)، والشروط ٤ (٢٧١٨)، والجہاد ٤٩ (٢٨٦١)، و ١١٣ (٢٩٦٧)، صحیح مسلم/البیوع ٤٢ (المساقاة ٢١)، (٢١٥)، والرضاع ١٦ ٥٧ و ٥٨)، سنن ابی داود/ البیوع ٧٧ (٤٦٤١)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٢٩ (٢٢٠٥)، (تحفہ الأشراف: ٢٣٤١)، و مسند احمد (٣/٢٩٩) (صحیح )
1254Sunan At-Tirmidhi

رہن رکھی ہوئی چیز سے فائدہ اٹھانا

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَيُوسُفُ بْنُ عِيسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الظَّهْرُ يُرْكَبُ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا، وَلَبَنُ الدَّرِّ يُشْرَبُ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا، وَعَلَى الَّذِي يَرْكَبُ وَيَشْرَبُ نَفَقَتُهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَوْقُوفًا، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: لَيْسَ لَهُ أَنْ يَنْتَفِعَ مِنَ الرَّهْنِ بِشَيْءٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سواری کا جانور جب رہن رکھا ہو تو اس پر سواری کی جائے اور دودھ والا جانور جب گروی رکھا ہو تو اس کا دودھ پیا جائے، اور جو سواری کرے اور دودھ پیے جانور کا خرچ اسی کے ذمہ ہے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger said, “It is allowed to ride an animal or consume its milk if it is pledged. Its feeding is the responsibility of the rider and one who consumes its milk.” [Bukhari 2512, Abu Dawud 3526, Ibn e Majah 2440, Ahmed 10116] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (2440)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1254
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ہم اسے بروایت عامر شعبی ہی مرفوع جانتے ہیں، انہوں نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے اور کئی لوگوں نے اس حدیث کو اعمش سے روایت کیا ہے اور اعمش نے ابوصالح سے اور ابوصالح نے ابوہریرہ ؓ سے موقوفا روایت کی ہے، ٣ - بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے۔ اور یہی قول احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی ہے، ٤ - بعض اہل علم کہتے ہیں کہ رہن سے کسی طرح کا فائدہ اٹھانا درست نہیں ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «مرہون» گروی رکھی ہوئی چیز سے فائدہ اٹھانا «مرتہن» رہن رکھنے والے کے لیے درست نہیں البتہ اگر «مرہون» جانور ہو تو اس حدیث کی رو سے اس پر اس کے چارے کے عوض سواری کی جاسکتی ہے اور اس کا دودھ استعمال کیا جاسکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الرہن ٤ (٢٥١١)، سنن ابی داود/ البیوع ٧٨ (٣٥٢٦)، سنن ابن ماجہ/الرہون ٢ (٢٤٤٠)، (تحفة الأشراف: ١٣٥٤٠)، و مسند احمد ٢/٢٢٨) (صحیح )
1255Sunan At-Tirmidhi

ایسا ہار خریدنا جس میں سونے اور ہیرے ہوں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي شُجَاعٍ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: اشْتَرَيْتُ يَوْمَ خَيْبَرَ قِلَادَةً بِاثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا فِيهَا ذَهَبٌ، وَخَرَزٌ فَفَصَلْتُهَا، فَوَجَدْتُ فِيهَا أَكْثَرَ مِنَ اثْنَيْ عَشَرَ دِينَارًا. فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَا تُبَاعُ حَتَّى تُفْصَلَ .

فضالہ بن عبید ؓ کہتے ہیں کہ میں نے خیبر کے دن بارہ دینار میں ایک ہار خریدا، جس میں سونے اور جواہرات جڑے ہوئے تھے، میں نے انہیں (توڑ کر) جدا جدا کیا تو مجھے اس میں بارہ دینار سے زیادہ ملے۔ میں نے نبی اکرم ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: (سونے اور جواہرات جڑے ہوئے ہار) نہ بیچے جائیں جب تک انہیں جدا جدا نہ کرلیا جائے ۔

Sayyidina Fadalah ibn Ubayd (RA) reported that he bought a garland during the Khybar expedition for twelve dinars. Gold and pearls were pierced into it. He unbound it and found it to he costlier than twelve dinars. So, he mentioned that to the Prophet ﷺ who said, “Let it not be sold till it is unpierced.” [Muslim 1591, Abu Dawud 3352, Tirmidhi 4573, Ahmed 24017] --------------------------------------------------------------------------------

1256Sunan At-Tirmidhi

غلام یا باندی آزاد کرتے ہوئے ولاء کی شرط کی ممانعت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ، فَاشْتَرَطُوا الْوَلَاءَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اشْتَرِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْطَى الثَّمَنَ، أَوْ لِمَنْ وَلِيَ النِّعْمَةَ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، قَالَ: وَمَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ يُكْنَى: أَبَا عَتَّابٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے بریرہ (لونڈی) کو خریدنا چاہا، تو بریرہ کے مالکوں نے ولاء ١ ؎ کی شرط لگائی تو نبی اکرم ﷺ نے عائشہ سے فرمایا: تم اسے خرید لو، (اور آزاد کر دو ) اس لیے کہ ولاء تو اسی کا ہوگا جو قیمت ادا کرے، یا جو نعمت (آزاد کرنے) کا مالک ہو ۔

Sayyidah Ayshah (RA) intended to buy Barirah. They (the sellers) put the condition of wala. So, the Prophet ﷺ advised her, “Buy her, for, wala is for one who pays the price or, one who gains the blessing.’ [Bukhari 2169, Muslim 1504, Abu Dawud 2915, Nisai 4653, Ahmed 5936] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (2521)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1256
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - عائشہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عمر ؓ سے بھی حدیث مروی ہے، ٣ - اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ولاء وہ ترکہ ہے جسے آزاد کیا ہوا غلام چھوڑ کر مرے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بائع کے لیے ولاء کی شرط لگانا صحیح نہیں، ولاء اسی کا ہوگا جو خرید کر آزاد کرے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/کفارات الأیمان ٨ (٦٧١٧)، سنن النسائی/الطلاق ٣٠ (٣٤٧٩)، (وانظر أیضا ما یقدم برقم: ١١٥٤، وما یأتي برقم: ٢١٢٤ و ٢١٢٥) (تحفة الأشراف: ١٥٩٩٢) (صحیح )
1257Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَعَثَ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ يَشْتَرِي لَهُ أُضْحِيَّةً بِدِينَارٍ، فَاشْتَرَى أُضْحِيَّةً، فَأُرْبِحَ فِيهَا دِينَارًا، فَاشْتَرَى أُخْرَى مَكَانَهَا، فَجَاءَ بِالْأُضْحِيَّةِ وَالدِّينَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: ضَحِّ بِالشَّاةِ، وَتَصَدَّقْ بِالدِّينَار . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ لَمْ يَسْمَعْ عِنْدِي مِنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ.

حکیم بن حزام ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں ایک دینار میں قربانی کا جانور خریدنے کے لیے بھیجا، تو انہوں نے قربانی کا ایک جانور خریدا (پھر اسے دو دینار میں بیچ دیا) ، اس میں انہیں ایک دینار کا فائدہ ہوا، پھر انہوں نے اس کی جگہ ایک دینار میں دوسرا جانور خریدا، قربانی کا جانور اور ایک دینار لے کر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، تو آپ نے فرمایا: بکری کی قربانی کر دو اور دینار کو صدقہ کر دو ۔

Sayyidina Hakim ibn Hizam narrated that Allah’s Messenger sent him to buy for him a sacrificial animal for a dinar. So, he bought one and sold it with a profit of a dinar. Then he bought another in its place and came to the Prophet/.J_ with a sacrificial animal and a dinar. He commanded him to sacrifice the animal and give away the dinar in sadaqah. [Abu Dawud 3386]

ضعيف أحاديث البيوعصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1257
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
حکیم بن حزام کی حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، اور میرے نزدیک جبیب بن ابی ثابت کا سماع حکیم بن حزام سے ثابت نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٣٤٢٣) (ضعیف) (مولف نے ضعف کی وجہ بیان کر سنن الدارمی/ ہے، یعنی حبیب کا سماع حکیم بن حزام سے آپ کے نزدیک ثابت نہیں ہے اس لیے سند میں انقطاع کی وجہ سے یہ ضعیف ہے )
1258Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا هَارُونُ الْأَعْوَرُ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ الْخِرِّيتِ، عَنْ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ، قَالَ: دَفَعَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا لِأَشْتَرِيَ لَهُ شَاةً، فَاشْتَرَيْتُ لَهُ شَاتَيْنِ، فَبِعْتُ إِحْدَاهُمَا بِدِينَارٍ، وَجِئْتُ بِالشَّاةِ وَالدِّينَارِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ لَهُ مَا كَانَ مِنْ أَمْرِهِ، فَقَالَ لَهُ: بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي صَفْقَةِ يَمِينِكَ ، فَكَانَ يَخْرُجُ بَعْدَ ذَلِكَ إِلَى كُنَاسَةِ الْكُوفَةِ، فَيَرْبَحُ الرِّبْحَ الْعَظِيمَ فَكَانَ مِنْ أَكْثَرِ أَهْلِ الْكُوفَةِ مَالًا.

عروہ بارقی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بکری خریدنے کے لیے مجھے ایک دینار دیا، تو میں نے اس سے دو بکریاں خریدیں، پھر ان میں سے ایک کو ایک دینار میں بیچ دیا اور ایک بکری اور ایک دینار لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور آپ سے تمام معاملہ بیان کیا اور آپ نے فرمایا: اللہ تمہیں تمہارے ہاتھ کے سودے میں برکت دے ، پھر اس کے بعد وہ کوفہ کے کناسہ کی طرف جاتے اور بہت زیادہ منافع کماتے تھے۔ چناچہ وہ کوفہ کے سب سے زیادہ مالدار آدمی بن گئے۔

Sayyidina Urwah Bariqiy narrated that Allah’s Messenger ﷺ gave him a dinar and instructed him to buy for him a sheep. So, he bought for him two sheep and sold one of them for a dinar and came to the Prophet ﷺ with a sheep and a dinar and mentioned to him what had transpired. He said, “May Allah make your transactions with your hand advantageous.” After that he went to Kunasah in Kufah and made great profit. He was the richest man of Kufah. [Bukhari 3642, Abu Dawud 3384, Ibn e Majah 2402, Ahmed 13380] --------------------------------------------------------------------------------

1259Sunan At-Tirmidhi

مکاتب کے پاس ادائیگی کے لئے مال ہو تو ؟

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا أَصَابَ الْمُكَاتَبُ حَدًّا، أَوْ مِيرَاثًا وَرِثَ بِحِسَابِ مَا عَتَقَ مِنْهُ ، وقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُؤَدِّي الْمُكَاتَبُ بِحِصَّةِ مَا أَدَّى دِيَةَ حُرٍّ وَمَا بَقِيَ دِيَةَ عَبْدٍ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ. وَهَكَذَا رَوَى يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَرَوَى خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَلِيٍّ قَوْلَهُ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، وقَالَ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، الْمُكَاتَبُ عَبْدٌ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ دِرْهَمٌ، وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب مکاتب غلام کسی دیت یا میراث کا مستحق ہو تو اسی کے مطابق وہ حصہ پائے گا جتنا وہ آزاد کیا جا چکا ہے ، نیز آپ نے فرمایا: مکاتب جتنا زر کتابت ادا کرچکا ہے اتنی آزادی کے مطابق دیت دیا جائے گا اور جو باقی ہے اس کے مطابق غلام کی دیت دیا جائے گا ۔

Sayyidina lbn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ said, When a slave who has bound himself to buy his freedom receives blood-money or an inheritance, he will inherit according to the extent he has been emancipated. The Prophet ﷺ J1 also said, “As for his bloodwit, it will be paid for him (to his heirs) to the extent he has paid for his freedom the bloodwit of a free person and remainder of bloodmit for a slave (to his master).” [Abu Dawud 4582, Nisai 4829]

صحيح، الإرواء (1726)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1259
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابن عباس ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢ - اسی طرح یحییٰ بن ابی کثیر نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے ابن عباس سے اور ابن عباس نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، ٣ - اس باب میں ام سلمہ ؓ سے بھی روایت ہے، ٤ - لیکن خالد الحذاء نے بھی عکرمہ سے (روایت کی ہے مگر ان کے مطابق) عکرمہ نے علی ؓ کے قول سے روایت کی ہے، ٥ - صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے۔ اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا کہنا ہے کہ جب تک مکاتب پر ایک درہم بھی باقی ہے وہ غلام ہے، سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الدیات ٢٢ (٤٥٨١)، سنن النسائی/القسامة ٣٨، ٣٩ (٤٨١٢-٤٨١٦)، (تحفة الأشراف: ٥٩٩٣)، و مسند احمد (١/٢٢٢، ٢٢٦، ٢٦٣) (صحیح )
1260Sunan At-Tirmidhi

مکاتب کے پاس ادائیگی کے لئے مال ہو تو ؟

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَخْطُبُ يَقُولُ: مَنْ كَاتَبَ عَبْدَهُ عَلَى مِائَةِ، أُوقِيَّةٍ فَأَدَّاهَا إِلَّا عَشْرَ أَوَاقٍ، أَوْ قَالَ عَشَرَةَ دَرَاهِمَ، ثُمَّ عَجَزَ فَهُوَ رَقِيقٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، أَنَّ الْمُكَاتَبَ عَبْدٌ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ شَيْءٌ مِنْ كِتَابَتِهِ، وَقَدْ رَوَى الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ نَحْوَهُ.

عبداللہ بن عمر و ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو خطبہ کے دوران کہتے سنا: جو اپنے غلام سے سو اوقیہ (بارہ سو درہم) پر مکاتبت کرے اور وہ دس اوقیہ کے علاوہ تمام ادا کر دے پھر باقی کی ادائیگی سے وہ عاجز رہے تو وہ غلام ہی رہے گا ۔

Amr ibn Shu’ayb reported on the authority his father from his grand father that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, “If anyone agrees to set free his slave at a hundred ooqiyah and he pays it except ten ooqiyah or, he said ten dirhams then he remains to be a slave.” [Abu Dawud 3927, Ibn e Majah 2519, Ahmed 6678]

حسن، ابن ماجة (2519)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1260
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - حجاج بن ارطاۃ نے بھی عمرو بن شعیب سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے، ٣ - صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ جب تک مکاتب پر کچھ بھی زر کتابت باقی ہے وہ غلام ہی رہے گا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ العتق ١ (٣٩٢٦)، ٣٩٢٧ سنن ابن ماجہ/العتق ٣ (٢٥١٩) (تحفة الأشراف: ٨٨١٤) (حسن )
1261Sunan At-Tirmidhi

مکاتب کے پاس ادائیگی کے لئے مال ہو تو ؟

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ نَبْهَانَ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا كَانَ عِنْدَ مُكَاتَبِ إِحْدَاكُنَّ مَا يُؤَدِّي، فَلْتَحْتَجِبْ مِنْهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى التَّوَرُّعِ، وَقَالُوا: لَا يُعْتَقُ الْمُكَاتَبُ، وَإِنْ كَانَ عِنْدَهُ مَا يُؤَدِّي حَتَّى يُؤَدِّيَ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے مکاتب غلام کے پاس اتنی رقم ہو کہ وہ زر کتابت ادا کرسکے تو اسے اس سے پردہ کرنا چاہیئے ۔

Sayyidah Umm Salamah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If the mukatab of one of you has so much as would buy his freedom then observe the veil before him. [Abu Dawud 3928, Ibn e Majah 2520, Ahmed 36535] --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف، ابن ماجة (2520) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (549)، ضعيف أبي داود (848 / 3928)، المشکاة (3400)، الإرواء (1769) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1261
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اہل علم کا اس حدیث پر عمل ازراہ ورع و تقویٰ اور احتیاط ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ مکاتب غلام جب تک زر کتابت نہ ادا کر دے آزاد نہیں ہوگا اگرچہ اس کے پاس زر کتابت ادا کرنے کے لیے رقم موجود ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ العتق ١ (٣٩٢٨)، سنن ابن ماجہ/العتق ٣ (٢٥٢٠)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٢١) (ضعیف) (سند میں ” نبہان “ لین الحدیث ہیں نیز ام المومنین عائشہ ؓ کی روایت کے مطابق امہات المومنین کا عمل اس کے برعکس تھا، ملاحظہ ہو: الإرواء رقم ١٧٦٩ )
1262Sunan At-Tirmidhi

کوئی شخص مقروض کے پاس اپنا مال پائے تو کیا حکم ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: أَيُّمَا امْرِئٍ أَفْلَسَ، وَوَجَدَ رَجُلٌ سِلْعَتَهُ عِنْدَهُ بِعَيْنِهَا فَهُوَ أَوْلَى بِهَا مِنْ غَيْرِهِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ سَمُرَةَ، وَابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَهُوَ قَوْلُ: الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: هُوَ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ، وَهُوَ قَوْلُ: أَهْلِ الْكُوفَةِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو (قرض دار) آدمی مفلس ہوجائے اور (قرض دینے والا) آدمی اپنا سامان اس کے پاس بعینہ پائے تو وہ اس سامان کا دوسرے سے زیادہ مستحق ہے ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone turns a pauper but a man finds with him his merchandise (or articles) intact then he has more right to it than others. [Bukhari 2402, Muslim 1559, Abu Dawud 3519, Ahmed 7127] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (2358)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1262
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں سمرہ اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے اور یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، اور بعض اہل علم کہتے ہیں: وہ بھی دوسرے قرض خواہوں کی طرح ہوگا، یہی اہل کوفہ کا بھی قول ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاستقراض ١٤ (٢٤٠٢)، صحیح مسلم/المساقاة ٥ (البیوع ٢٦)، (١٥٥٩)، سنن ابی داود/ البیوع ٧٦ (٣٥١٩)، سنن النسائی/البیوع ٩٥ (٤٦٨٠)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٢٦ (٤٣٥٨)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٦١)، وط/البیوع ٤٢ (٨٨)، و مسند احمد (٢/٢٢٨)، ٢٥٨، ٤١٠، ٤٦٨، ٤٨٤، ٥٠٨) (صحیح )
1263Sunan At-Tirmidhi

مسلمان کسی ذمی کو شراب بیچنے کے لئے نہ دے

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: كَانَ عِنْدَنَا خَمْرٌ لِيَتِيمٍ، فَلَمَّا نَزَلَتْ الْمَائِدَةُ، سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ، وَقُلْتُ: إِنَّهُ لِيَتِيمٍ. فَقَالَ: أَهْرِيقُوهُ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوُ هَذَا، وقَالَ بِهَذَا بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: وَكَرِهُوا أَنْ تُتَّخَذَ الْخَمْرُ خَلَّا، وَإِنَّمَا كُرِهَ مِنْ ذَلِكَ وَاللَّهُ أَعْلَمُ، أَنْ يَكُونَ الْمُسْلِمُ فِي بَيْتِهِ خَمْرٌ، حَتَّى يَصِيرَ خَلَّا، وَرَخَّصَ بَعْضُهُمْ فِي خَلِّ الْخَمْرِ، إِذَا وُجِدَ قَدْ صَارَ خَلًّا أَبُو الْوَدَّاكِ اسْمُهُ: جَبْرُ بْنُ نَوْفٍ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایک یتیم کی شراب تھی، جب سورة المائدہ نازل ہوئی (جس میں شراب کی حرمت مذکور ہے) تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے بارے میں پوچھا اور عرض کیا کہ وہ ایک یتیم کی ہے؟ تو آپ نے فرمایا: اسے بہا دو ۔

Sayyidina Abu Sa’eed (RA) reported that they had wine belonging to an orphan. When (the surah) al-Ma’idah was revealed (prohibiting wine,) he asked Allah’s Messenger ﷺ about it and said, “It belongs to an orphan.” He said, “Pour it out.” --------------------------------------------------------------------------------

صحيح يشهد له الحديث الآتی (1316)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1263
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابو سعید خدری ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اور بھی سندوں سے یہ نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح مروی ہے، ٣ - اس باب میں انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، ٤ - بعض اہل علم اسی کے قائل ہیں، یہ لوگ شراب کا سرکہ بنانے کو مکروہ سمجھتے ہیں، اس وجہ سے اسے مکروہ قرار دیا گیا ہے کہ مسلمان کے گھر میں شراب رہے یہاں تک کہ وہ سرکہ بن جائے۔ «واللہ اعلم»، ٥ - بعض لوگوں نے شراب کے سرکہ کی اجازت دی ہے جب وہ خود سرکہ بن جائے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٣٩٩١) (صحیح )
1264Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، عَنْ شَرِيكٍ، وَقَيْسٌ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَدِّ الْأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا الْحَدِيثِ، وَقَالُوا: إِذَا كَانَ لِلرَّجُلِ عَلَى آخَرَ شَيْءٌ فَذَهَبَ بِهِ، فَوَقَعَ لَهُ عِنْدَهُ شَيْءٌ، فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَحْبِسَ عَنْهُ بِقَدْرِ مَا ذَهَبَ لَهُ عَلَيْهِ، وَرَخَّصَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ التَّابِعِينَ، وَهُوَ قَوْلُ: الثَّوْرِيِّ، وَقَالَ: إِنْ كَانَ لَهُ عَلَيْهِ دَرَاهِمُ، فَوَقَعَ لَهُ عِنْدَهُ دَنَانِيرُ فَلَيْسَ لَهُ، أَنْ يَحْبِسَ بِمَكَانِ دَرَاهِمِهِ إِلَّا أَنْ يَقَعَ عِنْدَهُ لَهُ دَرَاهِمُ فَلَهُ حِينَئِذٍ، أَنْ يَحْبِسَ مِنْ دَرَاهِمِهِ بِقَدْرِ مَا لَهُ عَلَيْهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو تمہارے پاس امانت رکھے اسے امانت لوٹاؤ ١ ؎ اور جو تمہارے ساتھ خیانت کرے اس کے ساتھ (بھی) خیانت نہ کرو ٢ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) Abu Waddak was Jabr ibn Nawf reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Return the trust to him who has trusted you with it, but do not commit treachery with one who commits treachery.” [Abu Dawud 3535]

صحيح، المشکاة (2934)، الصحيحة (4230)، الروض النضير (16)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1264
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - بعض اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ جب آدمی کا کسی دوسرے کے ذمہ کوئی چیز ہو اور وہ اسے لے کر چلا جائے پھر اس جانے والے کی کوئی چیز اس کے ہاتھ میں آئے تو اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ اس میں سے اتنا روک لے جتنا وہ اس کالے کر گیا ہے، ٣ - تابعین میں سے بعض اہل علم نے اس کی اجازت دی ہے، اور یہی ثوری کا بھی قول ہے، وہ کہتے ہیں: اگر اس کے ذمہ درہم ہو اور (بطور امانت) اس کے پاس اس کے دینار آ گئے تو اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے دراہم کے بدلے اسے روک لے، البتہ اس کے پاس اس کے دراہم آ جائیں تو اس وقت اس کے لیے درست ہوگا کہ اس کے دراہم میں سے اتنا روک لے جتنا اس کے ذمہ اس کا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حکم واجب ہے اس لیے کہ ارشاد باری ہے: «إن اللہ يأمرکم أن تؤدوا الأمانات إلى أهلها» (النساء: ٥٨ )۔ ٢ ؎: یہ حکم استحبابی ہے اس لیے کہ ارشاد باری ہے: «وجزاء سيئة سيئة مثلها» (الشوری: ٤٠ ) برائی کی جزاء اسی کے مثل برائی ہے نیز ارشاد ہے: «وإن عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم به» (النحل: ١٢٦ ) یہ دونوں آیتیں اس بات پر دلالت کر رہی ہیں کہ اپنا حق وصول کرلینا چاہیئے، ابن حزم کا قول ہے کہ جس نے خیانت کی ہے اس کے مال پر قابو پانے کی صورت میں اپنا حق وصول لینا واجب ہے، اور یہ خیانت میں شمار نہیں ہوگی بلکہ خیانت اس صورت میں ہوگی جب وہ اپنے حق سے زیادہ وصول کرے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ البیوع ٨١ (٣٥٣٥)، (تحفة الأشراف: ١٢٨٣٦)، وسنن الدارمی/البیوع ٥٧ (٢٦٣٩) (صحیح )