Sunan At-Tirmidhi 1262

خرید وفروخت کا بیان

1262Sunan At-Tirmidhi

کوئی شخص مقروض کے پاس اپنا مال پائے تو کیا حکم ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: أَيُّمَا امْرِئٍ أَفْلَسَ، وَوَجَدَ رَجُلٌ سِلْعَتَهُ عِنْدَهُ بِعَيْنِهَا فَهُوَ أَوْلَى بِهَا مِنْ غَيْرِهِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ سَمُرَةَ، وَابْنِ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَهُوَ قَوْلُ: الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: هُوَ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ، وَهُوَ قَوْلُ: أَهْلِ الْكُوفَةِ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو (قرض دار) آدمی مفلس ہوجائے اور (قرض دینے والا) آدمی اپنا سامان اس کے پاس بعینہ پائے تو وہ اس سامان کا دوسرے سے زیادہ مستحق ہے ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone turns a pauper but a man finds with him his merchandise (or articles) intact then he has more right to it than others. [Bukhari 2402, Muslim 1559, Abu Dawud 3519, Ahmed 7127] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (2358)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1262
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں سمرہ اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے اور یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، اور بعض اہل علم کہتے ہیں: وہ بھی دوسرے قرض خواہوں کی طرح ہوگا، یہی اہل کوفہ کا بھی قول ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاستقراض ١٤ (٢٤٠٢)، صحیح مسلم/المساقاة ٥ (البیوع ٢٦)، (١٥٥٩)، سنن ابی داود/ البیوع ٧٦ (٣٥١٩)، سنن النسائی/البیوع ٩٥ (٤٦٨٠)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٢٦ (٤٣٥٨)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٦١)، وط/البیوع ٤٢ (٨٨)، و مسند احمد (٢/٢٢٨)، ٢٥٨، ٤١٠، ٤٦٨، ٤٨٤، ٥٠٨) (صحیح )