Sunan At-Tirmidhi 1252

خرید وفروخت کا بیان

1252Sunan At-Tirmidhi

دودھ روکے ہوئے جانور کی بیع

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنِ اشْتَرَى مُصَرَّاةً فَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنْ رَدَّهَا رَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ طَعَامٍ لَا سَمْرَاءَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَصْحَابِنَا مِنْهُمْ: الشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: لَا سَمْرَاءَ يَعْنِي: لَا بُرَّ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے کوئی ایسا جانور خریدا جس کا دودھ تھن میں روک دیا گیا ہو تو اسے تین دن تک اختیار ہے۔ اگر وہ اسے واپس کرے تو اس کے ساتھ ایک صاع کوئی غلہ بھی واپس کرے جو گیہوں نہ ہو ۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that the Prophet ﷺ said, “If anyone buys a musarrah (an animal whose teats were up that milk might accumulate) then he has the option (or three days to return it, and he must return with it a sa’ of provision. But that must not he wheat, something other than wheat. [Muslim 1524, Abu Dawud 3444]

صحيح، ابن ماجة (2239)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1252
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ہمارے اصحاب کا اسی پر عمل ہے۔ ان ہی میں شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ ہیں۔ آپ کے قول «لا سمراء» کا مطلب «لابُرّ» ہے یعنی گیہوں نہ ہو (کھانے کی کوئی اور چیز ہو، پچھلی حدیث میں کھجور کا تذکرہ ہے) ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٦٤ (٢١٤٨)، صحیح مسلم/البیوع ٤ (١٥١٥)، سنن النسائی/البیوع ١٤ (٤٤٩٣، ٤٤٩٤)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٤٢ (٢٢٣٩)، (تحفة الأشراف: ١٤٥٠٠) (صحیح )