ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو حجۃ الوداع کے سال خطبہ میں فرماتے سنا: عاریت لی ہوئی چیز لوٹائی جائے گی، ضامن کو تاوان دینا ہوگا اور قرض واجب الاداء ہوگا ۔
Sayyidina Abu Umamah (RA) reported having heard Allah’s Messenger ﷺ say during his sermon of the Farewell pilgrimage, ‘What is borrowed must be returned, the guarantor is held responsible, and a debt must be repayed.” [Abu Dawud 3565, Ibn e Majah 2398, Ahmed 22357] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2398)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1265
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابوامامہ ؓ کی حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اور یہ ابوامامہ کے واسطے سے نبی اکرم ﷺ سے اور بھی طریق سے مروی ہے، ٣ - اس باب میں سمرہ، صفوان بن امیہ اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصدقات ٥ (٢٣٩٨)، (تحفة الأشراف: ٤٨٨٤) (صحیح )
سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو کچھ ہاتھ نے لیا ہے جب تک وہ اسے ادا نہ کر دے اس کے ذمہ ہے ١ ؎، قتادہ کہتے ہیں: پھر حسن بصری اس حدیث کو بھول گئے اور کہنے لگے جس نے عاریت لی ہے وہ تیرا امین ہے، اس پر تاوان نہیں ہے، یعنی عاریت لی ہوئی چیز تلف ہونے پر تاوان نہیں ہے۔
Sayyidina Samurah narrated that the Prophet ﷺ said, “On the hands is what it has taken till it returns it.” Qatadah said that Hasan forgot after that and said, “He is your trustee. There is no penalty against it, the borrowing.” [Abu Dawud 3561, Ibn e Majah 2400, Ahmed 20107] --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف، ابن ماجة (2400)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1266
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں یہ لوگ کہتے ہیں: عاریۃً لینے والا ضامن ہوتا ہے۔ اور یہی شافعی اور احمد کا بھی قول ہے، ٣ - صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ عاریت لینے والے پر تاوان نہیں ہے، الا یہ کہ وہ سامان والے کی مخالفت کرے۔ ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عاریت لی ہوئی چیز جب تک واپس نہ کر دے عاریت لینے والے پر واجب الاداء رہتی ہے، عاریت لی ہوئی چیز کی ضمانت عاریت لینے والے پر ہے یا نہیں، اس بارے میں تین اقوال ہیں: پہلا قول یہ ہے کہ ہر صورت میں وہ اس کا ضامن ہے خواہ اس نے ضمانت کی شرط کی ہو یا نہ کی ہو، ابن عباس، زید بن علی، عطاء، احمد، اسحاق اور امام شافعی رحمہم اللہ کی یہی رائے ہے، دوسرا قول یہ ہے کہ اگر ضمانت کی شرط نہ کی ہوگی تو اس کی ذمہ داری اس پر عائد نہ ہوگی، تیسرا قول یہ ہے کہ شرط کے باوجود بھی ضمانت کی شرط نہیں بشرطیکہ خیانت نہ کرے اس حدیث سے پہلے قول کی تائید ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ البیوع ٩٠ (٣٥٦١)، سنن ابن ماجہ/الصدقات ٥ (٢٤٠٠)، (تحفة الأشراف: ٤٥٨٤)، و مسند احمد (٥/١٢، ١٣)، وسنن الدارمی/البیوع ٥٦ (٢٦٣٨) (ضعیف) (قتادہ اور حسن بصری دونوں مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، اس لیے یہ سند ضعیف ہے )
معمر بن عبداللہ بن نضلہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: گنہگار ہی احتکار (ذخیرہ اندوزی) کرتا ہے ١ ؎۔ محمد بن ابراہیم کہتے ہیں: میں نے سعید بن المسیب سے کہا: ابو محمد! آپ تو ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا: معمر بھی ذخیرہ اندوزی کرتے تھے۔
Sayyidina Ma’mar ibn Abdullah ibn Nadlah reported that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, “No one withholds goods till price rises, but is a sinner.” The narrator said that he remarked to Sa’eed(Ibn Musayyab), “O Abu Muhammad, you too withhold goods.” He said, “Ma’mar also did that” and it is also reported about Sa’eed ibn Musayyab that he hoarded olive oil and hay and the like (which are not edibles). [Muslim 1605, Abu Dawud 3447, Ibn e Majah 2154, Ahmed 15758] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2154)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1267
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - معمر کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - سعید بن مسیب سے مروی ہے، وہ تیل، گیہوں اور اسی طرح کی چیزوں کی ذخیرہ اندوزی کرتے تھے، ٣ - اس باب میں عمر، علی، ابوامامہ، اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤ - اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ ان لوگوں نے کھانے کی ذخیرہ اندوزی ناجائز کہا ہے، ٥ - بعض اہل علم نے کھانے کے علاوہ دیگر اشیاء کی ذخیرہ اندوزی کی اجازت دی ہے، ٦ - ابن مبارک کہتے ہیں: روئی، دباغت دی ہوئی بکری کی کھال، اور اسی طرح کی چیزوں کی ذخیرہ اندوزی میں کوئی حرج نہیں ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «احتکار»: ذخیرہ اندوزی کو کہتے ہیں، یہ اس وقت منع ہے جب لوگوں کو غلے کی ضرورت ہو تو مزید مہنگائی کے انتظار میں اسے بازار میں نہ لایا جائے، اگر بازار میں غلہ دستیاب ہے تو ذخیرہ اندوزی منع نہیں۔ کھانے کے سوا دیگر غیر ضروری اشیاء کی ذخیرہ اندوزی میں کوئی حرج نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساقاة ٢٦ (البیوع ٤٧)، (١٦٠٥)، سنن ابی داود/ البیوع ٤٩ (٣٤٤٧)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٦ (٢١٥٤)، (تحفة الأشراف: ١١٤٨١)، و مسند احمد (٦/٤٠٠) وسنن الدارمی/البیوع ١٢ (٢٥٨٥) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: (بازار میں آنے والے قافلہ تجارت کا بازار سے پہلے) استقبال نہ کرو، جانور کے تھن میں دودھ نہ روکو (تاکہ خریدار دھوکہ کھاجائے) اور (جھوٹا خریدار بن کر) ایک دوسرے کا سامان نہ فروخت کراؤ۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “Do not go out to meet merchandise. Do not tie up the udders of the animals (to deceive buyers thereby). And do not cheat, some of you the others (by presenting yourselves as buyers that prices may go high).’
حسن أحاديث البيوعصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1268
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابن عباس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن مسعود اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ ایسے جانور کی بیع کو جس کا دودھ تھن میں روک لیا گیا ہو جائز نہیں سمجھتے، ٤ - محفلۃ ایسے جانور کو کہتے ہیں جس کا دودھ تھن میں چھوڑے رکھا گیا ہو، اس کا مالک کچھ دن سے اسے نہ دوہتا ہوتا کہ اس کی تھن میں دودھ جمع ہوجائے اور خریدار اس سے دھوکہ کھاجائے۔ یہ فریب اور دھوکہ ہی کی ایک شکل ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٦١١٦) (حسن) (متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ عکرمہ سے سماک کی روایت میں سخت اضطراب پایا جاتا ہے )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے جھوٹی قسم کھائی تاکہ اس کے ذریعہ وہ کسی مسلمان کا مال ہتھیا لے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوگا ۔ اشعث بن قیس ؓ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! آپ نے میرے سلسلے میں یہ حدیث بیان فرمائی تھی۔ میرے اور ایک یہودی کے درمیان ایک زمین مشترک تھی، اس نے میرے حصے کا انکار کیا تو میں اسے نبی اکرم ﷺ سے پاس لے گیا، رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے پوچھا: کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے؟ میں نے عرض کیا: نہیں، تو آپ نے یہودی سے فرمایا: تم قسم کھاؤ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ تو قسم کھالے گا اور میرا مال ہضم کرلے گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «إن الذين يشترون بعهد اللہ وأيمانهم ثمنا قليلا» اور جو لوگ اللہ کے قرار اور اپنی قسموں کے عوض تھوڑا سا مول حاصل کرتے ہیں ... (آل عمران: ٧٧ ) ۔
Sayyidina Abdullah ibn Mas’ud (RA) narrated: Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone takes a false oath to appropriate a Muslims property then (on the Day of Resurrection) he will meet Allah while He is angry with him.” Sayyidina Ash’ath said “This was about me. By Allah, indeed that was between me and a man among the Jews, a piece of land (that we held together). But, he disowned me. So, I took him to the Prophet ﷺ ‘‘ who asked me, ‘Do you have a witness?’ 1 said, ‘No.’ He asked the Jew to take an oath, but I interrupted, ‘O Messenger of Allah ﷺ he will take an oath and go away with my property.’ On that occesion, Allah revealed: Surely those who barter Allah’s covenant and their oaths, for a small price (3:77 to the end) [Bukhari 1176, Muslim 138, Tirmidhi 3007, Abu Dawud 3243, IM2323, Ahmed 4049]
صحيح، ابن ماجة (2323 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1269
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابن مسعود کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں وائل بن حجر، ابوموسیٰ، ابوامامہ بن ثعلبہ انصاری اور عمران بن حصین ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الشرب والمساقاة ٤ (٢٣٥٦)، والخصومات ٤ (٢٤١٦)، والرہن ٦ (٢٥١٥)، والشہادات ١٩ (٢٦٦٦)، و ٢٠ (٢٦٦٩)، و ٢٣ (٢٦٧٣)، و ٢٥ (٢٦٧٦)، وتفسیر آل عمران ٣ (٤٥٤٩)، والایمان والنذور ١١ (٦٦٥٩)، و ١٧ (٦٦٧٦)، والأحکام ٣٠ (٧١٨٣)، والتوحید ٢٤ (٧٤٤٥)، صحیح مسلم/الإیمان ٦١ (٢٢٠)، سنن ابی داود/ الأیمان والنذور ٢ (٣٢٤٣)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٨ (٢٣٧٣)، (تحفة الأشراف: ١٥٨ و ٩٢٤٤)، و مسند احمد (١/٣٧٧) (صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب بائع اور مشتری میں اختلاف ہوجائے تو بات بائع کی مانی جائے گی، اور مشتری کو اختیار ہوگا ۔
Sayyidina Ibn Mas’ud reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “When the two parties disagree, the word of the seller prevails while the buyer has option (to withdraw).” [Abu Dawud 3511, Nisai 4657, Ahmed 4444]
١ - یہ حدیث مرسل ہے، عون بن عبداللہ نے ابن مسعود کو نہیں پایا، ٢ - اور قاسم بن عبدالرحمٰن سے بھی یہ حدیث مروی ہے، انہوں نے ابن مسعود سے اور ابن مسعود نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔ اور یہ روایت بھی مرسل ہے، ٣ - اسحاق بن منصور کہتے ہیں: میں نے احمد سے پوچھا: جب بائع اور مشتری میں اختلاف ہوجائے اور کوئی گواہ نہ ہو تو کس کی بات تسلیم کی جائے گی؟ انہوں نے کہا: بات وہی معتبر ہوگی جو سامان کا مالک کہے گا، یا پھر دونوں اپنی اپنی چیز واپس لے لیں یعنی بائع سامان واپس لے لے اور مشتری قیمت۔ اسحاق بن راہویہ نے بھی وہی کہا ہے جو احمد نے کہا ہے، ٤ - اور بات جس کی بھی مانی جائے اس کے ذمہ قسم کھانا ہوگا۔
تابعین میں سے بعض اہل علم سے اسی طرح مروی ہے، انہیں میں شریح بھی ہیں۔
ایاس بن عبد مزنی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے پانی بیچنے سے منع فرمایا ١ ؎۔
Sayyidina lyas ibn Abdul Muzaniy said that the Prophet ﷺ disallowed sale of water. [Abu Dawud 3478, Nisai 4670, Ibn e Majah 2476, Ahmed 17236]
صحيح، ابن ماجة (2476)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1271
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ایاس کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں جابر، بہیسہ، بہیسہ کے باپ، ابوہریرہ، عائشہ، انس اور عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ان لوگوں نے پانی بیچنے کو ناجائز کہا ہے، یہی ابن مبارک شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ٤ - اور بعض اہل علم نے پانی بیچنے کی اجازت دی ہے، جن میں حسن بصری بھی شامل ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے مراد نہر و چشمے وغیرہ کا پانی ہے جو کسی کی ذاتی ملکیت میں نہ ہو اور اگر پانی پر کسی طرح کا خرچ آیا ہو تو ایسے پانی کا بیچنا منع نہیں ہے مثلاً راستوں میں ٹھنڈا پانی یا مینرل واٹر وغیرہ بیچنا جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ البیوع ٦٣ (٣٤٧٨)، سنن النسائی/البیوع ٨٨ (٤٦٦٦)، سنن ابن ماجہ/الرہون ١٨ (الأحکام ٧٩ (٢٤٦٧)، (تحفة الأشراف: ١٧٤٧)، و مسند احمد (٣/٣١٧)، وسنن الدارمی/البیوع ٦٩ (٢٦٥٤) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ضرورت سے زائد پانی سے نہ روکا جائے کہ اس کے سبب گھاس سے روک دیا جائے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrab (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “Excess water must not be disallowed in order that thereby herbage may be prevented. [Bukhari 2253, Muslim 1566, Nisai 5774, Ahmed 8328] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2478)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1272
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ سوچ کر دوسروں کے جانوروں کو فاضل پانی پلانے سے نہ روکا جائے کہ جب جانوروں کو پانی پلانے کو لوگ نہ پائیں گے تو جانور ادھر نہ لائیں گے، اس طرح گھاس ان کے جانوروں کے لیے بچی رہے گی، یہ کھلی ہوئی خود غرضی ہے جو اسلام کو پسند نہیں۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت لینے سے منع فرمایا ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that the Prophet ﷺ forbade seeking of wages for pairing male and female. [Bukhari 1134, Abu Dawud 3429, Nisai 4680, Ahmed 4630] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح أحاديث البيوعصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1273
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابن عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ، انس اور ابوسعید ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ بعض علماء نے اس کام پر بخشش قبول کرنے کی اجازت دی ہے، جمہور کے نزدیک یہ نہی تحریمی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: چونکہ مادہ کا حاملہ ہونا قطعی نہیں ہے، حمل قرار پانے اور نہ پانے دونوں کا شبہ ہے اسی لیے نبی اکرم ﷺ نے اس کی اجرت لینے سے منع فرمایا ہے۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ قبیلہ کلاب کے ایک آدمی نے نبی اکرم ﷺ سے نر کو مادہ پر چھوڑنے کی اجرت لینے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے اسے منع کردیا، پھر اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم مادہ پر نر چھوڑتے ہیں تو ہمیں بخشش دی جاتی ہے (تو اس کا حکم کیا ہے؟ ) آپ نے اسے بخشش لینے کی اجازت دے دی۔
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) narrated that a man of Kilab asked Allah’s Messenger about hiring a male to pair with a female, but he forbade him. However, he said, ‘O Messenger of Allah, we leave the male (with the female) and people give us gifts.” So he gave permission to receive that.
ابومسعود انصاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کتے کی قیمت، زانیہ کی کمائی اور کاہن کی مٹھائی سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Masud Ansari (RA) said thatAllah’s Messenger ﷺ forbade the price paid for a dog, remuneration paid to a prostitute and sweets (presents) to a soothsayer. [Bukhari 2237, Muslim 1576]
صحيح، ابن ماجة (2159)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1276
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: علم غیب رب العالمین کے لیے خاص ہے اس کا دعویٰ کرنا گناہ عظیم ہے، اسی طرح اس دعویٰ کی آڑ میں کاہن اور نجومی عوام سے باطل طریقے سے جو مال حاصل کرتے ہیں وہ بھی حرام ہے۔
رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پچھنا لگانے والے کی کمائی خبیث (گھٹیا) ہے ١ ؎ زانیہ کی اجرت ناپاک ٢ ؎ ہے اور کتے کی قیمت ناپاک ہے ٣ ؎۔
Sayyidina Rafi ibn Khadij (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The earnings of a cupper are bad, the remuneration paid to a prostitute are bad and the price paid for a dog is bad.” [Muslim 1568, Abu Dawud 3421, Nisai 4294, Ahmed 17259] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح أحاديث البيوعصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1275
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - رافع ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عمر، علی، ابن مسعود، ابومسعود، جابر، ابوہریرہ، ابن عباس، ابن عمر اور عبداللہ ابن جعفر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ ان لوگوں نے کتے کی قیمت کو ناجائز جانا ہے، یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔ اور بعض اہل علم نے شکاری کتے کی قیمت کی اجازت دی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «كسب الحجام خبيث» میں «خبيث» کا لفظ حرام ہونے کے مفہوم میں نہیں ہے بلکہ گھٹیا اور غیرشریفانہ ہونے کے معنی میں ہے رسول اللہ ﷺ نے محیصہ ؓ کو یہ حکم دیا کہ پچھنا لگانے کی اجرت سے اپنے اونٹ اور غلام کو فائدہ پہنچاؤ، نیز آپ نے خود پچھنا لگوایا اور لگانے والے کو اس کی اجرت بھی دی، لہذا پچھنا لگانے والے کی کمائی کے متعلق خبیث کا لفظ ایسے ہی ہے جیسے آپ نے لہسن اور پیاز کو خبیث کہا باوجود یہ کہ ان دونوں کا استعمال حرام نہیں ہے، اسی طرح حجام کی کمائی بھی حرام نہیں ہے یہ اور بات ہے کہ غیرشریفانہ ہے۔ یہاں «خبيث» بمعنی حرام ہے۔ ٢ ؎: چونکہ زنا فحش امور اور کبیرہ گناہوں میں سے ہے اس لیے اس سے حاصل ہونے والی اجرت بھی ناپاک اور حرام ہے اس میں کوئی فرق نہیں کہ زانیہ لونڈی ہو یا آزاد ہو۔ ٣ ؎: کتا چونکہ نجس اور ناپاک جانور ہے اس لیے اس سے حاصل ہونے والی قیمت بھی ناپاک ہوگی، اس کی نجاست کا حال یہ ہے کہ شریعت نے اس برتن کو جس میں کتا منہ ڈال دے سات مرتبہ دھونے کا حکم دیا ہے جس میں ایک مرتبہ مٹی سے دھونا بھی شامل ہے، اسی سبب کتے کی خرید و فروخت اور اس سے فائدہ اٹھانا منع ہے، الا یہ کہ کسی شدید ضرورت سے ہو مثلاً گھر جائداد اور جانوروں کی حفاظت کے لیے ہو۔ پھر بھی قیمت لینا گھٹیا کام ہے، ہدیہ کردینا چاہیے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساقاة ٩ (البیوع ٣٠)، (١٥٦٨)، سنن ابی داود/ البیوع ٣٩ (٣٤٢١)، سنن النسائی/الذبائح ١٥ (٤٢٩٩)، تحفة الأشراف: ٣٥٥٥)، و مسند احمد (٣/٤٦٤، ٤٦٥)، و ٤/١٤١) (صحیح )
محیصہ ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے پچھنا لگانے والے کی اجرت کی اجازت طلب کی، تو آپ نے انہیں اس سے منع فرمایا ١ ؎ لیکن وہ باربار آپ سے پوچھتے اور اجازت طلب کرتے رہے یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: اسے اپنے اونٹ کے چارہ پر خرچ کرو یا اپنے غلام کو کھلا دو ۔
Ibn Muhaysah, brother of Banu Harithah, reported from his father that he sought the Prophet’s ﷺ permission to receive wages against cupping. He disallowed it. However, he did not cease to ask for permission till the Prophet ﷺ said, “Use it to pay for the feed of the camel and food for the slave.” [Abu Dawud 3422] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2166)، أحاديث البيوعصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1277
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - محیصہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں رافع بن خدیج، جحیفہ، جابر اور سائب بن یزید سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ٤ - احمد کہتے ہیں: اگر مجھ سے کوئی پچھنا لگانے والا مزدوری طلب کرے تو میں نہیں دوں گا اور دلیل میں یہی حدیث پیش کروں گا۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ممانعت اس وجہ سے تھی کہ یہ ایک گھٹیا اور غیر شریفانہ عمل ہے، جہاں تک اس کے جواز کا معاملہ ہے تو آپ نے خود ابوطیبہ کو پچھنا لگانے کی اجرت دی ہے جیسا کہ کہ اگلی روایت سے واضح ہے، جمہور اسی کے قائل ہیں اور ممانعت والی روایت کو نہیں تنزیہی پر محمول کرتے ہیں یا کہتے ہیں کہ وہ منسوخ ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ البیوع ٣٩ (٣٤٢٢)، سنن ابن ماجہ/التجارات ١٠ (٢١٦٦)، (تحفة الأشراف: ١١٢٣٨)، و موطا امام مالک/الاستئذان ١٠ (٢٨ مرسلا) (صحیح )
حمید کہتے ہیں کہ انس ؓ سے پچھنا لگانے والے کی کمائی کے بارے میں پوچھا گیا تو انس ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے پچھنا لگوایا، اور آپ کو پچھنا لگانے والے ابوطیبہ تھے، تو آپ نے انہیں دو صاع غلہ دینے کا حکم دیا اور ان کے مالکوں سے بات کی، تو انہوں نے ابوطیبہ کے خراج میں کمی کردی اور آپ نے فرمایا: جن چیزوں سے تم دوا کرتے ہو ان میں سب سے افضل پچھنا ہے یا فرمایا: تمہاری بہتر دواؤں میں سے پچھنا ہے ۔
Hamayd narrated : I asked Anas (RA) about the wages of a cupper. He said, “Allah’s Mesenger ﷺ had himself cupped and Abu Taybah was the cupper. So, he commanded that two sa provision be paid to him and also recommended his masters to remit the Khiraj from him. And, he said that the best healing that you can adopt is cupping, or, he said that the most excellent of your medicines is cupping.’ [Muslim 1577]
صحيح مختصر الشمائل (309)، أحاديث البيوعصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1278
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - انس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں علی، ابن عباس اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے پچھنا لگانے والے کی اجرت کو جائز قرار دیا ہے۔ یہی شافعی کا بھی قول ہے۔
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کتے اور بلی کی قیمت سے منع فرمایا ہے۔
Sayyidina Jabir (RA) said that Allah’s Messenger ﷺ disallowed the price paid for dogs and cats. [Abu Dawud 3479]
صحيح، ابن ماجة (2161)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1279
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس حدیث کی سند میں اضطراب ہے۔ بلی کی قیمت کے بارے میں یہ صحیح نہیں ہے، ٢ - یہ حدیث اعمش سے مروی ہے انہوں نے اپنے بعض اصحاب سے روایت کی ہے اور اس نے جابر سے، یہ لوگ اعمش سے اس حدیث کی روایت میں اضطراب کا شکار ہیں، ٣ - اور ابن فضل نے اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بطریق: «الأعمش، عن أبي حازم، عن أبي هريرة، عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے، ٤ - اہل علم کی ایک جماعت نے بلی کی قیمت کو ناجائز کہا ہے، ٥ - اور بعض لوگوں نے اس کی رخصت دی ہے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ البیوع ٦٤ (٣٤٧٩) (تحفة الأشراف: ٢٣٠٩) و انظر أیضا ما عند صحیح مسلم/المساقاة ٩ (١٥٦٩)، وسنن النسائی/الذبائح ٦١ (٤٣٠٠)، وسنن ابن ماجہ/التجارات ٩ (٢١٦١)، و مسند احمد (٣/٣٣٩) (صحیح )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے بلی اور اس کی قیمت کھانے سے منع فرمایا۔
Sayyidina Jabir (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ forbade eating cats and (taking) their price. [Abu Dawud 3480] --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف، ابن ماجة (3250) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (700)، ضعيف أبي داود (816 / 3807)، الإرواء (2487)، ضعيف الجامع الصغير (6033) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1280
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - اور ہم عبدالرزاق کے علاوہ کسی بڑے محدث کو نہیں جانتے جس نے عمرو بن زید سے روایت کی ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ البیوع ٦٤ (٣٤٨٠)، سنن ابن ماجہ/الصید ٢٠ (٣٢٥٠)، (تحفة الأشراف: ٢٨٩٤)، و مسند احمد (٣/٢٩٧) (ضعیف) (سند میں عمر بن زید صنعانی ضعیف ہیں )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ کتے کی قیمت سے (رسول اللہ ﷺ نے) منع فرمایا ہے سوائے شکاری کتے کی قیمت کے۔
Sayyidina Abu Huraryrah (RA) said that he (the Prophet) forbade the price paid for a dog except a hunting dog. --------------------------------------------------------------------------------
حسن التعليق علی الروضة الندية (2 / 94)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1281
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس طریق سے صحیح نہیں ہے، ٢ - ابومہزم کا نام یزید بن سفیان ہے، ان کے سلسلہ میں شعبہ بن حجاج نے کلام کیا ہے اور ان کی تضعیف کی ہے، ٣ - اور جابر سے مروی ہے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، اور اس کی سند بھی صحیح نہیں ہے (دیکھئیے الصحیحۃ رقم: ٢٩٧١ ) ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٤٨٣٤) (حسن) (متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے، ورنہ اس کے راوی ” ابو المہزم “ ضعیف ہیں )
ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: گانے والی لونڈیوں کو نہ بیچو اور نہ انہیں خریدو، اور نہ انہیں (گانا) سکھاؤ ١ ؎، ان کی تجارت میں خیر و برکت نہیں ہے اور ان کی قیمت حرام ہے۔ اور اسی جیسی چیزوں کے بارے میں یہ آیت اتری ہے: «ومن الناس من يشتري لهو الحديث ليضل عن سبيل الله» اور بعض لوگ ایسے ہیں جو لغو باتوں کو خرید لیتے ہیں تاکہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہکائیں (لقمان: ٦ ) ۔
Sayyidina Abu Umamah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘Do not sell singing-girls, nor buy them, nor teach them (to sing). And there is no good in this business and the price paid for them is unlawful.” It is about like this case that this verse was revealed: And of mankind is he who buys frivolous discourse. (31: 6 to the end) [Muslim 2168]
حسن، ابن ماجة (2168)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1282
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابوامامہ کی حدیث کو ہم اس طرح صرف اسی طریق سے جانتے ہیں، اور بعض اہل علم نے علی بن یزید کے بارے میں کلام کیا ہے اور ان کی تضعیف کی ہے۔ اور یہ شام کے رہنے والے ہیں، ٢ - اس باب میں عمر بن خطاب ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ یہ فسق اور گناہ کے کاموں کی طرف لے جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/التجارات ١١ (٢١٦٨)، (تحفة الأشراف: ٤٨٩٨) (ضعیف) (سند میں عبیداللہ بن زحر اور علی بن یزید بن جدعان دونوں ضعیف راوی ہیں، لیکن ابن ماجہ کی سند حسن درجے کی ہے )
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے دو غلام دیئے جو آپس میں بھائی تھے، میں نے ان میں سے ایک کو بیچ دیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے پوچھا: علی! تمہارا غلام کیا ہوا؟ ، میں نے آپ کو بتایا (کہ میں نے ایک کو بیچ دیا ہے) تو آپ نے فرمایا: اسے واپس لوٹا لو، اسے واپس لوٹا لو ۔
Sayyidina Ali (RA) narrated : Allah’s Messenger bestowed on me a gift of two slaves (who were) brothers. I sold One of them. So, he said to me, “O Ali, what did your slave do?” I informed him of that and he said repeatedly. “Bring him back, bring him back.” [Ibn e Majah 2249]
ضعيف، لکن ثبت مختصرا بلفظ آخر في صحيح أبي داود (2415)، ابن ماجة (2249)، صحيح أبي داود (2415)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1284
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم بیچتے وقت (رشتہ دار) قیدیوں کے درمیان جدائی ڈالنے کو ناجائز کہا ہے، ٣ - اور بعض اہل علم نے ان لڑکوں کے درمیان جدائی کو جائز قرار دیا ہے جو سر زمین اسلام میں پیدا ہوئے ہیں۔ پہلا قول ہی زیادہ صحیح ہے، ٤ - ابراہیم نخعی سے مروی ہے کہ انہوں نے بیچتے وقت ماں اور اس کے لڑکے کے درمیان تفریق، چناچہ ان پر یہ اعتراض کیا گیا تو انہوں نے کہا: میں نے اس کی ماں سے اس کی اجازت مانگی تو وہ اس پر راضی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/التجارات ٤٦ (٢٢٤٩)، (تحفة الأشراف: ١٠٢٨٥)، و مسند احمد (١/١٠٢) (ضعیف) (میمون کی ملاقات علی ؓ سے نہیں ہے، لیکن پچھلی حدیث اور دیگر شواہد سے یہ مسئلہ ثابت ہے )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ کیا کہ فائدے کا استحقاق ضامن ہونے کی بنیاد پر ہے۔
Sayyidah Ayshah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ gave judgment that the defect found in a slave was offset by the profit derived from his work. [Abu Dawud 3508, Nisai 4497)
حسن، ابن ماجة (2242 - 2243)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1285
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ اور بھی سندوں سے مروی ہے، ٣ - اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ البیوع ٧٣ (٣٥٠٨)، سنن النسائی/البیوع ١٥ (٤٤٩٥)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٤٣ (٢٢٤٢ و ٢٢٤٣)، التحفة: ١٦٥٥)، و مسند احمد (٦/٤٩، ٢٠٨، ٢٣٧) (حسن )