خرید وفروخت کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 14 · 127 hadiths · Page 5 of 6

1286Sunan At-Tirmidhi

غلام خریدنا پھر نفع کے بعد عیب پر مطلع ہونا۔

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ . قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رَوَى مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ، عن هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، وَرَوَاهُ جَرِيرٌ، عنْهِشَامٍ أَيْضًا. وَحَدِيثُ جَرِيرٍ يُقَالُ: تَدْلِيسٌ دَلَّسَ فِيهِ جَرِيرٌ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، وَتَفْسِيرُ الْخَرَاجِ بِالضَّمَانِ، هُوَ الرَّجُلُ يَشْتَرِي الْعَبْدَ، فَيَسْتَغِلُّهُ ثُمَّ يَجِدُ بِهِ عَيْبًا، فَيَرُدُّهُ عَلَى الْبَائِعِ، فَالْغَلَّةُ لِلْمُشْتَرِي لِأَنَّ الْعَبْدَ لَوْ هَلَكَ هَلَكَ مِنْ مَالِ الْمُشْتَرِي، وَنَحْوُ هَذَا مِنَ الْمَسَائِلِ يَكُونُ فِيهِ الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فیصلہ کیا کہ فائدہ کا استحقاق ضامن ہونے کی بنیاد پر ہے۔

Sayyidah Ayshah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ gave judgment that the defect found in a slave was offset by the profit derived from his work. [Abu Dawud 3508, Nisai 4497)

حسن انظر ما قبله (1287)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1286
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث ہشام بن عروہ کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - امام ترمذی کہتے ہیں: محمد بن اسماعیل نے اس حدیث کو عمر بن علی کی روایت سے غریب جانا ہے۔ میں نے پوچھا: کیا آپ کی نظر میں اس میں تدلیس ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، ٣ - مسلم بن خالد زنجی نے اس حدیث کو ہشام بن عروہ سے روایت کیا ہے۔ ٤ - جریر نے بھی اسے ہشام سے روایت کیا ہے، ٥ - اور کہا جاتا ہے کہ جریر کی حدیث میں تدلیس ہے، اس میں جریر نے تدلیس کی ہے، انہوں نے اسے ہشام بن عروہ سے نہیں سنا ہے، ٦ - «الخراج بالضمان» کی تفسیر یہ ہے کہ آدمی غلام خریدے اور اس سے مزدوری کرائے پھر اس میں کوئی عیب دیکھے اور اس کو بیچنے والے کے پاس لوٹا دے، تو غلام کی جو مزدوری اور فائدہ ہے وہ خریدنے والے کا ہوگا۔ اس لیے کہ اگر غلام ہلاک ہوجاتا تو مشتری (خریدار) کا مال ہلاک ہوتا۔ یہ اور اس طرح کے مسائل میں فائدہ کا استحقاق ضامن ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: ١٧١٢٦) (حسن )
1287Sunan At-Tirmidhi

راہ گزرنے والے کے لئے راستے کے پھل کھانے کی اجازت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ دَخَلَ حَائِطًا فَلْيَأْكُلْ، وَلَا يَتَّخِذْ خُبْنَةً . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَبَّادِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، وَرَافِعِ بْنِ عَمْرٍو، وَعُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، إِلَّا مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَلِيمِ، وَقَدْ رَخَّصَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ لِابْنِ السَّبِيلِ فِي أَكْلِ الثِّمَارِ، وَكَرِهَهُ بَعْضُهُمْ إِلَّا بِالثَّمَنِ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی باغ میں داخل ہو تو (پھل) کھائے، کپڑوں میں باندھ کر نہ لے جائے ۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger said, “He who goes into a garden is allowed to eat its fruit, but he cannot gather them in anything.” [Ibn e Majah 2301]

صحيح، ابن ماجة (2301)، وانظر الذي بعده (1288)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1287
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابن عمر ؓ کی حدیث غریب ہے۔ ہم اسے اس طریق سے صرف یحییٰ بن سلیم ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن عمرو، عباد بن شرحبیل، رافع بن عمرو، عمیر مولی آبی اللحم اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - بعض اہل علم نے راہ گیر کے لیے پھل کھانے کی رخصت دی ہے۔ اور بعض نے اسے ناجائز کہا ہے، الا یہ کہ قیمت ادا کر کے ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/التجارات ٦٧ (٢٣٠١)، (تحفة الأشراف: ٨٢٢٢) (صحیح )
1288Sunan At-Tirmidhi(1289)

راہ گزرنے والے کے لئے راستے کے پھل کھانے کی اجازت

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ، فَقَالَ: مَنْ أَصَابَ مِنْهُ مِنْ ذِي حَاجَةٍ غَيْرَ مُتَّخِذٍ خُبْنَةً فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے لٹکے ہوئے پھل کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: جو ضرورت مند اس میں سے (ضرورت کے مطابق) لے لے اور کپڑے میں جمع کرنے والا نہ ہو تو اس پر کوئی مواخذہ نہیں ہے ۔

Amr ibn Shu’ayb reported on the authority of his father from his grand father that the Prophet ﷺ was asked about dates on plam-trees. He said, ‘If a needy person passes by them and eats them without collecting them then there is no harm.” [Abu Dawud 1710, Nisai 2490] -------------------------------------------------------------------------------- --------------------------------------------------------------------------------

حسن، الإرواء (2413)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1289
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ اللقطة ح رقم ١٠ (١٧١٠) و الحدود ١٢ (٤٣٩٠)، سنن النسائی/قطع السارق ١١ (٤٩٦١)، (تحفة الأشراف: ٨٧٩٨) (حسن )
1289Sunan At-Tirmidhi(1288)

راہ گزرنے والے کے لئے راستے کے پھل کھانے کی اجازت

حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْخُزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْرَافِعِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: كُنْتُ أَرْمِي نَخْلَ الْأَنْصَارِ، فَأَخَذُونِي، فَذَهَبُوا بِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَافِعُ، لِمَ تَرْمِي نَخْلَهُمْ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْجُوعُ، قَالَ: لَا تَرْمِ، وَكُلْ مَا وَقَعَ أَشْبَعَكَ اللَّهُ وَأَرْوَاكَ . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

رافع بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ میں انصار کے کھجور کے درختوں پر پتھر مارتا تھا، ان لوگوں نے مجھے پکڑ لیا اور نبی اکرم ﷺ کے پاس لے گئے آپ نے پوچھا: رافع! تم ان کے کھجور کے درختوں پر پتھر کیوں مارتے ہو؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بھوک کی وجہ سے، آپ نے فرمایا: پتھر مت مارو، جو خودبخود گرجائے اسے کھاؤ اللہ تمہیں آسودہ اور سیراب کرے ۔

Sayydidina Rafi ibn Amr (RA) narrated: I hit stones on the date trees of the ansar went they caught me and took me to the Prophet ﷺ He said, “O Rafi way did you pelt stones at their palm-trees?” I said, “O Messenger of Allah, I was hungry.” He said, “Do not throw stones. Eat that which are lying down. May Allah satiate you and quench your thirst.”

ضعيف، ابن ماجة (2299) // ضعيف سنن ابن ماجة (504)، ضعيف الجامع الصغير (6210)، ضعيف أبي داود (564 / 2622) مع اختلاف باللفظ //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1288
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الجہاد ٩٤ (٢٦٢٢)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٦٧ (٢٢٩٩)، (تحفة الأشراف: ٣٥٩٥) (ضعیف) (سند میں ” صالح “ اور ان کے باپ ” ابو جبیر “ دونوں مجہول ہیں، اور ابوداود وابن ماجہ کی سند میں ” ابن ابی الحکم “ مجہول ہیں نیز ان کی دادی مبہم ہیں )
1290Sunan At-Tirmidhi

خریدوفروخت میں استثناء کی ممانعت

حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَغْدَادِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ، وَالْمُخَابَرَةِ، وَالثُّنْيَا إِلَّا أَنْ تُعْلَمَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے محاقلہ، مزابنہ ١ ؎ مخابرہ ٢ ؎ اور بیع میں کچھ چیزوں کو مستثنیٰ کرنے سے منع فرمایا ٣ ؎ الا یہ کہ استثناء کی ہوئی چیز معلوم ہو۔

Sayyidina Jabir (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ forbade muhaqalah, muzabanah, mukhabarah and thunya, unless it was known (how much it is). [Bukhari 2119, Muslim 1539, Nisai 3879, Ahmed 4882]

صحيح أحاديث البيوعصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1290
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس طریق سے بروایت یونس بن عبید جسے یونس نے عطاء سے اور عطاء نے جابر سے روایت کی ہے حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: محاقلہ اور مزابنہ کی تفسیر گزر چکی ہے دیکھئیے حدیث نمبر ( ١٢٢٤ )۔ ٢ ؎: مخابرہ کے معنیٰ مزارعت کے ہیں یعنی ثلث یا ربع پیداوار پر زمین بٹائی پر لینا، یہ بیع مطلقاً ممنوع نہیں، بلکہ لوگ زمین کے کسی حصہ کی پیداوار مزارع کے لیے اور کسی حصہ کی مالک زمین کے لیے مخصوص کرلیتے تھے، ایسا کرنے سے منع کیا گیا ہے، کیونکہ بسا اوقات مزارع والا حصہ محفوظ رہتا اور مالک والا تباہ ہوجاتا ہے، اور کبھی اس کے برعکس ہوجاتا ہے، اس طرح معاملہ باہمی نزاع اور جھگڑے تک پہنچ جاتا ہے، اس لیے ایسا کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ ٣ ؎: اس کی صورت یہ ہے کہ مثلاً کوئی کہے کہ میں اپنا باغ بیچتا ہوں مگر اس کے کچھ درخت نہیں دوں گا اور ان درختوں کی تعیین نہ کرے تو یہ درست نہیں کیونکہ مستثنیٰ کئے ہوئے درخت مجہول ہیں۔ اور اگر تعیین کر دے تو جائز ہے جیسا کہ اوپر حدیث میں اس کی اجازت موجود ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الشرب والمساقاة ١٧ (٢٣٨١)، صحیح مسلم/البیوع ١٦ (١٥٣٦)، سنن ابی داود/ البیوع ٣٤ (٣٤٠٥)، سنن النسائی/الأیمان (والمزارعة)، ٤٥ (٣٩١٠)، والبیوع ٧٤ (٤٦٤٧)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٥٤ (٢٢٦٦)، (تحفة الأشراف: ٢٤٩٥)، و مسند احمد (٣/٣١٣، ٣٥٦، ٣٦٠، ٣٦٤، ٣٩١، ٣٩٢)، وانظر ما یأتي برقم ١٣١٣ (صحیح )
1291Sunan At-Tirmidhi

غلے کو اپنی ملکیت میں لینے سے پہلے فروخت کرنا منع ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَأَحْسِبُ كُلَّ شَيْءٍ مِثْلَهُ. قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ جَابِرٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ، كَرِهُوا بَيْعَ الطَّعَامِ، حَتَّى يَقْبِضَهُ الْمُشْتَرِي، وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِيمَنِ ابْتَاعَ شَيْئًا مِمَّا لَا يُكَالُ وَلَا يُوزَنُ مِمَّا لَا يُؤْكَلُ، وَلَا يُشْرَبُ، أَنْ يَبِيعَهُ قَبْلَ أَنْ يَسْتَوْفِيَهُ، وَإِنَّمَا التَّشْدِيدُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الطَّعَامِ، وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص غلہ خریدے تو اسے نہ بیچے جب تک کہ اس پر قبضہ نہ کرلے ١ ؎، ابن عباس ؓ کہتے ہیں: میں ہر چیز کو غلے ہی کے مثل سمجھتا ہوں۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “He who buys grain must not sell it before he gets possession of it.” Sayyidina lbn Abbas said. “I think it applies to everything of this kind.” [Muslim 1525, Abu Dawud 3496, Nisai 4609, Ahmed 3481]

صحيح، ابن ماجة (2227)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1291
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابن عباس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں جابر، ابن عمر اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ان لوگوں نے غلہ کی بیع کو ناجائز کہا ہے۔ جب تک مشتری اس پر قبضہ نہ کرلے، ٤ - اور بعض اہل علم نے قبضہ سے پہلے اس شخص کو بیچنے کی رخصت دی ہے جو کوئی ایسی چیز خریدے جو ناپی اور تولی نہ جاتی ہو اور نہ کھائی اور پی جاتی ہو، ٥ - اہل علم کے نزدیک سختی غلے کے سلسلے میں ہے۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: خرید و فروخت میں شریعت اسلامیہ کا بنیادی اصول یہ ہے کہ خریدی ہوئی چیز پر خریدار جب تک مکمل قبضہ نہ کرلے اسے دوسرے کے ہاتھ نہ بیچے، اور یہ قبضہ ہر چیز پر اسی چیز کے حساب سے ہوگا، نیز اس سلسلہ میں علاقے کے عرف (رسم و رواج) کا اعتبار بھی ہوگا کہ وہاں کسی چیز پر کیسے قبضہ مانا جاتا ہے مثلاً منقولہ چیزوں میں شریعت نے ایک عام اصول برائے مکمل قبضہ یہ بتایا ہے کہ اس چیز کو مشتری بائع کی جگہ سے اپنی جگہ میں منتقل کرلے یا ناپنے والی چیز کو ناپ لے اور تولنے والی چیز کو تول لے اور اندازہ کی جانے والی چیز کی جگہ بدل لے۔
Takhrij · تخریج
تخريج: صحیح البخاری/البیوع ٥٤ (٢١٣٢)، صحیح مسلم/البیوع ٨ (١٥٢٥)، سنن ابی داود/ البیوع ٦٧ (٣٤٩٦)، سنن النسائی/البیوع ٥٥ (٤٦٠٤)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٣٧ (٢٢٢٧)، (تحفة الأشراف: ٥٧٣٦)، و مسند احمد (١/٢١٥، ٢٢١، ٢٥١، ٢٧٠، ٢٨٥، ٣٥٦، ٣٦٨، ٣٦٩) (صحیح )
1292Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ اپنے بھائی کی بیع پر بیع کرنا منع ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، وَلَا يَخْطُبْ بَعْضُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ بَعْضٍ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَسَمُرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: لَا يَسُومُ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ ، وَمَعْنَى الْبَيْعِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ هُوَ السَّوْمُ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی دوسرے کی بیع پر بیع نہ کرے ١ ؎ اور نہ کوئی کسی کے شادی کے پیغام پر پیغام دے ۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that the Prophet ﷺ said, ‘None of you must sell at a lower price what is offered by another. And none of you must propose marriage to a woman when another has done so.” [Bukhari 2139, Muslim 3436, Nisai 4510, Ibn e Majah 2171, Ahmed 4531] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (1868 - 2171)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1292
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابن عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ اور سمرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا آدمی اپنے بھائی کے بھاؤ پر بھاؤ نہ کرے۔ ٤ - اور بعض اہل علم کے نزدیک نبی اکرم ﷺ سے مروی اس حدیث میں بیع سے مراد بھاؤ تاؤ اور مول تول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: دوسرے کی بیع پر بیع کی صورت یہ ہے، بیع ہوجانے کے بعد مدت خیار کے اندر کوئی آ کر یہ کہے کہ تو یہ بیع فسخ کر دے تو میں تجھ کو اس سے عمدہ چیز اس سے کم قیمت پر دیتا ہوں کہ اس طرح کہنا جائز نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النکاح ٤٥ (٥١٤٢)، صحیح مسلم/النکاح ٦ (١٤١٢)، والبیوع ١٤١٢)، سنن ابی داود/ النکاح ١٨ (٢٠٨١)، سنن النسائی/النکاح ٢٠ (٣٢٤٠)، و ٢١ (٣٢٤٥)، والبیوع ٢٠ (٤٥٠٧)، سنن ابن ماجہ/النکاح ١٠ (١٨٦٧)، (تحفة الأشراف: ٨٢٨٤)، و مسند احمد (٢/١٢٢، ١٢٤، ١٢٦، ١٣٠، ١٤٢، ١٥٣)، سنن الدارمی/النکاح ٧ (٢٢٢٢)، والبیوع ٣٣ (٢٦٠٩) (صحیح )
1293Sunan At-Tirmidhi

شراب بیچنے کی ممانعت

حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَال: سَمِعْتُ لَيْثًا يُحَدِّثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْأَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنِّي اشْتَرَيْتُ خَمْرًا لِأَيْتَامٍ فِي حِجْرِي، قَالَ: أَهْرِقْ الْخَمْرَ، وَاكْسِرِ الدِّنَانَ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ جَابِرٍ، وَعَائِشَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي طَلْحَةَ رَوَىالثَّوْرِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ السُّدِّيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ كَانَ عِنْدَهُ، وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ.

ابوطلحہ ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں نے ان یتیموں کے لیے شراب خریدی تھی جو میری پرورش میں ہیں۔ (اس کا کیا حکم ہے؟ ) آپ نے فرمایا: شراب بہا دو اور مٹکے توڑ دو ۔

Sayyidina Abu Talhah (RA) narrated that he said, “O Prophet ﷺ of Allah, I had bought wine for the orphans under my care.” He said, “Pour out the wine and smash down the jars.” [Abu Dawud 3675, Ahmed 12190]

حسن، المشکاة (3659 / التحقيق الثاني)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1293
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابوطلحہ ؓ کی اس حدیث کو ثوری نے بطریق: «السدي، عن يحيى بن عباد، عن أنس» روایت کیا ہے کہ ابوطلحہ آپ کے پاس تھے ١ ؎، اور یہ لیث کی روایت سے زیادہ صحیح ہے، ٢ - اس باب میں جابر، عائشہ، ابوسعید، ابن مسعود، ابن عمر، اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس اعتبار سے یہ حدیث انس کی مسانید میں سے ہوگی نہ کہ ابوطلحہ کی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٣٧٧٢) (حسن )
1294Sunan At-Tirmidhi

شراب بیچنے کی ممانعت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ السُّدِّيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيُتَّخَذُ الْخَمْرُ خَلًّا ؟ قَالَ: لَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا: کیا شراب کا سرکہ بنایا جاسکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں ۔

Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that someone asked Allah’s Messenger ﷺ if he could prepare vinegar from wine. He said ‘No.’ [Muslim 1983]

صحيح، المشکاة أيضاصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1294
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأشربة ٢ (١٩٨٣)، سنن ابی داود/ الأشربة ٣ (٣٦٧٥)، (تحفة الأشراف: ١٦٦٨)، وسنن الدارمی/الأشربة ١٧ (٢١٦١) (صحیح )
1295Sunan At-Tirmidhi

شراب بیچنے کی ممانعت

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا عَاصِمٍ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَمْرِ عَشْرَةً عَاصِرَهَا، وَمُعْتَصِرَهَا، وَشَارِبَهَا، وَحَامِلَهَا، وَالْمَحْمُولَةُ إِلَيْهِ، وَسَاقِيَهَا، وَبَائِعَهَا، وَآكِلَ ثَمَنِهَا، وَالْمُشْتَرِي لَهَا، وَالْمُشْتَرَاةُ لَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ، وَقَدْ رُوِيَ نَحْوُ هَذَا، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے شراب کی وجہ سے دس آدمیوں پر لعنت بھیجی: اس کے نچوڑوانے والے پر، اس کے پینے والے پر، اس کے لے جانے والے پر، اس کے منگوانے والے پر، اور جس کے لیے لے جائی جائے اس پر، اس کے پلانے والے پر، اور اس کے بیچنے والے پر، اس کی قیمت کھانے والے پر، اس کو خریدنے والے پر اور جس کے لیے خریدی گئی ہو اس پر ۔

Sayyidina Anas ibn Maalik reported that Allah’s Messenger ﷺ cursed ten man concerning wine. (1) One who extracts it. (2) One who gets it extracted. (3) One who drinks it. (4) One who delivers it. (5) One to whom it is brought. (6) One who serves it. (7) One who sells it. (8) One who receives its price. (9) One who buys it. (10) One for whom it is bought. [Ibn e Majah 3381]

حسن صحيح، ابن ماجة (3381)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1295
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث انس ؓ کی روایت سے غریب ہے، ٢ - اور اسی حدیث کی طرح ابن عباس، ابن مسعود اور ابن عمر ؓ سے بھی مروی ہے جسے یہ لوگ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأشربة ٦ (٣٣٨١)، (تحفة الأشراف: ٩٠٠) (حسن صحیح )
1296Sunan At-Tirmidhi

جانوروں کا ان کے مالکوں کی اجازت کے بغیر دودھ نکالنا

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ عَلَى مَاشِيَةٍ فَإِنْ كَانَ فِيهَا صَاحِبُهَا فَلْيَسْتَأْذِنْهُ، فَإِنْ أَذِنَ لَهُ فَلْيَحْتَلِبْ وَلْيَشْرَبْ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهَا أَحَدٌ فَلْيُصَوِّتْ ثَلَاثًا، فَإِنْ أَجَابَهُ أَحَدٌ فَلْيَسْتَأْذِنْهُ، فَإِنْ لَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ فَلْيَحْتَلِبْ وَلْيَشْرَبْ وَلَا يَحْمِلْ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عُمَرَ، وَأَبِي سَعِيدٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ سَمُرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق. قَالَ أَبُو عِيسَى 12: وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، سَمَاعُ الْحَسَنِ مِنْ سَمُرَةَ صَحِيحٌ، وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ فِي رِوَايَةِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، وَقَالُوا: إِنَّمَا يُحَدِّثُ عَنْ صَحِيفَةِ سَمُرَةَ.

سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کسی ریوڑ کے پاس (دودھ پینے) آئے تو اگر ان میں ان کا مالک موجود ہو تو اس سے اجازت لے، اگر وہ اجازت دیدے تو دودھ پی لے۔ اگر ان میں کوئی نہ ہو تو تین بار آواز لگائے، اگر کوئی جواب دے تو اس سے اجازت لے لے، اور اگر کوئی جواب نہ دے تو دودھ پی لے لیکن ساتھ نہ لے جائے ١ ؎۔

Sayyidina Samurah ibn Jundub (RA) reported that the Prophet ﷺ said, ‘If you come to a herd of animals and their owner is present then seek his permission. If he gives permission then milk (the animal) and drink it. But, if there is no one then call out three times and when someone answers, seek his permission. If no one answers you then milk the animal and drink but do not carry any milk away.” [Abu Dawud 2619] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (2300)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1296
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - سمرہ کی حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں عمر اور ابو سعید خدری سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - اہل علم کا اسی پر عمل ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں، ٤ - علی بن مدینی کہتے ہیں کہ سمرہ سے حسن کا سماع ثابت ہے، ٥ - بعض محدثین نے حسن کی روایت میں جسے انہوں نے سمرہ سے روایت کی ہے کلام کیا ہے، وہ لوگ کہتے ہیں کہ حسن سمرہ کے صحیفہ سے حدیث روایت کرتے تھے ٢ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حکم اس پریشان حال اور مضطر و مجبور مسافر کے لیے ہے جسے کھانا نہ ملنے کی صورت میں اپنی جان کے ہلاک ہوجانے کا خطرہ لاحق ہو یہ تاویل اس وجہ سے ضروری ہے کہ یہ حدیث ایک دوسری حدیث «للايحلبنّ أحد ماشية أحدٍ بغير إذنه» کے معارض ہے۔ ٢ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ سمرہ بن جندب ؓ کے پاس بھی لکھی ہوئی احادیث کا صحیفہ تھا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الجہاد ٩٣ (٢٦١٩)، (تحفة الأشراف: ٤٥٩١) (صحیح )
1297Sunan At-Tirmidhi

جانوروں کی کھال اور بتوں کو فروخت کرنا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِمَكَّةَ، يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ، وَالْمَيْتَةِ، وَالْخِنْزِيرِ، وَالْأَصْنَامِ ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ ؟ فَإِنَّهُ يُطْلَى بِهَا السُّفُنُ، وَيُدْهَنُ بِهَا الْجُلُودُ، وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ، قَالَ: لَا، هُوَ حَرَامٌ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ: قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ، إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَيْهِمُ الشُّحُومَ، فَأَجْمَلُوهُ، ثُمَّ بَاعُوهُ، فَأَكَلُوا ثَمَنَهُ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے فتح مکہ کے سال مکہ کے اندر رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: اللہ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، خنزیر اور بتوں کی بیع کو حرام قرار دیا ہے ، عرض کیا گیا، اللہ کے رسول! مجھے مردار کی چربی کے بارے میں بتائیے، اسے کشتیوں پہ ملا جاتا ہے، چمڑوں پہ لگایا جاتا ہے، اور لوگ اس سے چراغ جلاتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں، یہ جائز نہیں، یہ حرام ہے ، پھر آپ نے اسی وقت فرمایا: یہود پر اللہ کی مار ہو، اللہ نے ان کے لیے چربی حرام قرار دے دی، تو انہوں نے اس کو پگھلایا پھر اسے بیچا اور اس کی قیمت کھائی ۔

Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) narrated that he heard Allah’s Messenger say in the year of conquest (of Makkah) while he was at Makkah, “Indeed, Allah and His Messenger have forbidden the sale of wine, dead animal, swine and idols.” Someone asked. ‘O Messenger of Allah! ﷺ What do you say about fat of dead animal, for it is used to coat and plate ships and anoint skins, and people light lamps with it.” He said, “No, that is unlawful.” He added thereafter, “May Allah destroy the Jews! Allah made unlawful for them fat, they melted it and sold it and consumed its price.” [Bukhari 2236 Muslim 1581, Abu Dawud 3486, Nisai 4669, Ibn e Majah 2167, Ahmed 14479] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (2167)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1297
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - جابر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عمر اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ١١٢ (٢٢٣٦)، والمغازي ٥١ (٤٢٩٦)، وتفسیر سورة الأنعام ٦ (٤٦٣٣)، صحیح مسلم/المساقاة ١٣ (١٥٨١)، سنن ابی داود/ البیوع ٦٦ (٢٤٨٦)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة ٨ (٤٢٦٧)، والبیوع ٩٣ (٤٦٧٣)، سنن ابن ماجہ/التجارات ١١ (٢١٦٧)، (تحفة الأشراف: ٢٤٩٤)، و مسند احمد (٣/٣٢٤)، ٣٢٦، ٣٧٠) (صحیح )
1298Sunan At-Tirmidhi

کوئی چیز ہبہ کرکے واپس لینا ممنوع ہے۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السُّوءِ الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ .

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بری مثال ہمارے لیے مناسب نہیں، ہدیہ دے کر واپس لینے والا کتے کی طرح ہے جو قے کر کے چاٹتا ہے ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Not for us is the evil example of one who takes back his gift being like a dog that returns to its vomit.” [Bukhari 2621, Muslim 1622]

صحيح، ابن ماجة (2385)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1298
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے ہبہ کو واپس لینے کی شناعت و قباحت واضح ہوتی ہے، ایک تو ایسے شخص کو کتے سے تشبیہ دی گئی ہے، دوسرے ہبہ کی گئی چیز کو قے سے تعبیر کیا جس سے انسان انتہائی کراہت محسوس کرتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الہبة ٣٠ (٢٦٢٢)، والحیل ١٤ (٦٩٧٥)، سنن النسائی/الہبة ٣ (٣٧٢٨، ٣٧٢٩)، (تحفة الأشراف: ٥٩٩٢)، و مسند احمد (١/٢١٧) وانظر الحدیث الآتي، مایأتي برقم: ٢١٣١ و ٢١٣٢ (صحیح) وانظر أیضا: صحیح البخاری/الہبة ١٤ (٢٥٨٩)، صحیح مسلم/الہبات ٢ (١٦٢٢)، سنن النسائی/الہبة ٢ (٣٧٢١-٣٧٢٢)، و ٣ (٣٧٢٣، ٣٧٢٥-٣٧٢٧، ٣٧٣٠)، و ٤ (٣٧٣١-٣٧٣٣ )
1299Sunan At-Tirmidhi

کوئی چیز ہبہ کرکے واپس لینا ممنوع ہے۔

قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يُعْطِيَ عَطِيَّةً، فَيَرْجِعَ فِيهَا إِلَّا الْوَالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ . حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْعَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا يُحَدِّثُ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ يَرْفَعَانِ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، قَالُوا: مَنْ وَهَبَ هِبَةً لِذِي رَحِمٍ مَحْرَمٍ، فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَرْجِعَ فِيهَا، وَمَنْ وَهَبَ هِبَةً لِغَيْرِ ذِي رَحِمٍ مَحْرَمٍ، فَلَهُ أَنْ يَرْجِعَ فِيهَا، مَا لَمْ يُثَبْ مِنْهَا، وَهُوَ قَوْلُ: الثَّوْرِيِّ، وقَالَ الشَّافِعِيُّ: لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يُعْطِيَ عَطِيَّةً فَيَرْجِعَ فِيهَا، إِلَّا الْوَالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ. وَاحْتَجَّ الشَّافِعِيُّ بِحَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يُعْطِيَ عَطِيَّةً، فَيَرْجِعَ فِيهَا إِلَّا الْوَالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ .

عبداللہ بن عمر اور ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کسی کے لیے جائز نہیں کہ کوئی عطیہ دے کر اسے واپس لے سوائے باپ کے جو اپنے بیٹے کو دے ۔

Muhammad ibn Bashshar reported this hadith from Ibn Abu Adi, who from Husayn ibn Muallim, and he from Amr ibn Shu’ayb, and he from Tawus, who from Ibn Umar (RA) and Ibn Abbas (RA) . [Abu Dawud 3539, Nisai 3692] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (2386)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1299
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابن عباس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ جو کسی ذی محرم کو کوئی چیز بطور ہبہ دے تو پھر اسے واپس لینے کا اختیار نہیں، اور جو کسی غیر ذی محرم کو کوئی چیز بطور ہبہ دے تو اس کے لیے اسے واپس لینا جائز ہے جب اسے اس کا بدلہ نہ دیا گیا ہو، یہی ثوری کا قول ہے، ٣ - اور شافعی کہتے ہیں: کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی کو کوئی عطیہ دے پھر اسے واپس لے، سوائے باپ کے جو اپنے بیٹے کو دے، شافعی نے عبداللہ بن عمر ؓ کی حدیث سے استدلال کیا ہے جسے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: کسی کے لیے جائز نہیں کہ کوئی عطیہ دے کر اسے واپس لے سوائے باپ کے جو اپنے بیٹے کو دے ۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ البیوع ٨٣ (٣٥٣٩)، سنن النسائی/الہبة ٢ (٣٧٢٠)، و ٤ (٣٧٣٣)، سنن ابن ماجہ/الہبات ١ (٢٣٧٧)، (تحفة الأشراف: ٥٧٤٣ و ٧٠٩٧)، و مسند احمد (٢/٢٧، ٧٨) (ویأتي برقم ٢١٣٢) (صحیح )
1300Sunan At-Tirmidhi

بیع عرایا اور اس کی اجازت

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ، إِلَّا أَنَّهُ قَدْ أَذِنَ لِأَهْلِ الْعَرَايَا، أَنْ يَبِيعُوهَا بِمِثْلِ خَرْصِهَا . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَجَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ هَكَذَا رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق هَذَا الْحَدِيثَ، وَرَوَى أَيُّوبُ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا ، وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق.

زید بن ثابت ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا، البتہ آپ نے عرایا والوں کو اندازہ لگا کر اسے اتنی ہی کھجور میں بیچنے کی اجازت دی ١ ؎۔

Sayyidina Zayd ibn Thabit (RA) reported that the Prophet ﷺ disallowed muhaqalah and muzabanah, but allowed those worthy of al-araya to sell by estimate (that is, the fruit on the tree against the plucked ones by estimate). [Bukhari 2183, Muslim 1539]

صحيح، ابن ماجة (2268 - 2269)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1300
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - زید بن ثابت ؓ کی حدیث کو محمد بن اسحاق نے اسی طرح روایت کیا ہے۔ اور ایوب، عبیداللہ بن عمر اور مالک بن انس نے نافع سے اور نافع نے ابن عمر سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ اور جابر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔ اور اسی سند سے ابن عمر نے زید بن ثابت سے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے بیع عرایا کی اجازت دی۔ اور یہ محمد بن اسحاق کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ٢ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: عرایا کی صورت یہ ہے مثلاً کوئی شخص اپنے باغ کے دو ایک درخت کا پھل کسی مسکین کو دیدے لیکن دینے کے بعد باربار اس کے آنے جانے سے اسے تکلیف پہنچے تو کہے: بھائی اندازہ لگا کر خشک یا تر کھجور ہم سے لے لو اور اس درخت کا پھل ہمارے لیے چھوڑ دو ہرچند کہ یہ مزابنہ ہے لیکن چونکہ یہ ایک ضرورت ہے، اور وہ بھی مسکینوں کو مل رہا ہے اس لیے اسے جائز قرار دیا گیا ہے۔ ٢ ؎: مطلب یہ ہے کہ محمد بن اسحاق نے «عن نافع، عن ابن عمر، عن زيد بن ثابت» کے طریق سے: محاقلہ اور مزابنہ سے ممانعت کو عرایا والے جملے کے ساتھ روایت کیا ہے، جب کہ ایوب وغیرہ نے «عن نافع، عن ابن عمر» کے طریق سے (یعنی مسند ابن عمر سے) صرف محاقلہ و مزابنہ کی ممانعت والی بات ہی روایت کی ہے، نیز «عن أيوب، عن ابن عمر، عن زيد بن ثابت» کے طریق سے بھی ایک روایت ہے مگر اس میں محمد بن اسحاق والے حدیث کے دونوں ٹکڑے ایک ساتھ نہیں ہیں، بلکہ صرف «عرایا» والا ٹکڑا ہی ہے، اور بقول مؤلف یہ روایت زیادہ صحیح ہے (یہ روایت آگے آرہی ہے)۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٧٥ (٢١٧٢، ٢١٧٣)، و ٨٢ (٢١٨٤)، و ٨٤ (٢١٩٢)، والشرب والمساقاة ١٧ (٢٣٨٠)، صحیح مسلم/البیوع ١٤ (١٥٣٩)، سنن ابی داود/ البیوع ٢٠ (٣٣٦٢)، سنن النسائی/البیوع ٣٢ (٤٥٣٦، ٤٥٤٠)، و ٣٤ (٤٥٤٣، ٤٥٤٣)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٥٥ (٢٢٦٨، ٢٢٦٩)، (تحفة الأشراف: ٣٧٢٣)، وط/البیوع ٩ (١٤)، و مسند احمد (٥/١٨١، ١٨٢، ١٨٨، ١٩٢) ویأتي برقم ١٣٠٢ (صحیح )
1301Sunan At-Tirmidhi

بیع عرایا اور اس کی اجازت

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ ، أَوْ كَذَا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے پانچ وسق سے کم میں عرایا کے بیچنے کی اجازت دی ہے یا ایسے ہی کچھ آپ نے فرمایا۔ راوی کو شک ہے کہ حدیث کے یہی الفاظ ہیں یا کچھ فرق ہے۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ allowed the sale araya less than five wasq by estimate, or something like that. [Bukhari 2190, Muslim 1541, Abu Dawud 3364, Nisai 4543]

صحيح أحاديث البيوعصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1301
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٨٣ (٢١٩٠)، والشرب والمساقاة ١٧ (٢٣٨٢)، صحیح مسلم/البیوع ١٤ (١٥٤١)، سنن ابی داود/ البیوع ٢١ (٣٣٦٤)، سنن النسائی/البیوع ٣٥ (٤٥٤٥)، (تحفة الأشراف: ١٤٩٤٣)، و مسند احمد (٢/٢٣٧) (صحیح )
1302Sunan At-Tirmidhi

بیع عرایا اور اس کی اجازت

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْخَصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْهُمْ: الشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، وَقَالُوا: إِنَّ الْعَرَايَا مُسْتَثْنَاةٌ مِنْ جُمْلَةِ نَهْيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذْ نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُزَابَنَةِ، وَاحْتَجُّوا ، بِحَدِيثِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَحَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَقَالُوا لَهُ: أَنْ يَشْتَرِيَ مَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ، وَمَعْنَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ التَّوْسِعَةَ عَلَيْهِمْ فِي هَذَا لِأَنَّهُمْ شَكَوْا إِلَيْهِ، وَقَالُوا: لَا نَجِدُ مَا نَشْتَرِي مِنَ الثَّمَرِ، إِلَّا بِالتَّمْرِ، فَرَخَّصَ لَهُمْ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ، أَنْ يَشْتَرُوهَا، فَيَأْكُلُوهَا رُطَبًا.

زید بن ثابت ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اندازہ لگا کر عرایا کو بیچنے کی اجازت دی ہے۔

Sayyidina Zayd ibn Thabit reported that Allah’s Messenger ﷺ allowed araya sale by estimate. [Bukhari 2184, Muslim 1539]

صحيح أحاديث البيوعصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1302
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ جس میں شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی میں شامل ہیں۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے من جملہ جن چیزوں سے منع فرمایا ہے اس سے عرایا مستثنیٰ ہے، اس لیے کہ آپ نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔ ان لوگوں نے زید بن ثابت اور ابوہریرہ کی حدیث سے استدلال کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ اس کے لیے پانچ وسق سے کم خریدنا جائز ہے، ٣ - بعض اہل علم کے نزدیک اس کا مفہوم یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے پیش نظر اس سلسلہ میں توسع اور گنجائش دینا ہے، اس لیے کہ عرایا والوں نے آپ سے شکایت کی اور عرض کیا کہ خشک کھجور کے سوا ہمیں کوئی اور چیز میسر نہیں جس سے ہم تازہ کھجور خرید سکیں۔ تو آپ نے انہیں پانچ وسق سے کم میں خریدنے کی اجازت دے دی تاکہ وہ تازہ کھجور کھا سکیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ١٣٠٠ (صحیح )
1303Sunan At-Tirmidhi

بیع عرایا اور اس کی اجازت

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، وَسَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ حَدَّثَاهُ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْمُزَابَنَةِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ، إِلَّا لِأَصْحَابِ الْعَرَايَا، فَإِنَّهُ قَدْ أَذِنَ لَهُمْ، وَعَنْ بَيْعِ الْعِنَبِ بِالزَّبِيبِ، وَعَنْ كُلِّ ثَمَرٍ بِخَرْصِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

رافع بن خدیج اور سہل بن ابی حثمہ ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع مزابنہ یعنی سوکھی کھجوروں کے عوض درخت پر لگی کھجور بیچنے سے منع فرمایا، البتہ آپ نے عرایا والوں کو اجازت دی، اور خشک انگور کے عوض تر انگور بیچنے سے اور اندازہ لگا کر کوئی بھی پھل بیچنے سے منع فرمایا۔

Walid ibn Kathier reported from Bashir ibn Yasar, the freed man of Banu Harithah that Rafi’ ibn Khadij and Sahi ibn Aku Hathmah narrated to him that Allah’s Messenger forbade sale muzabanah - fruit (on trees) against fruit (on the fields, plucked from trees) except to the deserving of araya, for, he had permitted them. And, he forbade exchange of fresh grapes with dried grapes and all fruit on estimation. [Muslim 1540]

صحيح أحاديث البيوعصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1303
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس طریق سے حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٨٣ (٢١٩١)، والشرب والمساقاة ١٧ (٢٣٨٤)، صحیح مسلم/البیوع ١٤ (١٥٤٠)، سنن ابی داود/ البیوع ٢٠ (٢٣٦٣)، سنن النسائی/البیوع ٣٥ (٤٥٤٦)، (تحفة الأشراف: ٣٥٥٢ و ٤٦٤٦) و مسند احمد (٤/٢) (صحیح )
1304Sunan At-Tirmidhi

دلالی میں قیمت زیادہ لگانا حرام ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ قُتَيْبَةُ: يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تَنَاجَشُوا . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَأَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ كَرِهُوا النَّجْشَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَالنَّجْشُ أَنْ يَأْتِيَ الرَّجُلُ الَّذِي يَفْصِلُ السِّلْعَةَ إِلَى صَاحِبِ السِّلْعَةِ، فَيَسْتَامُ بِأَكْثَرَ مِمَّا تَسْوَى وَذَلِكَ عِنْدَمَا يَحْضُرُهُ الْمُشْتَرِي، يُرِيدُ أَنْ يَغْتَرَّ الْمُشْتَرِي بِهِ، وَلَيْسَ مِنْ رَأْيِهِ الشِّرَاءُ، إِنَّمَا يُرِيدُ أَنْ يَخْدَعَ الْمُشْتَرِيَ بِمَا يَسْتَامُ، وَهَذَا ضَرْبٌ مِنَ الْخَدِيعَةِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَإِنْ نَجَشَ رَجَلٌ فَالنَّاجِشُ آثِمٌ فِيمَا يَصْنَعُ، وَالْبَيْعُ جَائِزٌ لِأَنَّ الْبَائِعَ غَيْرُ النَّاجِشِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم نجش نہ کرو ۔

Sayyidiria Abu Hurayrah (RA) reported that the Prophet ﷺ said and Qutayabah said that he learnt of it from the Prophet ﷺ , ‘Do not practice najsh.” (Bukhari 2150, Muslim 1515] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (2174)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1304
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عمر اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - اور بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ان لوگوں نے «نجش» کو ناجائز کہا ہے، ٤ - «نجش» یہ ہے کہ ایسا آدمی جو سامان کے اچھے برے کی تمیز رکھتا ہو سامان والے کے پاس آئے اور اصل قیمت سے بڑھا کر سامان کی قیمت لگائے اور یہ ایسے وقت ہو جب خریدار اس کے پاس موجود ہو، مقصد صرف یہ ہو کہ اس سے خریدار دھوکہ کھاجائے اور وہ (دام بڑھا چڑھا کر لگانے والا) خریدنے کا خیال نہ رکھتا ہو بلکہ صرف یہ چاہتا ہو کہ اس کی قیمت لگانے کی وجہ سے خریدار دھوکہ کھاجائے۔ یہ دھوکہ ہی کی ایک قسم ہے، ٥ - شافعی کہتے ہیں: اگر کوئی آدمی «نجش» کرتا ہے تو اپنے اس فعل کی وجہ سے وہ یعنی «نجش» کرنے والا گنہگار ہوگا اور بیع جائز ہوگی، اس لیے کہ بیچنے والا تو «نجش» نہیں کر رہا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٥٨ (٢١٤٠)، و ٦٤ (٢١٥٠)، و ٧٠ (٢١٦٠)، والشروط ٨ (٢٧٢٣)، صحیح مسلم/النکاح ٦ (١٤١٣/٥٢)، سنن ابی داود/ البیوع ٤٦ (٣٤٣٨)، سنن النسائی/البیوع ١٦ (٤٥١٠)، سنن ابن ماجہ/التجارات ١٣ (٢١٧٤)، (تحفة الأشراف: ١٣١٢٣)، و موطا امام مالک/البیوع ٤٥ (٩٦)، و مسند احمد (٢/٢٣٨، ٤٧٤، ٤٨٧)، وانظر ما تقدم بأرقام: ١١٣٤، ١١٩٠، ١٢٢٢) (صحیح )
1305Sunan At-Tirmidhi

تولتے وقت جھکاؤ

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: جَلَبْتُ أَنَا وَمَخْرَفَةُ الْعَبْدِيُّ بَزًّا مِنْ هَجَرَ، فَجَاءَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَاوَمَنَا بِسَرَاوِيلَ وَعِنْدِي وَزَّانٌ يَزِنُ بِالْأَجْرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِلْوَزَّانِ زِنْ وَأَرْجِحْ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ جَابِرٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ سُوَيْدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَهْلُ الْعِلْمِ يَسْتَحِبُّونَ الرُّجْحَانَ فِي الْوَزْنِ، وَرَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ سِمَاكٍ، فَقَالَ: عَنْ أَبِي صَفْوَانَ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.

سوید بن قیس ؓ کہتے ہیں کہ میں اور مخرمہ عبدی دونوں مقام ہجر سے ایک کپڑا لے آئے، نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ نے ہم سے ایک پائجامے کا مول بھاؤ کیا۔ میرے پاس ایک تولنے ولا تھا جو اجرت لے کر تولتا تھا تو نبی اکرم ﷺ نے تولنے والے سے فرمایا: جھکا کر تول ۔

Sayyidina Suwayd ibn Qays (RA) narrated: I and Makhramah Abdi brought cloth from Hajar. The Prophet ﷺ came to us and struck a deal for trousers (lower garment). I had hired a man to weigh. The Prophet ﷺ said to the man, “Weigh and tilt the scale.” [Abu Dawud 3336, Nisai 4606, Ibn e Majah 2220, Ahmed 19120]

صحيح، ابن ماجة (2220)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1305
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - سوید ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اہل علم جھکا کر تولنے کو مستحب سمجھتے ہیں، ٣ - اس باب میں جابر اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤ - اور شعبہ نے بھی اس حدیث کو سماک سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے «عن سوید بن قیس» کی جگہ «عن ابی صفوان» کہا ہے پھر آگے حدیث ذکر کی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ البیوع ٧ (٣٣٣٦)، سنن النسائی/البیوع ٥٤ (٤٥٩٦)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٣٤ (٢٢٢٠)، واللباس ١٢ (٣٥٧٩) (تحفة الأشراف: ٤٨١٠)، و مسند احمد ٤/٣٥٢)، وسنن الدارمی/البیوع ٤٧ (٢٦٢٧) (صحیح )