ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی تنگ دست (قرض دار) کو مہلت دے یا اس کا کچھ قرض معاف کر دے، تو اللہ اسے قیامت کے دن اپنے عرش کے سایہ کے نیچے جگہ دے گا جس دن اس کے سایہ کے علاوہ کوئی اور سایہ نہ ہوگا ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger said, “If anyone gives respite to his hard-pressed debtor and also forgives part of his debt then Allah will give him shade under his Throne on the Day of Resurrection, the day when there will be no shade except its shade.’
١ - ابوہریرہ ؓ کی حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابویسر (کعب بن عمرو) ، ابوقتادہ، حذیفہ، ابن مسعود، عبادہ اور جابر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
ابومسعود انصاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم سے پہلی امتوں میں سے ایک آدمی کا حساب (اس کی موت کے بعد) لیا گیا، تو اس کے پاس کوئی نیکی نہیں ملی، سوائے اس کے کہ وہ ایک مالدار آدمی تھا، لوگوں سے لین دین کرتا تھا اور اپنے خادموں کو حکم دیتا تھا کہ (تقاضے کے وقت) تنگ دست سے درگزر کریں، تو اللہ تعالیٰ نے (فرشتوں سے) فرمایا: ہم اس سے زیادہ اس کے (درگزر کے) حقدار ہیں، تم لوگ اسے معاف کر دو ۔
Sayyidina Abu Mas’ud (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “A man belonging to an ummah that preceded you was subjected to reckoning but nothing of good was found in his account except that he was an affluent man who had dealings with people. He had commanded his slaves to condone (the debt of) a hard-pressed. So Allah said: We are more deserving of that, so forgive him.” [Muslim 1561, Ahmed 17082] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح أحاديث البيوعصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1307
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساقاة ٦ (البیوع ٢٧)، (١٥٦١)، (تحفة الأشراف: ٩٩٩٢)، و مسند احمد (٤/١٢٠) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ فرمایا: مالدار آدمی کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے ١ ؎ اور جب تم میں سے کوئی کسی مالدار کی حوالگی میں دیا جائے تو چاہیئے کہ اس کی حوالگی اسے قبول کرے ٢ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that the Prophet ﷺ said, “Procrastination by the rich (in repaying debts) is injustice to someone (and it is to oppress him). And, if one of you is directed to a rich person then he must go (and recover from him).” (This is explained as a transfer of debt by the debtor to his own debtor who is rich, so the creditor must approach him). [Bukhari 3287, Muslim 1564] Ibn Umar (RA) narrated that the Prophet ﷺ said, ‘Procrastination by the rich is unjust. When one of you is referred to a rich person then he must go. And he must not interfere between two (bargaining) parties with his quotation.
صحيح، ابن ماجة (2403)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1308
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس باب میں ابن عمر اور شرید بن سوید ثقفی ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: قرض کی ادائیگی کے باوجود قرض ادا نہ کرنا ٹال مٹول ہے، بلا وجہ قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول سے کام لینا کبیرہ گناہ ہے۔ ٢ ؎: اپنے ذمہ کا قرض دوسرے کے ذمہ کردینا یہی حوالہ ہے، مثلاً زید عمرو کا مقروض ہے پھر زید مقابلہ بکر سے یہ کہہ کر کرا دے کہ اب میرے ذمہ کے قرض کی ادائیگی بکر کے سر ہے اور بکر اسے تسلیم بھی کرلے تو عمرو کو یہ حوالگی قبول کرنی چاہیئے، اس میں گویا حسن معاملہ کی ترغیب ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مالدار آدمی کا قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔ اور جب تم کسی مالدار کے حوالے کئے جاؤ تو اسے قبول کرلو، اور ایک بیع میں دو بیع نہ کرو ۔
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تم میں سے کوئی قرض وصول کرنے میں کسی مالدار کے حوالے کیا جائے تو اسے قبول کرنا چاہیئے، ٣ - بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب آدمی کو کسی مالدار کے حوالے کیا جائے اور وہ حوالہ قبول کرلے تو حوالے کرنے والا بری ہوجائے گا اور قرض خواہ کے لیے درست نہیں کہ پھر حوالے کرنے والے کی طرف پلٹے۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔ ٤ - اور بعض اہل علم کہتے ہیں: کہ «محتال علیہ» جس آدمی کی طرف تحویل کیا گیا ہے ، کے مفلس ہوجانے کی وجہ سے اس کے مال کے ڈوب جانے کا خطرہ ہو تو قرض خواہ کے لیے جائز ہوگا کہ وہ پہلے کی طرف لوٹ جائے، ان لوگوں نے اس بات پر عثمان ؓ وغیرہ کے قول سے استدلال کیا ہے کہ مسلمان کا مال ضائع نہیں ہوتا ہے، ٥ - اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: اس حدیث «ليس علی مال مسلم توي» مسلمان کا مال ضائع نہیں ہوتا ہے ، کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی قرض خواہ کسی کے حوالے کیا گیا اور اسے مالدار سمجھ رہا ہو لیکن درحقیقت وہ غریب ہو تو ایسی صورت میں مسلمان کا مال ضائع نہ ہوگا (اور وہ اصل قرض دار سے اپنا مال طلب کرسکتا ہے) ۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصدقات ٨ (الأحکام ٤٨)، (٢٤٠٤)، (تحفة الأشراف: ٨٥٣٥)، و مسند احمد (٢/٧١) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع منابذہ اور بیع ملامسہ سے منع فرمایا۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ forbade the transactions under munabazah and mulamasah. [Bukhari 268, Muslim 1511]
صحيح أحاديث البيوعصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1310
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوسعید اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص یہ کہے: جب میں تمہاری طرف یہ چیز پھینک دوں تو میرے اور تمہارے درمیان بیع واجب ہوجائے گی۔ (یہ منابذہ کی صورت ہے) اور ملامسہ یہ ہے کہ کوئی شخص یہ کہے: جب میں یہ چیز چھولوں تو بیع واجب ہوجائے گی اگرچہ وہ سامان کو بالکل نہ دیکھ رہا ہو۔ مثلاً تھیلے وغیرہ میں ہو۔ یہ دونوں جاہلیت کی مروج بیعوں میں سے تھیں لہٰذا آپ نے اس سے منع فرمایا ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ اس میں دھوکہ ہے، «مبیع» (سودا) مجہول ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ١٠ (٣٦٨)، ومواقیت الصلاة ٣٠ (٥٨٤)، والبیوع ٦٣ (٢١٤٦)، واللباس ٢٠ (٥٨١٩)، و ٢١ (٥٨٢١)، صحیح مسلم/البیوع ١ (١٥١١)، سنن النسائی/البیوع ٢٣ (٤٥١٣)، و ٢٦ (٤٥١٧ و ٤٥٢١)، سنن ابن ماجہ/التجارات ١٢ (٢١٦٩)، (تحفة الأشراف: ١٣٦٦١)، وط/البیوع ٣٥ (٧٦)، واللباس ٨ (١٧)، و مسند احمد (٢/٣٧٩، ٤١٩، ٤٦٤)، ٤٧٦، ٤٨٠)، ٤٩١)، ٤٩٦، ٥٢١)، ٥٢٩) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے اور اہل مدینہ پھلوں میں سلف کیا کرتے تھے یعنی قیمت پہلے ادا کردیتے تھے، آپ نے فرمایا: جو سلف کرے وہ متعین ناپ تول اور متعین مدت میں سلف کرے ۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that when Allah’s Messenger ﷺ came to Madinah, the Madinans used to pay in advance for dates. So he instructed, “If anne receives advance payment then it is necessary to specify the weight or measure and the time of delivery.” [Bukhari 2239, Nisai 1604, Abu Dawud 3463, Ibn e Majah 2280, Ahmed 2458]
صحيح، ابن ماجة (2280)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1311
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابن عباس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن ابی اوفی اور عبدالرحمٰن بن ابزی ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ غلہ، کپڑا، اور جن چیزوں کی حد اور صفت معلوم ہو اس کی خریداری کے لیے پیشگی رقم دینے کو جائز کہتے ہیں، ٤ - جانور خریدنے کے لیے پیشگی رقم دینے میں اختلاف ہے، ٥ - بعض اہل علم جانور خریدنے کے لیے پیشگی رقم دینے کو جائز کہتے ہیں۔ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے۔ اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے جانور خریدنے کے لیے پیشگی دینے کو مکروہ سمجھا ہے۔ سفیان اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/السلم ١ (٢٢٣٩)، و ٢ (٢٢٤٠)، و ٧ (٢٢٥٣)، صحیح مسلم/المساقاة ٢٥ (١٦٠٤)، سنن ابی داود/ البیوع ٥٧ (٣٤٦٣)، سنن النسائی/البیوع ٦٣ (٤٦٢٠)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٥٩ (٤٤٨٠)، (تحفة الأشراف: ٥٨٢٠)، و مسند احمد (١/٢١٧، ٢٢٢، ٢٨٢، ٣٥٨) (صحیح )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس آدمی کے باغ میں کوئی ساجھی دار ہو تو وہ اپنا حصہ اس وقت تک نہ بیچے جب تک کہ اسے اپنے ساجھی دار پر پیش نہ کرلے ۔
Sayyiidinaa Jabir ibn Abdullah reported that the Prophet ﷺ said, “If anyone owns a share in a garden then he must not sell his share in that without informing his (other) partner(s).” [Muslim 1608]
١ - اس حدیث کی سند متصل نہیں ہے، ٢ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: سلیمان یشکری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جابر بن عبداللہ کی زندگی ہی میں مرگئے تھے، ان سے قتادہ اور ابوبشر کا سماع نہیں ہے۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: میں نہیں جانتا ہوں کہ ان میں سے کسی نے سلیمان یشکری سے کچھ سنا ہو سوائے عمرو بن دینار کے، شاید انہوں نے جابر بن عبداللہ کی زندگی ہی میں سلیمان یشکری سے حدیث سنی ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ قتادہ، سلیمان یشکری کی کتاب سے حدیث روایت کرتے تھے، سلیمان کے پاس ایک کتاب تھی
Takhrij · تخریج
تفرد بہ مؤلف، وانظر مسند احمد (٣/٣٥٧) (صحیح لغیرہ) و أخرجہ کل من: صحیح مسلم/المساقاة ٢٨ (البیوع ٤٩)، (١٦٠٨)، سنن ابی داود/ البیوع ٧٥ (٣٥١٣)، سنن النسائی/البیوع ٨٠ (٤٦٥٠)، و ١٠٧ (٤٧٠٤، ٤٧٠٥)، (تحفة الأشراف: ٢٢٧٢)، و مسند احمد (٣/٣١٢، ٣١٦، ٣٩٧)، وسنن الدارمی/البیوع ٨٣ (٢٦٧٠) معناہ في سیاق حدیث ” الشفعة “
جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے بیع محاقلہ، مزابنہ ١ ؎، مخابرہ ٢ ؎ اور معاومہ ٣ ؎ سے منع فرمایا، اور آپ نے عرایا ٤ ؎ کی اجازت دی ہے۔
Sayyidina Jabir (RA) reported that the Prophet ﷺ forbade transactions (known as) muhaqalah, muzabanah, mukhabarah and mu’awamah but permitted araya. [Bukhari 2189, Muslim 1536]
صحيح أحاديث البيوعصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1313
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: محاقلہ اور مزابنہ کی تفسیر کے لیے دیکھئیے حدیث رقم ( ١٢٢٤ )۔ ٢ ؎: مخابرہ کی تفسیر کے لیے دیکھئیے حدیث رقم ( ١٢٩٠ )۔ ٣ ؎: عرایا کی تفسیر کے لیے دیکھئیے حاشیہ حدیث رقم ( ١٣٠٠ )۔ ٤ ؎: «بیع سنین» کو بیع معاومہ بھی کہتے ہیں، اس کی صورت یہ ہے کہ آدمی اپنے باغ کو کئی سالوں کے لیے بیچ دے، یہ بیع جائز نہیں ہے کیونکہ یہ معدوم کی بیع کی قبیل سے ہے، اس میں دھوکہ ہے، ممکن ہے کہ درخت میں پھل ہی نہ آئے، یا آئے مگر جتنی قیمت دی ہے اس سے زیادہ پھل آئے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البیوع ١٦ (١٥٣٦/٨٥)، سنن ابی داود/ البیوع ٣٤ (٣٤٠٤)، سنن النسائی/الأیمان والمزارعة ٤٥ (٣٩١٠)، والبیوع ٧٤ (٤٦٣٧)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٥٤ (٢٢٦٦)، (تحفة الأشراف: ٢٦٦٦)، و مسند احمد (٣/٣١٣، ٣٥٦، ٣٦٠، ٣٦٤، ٣٩١، ٣٩٢) وانظر ما تقدم برقم ١٢٩٠، وما عند صحیح البخاری/البیوع ٨٣ (٢٣٨١) (صحیح )
انس ؓ کہتے ہیں کہ ایک بار رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں (غلہ وغیرہ کا) نرخ بڑھ گیا، تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ہمارے لیے نرخ مقرر کر دیجئیے، آپ نے فرمایا: نرخ مقرر کرنے والا تو اللہ ہی ہے، وہی روزی تنگ کرنے والا، کشادہ کرنے والا اور کھولنے والا اور بہت روزی دینے والا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اپنے رب سے اس حال میں ملوں کہ تم میں سے کوئی مجھ سے جان و مال کے سلسلے میں کسی ظلم (کے بدلے) کا مطالبہ کرنے والا نہ ہو ۔
Sayyidina Anas ﷺ reported that the price increased in the times of Allah’s Messenger ﷺ So they pleaded, ‘O Messenger of Allah! ﷺ Do fix prices for us. He said, ‘Indeed, Allah is the One Who fixes prices Who withholds Who bestows and Who gives provision And I hope that I meet my Lord in such a condition that none of you has a demand over me for an injustice regarding blood and property.” [Abu Dawud 3451]
صحيح، ابن ماجة (2200)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1314
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ البیوع ٥١ (٣٤٥١)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٢٧ (٢٢٠٠)، (تحفة الأشراف: ٣١٨ و ٦١٤ و ١١٥٨)، و مسند احمد (٣/٢٨٦) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک غلہ کے ڈھیر سے گزرے، تو آپ نے اس کے اندر اپنا ہاتھ داخل کردیا، آپ کی انگلیاں تر ہوگئیں تو آپ نے فرمایا: غلہ والے! یہ کیا معاملہ ہے؟ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بارش سے بھیگ گیا ہے، آپ نے فرمایا: اسے اوپر کیوں نہیں کردیا تاکہ لوگ دیکھ سکیں ، پھر آپ نے فرمایا: جو دھوکہ دے ١ ؎، ہم میں سے نہیں ہے ٢ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ passed by a heap of grain. He put his hand into it and his fingers detected some dampness in it. He asked, ‘O owner of the provision, what is this?” He said, “O Messenger of Allah, it is from rain from the sky. He said, “Then why did you not put it on top of the heap of grain that people might see? He added, “He who deceives is not one of us.” [Abu Dawud 3452]
صحيح، ابن ماجة (2224)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1315
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عمر، ابوحمراء، ابن عباس، بریدہ، ابوبردہ بن دینار اور حذیفہ بن یمان ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ وہ دھوکہ دھڑی کو ناپسند کرتے ہیں اور اسے حرام کہتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ بیع میں دھوکہ دہی کی مختلف صورتیں ہیں، مثلاً سودے میں کوئی عیب ہو اسے ظاہر نہ کرنا، اچھے مال میں ردی اور گھٹیا مال کی ملاوٹ کردینا، سودے میں کسی اور چیز کی ملاوٹ کردینا تاکہ اس کا وزن زیادہ ہوجائے وغیرہ وغیرہ۔ ٢ ؎: ہم میں سے نہیں، کا مطلب ہے مسلمانوں کے طریقے پر نہیں، اس کا یہ فعل مسلمان کے فعل کے منافی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٤٣ (١٠٢)، سنن ابی داود/ البیوع ٥٢ (٣٤٥٢)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٣٦ (٢٢٢٤)، (تحفة الأشراف: ١٣٩٧٩)، و مسند احمد (٢/٢٤٢) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک جوان اونٹ قرض لیا اور آپ نے اسے اس سے بہتر اونٹ دیا اور فرمایا: تم میں سے بہتر وہ لوگ ہیں جو قرض کی ادائیگی میں بہتر ہوں ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA)reported that Allah’s Messenger ﷺ borrowed a young camel. When repaying, he returned a better camel young in years. He said,‘The best of you are they who repay debts in an exceillent manner.” [Bukhari 2305, Muslim 160]
صحيح أحاديث البيوعصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1316
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اسے شعبہ اور سفیان نے بھی سلمہ سے روایت کیا ہے، ٣ - اس باب میں ابورافع ؓ سے بھی روایت ہے، ٤ - بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کسی بھی عمر کا اونٹ قرض لینے کو مکروہ نہیں سمجھتے ہیں، ٥ - اور بعض لوگوں نے اسے مکروہ جانا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوکالة ٥ (٢٣٠٥)، و ٦ (٢٣٠٦)، والاستقراض ٤ (٢٣٩٠)، و ٦ (٢٣٩٢)، و ٧ (٢٣٩٣)، والہبة ٢٣ (٢٦٠٦)، و ٢٥ (٢٦٠٩)، صحیح مسلم/المساقاة ٢٢ (البیوع ٤٣) (١٦٠١)، سنن النسائی/البیوع ٦٤ (٤٦٢٢)، و ١٠٣ (٤٦٩٧)، سنن ابن ماجہ/الصدقات ١٦ (الأحکام ٥٦)، (٢٣٢٢)، (مقتصراً علی قولہ المرفوع) (تحفة الأشراف: ١٤٩٦٣)، و مسند احمد (٢/٣٧٤، ٣٩٣، ٤١٦، ٤٣١)، ٤٥٦، ٤٧٦، ٥٠٩) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے (قرض کا) تقاضہ کیا اور سختی کی، صحابہ نے اسے دفع کرنے کا قصد کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، کیونکہ حقدار کو کہنے کا حق ہے ، پھر آپ نے فرمایا: اسے ایک اونٹ خرید کر دے دو ، لوگوں نے تلاش کیا تو انہیں ایسا ہی اونٹ ملا جو اس کے اونٹ سے بہتر تھا، آپ نے فرمایا: اسی کو خرید کر دے دو، کیونکہ تم میں بہتر وہ لوگ ہیں جو قرض کی ادائیگی میں بہتر ہوں ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that a man demanded repayment of his loan from the Prophet ﷺ ‘ and was rude in his demand. The sahabah (RA) were annoyed at that, but Allah’s Messenger i’ said, “Leave him alone, for the owner of a right may speak. Buy for him a camel and give it to him.” So they sought one, but could not find save one of better age than his. He said, “Buy it and give it to him, for, the best of you is he who excels over others in repaying his debt”
صحيح أحاديث البيوعصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1317
ابورافع ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک جوان اونٹ قرض لیا، پھر آپ کے پاس صدقے کا اونٹ آیا تو آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں اس آدمی کا اونٹ ادا کر دوں، میں نے آپ سے عرض کیا: مجھے چار دانتوں والے ایک عمدہ اونٹ کے علاوہ کوئی اور اونٹ نہیں مل رہا ہے، تو آپ نے فرمایا: اسے اسی کو دے دو، کیونکہ لوگوں میں سب سے اچھے وہ ہیں جو قرض کی ادائیگی میں سب سے اچھے ہوں ١ ؎۔
Sayyidina Abu Rafi the freed man of Allah’s Messenger narrated: Allah’s Messenger ﷺ borrrowed a young camel. Afterwards, when he received some camels of zakah, he commanded me to repay the man his young camel. So, I told him that I could not find a camel except one with four teeth, better than the man’s. He said, “Give it to him, for, the best of men is he who repays his debt in the best manner.” [Muslim 1600, Abu Dawud 3346, Nisai 4617, Ibn e Majah 2285]
صحيح، ابن ماجة (2285)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1318
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مقروض اگر خود بخود اپنی رضا مندی سے ادائیگی قرض کے وقت واجب الادا قرض سے مقدار میں زیادہ یا بہتر اور عمدہ ادا کرے تو یہ جائز ہے، اور اگر قرض خواہ قرض دیتے وقت یہ شرط کرلے تو یہ سود ہوگا جو بہر صورت حرام ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ بیچنے، خریدنے اور قرض کے مطالبہ میں نرمی و آسانی کو پسند کرتا ہے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘Indeed, Allah loves politenes while selling, politeness while buying and politeness in repayment of debt.”
صحيح، الصحيحة (8909)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1319
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - بعض لوگوں نے اس حدیث کو بسند «عن يونس عن سعيد المقبري عن أبي هريرة» روایت کی ہے، ٣ - اس باب میں جابر ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٢٢٤٦) (صحیح) (متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ورنہ حسن بصری کا سماع ابی ہریرہ ؓ سے نہیں ہے، انہوں نے تدلیساً ان سے یہ روایت کر سنن الدارمی/ ہے، ملاحظہ ہو الصحیحة: ٨٩٠٩ )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کو جو تم سے پہلے تھا بخش دیا، جو نرمی کرنے والا تھا جب بیچتا اور جب خریدتا اور جب قرض کا مطالبہ کرتا ۔
Sayyidina jabir reported that Allah’s Messenger said, “Allah forgave a man who lived before you because he was mild when selling, mild when buying and mild when demanding repayment.” [Bukhari 2076, Ibn e Majah 2203, Ahmed 4664]
صحيح، ابن ماجة (2203)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1320
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس طریق سے حسن، صحیح، غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٣٠١٨) وہو عند صحیح البخاری/البیوع ١٦ (٢٠٧٦)، وق في التجارات ٢٨ (٢٢٠٣)، بسیاق آخر و مسند احمد (٣/٣٤٠) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم ایسے شخص کو دیکھو جو مسجد میں خرید و فروخت کر رہا ہو تو کہو: اللہ تعالیٰ تمہاری تجارت میں نفع نہ دے، اور جب ایسے شخص کو دیکھو جو مسجد میں گمشدہ چیز (کا اعلان کرتے ہوئے اسے) تلاش کرتا ہو تو کہو: اللہ تمہاری چیز تمہیں نہ لوٹائے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger said When you see a man selling or buying in a mosque, tell him, May Allah not make your business profitable. And, when you see anyone announcing loss of something, tell him, ‘May Allah, never return it to you.” --------------------------------------------------------------------------------
١ - ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن غریب ہے، ٢ - بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ مسجد میں خرید و فروخت ناجائز سمجھتے ہیں۔ یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ٣ - بعض اہل علم نے اس میں خرید و فروخت کی رخصت دی ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ان لوگوں کا کہنا ہے کہ حدیث میں جو اس کی ممانعت آئی ہے وہ نہی تنزیہی ہے تحریمی نہیں، یعنی نہ بیچنا بہتر ہے، مگر یہ نری تاویل ہے، جب صحیح حدیث میں بالصراحت ممانعت موجود ہے تو پھر مساجد میں خرید و فروخت سے باز رہتے ہوئے بازار اور مساجد میں فرق کو قائم رکھنا چاہیئے، پہلی قومیں اپنے انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے احکام کی نافرمانیوں اور غلط تاویلوں کی وجہ سے تباہ ہوگئی تھیں۔ «اللهم أحفظنا بما تحفظ به عبادک الصالحين »
میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور اس کے درمیان بہت سی چیزیں شبہ والی ہیں ۱؎ جنہیں بہت سے لوگ نہیں جانتے ہیں کہ یہ حلال کے قبیل سے ہیں یا حرام کے۔ تو جس نے اپنے دین کو پاک کرنے اور اپنی عزت بچانے کے لیے انہیں چھوڑے رکھا تو وہ مامون رہا اور جو ان میں سے کسی میں پڑ گیا یعنی انہیں اختیار کر لیا تو قریب ہے کہ وہ حرام میں مبتلا ہو جائے، جیسے وہ شخص جو سرکاری چراگاہ کے قریب ( اپنا جانور ) چرا رہا ہو، قریب ہے کہ وہ اس میں واقع ہو جائے، جان لو کہ ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے اور اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں“۔ دوسری سند سے مؤلف نے شعبی سے اور انہوں نے نے نعمان بن بشیر رضی الله عنہما سے اسی طرح کی اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے، اسے کئی رواۃ نے شعبی سے اور شعبی نے نعمان بن بشیر سے روایت کیا ہے۔
An-Numan bin Bashir narrated that the Messenger of Allah (S) said: The lawful is clear and the unlawful is clear, and between that are matters that are doubtful (not clear); many of the people do not know whether it is lawful or unlawful. So whoever leaves it to protect his religion and his honor, then he will be safe, and whoever falls into something from them, then he soon will have fallen into the unlawful. Just like if someone grazes (his animals) around a sanctuary, he would soon wind up in it. Indeed for every king is a sanctuary (pasture), and indeed Allah's sanctuary is what He made unlawful.
میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جو شخص ماں اور اس کے بچے کے درمیان جدائی ڈالے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے اور اس کے دوستوں کے درمیان جدائی ڈال دے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Narrated Abu Ayyub: I narrated heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: 'Whoever seperates a mother from her child, Allah seperates him and his most beloved on the Day of Judgement.' [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Gharib.