جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے محاقلہ، مزابنہ ١ ؎ مخابرہ ٢ ؎ اور بیع میں کچھ چیزوں کو مستثنیٰ کرنے سے منع فرمایا ٣ ؎ الا یہ کہ استثناء کی ہوئی چیز معلوم ہو۔
Sayyidina Jabir (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ forbade muhaqalah, muzabanah, mukhabarah and thunya, unless it was known (how much it is). [Bukhari 2119, Muslim 1539, Nisai 3879, Ahmed 4882]
صحيح أحاديث البيوعصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1290
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس طریق سے بروایت یونس بن عبید جسے یونس نے عطاء سے اور عطاء نے جابر سے روایت کی ہے حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: محاقلہ اور مزابنہ کی تفسیر گزر چکی ہے دیکھئیے حدیث نمبر ( ١٢٢٤ )۔ ٢ ؎: مخابرہ کے معنیٰ مزارعت کے ہیں یعنی ثلث یا ربع پیداوار پر زمین بٹائی پر لینا، یہ بیع مطلقاً ممنوع نہیں، بلکہ لوگ زمین کے کسی حصہ کی پیداوار مزارع کے لیے اور کسی حصہ کی مالک زمین کے لیے مخصوص کرلیتے تھے، ایسا کرنے سے منع کیا گیا ہے، کیونکہ بسا اوقات مزارع والا حصہ محفوظ رہتا اور مالک والا تباہ ہوجاتا ہے، اور کبھی اس کے برعکس ہوجاتا ہے، اس طرح معاملہ باہمی نزاع اور جھگڑے تک پہنچ جاتا ہے، اس لیے ایسا کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ ٣ ؎: اس کی صورت یہ ہے کہ مثلاً کوئی کہے کہ میں اپنا باغ بیچتا ہوں مگر اس کے کچھ درخت نہیں دوں گا اور ان درختوں کی تعیین نہ کرے تو یہ درست نہیں کیونکہ مستثنیٰ کئے ہوئے درخت مجہول ہیں۔ اور اگر تعیین کر دے تو جائز ہے جیسا کہ اوپر حدیث میں اس کی اجازت موجود ہے۔