کوئی چیز ہبہ کرکے واپس لینا ممنوع ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السُّوءِ الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ .
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بری مثال ہمارے لیے مناسب نہیں، ہدیہ دے کر واپس لینے والا کتے کی طرح ہے جو قے کر کے چاٹتا ہے ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Not for us is the evil example of one who takes back his gift being like a dog that returns to its vomit.” [Bukhari 2621, Muslim 1622]
صحيح، ابن ماجة (2385)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1298
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے ہبہ کو واپس لینے کی شناعت و قباحت واضح ہوتی ہے، ایک تو ایسے شخص کو کتے سے تشبیہ دی گئی ہے، دوسرے ہبہ کی گئی چیز کو قے سے تعبیر کیا جس سے انسان انتہائی کراہت محسوس کرتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الہبة ٣٠ (٢٦٢٢)، والحیل ١٤ (٦٩٧٥)، سنن النسائی/الہبة ٣ (٣٧٢٨، ٣٧٢٩)، (تحفة الأشراف: ٥٩٩٢)، و مسند احمد (١/٢١٧) وانظر الحدیث الآتي، مایأتي برقم: ٢١٣١ و ٢١٣٢ (صحیح) وانظر أیضا: صحیح البخاری/الہبة ١٤ (٢٥٨٩)، صحیح مسلم/الہبات ٢ (١٦٢٢)، سنن النسائی/الہبة ٢ (٣٧٢١-٣٧٢٢)، و ٣ (٣٧٢٣، ٣٧٢٥-٣٧٢٧، ٣٧٣٠)، و ٤ (٣٧٣١-٣٧٣٣ )