Sunan At-Tirmidhi 1230

خرید وفروخت کا بیان

1230Sunan At-Tirmidhi

دھوکے کی بیع حرام ہے

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، أَنْبَأَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ، وَبَيْعِ الْحَصَاةِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَأَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ كَرِهُوا بَيْعَ الْغَرَرِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَمِنْ بُيُوعِ الْغَرَرِ بَيْعُ السَّمَكِ فِي الْمَاءِ، وَبَيْعُ الْعَبْدِ الْآبِقِ، وَبَيْعُ الطَّيْرِ فِي السَّمَاءِ وَنَحْوُ ذَلِكَ مِنَ الْبُيُوعِ، وَمَعْنَى بَيْعِ الْحَصَاةِ: أَنْ يَقُولَ الْبَائِعُ لِلْمُشْتَرِي: إِذَا نَبَذْتُ إِلَيْكَ بِالْحَصَاةِ، فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَكَ وَهَذَا شَبِيهٌ بِبَيْعِ الْمُنَابَذَةِ، وَكَانَ هَذَا مِنْ بُيُوعِ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع غرر ١ ؎ اور بیع حصاۃ سے منع فرمایا ہے۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ forbade insecure transactions and those depending on throw of stones. [Ahmed 8893, Muslim 1513, Abu Dawud 3376, Nisai 4530, Ibn e Majah 2194]

صحيح، ابن ماجة (2194)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1230
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عمر، ابن عباس، ابوسعید اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے، وہ بیع غرر کو مکروہ سمجھتے ہیں، ٤ - شافعی کہتے ہیں: مچھلی کی بیع جو پانی میں ہو، بھاگے ہوئے غلام کی بیع، آسمان میں اڑتے پرندوں کی بیع اور اسی طرح کی دوسری بیع، بیع غرر کی قبیل سے ہیں، ٥ - اور بیع حصاۃ سے مراد یہ ہے کہ بیچنے والا خریدنے والے سے یہ کہے کہ جب میں تیری طرف کنکری پھینک دوں تو میرے اور تیرے درمیان میں بیع واجب ہوگئی۔ یہ بیع منابذہ کے مشابہ ہے۔ اور یہ جاہلیت کی بیع کی قسموں میں سے ایک قسم تھی۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بیع غرر: معدوم و مجہول کی بیع ہے، یا ایسی چیز کی بیع ہے جسے مشتری کے حوالہ کرنے پر بائع کو قدرت نہ ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البیوع ٢ (١٥١٣)، سنن ابی داود/ البیوع ٢٥ (٣٣٧٦)، سنن النسائی/البیوع ٢٧ (٤٥٢٢)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٢٣ (٢١٩٤)، (تحفة الأشراف: ١٣٧٩٤)، مسند احمد (٢/٢٥٠، ٤٣٦، ٤٣٩، ٤٩٦) (صحیح) وأخرجہ مسند احمد (٢/٣٧٦) من غیر ہذا الوجہ ۔