(دوسری حدیث یہ ہے) زینب کہتی ہیں: پھر میں زینب بنت جحش ؓ کے پاس آئی جس وقت ان کے بھائی کا انتقال ہوا تو انہوں نے خوشبو منگائی اور اس میں سے لگایا پھر کہا: اللہ کی قسم! مجھے خوشبو کی ضرورت نہیں تھی، لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والی عورت کے لیے جائز نہیں ہے کہ کسی میت پر تین رات سے زیادہ سوگ کرے سوائے اپنے شوہر کے، وہ اس پر چار ماہ دس دن سوگ کرے گی ۔
صحيح، الإرواء (2114)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1196
(تیسری حدیث یہ ہے) زینب کہتی ہیں: میں نے اپنی ماں ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک عورت نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میری بیٹی کا شوہر مرگیا ہے، اور اس کی آنکھیں دکھ رہی ہیں، کیا ہم اس کو سرمہ لگا دیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نہیں ۔ دو یا تین مرتبہ اس عورت نے آپ سے پوچھا اور آپ نے ہر بار فرمایا: نہیں ، پھر آپ نے فرمایا: (اب تو اسلام میں) عدت چار ماہ دس دن ہے، حالانکہ جاہلیت میں تم میں سے (فوت شدہ شوہر والی بیوہ) عورت سال بھر کے بعد اونٹ کی مینگنی پھینکتی تھی ١ ؎۔
صحيح، الإرواء (2114)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1197
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- زینب کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابو سعید خدری کی بہن فریعہ بنت مالک، اور حفصہ بنت عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- صحابہ کرام وغیرہم کا اسی پر عمل ہے کہ جس عورت کا شوہر مرگیا ہو وہ اپنی عدت کے دوران خوشبو اور زینت سے پرہیز کرے گی۔ سفیان ثوری، مالک بن انس، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: سال بھرکے بعد اونٹ کی مینگنی پھینکنے کا مطلب یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں عورت کا شوہر جب انتقال کرجاتا تو وہ ایک معمولی جھونپڑی میں جا رہتی اور خراب سے خراب کپڑا پہن لیتی تھی اور سال پورا ہونے تک نہ خوشبو استعمال کرتی اور نہ ہی کسی اور چیز کو ہاتھ لگاتی پھر کوئی جانور، گدھا، بکری، یا پرندہ اس کے پاس لایا جاتا اور وہ اس سے اپنے جسم اور اپنی شرمگاہ کو رگڑتی اور جس جانور سے وہ رگڑتی عام طور سے وہ مر ہی جاتا، پھر وہ اس تنگ و تاریک جگہ سے باہر آتی پھر اسے اونٹ کی مینگنی دی جاتی اور وہ اسے پھینک دیتی اس طرح گویا وہ اپنی نحوست دور کرتی اس کے بعد ہی اسے خوشبو وغیرہ استعمال کرنے اجازت ملتی۔
سلمہ بن صخر بیاضی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اس ظہار ١ ؎ کرنے والے کے بارے میں جو کفارہ کی ادائیگی سے پہلے مجامعت کرلیتا ہے فرمایا: اس کے اوپر ایک ہی کفارہ ہے ۔
Sayyidina Salamah ibn Sakhr al-Bayadi reported about anyone having sexual intercourse before making an atonement for zihar that the Prophet ﷺ said, “Thereis only one expiation.” [Ibn e Majah 2064]
صحيح، ابن ماجة (2064)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1198
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ سفیان، شافعی، مالک، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے، ٣- اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر کفارہ ادا کرنے سے پہلے جماع کر بیٹھے تو اس پر دو کفارہ ہے۔ یہ عبدالرحمٰن بن مہدی کا قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ظہار کا مطلب بیوی سے «أنت علي کظہرامي» (تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے ) کہنا ہے، زمانہ جاہلیت میں ظہار کو طلاق سمجھا جاتا تھا، امت محمدیہ میں ایسا کہنے والے پر صرف کفارہ لازم آتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ ایک غلام آزاد کرے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو پے در پے بلا ناغہ دو مہینے کے روزے رکھے اگر درمیان میں بغیر عذر شرعی کے روزہ چھوڑ دیا تو نئے سرے سے پورے دو مہینے کے روزے رکھنے پڑیں گے، عذر شرعی سے مراد بیماری یا سفر ہے، اور اگر پے در پے دو مہینہ کے روزے رکھنے کی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکین کو کھانا کھلائے۔
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے اپنی بیوی سے ظہار کر رکھا تھا اور پھر اس کے ساتھ جماع کرلیا، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اپنی بیوی سے ظہار کر رکھا ہے اور کفارہ ادا کرنے سے پہلے میں نے اس سے جماع کرلیا تو کیا حکم ہے؟ تو آپ نے فرمایا: اللہ تم پر رحم کرے کس چیز نے تجھ کو اس پر آمادہ کیا؟ اس نے کہا: میں نے چاند کی روشنی میں اس کی پازیب دیکھی (تو مجھ سے صبر نہ ہوسکا) آپ نے فرمایا: اس کے قریب نہ جانا جب تک کہ اسے کر نہ لینا جس کا اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے ۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that a man came to the Prophet ﷺ after he had made zihar with his wife and indulged in sexual intercourse. He said, “O Messenger of Allah, I have made zihar with my wife and followed it with sexual intercourse before making an expiation.” He said, “And what compelled you to that, may Allah have mercy on you.” He said, “I glanced at her anklet in the moon light (and was overpowered).” He said, “Now, do not approach her till you have done what Allah has commanded you to do.” [Abu Dawud 2221, Nisai 3457, Ibn e Majah 2065]
حسن، ابن ماجة (2065)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1199
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطلاق ١٧ (٢٢٢١، ٢٢٢٢) (مرسلا بدون ذکر ابن عباس و موصولا بذکرہ (برقم: ٢٢٢٣)، سنن النسائی/الطلاق ٣٣ (٣٤٨٧)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٢٦ (٢٠٦٥)، ( تحفة الأشراف: ٦٠٣٦) (صحیح)
ابوسلمہ اور محمد بن عبدالرحمٰن بن ثوبان کا بیان ہے کہ سلمان بن صخر انصاری ؓ نے جو بنی بیاضہ کے ایک فرد ہیں اپنی بیوی کو اپنے اوپر مکمل ماہ رمضان تک اپنی ماں کی پشت کی طرح (حرام) قرار دے لیا۔ تو جب آدھا رمضان گزر گیا تو ایک رات وہ اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھے، پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: تم ایک غلام آزاد کرو ، انہوں نے کہا: مجھے یہ میسر نہیں۔ آپ نے فرمایا: پھر دو ماہ کے مسلسل روزے رکھو ، انہوں نے کہا: میں اس کی بھی استطاعت نہیں رکھتا تو آپ نے فرمایا: ساٹھ مسکین کو کھانا کھلاؤ، انہوں نے کہا: میں اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا، تو آپ ﷺ نے فروۃ بن عمرو سے فرمایا: اسے یہ کھجوروں کا ٹوکرا دے دو تاکہ یہ ساٹھ مسکینوں کو کھلا دے ، «عرق» ایک پیمانہ ہے جس میں پندرہ صاع یا سولہ صاع غلہ آتا ہے۔
Sayyidina Abu Salamah (RA) and Muhammad ibn Abdur Rahman ibn Thawban narrated: A man of Banu Biyadah, Salman ibn Sakhr Ansari compared his wife to the back of his mother till the month of Ramadan ended. Barely had half the month passed when he had sexual intercourse with her in the night. He came to the Prophet ﷺ and mentioned those things to him. Allah’s Messenger —‘ said to him, Free a slave.” He said, “I cannot do that.” He said, ‘Then keep fast for two successive months.” He said, “I am unable to do that.” He said, “Then feed sixty poor people.” He said, “I cannot.” So, Allah’s Messenger said to Farwah ibn Amr, “Give him that hag. It contains fifteen or sixteen sa enough to feed sixty poor people.” [Ahmed 16421, Abu Dawud 2213, Ibn e Majah 2062] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2062)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1200
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- سلمان بن صخر کو سلمہ بن صخر بیاضی بھی کہا جاتا ہے۔ ٣- ظہار کے کفارے کے سلسلے میں اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں سے ایلاء ١ ؎ کیا اور (ان سے صحبت کرنا اپنے اوپر) حرام کرلیا۔ پھر آپ نے حرام کو حلال کرلیا اور قسم کا کفارہ ادا کردیا۔
Sayyidah Ayshah (RA) said that Allah’s Messenger ﷺ took an oath of continence from his wives and made them unlawful for him. Then he made the unlawful lawful and made an expiation for his oath. --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف، الإرواء (2574)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1201
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- مسلمہ بن علقمہ کی حدیث کو جسے انہوں نے داود سے روایت کی ہے: علی بن مسہر وغیرہ نے بھی داود سے (روایت کی ہے مگر) داود نے شعبی سے مرسلاً روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایلاء کیا۔ اس میں مسروق اور عائشہ کے واسطے کا ذکر نہیں ہے، اور یہ مسلمہ بن علقمہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ٢- اس باب میں انس اور ابوموسیٰ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ایلاء یہ ہے کہ آدمی چار ماہ یا اس سے زیادہ دنوں تک اپنی بیوی کے قریب نہ جانے کی قسم کھالے، ٣- جب چار ماہ گزر جائیں تو اس میں علماء کا اختلاف ہے۔ صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب چار ماہ گزر جائیں تو اسے قاضی کے سامنے کھڑا کیا جائے گا، یا تو رجوع کرلے یا طلاق دیدے۔ ٤- صحابہ کرام وغیرہم میں بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ جب چار ماہ گزر جائیں تو ایک طلاق بائن خودبخود پڑجاتی ہے۔ سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ایلاء کے لغوی معنی قسم کھانے کے ہیں، اور شرع میں ایلاء یہ ہے کہ شوہر جو جماع کی طاقت رکھتا ہو اللہ کے نام کی یا اس کی صفات میں سے کسی صفت کی اس بات پر قسم کھائے کہ وہ اپنی بیوی کو چار ماہ سے زائد عرصہ تک کے لیے جدا رکھے گا، اور اس سے جماع نہیں کرے گا، اس تعریف کی روشنی سے نبی اکرم ﷺ کا یہ ایلاء لغوی اعتبار سے تھا اور مباح تھا کیونکہ آپ نے صرف ایک ماہ تک کے لیے ایلاء کیا تھا، اور اس ایلاء کا سبب یہ تھا کہ ازواج مطہرات نے آپ سے مزید نفقہ کا مطالبہ کیا تھا، ایلاء کرنے والا اگر اپنی قسم توڑ لے تو اس پر کفارہ یمین لازم ہوگا اور کفارہ یمین دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا انہیں کپڑا پہنانا یا ایک غلام آزاد کرنا ہے، اگر ان تینوں میں سے کسی کی طاقت نہ ہو تو تین دن کے روزے رکھنا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطلاق ٢٨ (٢٠٨٢) (تحفة الأشراف: ٧٦٢١) (ضعیف) (سند میں مسلمہ بن علقمہ صدوق تو ہیں مگر ان کا حافظہ کبھی خطا کرجاتا تھا، ان کے بالمقابل ” علی بن مسہر “ زیادہ یاد داشت والے ہیں اور ان کی روایت میں ارسال “ ہے جسے مؤلف نے بیان کردیا ہے)
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ مصعب بن زبیر کے زمانہ امارت میں مجھ سے لعان ١ ؎ کرنے والوں کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا ان کے درمیان تفریق کردی جائے؟ تو میں نہیں جان سکا کہ میں انہیں کیا جواب دوں؟ چناچہ میں اپنی جگہ سے اٹھ کر عبداللہ بن عمر ؓ کے گھر آیا اور اندر آنے کی اجازت مانگی، بتایا گیا کہ وہ قیلولہ کر رہے ہیں، لیکن انہوں نے میری بات سن لی، اور کہا: ابن جبیر! آ جاؤ تمہیں کوئی ضرورت ہی لے کر آئی ہوگی۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں ان کے پاس گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ پالان پر بچھائے جانے والے کمبل پر لیٹے ہیں۔ میں نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! کیا لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کردی جائے گی؟ کہا: سبحان اللہ! ہاں، سب سے پہلے اس بارے میں فلاں بن فلاں نے پوچھا۔ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر ہم میں سے کوئی اپنی بیوی کو برائی کرتے دیکھے تو کیا کرے؟ اگر کچھ کہتا ہے تو بڑی بات کہتا ہے، اور اگر خاموش رہتا ہے تو وہ سنگین معاملہ پر خاموش رہتا ہے۔ ابن عمر ؓ کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ خاموش رہے اور آپ نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر جب کچھ دن گزرے تو وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس (دوبارہ ) آیا اور اس نے عرض کیا: میں نے آپ سے جو مسئلہ پوچھا تھا میں اس میں خود مبتلا کردیا گیا ہوں۔ تب اللہ تعالیٰ نے سورة النور کی یہ آیتیں نازل فرمائیں «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم» یعنی جو لوگ اپنی بیویوں پر تہمت زنا لگاتے ہیں اور ان کے پاس خود اپنی ذات کے علاوہ کوئی گواہ نہیں ہیں (سورۃ النور: 6) ۔ یہاں تک کہ یہ آیتیں ختم کیں، پھر آپ نے اس آدمی کو بلایا اور اسے یہ آیتیں پڑھ کر سنائیں، اور اسے نصیحت کی اور اس کی تذکیر کی اور بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے آسان ہے۔ اس پر اس نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں نے اس پر جھوٹا الزام نہیں لگایا ہے۔ پھر آپ نے وہ آیتیں عورت کے سامنے دہرائیں، اس کو نصیحت کی، اور اس کی تذکیر کی اور بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے آسان ہے۔ اس پر اس عورت نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، وہ سچ نہیں بول رہا ہے۔ ابن عمر ؓ کہتے ہیں: آپ نے مرد سے ابتداء کی، اس نے اللہ کا نام لے کر چار مرتبہ گواہی دی کہ وہ سچا ہے اور پانچویں مرتبہ گواہی دی کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ پھر دوبارہ آپ نے عورت سے یہی باتیں کہلوائیں، اس نے اللہ کا نام لے کر چار مرتبہ گواہی دی کہ اس کا شوہر جھوٹا ہے، اور پانچویں مرتبہ اس نے گواہی دی کہ اگر اس کا شوہر سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ پھر آپ نے ان دونوں میں تفریق کردی۔
Sayyidina Saeed ibn jubayr narrated: During the times when Mus’ab ibn Zubayr was amir, I was asked about the couple who resorted to han, whether they should be separated. I did not know what I should say, so I got up and went to Abdullah ibn Umar (RA). When I sought permission at his house, I was told that he was having a nap. He heard my voice and called out. “Ibn Jubayr, enter. You cannot have come without a reason.” I went in and he was resting on a coarse sheet which is placed on camel saddle. I said, “O Abu Abdur Rahman! Are the husband and wife who resort to han separated?” He said, “Subhan Allah (glory be to Allah)! Yes. So-and-so son of so-and-so was the first to ask this question, saying, ‘O Messenger of Allah, if one of us were to see his wife commit indecency, what should he do? If he speaks then he speaks on a majur affair and if he keeps quiet then he maintains silence on a major affair’. The Prophet ﷺ kept quiet and did not answer him. The man came back after a while and said, ‘He who had asked you about it is confronted with that problem.’ So, Allah revealed the verse that is in surah an-Nur; And those who accuse their wives and there are no witnesses for them except themselves, the testimony of one of them shall be swearing by Allah four times that he is of the truthful. (24:6-9) The Prophet ﷺ thereafter, summoned that man and recited those words to him sermonised, reminded and advised him that the punishment in this world was lighter than the punishment in the hereafter. The man said ‘By Him Who has sent you with the truth I have not accused, her falsely. ‘Then the Prophetreiterated to the woman, sermonising, reminding and informing her that the punisment of the world is softer than the punishment of the hereafter. She said, ‘No, by Him Who has sent you with the Truth, he has not spoken the truth.’ The Prophet ﷺ then began with the man and he bore witnessIour (times) testimony by Allah that he was of the truthful, and the fifth (testimony) that Allah’s curse be on him if he was of the liars. Then he repeated (the procedure) with the woman and she bore witness four testimonies by Allah that he was of the liars and the fifth that Allah’s wrath be on her if he was of the truthful. Then, the Prophet ﷺ made the two separate from one another.” [Bukhari 2164, Muslim 1493, Nisai 3470] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، صحيح أبي داود (1955)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1202
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں سہل بن سعد، ابن عباس، ابن مسعود اور حذیفہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: لعان کا حکم آیت کریمہ «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم» (النور: ٦)، میں ہے اس کا طریقہ یہ ہے کہ عدالت میں یا کسی حاکم مجاز کے سامنے پہلے مرد چار بار اللہ کا نام لے کر گواہی دے کہ میں سچا ہوں اور پانچویں بار کہے کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر اللہ کی لعنت ہو، اسی طرح عورت بھی اللہ کا نام لے کر چار بار گواہی دے کہ اس کا شوہر جھوٹا ہے اور پانچویں بار کہے کہ اگر اس کا شوہر سچا ہو تو مجھ پر اللہ کا غضب نازل ہو، ایسا کہنے سے شوہر حد قذف ( زنا کی تہمت لگانے پر عائد سزا ) سے بچ جائے گا اور بیوی زنا کی سزا سے بچ جائے گی اور دونوں کے درمیان ہمیشہ کے لیے جدائی ہوجائے گی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللعان ١ (١٤٩٣)، سنن النسائی/الطلاق ٤١ (٣٥٠٣)، ( تحفة الأشراف: ٧٠٥٨)، مسند احمد (٢/١٢)، سنن الدارمی/النکاح ٣٩ (٢٢٧٥) (صحیح) وأحرجہ کل من: صحیح البخاری/الطلاق ٢٧ (٥٣٠٦)، و ٣٢ (٥٣١١)، و ٣٣ (٥٣١٢)، و ٣٤ (٥٣١٣، ٥٣١٤)، و ٣٥ (٥٣١٥)، و ٥٢ (٥٣٤٩)، و ٥٣ (٥٣٥٠)، والفرائض ١٧ (٦٧٤٨)، صحیح مسلم/اللعان (المصدر المذکور)، سنن ابی داود/ الطلاق ٢٧ (٢٢٥٧، ٢٢٥٨، ٢٢٥٩)، سنن النسائی/الطلاق ٤٢ (٣٥٠٤)، و ٤٣ (٣٥٠٥)، و ٤٣ (٣٥٠٥)، و ٤٤ (٣٥٠٦)، و ٤٥ (٣٥٠٧)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٢٧ (٢٠٦٦)، موطا امام مالک/الطلاق ١٣ (٣٥)، من غیر ہذا الوجہ۔ وبسیاق آخر، انظر الحدیث الآتي۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کے ساتھ لعان کیا، تو نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں کے درمیان تفریق کردی اور لڑکے کو ماں کے ساتھ کردیا۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that a man observed li’an against his wife. So, the Prophet ﷺ made them separate from one another and gave to their mother, right over children. [Bukhari 2026, Muslim 1494] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2069)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1203
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔
زینب بنت کعب بن عجرہ سے روایت ہے کہ فریعہ بنت مالک بن سنان ؓ جو ابو سعید خدری کی بہن ہیں نے انہیں خبر دی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں، وہ آپ سے پوچھ رہی تھیں کہ وہ اپنے گھر والوں کے پاس بنی خدرہ میں واپس چلی جائیں (ہوا یہ تھا کہ) ان کے شوہر اپنے ان غلاموں کو ڈھونڈنے کے لیے نکلے تھے جو بھاگ گئے تھے، جب وہ مقام قدوم کے کنارے پر ان سے ملے، تو ان غلاموں نے انہیں مار ڈالا۔ فریعہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ میں اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤں؟ کیونکہ میرے شوہر نے میرے لیے اپنی ملکیت کا نہ تو کوئی مکان چھوڑا ہے اور نہ کچھ خرچ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہاں ، چناچہ میں واپس جانے لگی یہاں تک کہ میں حجرہ شریفہ یا مسجد نبوی ہی میں ابھی تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے آواز دی۔ (یا آپ نے حکم دیا کہ مجھے آواز دی جائے) پھر آپ نے پوچھا: تم نے کیسے کہا؟ میں نے وہی قصہ دہرا دیا جو میں نے آپ سے اپنے شوہر کے بارے میں ذکر کیا تھا، آپ نے فرمایا: تم اپنے گھر ہی میں رہو یہاں تک کہ تمہاری عدت ختم ہوجائے ، چناچہ میں نے اسی گھر میں چار ماہ دس دن عدت گزاری۔ پھر جب عثمان ؓ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے مجھے بلوایا اور مجھ سے اس بارے میں پوچھا تو میں نے ان کو بتایا۔ چناچہ انہوں نے اس کی پیروی کی اور اسی کے مطابق فیصلہ کیا۔ محمد بن بشار کی سند سے بھی اس جیسی اسی مفہوم کی حدیث آئی ہے۔
Sad ibn lshaq ibn Ka’b ibn Ujrah reported from his paternal aunt Zaynab bint Kab ibn Ujrah that Sayyidah Fari’ah bint Maalik ibn Sinan the sister of Abu Sa’eed Khudri informed her: I went to Allah’s Messenger ﷺ and asked him whether I should return to my family, the Banu Khudrah. My husband went out to search for his slaves and when he was in the vicinity of Qudum, he found them but they killed him. So, I asked if may I return to my folk, for, my husband had not left for me any house, that he owned or sustenance. Allah’s Messenger ﷺ said, “Yes.” So I went back but while I was yet in the room or mosque, Allah’s Messenger ﷺ called me, or ordered someone and I was summoned to him. He asked me, ‘What did you say?” I repeated to him the account I had recounted to him concerning my husband. He said, “Reside in your home till the prescribed period reaches its term.” So, I spent my iddah in it for four months and ten days. When Uthman sent for me and asked me about it, I informed him and he abided by it and ruled according to it. [Ahmed 27155, Abu Dawud 2300, Nisai 3527, Ibn e Majah 2031] --------------------------------------------------------------------------------
میرے نکاح میں ایک عورت تھی، میں اس سے محبت کرتا تھا، اور میرے والد اسے ناپسند کرتے تھے۔ میرے والد نے مجھے حکم دیا کہ میں اسے طلاق دے دوں، لیکن میں نے ان کی بات نہیں مانی۔ پھر میں نے اس کا ذکر نبی اکرم ﷺ سے کیا تو آپ نے فرمایا: ”عبداللہ بن عمر! تم اپنی بیوی کو طلاق دے دو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے، ہم اسے صرف ابن ابی ذئب ہی کی روایت سے جانتے ہیں۔
Ibn Umar narrated: I had a wife whom I loved, but my father disliked her, so he ordered me to divorce her but I refused. I mentioned that to the Prophet and he said: 'O Abdullah bin Umar! Divorce your wife.'