Sunan At-Tirmidhi 1219

خرید وفروخت کا بیان

1219Sunan At-Tirmidhi

مدبر کی بیع

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ دَبَّرَ غُلَامًا لَهُ فَمَاتَ، وَلَمْ يَتْرُكْ مَالًا غَيْرَهُ فَبَاعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ النَّحَّامِ، قَالَ جَابِرٌ: عَبْدًا قِبْطِيًّا مَاتَ عَامَ الْأَوَّلِ فِي إِمَارَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَرُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، لَمْ يَرَوْا بِبَيْعِ الْمُدَبَّرِ بَأْسًا وَهُوَ قَوْلُ: الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَكَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ بَيْعَ الْمُدَبَّرِ، وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَمَالِكٍ، وَالْأَوْزَاعِيِّ.

جابر ؓ سے روایت ہے کہ انصار کے ایک شخص نے ١ ؎ اپنے غلام کو مدبر ٢ ؎ بنادیا (یعنی اس سے یہ کہہ دیا کہ تم میرے مرنے کے بعد آزاد ہو) ، پھر وہ مرگیا، اور اس غلام کے علاوہ اس نے کوئی اور مال نہیں چھوڑا۔ تو نبی اکرم ﷺ نے اسے بیچ دیا ٣ ؎ اور نعیم بن عبداللہ بن نحام نے اسے خریدا۔ جابر کہتے ہیں: وہ ایک قبطی غلام تھا۔ عبداللہ بن زبیر ؓ کی امارت کے پہلے سال وہ فوت ہوا۔

Sayyidina Jabir (RA) reported that a man of the Ansar assured his slave that he would he free upon his death. When he died, he left nothing in legacy save the slave. The Prophet ﷺ ‘ sold him to Nuaym ibn Naham. Sayyidina Jabir (RA) said further that the slave was a qubti (copt) and died during the first year of the rule of Ibn Zubayr . [Bukhari 1084, Muslim 997

صحيح، الإرواء (1288)، أحاديث البيوعصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1219
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ جابر بن عبداللہ سے اور بھی سندوں سے مروی ہے۔ ٣ - صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ مدبر غلام کو بیچنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ہیں۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ٤ - اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے مدبر کی بیع کو مکروہ جانا ہے۔ یہ سفیان ثوری، مالک اور اوزاعی کا قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ اس شخص کا نام ابومذکور انصاری تھا اور غلام کا نام یعقوب۔ ٢ ؎: مدبر وہ غلام ہے جس کا مالک اس سے یہ کہہ دے کہ میرے مرنے کے بعد تو آزاد ہے۔ ٣ ؎: بعض روایات میں ہے کہ وہ مقروض تھا اس لیے آپ نے اسے بیچا تاکہ اس کے ذریعہ سے اس کے قرض کی ادائیگی کردی جائے اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مدبر غلام کو ضرورت کے وقت بیچنا جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ البیوع ١١٠ (٢٢٣١)، صحیح مسلم/الأیمان والنذور ١٣ (٩٩٧)، سنن ابن ماجہ/العتق ١ (الأحکام ٩٤)، (٢٥١٣) (تحفة الأشراف: ٢٥٢٦) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/کفارات الأیمان ٧ (٦٧١٦)، والا کراہ ٤ (٦٩٤٧)، صحیح مسلم/الأیمان (المصدر المذکور) من غیر ہذا الوجہ ۔