نکاح کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 11 · 74 hadiths · Page 4 of 4

1140Sunan At-Tirmidhi

سوکنوں کے درمیان باری مقرر کرنا

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْسِمُ بَيْنَ نِسَائِهِ فَيَعْدِلُ، وَيَقُولُ: اللَّهُمَّ هَذِهِ قِسْمَتِي فِيمَا أَمْلِكُ فَلَا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلَا أَمْلِكُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ هَكَذَا رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَقْسِمُ. وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ مُرْسَلًا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَقْسِمُ، وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: لَا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ، وَلَا أَمْلِكُ إِنَّمَا يَعْنِي بِهِ الْحُبَّ، وَالْمَوَدَّةَ كَذَا فَسَّرَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ اپنی بیویوں کے درمیان باری تقسیم کرتے ہوئے فرماتے: اے اللہ! یہ میری تقسیم ہے جس پر میں قدرت رکھتا ہوں، لیکن جس کی قدرت تو رکھتا ہے، میں نہیں رکھتا، اس کے بارے میں مجھے ملامت نہ کرنا ۔

Sayyidah Ayshah (RA) narrated that the Prophet ﷺ used to divide his time equally among his wives. He would pray, “O Allah! This is my division in what I possess. So, do not blame me concerning that which you possess but I do not”. [Ahmed 25165, Abu Dawud 2134, Nisai 3953, Ibn e Majah 1971]

ضعيف، ابن ماجة (1971)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1140
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
عائشہ ؓ کی حدیث کو اسی طرح کئی لوگوں نے بسند «حماد بن سلمة عن أيوب عن أبي قلابة عن عبد اللہ بن يزيد عن عائشة» روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ باری تقسیم کرتے تھے جب کہ اسے حماد بن زید اور دوسرے کئی ثقات نے بسند «أيوب عن أبي قلابة» روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ باری تقسیم کرتے تھے اور یہ حماد بن سلمہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، اور جس کی قدرت تو رکھتا ہے میں نہیں رکھتا سے مراد محبت و مؤدّۃ ہے، اسی طرح بعض اہل علم نے اس کی تفسیر کی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ النکاح ٣٩ (٢١٣٤)، سنن النسائی/عشرة النساء ٢ (٣٩٥٣)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٤٧ (١٩٧١)، ( تحفة الأشراف: ١٦٢٩)، سنن الدارمی/النکاح ٢٥ (٢٢٥٣) (ضعیف) (حماد بن زید اور دیگر زیادہ ثقہ رواة نے اس کو ایوب سے ” عن أبي قلابة عن النبي ﷺ “ مرسلاً بیان کیا ہے، لیکن حدیث کا پہلا جزء اللهم هذا قسمي فيما أملک حسن ہے، تراجع الالبانی ٣٤٦)
1141Sunan At-Tirmidhi

سوکنوں کے درمیان باری مقرر کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا كَانَ عِنْدَ الرَّجُلِ امْرَأَتَانِ، فَلَمْ يَعْدِلْ بَيْنَهُمَا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَشِقُّهُ سَاقِطٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَإِنَّمَا أَسْنَدَ هَذَا الْحَدِيثَ هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ، وَرَوَاهُ هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: كَانَ يُقَالُ، وَلَا نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ مَرْفُوعًا، إِلَّا مِنْ حَدِيثِ هَمَّامٍ وهمام ثقة حافظ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب کسی شخص کے پاس دو بیویاں ہوں اور ان کے درمیان انصاف سے کام نہ لے تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو جھکا ہوا ہوگا ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “If a man has two wives and he does not treat them equally then he will come on the Day of Resurrection with one of his sides decayed (or sagging)”. [Ahmed 25165, Abu Dawud 2133, Ibn e Majah 1969]

صحيح، ابن ماجة (1969)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1141
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس حدیث کو ہمام بن یحییٰ نے قتادہ سے مسنداً ١ ؎ روایت کیا ہے، ٢- اور اسے ہشام دستوائی نے بھی قتادہ سے روایت کیا ہے لیکن اس روایت میں ہے کہ ایسا کہا جاتا تھا … ٣- ہم اس حدیث کو صرف ہمام ہی کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں اور ہمام ثقہ حافظ ہیں ٢ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی رسول اللہ ﷺ کے اپنے قول سے، نہ کہ عام مقولہ کے طور پر، جیسے کہا جاتا تھا جیسا کہ ہشام دستوائی کی روایت میں ہے۔ ٢ ؎: اس لیے ان کی روایت مقبول ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ النکاح ٣٩ (٢١٣٣)، سنن النسائی/عشرة النساء ٢ (٣٩٥٢)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٤٧ (١٩٦٩) (تحفة الأشراف: ١٢٢١٣)، مسند احمد (٢/٣٤٧، ٣٧١)، سنن الدارمی/النکاح ٢٤ (٢٢٥٢) (صحیح)
1142Sunan At-Tirmidhi

مشرک میاں بیوی میں سے ایک مسلمان ہوجائے تو؟

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَهَنَّادٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْجَدِّهِ،أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَدَّ ابْنَتَهُ زَيْنَبَ عَلَى أَبِي الْعَاصِي بْنِ الرَّبِيعِ، بِمَهْرٍ جَدِيدٍ وَنِكَاحٍ جَدِيدٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ فِي إِسْنَادِهِ، مَقَالٌ: وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، أَنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا أَسْلَمَتْ قَبْلَ زَوْجِهَا، ثُمَّ أَسْلَمَ زَوْجُهَا، وَهِيَ فِي الْعِدَّةِ، أَنَّ زَوْجَهَا أَحَقُّ بِهَا مَا كَانَتْ فِي الْعِدَّةِ، وَهُوَ قَوْلُ: مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَالْأَوْزَاعِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.

عبداللہ بن عمرو ؓ سے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی لڑکی زینب کو ابوالعاص بن ربیع ؓ کے پاس نئے مہر اور نئے نکاح کے ذریعے لوٹا دیا ١ ؎۔

lbn Shu’ayb reported from his father from his grandfather that Allah’s Messenger ﷺ returned his daughter, Sayyidah Zaynab (RA) to Sayyidina Abu Aas ibn Rabi (RA) against a fresh dower and a fresh marriage. [Ahmed 6956, Ibn e Majah 2010]

ضعيف، ابن ماجة (2010) // ضعيف ابن ماجة برقم (436)، الإرواء (1992) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1142
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس حدیث کی سند میں کچھ کلام ہے اور دوسری حدیث میں بھی کلام ہے، ٢- اہل علم کا عمل اسی حدیث پر ہے کہ عورت جب شوہر سے پہلے اسلام قبول کرلے، پھر اس کا شوہر عدت کے دوران اسلام لے آئے تو اس کا شوہر ہی اس کا زیادہ حقدار ہے جب وہ عدت میں ہو۔ یہی مالک بن انس، اوزاعی، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث ابن عباس کی حدیث کے جو آگے آرہی ہے مخالف ہے اس میں ہے کہ پہلے ہی نکاح پر آپ نے انہیں لوٹا دیا نیا نکاح نہیں پڑھایا اور یہی صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/النکاح ٦٠ (٢٠١٠)، ( تحفة الأشراف: ٨٦٧٢)، مسند احمد (٢/٢٠٧) (ضعیف) (اس کے راوی ” حجاج بن ارطاة “ ایک تو ضعیف ہیں، دوسرے سند میں ان کے اور ” عمروبن شعیب “ کے درمیان انقطاع ہے، اس کے بالمقابل اگلی حدیث صحیح ہے)
1143Sunan At-Tirmidhi

مشرک میاں بیوی میں سے ایک مسلمان ہوجائے تو؟

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: رَدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَتَهُ زَيْنَبَ عَلَى أَبِي الْعَاصِي بْنِ الرَّبِيعِ، بَعْدَ سِتِّ سِنِينَ بِالنِّكَاحِ الْأَوَّلِ وَلَمْ يُحْدِثْ نِكَاحًا. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ بِإِسْنَادِهِ بَأْسٌ وَلَكِنْ لَا نَعْرِفُ وَجْهَ هَذَا الْحَدِيثِ، وَلَعَلَّهُ قَدْ جَاءَ هَذَا مِنْ قِبَلِ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ، مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنی بیٹی زینب کو ابوالعاص بن ربیع ؓ کے پاس چھ سال بعد ١ ؎ پہلے نکاح ہی پر واپس بھیج دیا اور پھر سے نکاح نہیں کیا۔

Ibn Abbas (RA) narrated: The Prophet ﷺ returned his daughter Zaynab to Abu Aas ibn Rabi’ after six years against the first marriage and did not renew the marriage.

صحيح، ابن ماجة (2009)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1143
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس حدیث کی سند میں کوئی اشکال نہیں ہے، لیکن ہم اس حدیث میں نقد کی وجہ نہیں جانتے ہیں۔ شاید یہ چیز داود بن حصین کی جانب سے ان کے حفظ کی طرف سے آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: احمد، ابوداؤد اور ابن ماجہ کی ایک روایت میں ہے کہ آپ نے دو سال بعد انہیں واپس کیا، اور ایک روایت میں ہے تین سال کے بعد، حافظ ابن حجر نے ان روایات میں تطبیق اس طرح سے دی ہے کہ چھ سال سے مراد زینب کی ہجرت اور ابوالعاص بن ربیع ؓ کے اسلام لانے کے درمیان کا واقعہ ہے، اور دو اور تین سے مراد آیت کریمہ «لاهن حل لهم» کے نازل ہونے اور ابوالعاص بن ربیع ؓ کے اسلام لانے کے درمیان کی مدت ہے جو دو سال اور چند مہینوں پر مشتمل۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطلاق ٢٤ (٢٢٤٠)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٦٠ (٢٠٠٩)، ( تحفة الأشراف: ٦٠٧٣) (صحیح) (متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ داود کی روایت عکرمہ سے متکلم فیہ ہے)
1144Sunan At-Tirmidhi

مشرک میاں بیوی میں سے ایک مسلمان ہوجائے تو؟

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ مُسْلِمًا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ جَاءَتِ امْرَأَتُهُ مُسْلِمَةً، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا كَانَتْ أَسْلَمَتْ مَعِي فَرُدَّهَا عَلَيَّ، فَرَدَّهَا عَلَيْهِ ، هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، سَمِعْت عَبْدَ بْنَ حُمَيْدٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُيَزِيدَ بْنَ هَارُونَ يَذْكُرُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق هَذَا الْحَدِيثَ، وَحَدِيثُ الْحَجَّاجِ، عنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عنْ أَبِيهِ، عنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَدَّ ابْنَتَهُ زَيْنَبَ عَلَى أَبِي الْعَاصِي بِمَهْرٍ جَدِيدٍ، وَنِكَاحٍ جَدِيدٍ ، قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَجْوَدُ إِسْنَادًا وَالْعَمَلُ عَلَى حَدِيثِ، عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں مسلمان ہو کر آیا پھر اس کی بیوی بھی مسلمان ہو کر آ گئی تو اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس نے میرے ساتھ اسلام قبول کیا تھا۔ تو آپ اسے مجھے واپس دے دیجئیے۔ تو آپ نے اسے اسی کو واپس دے دیا ١ ؎۔

Sayyidina lhn Abbas narrated : In the fimes of the Prophet ﷺ a man became a Muslim. After that his wife also came as ‘ Muslim. So he said, “O Messenger of Allah, she had become a Muslim with me’. Hence, he returned her to him’ [Abu Dawud 2238] --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف، الإرواء (1918)، ضعيف أبي داود (387) // عندنا برقم (490 / 2238) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1144
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث صحیح ہے، ٢- حجاج نے یہ حدیث بطریق «عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده» روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنی بیٹی زینب کو ابوالعاص کے ہاں نئے مہر اور نئے نکاح کے ذریعے لوٹایا، ٣- یزید بن ہارون کہتے ہیں کہ ابن عباس کی حدیث سند کے اعتبار سے سب سے اچھی ہے لیکن عمل «عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده» کی حدیث پر ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عورت اگر اپنے شوہر کے ساتھ اسلام لے آئے تو وہ اس کے نکاح میں باقی رہے گی، یہ اجماعی مسئلہ ہے اس میں کسی کا اختلاف نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطلاق ٢٣ (٢٢٣٨)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٦٠ (٢٠٠٨)، ( تحفة الأشراف: ٦١٠٦) (ضعیف) (سماک کی عکرمہ سے روایت میں شدید اضطراب ہے، الإرواء ١٩١٨، ضعیف سنن ابی داود، ط۔ غر اس رقم ٣٨٧، سنن ترمذی مطبوعہ مکتبة المعارف میں پہلی سند بروایت یوسف بن عیسیٰ پر صحیح لکھا ہے، اور دوسری سند سمعت عبد بن حميد پر ضعیف لکھا ہے)۔
1145Sunan At-Tirmidhi

وہ شخص جو نکاح کے بعد مہر مقرر کرنے سے پہلے فوت ہوجائے تو؟

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا، وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا حَتَّى مَاتَ، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: لَهَا مِثْلُ صَدَاقِ نِسَائِهَا لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ وَلَهَا الْمِيرَاثُ، فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ الْأَشْجَعِيُّ، فَقَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ امْرَأَةٍ مِنَّا مِثْلَ الَّذِي قَضَيْتَ ، فَفَرِحَ بِهَا ابْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ الْجَرَّاحِ،

عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ ان سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے ایک عورت سے شادی کی لیکن اس نے نہ اس کا مہر مقرر کیا اور نہ اس سے صحبت کی یہاں تک کہ وہ مرگیا، تو ابن مسعود ؓ نے کہا: اس عورت کے لیے اپنے خاندان کی عورتوں کے جیسا مہر ہوگا۔ نہ اس سے کم اور نہ اس سے زیادہ۔ اسے عدت بھی گزارنی ہوگی اور میراث میں بھی اس کا حق ہوگا۔ تو معقل بن سنان اشجعی نے کھڑے ہو کر کہا: بروع بنت واشق جو ہمارے قبیلے کی عورت تھی، کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے ایسا ہی فیصلہ فرمایا تھا جیسا آپ نے کیا ہے۔ تو اس سے ابن مسعود ؓ خوش ہوئے ١ ؎۔

Sayyidina lbn Mas’ud (RA) was asked about a man who married a woman hut before he could determine her dower and have sexual intercourse with her he died. So, lbn Masud (RA) said, ‘Her dower is like that of women of her match, neither less nor more. And she will observe the iddah and have inheritance’. Thereupon Maqib ibn Sinab Ashja (RA) got up and said, “Allah’s Messenger ﷺ decided the case of Barwa’ bint Washiq a woman among us like what you have decided”. So, Ibn Mas’ud (RA) was happy with it. [Abu Dawud 2114, Nisai 3521, Ibn e Majah 1891] --------------------------------------------------------------------------------