عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حلالہ کرنے والے اور کرانے والے (دونوں) پر لعنت بھیجی ہے۔
Muhmud ibn Ghaylan also reported this hadith. He reported from Abu Ahmad, from Sufyan, from Abu Qays, from Huzayl ibn Shurahbil who from Sayyidina Abdullah ibn Mas’ud (RA)that the Prophet ﷺ cursed one who makes lawful (a woman for her first husband and one who gets it done. [Nisai 3413]
صحيح انظر ما قبله (1119)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1120
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہ حدیث نبی اکرم ﷺ سے کئی اور طرق سے بھی روایت کی گئی ہے، ٣- صحابہ کرام میں سے اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے۔ جن میں عمر بن خطاب، عثمان بن عفان، عبداللہ بن عمر وغیرہم ؓ بھی شامل ہیں۔ یہی تابعین میں سے فقہاء کا بھی قول ہے اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، وکیع نے بھی یہی کہا ہے، ٤- نیز وکیع کہتے ہیں: اصحاب رائے کے قول کو پھینک دینا ہی مناسب ہوگا ١ ؎، ٥- سفیان ثوری کہتے ہیں: آدمی جب عورت سے نکاح اس نیت سے کرے کہ وہ اسے (پہلے شوہر کے لیے) حلال کرے گا پھر اسے اس عورت کو اپنی زوجیت میں رکھ لینا ہی بھلا معلوم ہو تو وہ اسے اپنی زوجیت میں نہیں رکھ سکتا جب تک کہ اس سے نئے نکاح کے ذریعے سے شادی نہ کرے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اصحاب الرائے سے مراد امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب ہیں، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ نکاح حلالہ صحیح ہے گو حلال کرنے کی ہی نیت سے ہو۔ ان کی رائے کو چھوڑ دینا اس لیے مناسب ہے کہ ان کا یہ قول حدیث کے مخالف ہے۔
علی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے خیبر کی فتح کے وقت عورتوں سے متعہ ١ ؎ کرنے سے اور گھریلو گدھوں کے گوشت کھانے سے منع فرمایا۔
Sayyidina Ali ibn Abu Talib reported that the Prophet ﷺ forbade Mutah (temporary marriage) of women, and the consuming of the flesh of domestic asses. This was during the Battle of Khaybar. [Bukhari 5115, Muslim 1406, Nisai 2262, Ibn e Majah 1961]
صحيح، ابن ماجة (1961)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1121
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- علی ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں سبرہ جہنی اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے، البتہ ابن عباس سے کسی قدر متعہ کی اجازت بھی روایت کی گئی ہے، پھر انہوں نے اس سے رجوع کرلیا جب انہیں نبی اکرم ﷺ کے بارے میں اس کی خبر دی گئی۔ اکثر اہل علم کا معاملہ متعہ کی حرمت کا ہے، یہی ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: عورتوں سے مخصوص مدت کے لیے نکاح کرنے کو نکاح متعہ کہتے ہیں، پھر علی ؓ نے خیبر کے موقع سے گھریلو گدھوں کی حرمت کے ساتھ متعہ کی حرمت کا ذکر کیا ہے یہاں مقصد متعہ کی حرمت کی تاریخ نہیں بلکہ ان دو حرام چیزوں کا تذکرہ ہے متعہ کی اجازت واقعہ اوطاس میں دی گئی تھی۔ حرام ہوگیا، اور اب اس کی حرمت قیامت تک کے لیے ہے، ائمہ اسلام اور علماء سلف کا یہی مذہب ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ متعہ ابتدائے اسلام میں تھا۔ آدمی جب کسی ایسے شہر میں جاتا جہاں اس کی جان پہچان نہ ہوتی تو وہ اپنے قیام کی مدت تک کے لیے کسی عورت سے شادی کرلیتا۔ وہ اس کے سامان کی حفاظت کرتی۔ اس کی چیزیں درست کر کے رکھتی۔ یہاں تک کہ جب آیت کریمہ «إلا علی أزواجهم أو ما ملکت أيمانهم» لوگ اپنی شرمگاہوں کو صرف دو ہی جگہ کھول سکتے ہیں، ایک اپنی بیویوں پر، دوسرے اپنی ماتحت لونڈیوں پر ، نازل ہوئی تو ابن عباس ؓ کہتے ہیں: ان دو کے علاوہ باقی تمام شرمگاہیں حرام ہوگئیں۔
Mahmud ibn Ghaylan reported from Sufyan ibn Uqbah (brother of Qabisah ibn Uqbah), from Sufyan Thawri, from Musa ibn Ubaydah, from Muhammad ibn Ka’b and he from lbn Abbas (RA) that he said, “Mutah was allowed in the beginning of Islam. If anyone travelled to a new place where he had no acquaintance then he took a wife there for as many days as he intended to stay there that she may take care of his property and serve him. This went on till this verse was revealed: Except in regard to their spouses or those whom their right hands possess. Thereafter, all sexual relationships beside these two became forbidden. --------------------------------------------------------------------------------
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٦٤٤٩) (ضعیف) (اس کے راوی ” موسیٰ بن عبیدہ “ ضعیف ہیں، نیز یہ شاذ بھی ہے، حافظ ابن حجر فتح الباری میں کہتے ہں ی: اس کی سند ضعیف ہے، اور یہ شاذ بھی ہے کیونکہ یہ متعہ کی اباحت کی علت کے خلاف ہے، فتح الباری ٩/١٤٨، حافظ ابن حجر بخاری کی اس روایت کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں جس میں ابو جمرہ کہتے ہیں: ” میں نے ابن عباس کو عورتوں سے متعہ کرنے کے سوال پر یہ سنا کہ آپ نے اس کی رخصت سنن الدارمی/ تو آپ کے غلام نے عرض کیا کہ یہ تو صرف سخت حالات اور عورتوں کی قلت کی بنا پر تھا یا اس طرح کی بات کہی تو ابن عباس نے کہا: ہاں، ایسا ہی ہے “ بخاری کی اس روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابن عباس متعہ کی اباحت کے فتوے سے مطلقا رجوع ہوگئے تھے، اور اس کو مطلقا ناجائز کہتے تھے)۔
عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اسلام میں نہ «جلب» ہے، نہ «جنب» ١ ؎ اور نہ ہی «شغار»، اور جو کسی کی کوئی چیز اچک لے، وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔
Sayyidina Imran ibn Husayn (RA) reported that the Prophet ﷺ said, There is no jalaba, no janaba and no shighar in Islam, and he who plunders is not one of us. [Ahmed 19876, Abu Dawud 2581, Nisai 3832]
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں انس، ابوریحانہ، ابن عمر، جابر، معاویہ، ابوہریرہ، اور وائل بن حجر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «جلب» اور «جنب» کے دو مفہوم ہیں: ایک مفہوم کا تعلق زکاۃ سے ہے اور دوسرے کا گھوڑ دوڑ کے مقابلے سے۔ زکاۃ میں «جلب» یہ ہے کہ زکاۃ وصول کرنے والا کافی دور قیام کرے اور صاحب زکاۃ لوگوں کو حکم دے کہ وہ اپنے جانور لے کر آئیں اور زکاۃ ادا کریں، یہ ممنوع ہے۔ زکاۃ وصول کرنے والے کو خود ان کی چراگاہوں یا پنگھٹوں پر جا کر زکاۃ کے جانور لینے چاہئیں۔ اس کے مقابلے میں جنب یہ ہے کہ صاحب زکاۃ اپنے اپنے جانور لے کر دور چلے جائیں تاکہ زکاۃ وصول کرنے والا ان کے ساتھ دوڑتا پھرے اور پریشان ہو۔ پہلی صورت یعنی «جلب» میں زکاۃ دینے والوں کو زحمت ہے اور دوسری صورت «جنب» میں زکاۃ وصول کرنے کو۔ لہٰذا یہ دونوں درست نہیں۔ گھوڑ دوڑ میں «جلب» اور «جنب» ایک دوسرے کے مترادف ہیں، مطلب یہ ہے کہ آدمی ایک گھوڑے پر سوار ہوجائے اور دوسرا تازہ دم گھوڑا ساتھ رکھے تاکہ درمیان میں جب یہ تھک جائے تو دوسرے تازہ دم گھوڑے پر سوار ہوجائے اور مقابلہ بہ آسانی جیت سکے۔ اس میں چونکہ ناانصافی اور دھوکہ ہے، لہٰذا اس معنی میں بھی «جلب» اور «جنب» درست نہیں ہے ( اور «شغار» کی تشریح خود مؤلف کے الفاظ میں اگلی حدیث کے ضمن میں آرہی ہے )۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الجہاد ٧٠ (٢٥٨١)، مقتصرا علی قولہ ” لا جلب ولا جنب “ سنن ابی داود/ النکاح ٦٠ (٣٣٣٧)، والخیل ١٥ (٣٦٢٠)، و ١٦ (٣٦٢١)، سنن ابن ماجہ/الفتن ٣ (٣٩٣٥)، مقتصرا علی قولہ ” من انتہب… “ ( تحفة الأشراف: ١٠٧٩٣) مسند احمد (٤/٤٢٩، ٤٣٩) (صحیح)
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے نکاح شغار سے منع فرمایا۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that the Prophet ﷺ forbade shighar. [Ahmed 4526, Bukhari 5112, Muslim 1425, Abu Dawud 2074, Nisai 3334, Ibn e Majah 1883] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (1883)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1124
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ نکاح شغار کو درست نہیں سمجھتے، ٣- شغار یہ ہے کہ آدمی اپنی بیٹی کا نکاح کسی سے اس شرط پر کرے کہ وہ بھی اپنی بیٹی یا بہن کا نکاح اس سے کر دے گا اور ان کے درمیان کوئی مہر مقرر نہ ہو، ٤- بعض اہل علم کہتے ہیں: نکاح شغار فسخ کردیا جائے گا اور وہ حلال نہیں، اگرچہ بعد میں ان کے درمیان مہر مقرر کرلیا جائے۔ یہ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ٥- لیکن عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ وہ اپنے نکاح پر قائم رہیں گے البتہ ان کے درمیان مہر مثل مقرر کردیا جائے گا، اور یہی اہل کوفہ کا بھی قول ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے منع فرمایا کہ کسی عورت سے شادی کی جائے اور اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ (پہلے سے) نکاح میں ہو۔
Sayyidina lbn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ forbade marriage of a woman to the husband of her (paternal or maternal) aunt. [Ahmed 353]
صحيح، الإرواء (2882)، ضعيف أبي داود (352)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1125
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوحریز کا نام عبداللہ بن حسین ہے -
Takhrij · تخریج
حدیث ابن عباس: سنن ابی داود/ النکاح ١٣ (٢٠٦٧) (تحفة الأشراف: ٦٠٧٠)، مسند احمد (١/٢١٧، ٣٧٢) (صحیح) (متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کے راوی ” ابو حریز “ حافظہ کے کمزور ہیں)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ عورت سے نکاح کیا جائے جب کہ اس کی پھوپھی (پہلے سے) نکاح میں ہو یا پھوپھی سے نکاح کیا جائے جبکہ اس کی بھتیجی (پہلے سے) نکاح میں ہو یا بھانجی سے نکاح کیا جائے جب کہ اس کی خالہ (پہلے سے) نکاح میں ہو یا خالہ سے نکاح کیا جائے جب کہ اس کی بھانجی پہلے سے نکاح میں ہو۔ اور نہ نکاح کیا جائے کسی چھوٹی سے جب کہ اس کی بڑی نکاح میں ہو اور نہ بڑی سے نکاح کیا جائے جب کہ چھوٹی نکاح میں ہو ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger forbade that a woman should be married to the same man who had married her paternal aunt, or a paternal aunt to a man who had married her brother’s daughter; or a woman to the same man who had married her maternal aunt, or a maternal aunt to a man who had married her sister’s daughter. Neither must a younger sister be married to the man who is married to her elder sister nor an elder sister to one who is married to her younger sister [Bukhari 5108, Abu Dawud 2065, Nisai 32931 --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، الإرواء (6 / 289 - 290)، صحيح أبي داود (1802)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1126
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس اور ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ ہمیں ان کے درمیان اس بات میں کسی اختلاف کا علم نہیں کہ آدمی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ بیک وقت کسی عورت کو اس کی پھوپھی کے ساتھ یا اس کی خالہ کے ساتھ نکاح میں رکھے۔ اگر اس نے کسی عورت سے نکاح کرلیا جب کہ اس کی پھوپھی یا خالہ بھی اس کے نکاح میں ہو یا پھوپھی سے نکاح کرلیا جب کہ اس کی بھتیجی نکاح میں ہو تو ان میں سے جو نکاح بعد میں ہوا ہے، وہ فسخ ہوگا، یہی تمام اہل علم کا قول ہے، ٣- شعبی نے ابوہریرہ کو پایا ہے اور ان سے (براہ راست) روایت بھی کی ہے۔ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: صحیح ہے، ٤- شعبی نے ابوہریرہ سے ایک شخص کے واسطے سے بھی روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی خالہ پھوپھی نکاح میں ہو تو اس کی بھانجی یا بھتیجی سے اور بھانجی یا بھتیجی نکاح میں ہو تو اس کی خالہ یا پھوپھی سے نکاح نہ کیا جائے، ہاں اگر ایک مرجائے یا اس کو طلاق دیدے تو دوسری سے شادی کرسکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النکاح ٢٧ تعلیقا عقب حدیث جابر (٥١٠٨)، صحیح مسلم/النکاح ٤ (٤٠٨/٣٩)، سنن ابی داود/ النکاح ١٣ (٢٠٦٥)، سنن النسائی/النکاح ٤٧ (٣٢٨٨) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/النکاح ٢٧ (٥١٠٩، ٥١١٠)، صحیح مسلم/النکاح ٤ (١٤٠٨)، سنن ابی داود/ النکاح ١٣ (٢٠٦٦)، سنن النسائی/النکاح ٤٧ (٣٢٩٠-٣٢٩٦)، و ٤٨ (٣٢٩٧)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٣١ (١٩٢٩)، موطا امام مالک/النکاح ٨ (٢٠)، مسند احمد (٢/٤٢٦) من غیر ہذا الوجہ۔
عقبہ بن عامر جہنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے زیادہ پوری کیے جانے کی مستحق وہ شرطیں ہیں جن کے ذریعے تم نے شرمگاہیں حلال کی ہوں ۔
Sayyidina Uqbah ibn Aamir Juhanni reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘The most rightful conditions to which are faithful are those by which you make sexual intercourse lawful”. [Ahmed 17304, Bukhari 2721, Muslim 1418, Abu Dawud 3139, Nisai 3274]
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ غیلان بن سلمہ ١ ؎ ثقفی نے اسلام قبول کیا، جاہلیت میں ان کی دس بیویاں تھیں، وہ سب بھی ان کے ساتھ اسلام لے آئیں، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ ان میں سے کسی چار کو منتخب کرلیں ٢ ؎۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Ghaylan ibn Salamah Thaqafi embraced Islam. He had ten wives (whom he had married) in pre-Islamic days and they too embraced Islam with him. So, the Prophet ﷺ commanded him to choose four of them. [Ahmed 4609, Ibn e Majah 1953]
صحيح، ابن ماجة (1953)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1128
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اسی طرح اسے معمر نے بسند «الزهري عن سالم بن عبدالله عن ابن عمر» روایت کیا ہے، ٢- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ یہ حدیث غیر محفوظ ہے۔ اور صحیح وہ ہے جو شعیب بن ابی حمزہ وغیرہ نے بسند «الزهري عن محمد بن سويد الثقفي» روایت کی ہے کہ غیلان بن سلمہ نے اسلام قبول کیا تو ان کے پاس دس بیویاں تھیں۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ صحیح زہری کی حدیث ہے جسے انہوں نے سالم بن عبداللہ سے اور سالم نے اپنے والد عبداللہ بن عمر سے روایت کی ہے کہ ثقیف کے ایک شخص نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی تو عمر نے اس سے کہا: تم اپنی بیویوں سے رجوع کرلو ورنہ میں تمہاری قبر کو پتھر ماروں گا جیسے ابورغال ٣ ؎ کی قبر کو پتھر مارے گئے تھے۔ ٤- ہمارے اصحاب جن میں شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی شامل ہیں کے نزدیک غیلان بن سلمہ کی حدیث پر عمل ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: غیلان بن سلمہ ثقیف کے سرداروں میں سے تھے، فتح طائف کے بعد انہوں نے اسلام قبول کیا۔ ٢ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسلمان کے لیے چار سے زائد بیویاں ایک ہی وقت میں رکھنا جائز نہیں، لیکن اس حکم سے نبی اکرم ﷺ کی ذات گرامی مستثنیٰ ہے، آپ کے حرم میں بیک وقت نو بیویاں تھیں، یہ رعایت خاص آپ کے لیے تھی اور اس میں بہت سی دینی، سیاسی، مصلحتیں کار فرما تھیں آپ کے بعد یہ کسی کے لیے جائز نہیں۔ ٣ ؎: ابورغال کے بارے میں دو مختلف روایتیں ہیں، پہلی روایت یہ ہے کہ یہ طائف کے قبیلہ ثقیف کا یک شخص تھا جس نے ابرہہ کی مکہ کی جانب رہبری کی تھی وہ مغمس کے مقام پر مرا اور وہیں دفن کیا گیا اور اس کی قبر پر پتھراؤ کرنا عام رسم بن گئی، دوسری روایت ہے کہ ابورغال قوم ثمود کا وہ واحد شخص تھا جو ہلاکت سے بچ گیا تھا، ثمود کی تباہی کے وقت وہ مکیّ میں مقیم تھا اور اس جگہ کی حرمت کے باعث محفوظ رہا تاہم مکیّ سے نکلنے کے فوراً بعد مرگیا، رسول اللہ ﷺ جب اپنی فوج کے ساتھ الحجر کے مقام سے گزر رہے تھے تو آپ نے یہ بات بیان فرمائی تھی، الأغانی کی ایک حکایت میں ابورغال کو طائف کا بادشاہ اور بنو ثقیف کا جدا مجد بھی بیان کیا گیا ہے، اس کے معاملے میں حافظ ابن قتیبہ اور مسعودی ایسے مصنف ایک اور روایت نقل کرتے ہیں کہ بنو ثقیف ہی نے ابورغال کو جو ایک ظالم اور بےانصاف شخص تھا قتل کیا تھا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/النکاح ٤٠ (١٩٥٣)، ( تحفة الأشراف: ٦٩٤٩) (صحیح)
فیروز دیلمی ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اسلام قبول کرلیا ہے اور میرے نکاح میں دو بہنیں ہیں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم ان دونوں میں سے جسے چاہو منتخب کرلو ۔
Abu Wahb Jayshani reported that he heard lbn Firoz Daylami narrate on the authority of his father that he met the Prophet ﷺ and said, “O Messenger of Allah, I have embraced Islam and have two sisters as wives”. So, he said, “Choose whichever one you like”. [Ahmed 18062, Abu Dawud 2243, Ibn e Majah 1950] --------------------------------------------------------------------------------
حسن، ابن ماجة (1951)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1129
فیروز دیلمی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اسلام قبول کیا ہے اور میرے نکاح میں دو بہنیں ہیں۔ آپ نے فرمایا: ان دونوں میں سے جسے چاہو، منتخب کرلو ۔ (اور دوسرے کو طلاق دے دو )
رویفع بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنی (منی) کسی غیر کے بچے کو نہ پلائے ١ ؎۔
Sayyidina Ruwayfi ibn Thabit narrated that the Prophet ﷺ said, “He who believes in Allah and the Last Day must not water the child of another.” (It means he must not have sexual intercourse with a woman who is pregnant from another man, after buying her, etc.) [Abu Dawud 2158] --------------------------------------------------------------------------------
حسن، الإرواء (2137)، صحيح أبي داود (1874)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1131
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- یہ اور بھی کئی طرق سے رویفع بن ثابت ؓ سے روایت کی گئی ہے، ٣- اہل علم کا عمل اسی پر ہے۔ یہ لوگ کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں سمجھتے کہ وہ جب کوئی حاملہ لونڈی خریدے تو وہ اس سے صحبت کرے جب تک کہ اسے وضع حمل نہ ہوجائے، ٤- اس باب میں ابو الدرداء، ابن عباس، عرباض بن ساریہ اور ابو سعید خدری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جو لونڈی کسی اور سے حاملہ ہو پھر وہ اسے خریدے تو اس سے صحبت نہ کرے جب تک کہ اسے وضع حمل نہ ہوجائے۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے جنگ اوطاس کے دن کچھ عورتیں قید کیں۔ اور ان کی قوم میں ان عورتوں کے شوہر موجود تھے، لوگوں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو یہ آیت نازل ہوئی «والمحصنات من النساء إلا ما ملکت أيمانکم» تم پر شوہر والی عورتیں بھی حرام ہیں الا یہ کہ وہ تمہاری ملکیت میں آ گئی ہوں (النساء: ٢٤) ۔
Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) narrated : On the day of Awtas (the Battle) we got some women captives who had their husbands among their people. We mentioned that to Allah’s Messenger ﷺ . So, these words were revealed: And (also forbidden) are all married women, except those whom your right hands possess(4:24) [Ahmed 11691, Muslim 1456, Abu Dawud 2155, Nisai 3330] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، صحيح أبي داود (1871)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1132
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اسی طرح سے اسے ثوری نے بطریق: «عثمان البتي عن أبي الخليل عن أبي سعيد» روایت کیا ہے -
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الرضاع ٩ (١٤٥٦)، والمؤلف في تفسیر النساء (٣٠١٧)، وانظر الحدیث الآتي ( تحفة الأشراف: ٤٠٧٧) (صحیح)
ابومسعود انصاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کتے کی قیمت ١ ؎، زانیہ کی کمائی ٢ ؎ اور کاہن کی مٹھائی ٣ ؎ سے منع فرمایا ہے۔
Sayyidina Abu Masud Ansari (RA)reported that Allah’s Messenger ﷺ forbade (taking) the price of dogs, remuneration of an adultress and sweets of the soothsayers. [Ahmed 17069, Bukhari 2237, Muslim 1567, Abu Dawud 3428, Nisai 3680, Tirmidhi 1276]
صحيح، ابن ماجة (2590)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1133
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابومسعود انصاری ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں رافع بن خدیج، ابوجحیفہ، ابوہریرہ، اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کتا نجس ہے اس لیے اس سے حاصل ہونے والی قیمت بھی ناپاک ہوگی، اس کی نجاست کا حال یہ ہے کہ شریعت نے اس برتن کو جس میں کتا منہ ڈال دے سات مرتبہ دھونے کا حکم دیا جس میں ایک مرتبہ مٹی سے دھونا بھی شامل ہے، اسی سبب سے کتے کی خرید و فروخت اور اس سے فائدہ اٹھانا منع ہے، الا یہ کہ کسی اشد ضرورت مثلاً گھر جائیداد اور جانوروں کی حفاظت کے لیے ہو۔ ٢ ؎: چونکہ زنا کبیرہ گناہ اور فحش امور میں سے ہے اس لیے اس سے حاصل ہونے والی اجرت بھی ناپاک اور حرام ہے اس میں کوئی فرق نہیں کہ زانیہ لونڈی ہو یا آزاد عورت۔ ٣ ؎: علم غیب اللہ رب العالمین کے لیے خاص ہے، اس کا دعویٰ کرنا عظیم گناہ ہے، اسی طرح اس دعویٰ کی آڑ میں کاہن اور نجومی عوام سے باطل طریقے سے جو مال حاصل کرتے ہیں وہ بھی حرام ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ١١٣ (٢٢٣٧)، والاجارة ٢٠ (٢٢٨٢)، والطلاق ٥١ (٥٣٤٦)، والطب ٤٦ (٥٧٦١)، صحیح مسلم/المساقاة ٩ (البیوع ٣٠)، (١٥٦٧)، سنن ابی داود/ البیوع ٤١ (٣٤٢٨)، و ٦٥ (٣٤٨١)، سنن النسائی/الصید والذبائح ١٥ (٤٢٩٧)، البیوع ٩١ (٤٦٧٠)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٩ (٢١٥٩)، ( تحفة الأشراف: ١٠٠١٠ و موطا امام مالک/البیوع ٢٩ (٦٨)، مسند احمد (١/١١٨، ١٢٠، ١٤٠، ١٤١) ویأتي عند المؤلف في البیوع ٤٦ (١٢٧٦)، والطب ٢٤ (٢٠٧١) (صحیح)
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی آدمی اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے اور نہ کوئی اپنے بھائی کے پیغام پر اپنا پیغام بھیجے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger said, ‘Let no man offer a price against his brother and let him not propose marriage to whom his brother has already done”. [Bukhari 2140, Muslim 1413, Abu Dawud 3438, Abu Dawud 3, Nisai 3236, Ibn e Majah 1867, T 1226]
صحيح، ابن ماجة (2172)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1134
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں سمرہ اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- مالک بن انس کہتے ہیں: آدمی کے اپنے بھائی کے پیغام پر اپنا پیغام بھیجنے کی ممانعت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نے کسی عورت کو پیغام دیا ہو اور وہ عورت اس سے راضی ہوگئی ہو، تو کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کے پیغام پر اپنا پیغام بھیجے، ٤- شافعی کہتے ہیں کہ اس حدیث کہ آدمی اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام نہ بھیجے کا مطلب ہمارے نزدیک یہ ہے کہ جب آدمی نے کسی عورت کو پیغام بھیجا ہو اور وہ عورت اس سے راضی ہوگئی ہو اور اس کی طرف مائل ہوگئی ہو تو ایسی صورت میں کسی کے لیے درست نہیں کہ وہ اس کے پیغام پر اپنا پیغام بھیجے، لیکن اس کی رضا مندی اور اس کا میلان معلوم ہونے سے پہلے اگر وہ اسے پیغام دے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس کی دلیل فاطمہ بنت قیس ؓ کی یہ حدیث ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر ذکر کیا کہ ابوجہم بن حذیفہ اور معاویہ بن ابی سفیان نے انہیں نکاح کا پیغام دیا ہے تو آپ نے فرمایا: ابوجہم کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اپنا ڈنڈا عورتوں سے نہیں اٹھاتے (یعنی عورتوں کو بہت مارتے ہیں ) رہے معاویہ تو وہ غریب آدمی ہیں ان کے پاس مال نہیں ہے، لہٰذا تم اسامہ بن زید سے نکاح کرلو ۔ ہمارے نزدیک اس حدیث کا مفہوم (اور اللہ بہتر جانتا ہے) یہ ہے کہ فاطمہ نے ان میں سے کسی ایک کے ساتھ بھی اپنی رضا مندی کا اظہار نہیں کیا تھا اور اگر وہ اس کا اظہار کر دیتیں تو اسے چھوڑ کر آپ انہیں اسامہ ؓ سے نکاح کا مشورہ نہ دیتے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٥٨ (٢١٤٠)، صحیح مسلم/النکاح ٦ (١٤١٣)، سنن ابی داود/ النکاح ١٨ (٢٠٨٠)، سنن النسائی/النکاح ٢٠ (٣٢٤١)، سنن ابن ماجہ/النکاح ١٠ (١٨٦٧)، والتجارات ١٣ (٢١٧٢)، ( تحفة الأشراف: ١٣١٢٣)، مسند احمد (٢/٢٣٨) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الشروط ٨ (٢٧٢٣)، والنکاح ٤٥ (٥١٤٤)، صحیح مسلم/النکاح (المصدر المذکور)، سنن النسائی/البیوع ١٦ (٤٤٩٦)، و ٢١ (٤٥١٠)، مسند احمد (٢/٢٧٤، ٣١١، ٣١٨، ٣٩٤، ٤١١، ٤٢٧، ٤٥٧، ٤٨٧، ٤٨٩، ٥٠٨، ٥١٦، ٥٢٩)، سنن الدارمی/النکاح ٧ (٢٢٢١)، (وانظر إیضا الارقام: ١١٩٠ و ١٢٢٢ و ١٣٠٤) من غیر ہذا الوجہ۔
ابوبکر بن ابی جہم کہتے ہیں کہ میں اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن دونوں فاطمہ بنت قیس ؓ کے پاس آئے انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ ان کے شوہر نے انہیں تین طلاق دے دی اور نہ ان کے لیے رہائش کا انتظام کیا اور نہ کھانے پینے کا۔ اور انہوں نے میرے لیے دس بوری غلہ، پانچ بوری جو کے اور پانچ گیہوں کے اپنے چچا زاد بھائی کے پاس رکھ دیں، تو میں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ نے فرمایا: انہوں نے ٹھیک کیا، اور مجھے آپ نے حکم دیا کہ میں ام شریک کے گھر میں عدت گزاروں ، پھر مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ام شریک کے گھر مہاجرین آتے جاتے رہتے ہیں۔ تم ابن ام مکتوم کے گھر میں عدت گزارو ۔ وہاں یہ بھی سہولت رہے گی کہ تم (سر وغیرہ سے) کپڑے اتارو گی تو تمہیں وہ نہیں دیکھ پائیں گے، پھر جب تمہاری عدت پوری ہوجائے اور کوئی تمہارے پاس پیغام نکاح لے کر آئے تو مجھے بتانا، چناچہ جب میری عدت پوری ہوگئی تو ابوجہم اور معاویہ نے مجھے پیغام بھیجا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: معاویہ تو ایسے آدمی ہیں کہ ان کے پاس مال نہیں، اور ابوجہم عورتوں کے لیے سخت واقع ہوئے ہیں ۔ پھر مجھے اسامہ بن زید ؓ نے پیغام بھیجا اور مجھ سے شادی کرلی۔ اللہ تعالیٰ نے اسامہ میں مجھے برکت عطا فرمائی۔
Mahmud ibn Ghaylan reported from Abu Dawood, from Shu’bah and he from Abu Bakr (RA) ibn Abu Jahm (RA) who narrated : I and Abu Salamah ibn Abdur Rahman (RA) visited Sayyidah Fatimah bint Qays (RA). She said to them that her husband had divorced her three times (irrevocably) without making arrangement for her lodging and provision though he had deposited for her with his cousin ten qafiz grain, of which five were barley and five wheat. She said, “I went to Allah’s Messenger ﷺ and mentioned that to him”. He said, “He has done right,” and he commanded her to spend her waiting period at the home of Sayyidah Umm Shairk (RA) . But, soon said to her, “The house of Umm Shairk is a house where the muhajirs gather, so pass your iddah (waiting period) at the home of Ibn Umm Maktum where if you have to undress, no one will see you. Then, when you have spent your iddah and anyone asks you to marry him, come to me”. When she had spent her iddah, she received proposal from Abu Jahm and Mu’awiyah. She went to Allah’s Messenger ﷺ and mentioned that to him. He said, “As for Mu’awiyah, he is a man with no property of his own. And as for Abu Jahm, he is a man severe on women’. Then, Sayyidina Usamah ibn Zayd proposed marriage to her, and he married her. And, Allah blessed her with Usamah. --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، الإرواء // 1804 // (6 / 209)، صحيح أبي داود (1976)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1135
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث صحیح ہے، ٢- اسے سفیان ثوری نے بھی ابوبکر بن ابی جہم سے اسی حدیث کی طرح روایت کیا ہے، اور اس میں انہوں نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ مجھ سے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اسامہ سے نکاح کرلو ۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطلاق ٦ (١٤٨٠)، سنن النسائی/الطلاق ١٥ (٣٤٤٧)، و ٧٢ (٣٥٨١)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ١٠ (٢٠٣٥)، ( تحفة الأشراف: ١٨٠٣٧) (صحیح) و أخرجہ کل من: صحیح مسلم/النکاح (المصدر المذکور)، سنن ابی داود/ الطلاق ٣٩ (٢٢٨٤)، سنن النسائی/النکاح ٨ (٣٢٢٤)، و ٢١ (٣٢٤٦)، والطلاق ٤ (٢٠٢٤)، و ٩ ٢٠٣٢)، موطا امام مالک/الطلاق ٢٣ (٦٧)، مسند احمد (٦/٤١٤، ٤١٥) سنن الدارمی/النکاح ٧ (٢٢٢٣)، والطلاق ١٠ (٢٣٢٠) من غیر ہذا الوجہ وانظر ما یأتي عند المؤلف برقم: ١١٨٠
جابر ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ عزل ١ ؎ کرتے تھے، تو یہودیوں نے کہا: قبر میں زندہ دفن کرنے کی یہ ایک چھوٹی صورت ہے۔ آپ نے فرمایا: یہودیوں نے جھوٹ کہا۔ اللہ جب اسے پیدا کرنا چاہے گا تو اسے کوئی روک نہیں سکے گا ٢ ؎۔
Sayyidina Jabir (RA) reported that they said, “O Messenger of Allah ﷺ We practice azi, but the Jews imagine that to be a minor killing”. He said, “The Jews lie. Indeed, if Allah intends to create someone, nothing prevents that”. [Ahmed 11288]
صحيح الآداب (52)، صحيح أبي داود (1887)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1136
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس باب میں عمر، براء اور ابوہریرہ، ابو سعید خدری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ عزل یہ ہے کہ جماع کے وقت انزال قریب ہو تو آدمی اپنا عضو تناسل شرمگاہ سے باہر نکال کر منی باہر نکال دے تاکہ عورت حاملہ نہ ہو۔ ٢ ؎: اس حدیث میں صرف اس بات کا بیان ہے کہ یہودیوں کا یہ خیال غلط ہے کیونکہ عزل کے باوجود جس نفس کی اس مرد و عورت سے تخلیق اللہ کو مقصود ہوتی ہے اس کی تخلیق ہو ہی جاتی ہے، جیسا کہ ایک صحابی نے لونڈی سے عزل کیا اس کے باوجود حمل ٹھہر گیا۔ اس لیے یہ «مودودۃ صغریٰ» نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/عشرة النساء (في الکبری) ( تحفة الأشراف: ٢٥٨٧) (صحیح)
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم عزل کرتے تھے اور قرآن اتر رہا تھا ١ ؎۔
Sayyidina Jabir (RA) aid, “During the period the Quran was revealed, we used to practice azi”. (He meant that the Prophet ﷺ did not forbid them to do so) [Ahmed 14322, Bukhari 5208, Muslim 1440, Ibn e Majah 1927]
صحيح، ابن ماجة (1927)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1137
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- جابر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہ حدیث اور بھی کئی طرق سے ان سے مروی ہے، ٣- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کی ایک جماعت نے عزل کی اجازت دی ہے۔ مالک بن انس کا قول ہے کہ آزاد عورت سے عزل کی اجازت لی جائے گی اور لونڈی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اگر عزل منع ہوتا تو اللہ تعالیٰ قرآن میں اس کی ممانعت نازل کردیتا، البتہ آزاد عورت سے اس کی اجازت کے بغیر عزل درست نہیں ہے، جیسا کہ امام مالک نے کہا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النکاح ٩٦ (٥٢٠٨، ٥٢٠٩)، صحیح مسلم/النکاح ٢٢ (١٤٤٠)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٣٠ (١٩٢٧)، ( تحفة الأشراف: ٢٤٦٨) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/النکاح ٩٦ (٥٢٠٧)، صحیح مسلم/النکاح (المصدر المذکور) من غیر ہذا الوجہ۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس عزل کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: تم میں سے کوئی ایسا کیوں کرتا ہے؟ ۔ ابن ابی عمر نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا ہے: اور آپ نے یہ نہیں کہا کہ تم میں سے کوئی ایسا نہ کرے ، اور ان دونوں نے اپنی حدیث میں یہ بھی کہا ہے کہ جس جان کو بھی اللہ کو پیدا کرنا ہے وہ اسے پیدا کر کے ہی رہے گا ۔
Sayyidina Abu Sa’eed (RA) reported that azl (coitus interruptus) was mentioed before Allah’s Messenger ﷺ . He asked, ‘Why does one of you do it?” Ibn Umar (RA) added in his version that the Prophet ﷺ did not say, “Let not any of you do it,” and their hadith continues. The Prophet ﷺ said, “There is no creation but that Allah is its Creator”. (which is to be created will come into existence). [Bukhari 7409, Muslim 1438, Abu Dawud 1141]
صحيح الآداب (54 - 55)، صحيح أبي داود (1886)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1138
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابو سعید خدری ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہ اس کے علاوہ اور بھی طرق سے ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے، ٣- اس باب میں جابر ؓ سے بھی روایت ہے، ٤- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کی ایک جماعت نے عزل کو مکروہ قرار دیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: عزل کے جواز اور عدم جواز کی بابت حتمی بات یہ ہے کہ یہ ہے تو جائز مگر نامناسب کام ہے، خصوصا جب عزل کے باوجود کبھی نطفہ رحم کے اندر چلا ہی جاتا ہے، اور حمل ٹھہر جاتا ہے۔ تو کیوں خواہ مخواہ یہ عمل کیا جائے۔ «واللہ اعلم»
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التوحید ١٨ (تعلیقا عقب الحدیث رقم: ٧٤٠٩)، صحیح مسلم/النکاح ٢٢ (١٤٣٨)، سنن ابی داود/ النکاح ٤٩ (٢١٧٠) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/البیوع ١٠٩ (٢٢٢٩)، و العتق ١٣ (٢٥٤٢)، والمغازي ٣٢ (٤١٣٨)، والنکاح ٩٦ (٥٢١٠)، و القدر ٦ (٦٦٠٣)، والتوحید ١٨ (٧٤٠٩)، صحیح مسلم/النکاح (المصدر المذکور)، موطا امام مالک/الطلاق ٣٤ (٩٥)، مسند احمد (٣/٢٢، ٢٦، ٤٧، ٤٩، ٥١، ٥٣، ٥٩، ٨٦)، سنن الدارمی/النکاح ٣٦ (٢٢٦٩) من غیر ہذا الوجہ وبعضہم بتغیر یسیر في السیاق۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ اگر میں چاہوں تو کہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لیکن انہوں نے صرف اتنا کہا: سنت ١ ؎ یہ ہے کہ آدمی جب اپنی بیوی کے ہوتے ہوئے کسی کنواری سے شادی کرے تو اس کے ہاں سات رات ٹھہرے، اور جب غیر کنواری سے شادی کرے تو اس کے ہاں تین رات ٹھہرے ۔
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA)said: If you wish that I say that Allah’s Messenger ﷺ said but, I say, “It is sunnah that when a married man marries a virgin he should live with her seven days and when he marries a widow then he should live with her three days. [Ahmed 12970, Bukhari 5213, Muslim 1461, Abu Dawud 2124, Ibn e Majah 779] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (1916)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1139
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- انس کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اسے محمد بن اسحاق نے مرفوع کیا ہے، انہوں نے بسند «ایوب عن ابی قلابہ عن انس» روایت کی ہے اور بعض نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے، ٣- اس باب میں ام سلمہ ؓ سے بھی روایت ہے، ٤- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب آدمی اپنی بیوی کے ہوتے ہوئے کسی اور کنواری سے شادی کرے، تو اس کے پاس سات رات ٹھہرے، پھر اس کے بعد ان کے درمیان باری تقسیم کرے، اور پہلی بیوی کے ہوتے ہوئے جب کسی غیر کنواری (بیوہ یا مطلقہ) سے شادی کرے تو اس کے پاس تین رات ٹھہرے۔ مالک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ٥- تابعین میں سے بعض اہل علم نے کہا کہ جب کوئی اپنی بیوی کے ہوتے ہوئے کنواری سے شادی کرے تو وہ اس کے پاس تین رات ٹھہرے اور جب غیر کنواری سے شادی کرے تو اس کے ہاں دو رات ٹھہرے۔ لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: صحابی کا سنت یہ ہے کہنا بھی حدیث کے مرفوع ہونے کا اشارہ ہے، تمام ائمہ کا یہی قول ہے۔