ابومسعود انصاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کتے کی قیمت ١ ؎، زانیہ کی کمائی ٢ ؎ اور کاہن کی مٹھائی ٣ ؎ سے منع فرمایا ہے۔
Sayyidina Abu Masud Ansari (RA)reported that Allah’s Messenger ﷺ forbade (taking) the price of dogs, remuneration of an adultress and sweets of the soothsayers. [Ahmed 17069, Bukhari 2237, Muslim 1567, Abu Dawud 3428, Nisai 3680, Tirmidhi 1276]
صحيح، ابن ماجة (2590)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1133
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابومسعود انصاری ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں رافع بن خدیج، ابوجحیفہ، ابوہریرہ، اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کتا نجس ہے اس لیے اس سے حاصل ہونے والی قیمت بھی ناپاک ہوگی، اس کی نجاست کا حال یہ ہے کہ شریعت نے اس برتن کو جس میں کتا منہ ڈال دے سات مرتبہ دھونے کا حکم دیا جس میں ایک مرتبہ مٹی سے دھونا بھی شامل ہے، اسی سبب سے کتے کی خرید و فروخت اور اس سے فائدہ اٹھانا منع ہے، الا یہ کہ کسی اشد ضرورت مثلاً گھر جائیداد اور جانوروں کی حفاظت کے لیے ہو۔ ٢ ؎: چونکہ زنا کبیرہ گناہ اور فحش امور میں سے ہے اس لیے اس سے حاصل ہونے والی اجرت بھی ناپاک اور حرام ہے اس میں کوئی فرق نہیں کہ زانیہ لونڈی ہو یا آزاد عورت۔ ٣ ؎: علم غیب اللہ رب العالمین کے لیے خاص ہے، اس کا دعویٰ کرنا عظیم گناہ ہے، اسی طرح اس دعویٰ کی آڑ میں کاہن اور نجومی عوام سے باطل طریقے سے جو مال حاصل کرتے ہیں وہ بھی حرام ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ١١٣ (٢٢٣٧)، والاجارة ٢٠ (٢٢٨٢)، والطلاق ٥١ (٥٣٤٦)، والطب ٤٦ (٥٧٦١)، صحیح مسلم/المساقاة ٩ (البیوع ٣٠)، (١٥٦٧)، سنن ابی داود/ البیوع ٤١ (٣٤٢٨)، و ٦٥ (٣٤٨١)، سنن النسائی/الصید والذبائح ١٥ (٤٢٩٧)، البیوع ٩١ (٤٦٧٠)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٩ (٢١٥٩)، ( تحفة الأشراف: ١٠٠١٠ و موطا امام مالک/البیوع ٢٩ (٦٨)، مسند احمد (١/١١٨، ١٢٠، ١٤٠، ١٤١) ویأتي عند المؤلف في البیوع ٤٦ (١٢٧٦)، والطب ٢٤ (٢٠٧١) (صحیح)