Sunan At-Tirmidhi 1121

نکاح کا بیان

1121Sunan At-Tirmidhi

نکاح متعہ

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، وَالْحَسَنِ ابني محمد بن علي، عَنْ أَبِيهِمَا، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ زَمَنَ خَيْبَرَ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، وَإِنَّمَا رُوِيَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ شَيْءٌ مِنَ الرُّخْصَةِ فِي الْمُتْعَةِ، ثُمَّ رَجَعَ عَنْ قَوْلِهِ حَيْثُ أُخْبِرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمْرُ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى تَحْرِيمِ الْمُتْعَةِ، وَهُوَ قَوْلُ: الثَّوْرِيِّ، وَابْنِ الْمُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.

علی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے خیبر کی فتح کے وقت عورتوں سے متعہ ١ ؎ کرنے سے اور گھریلو گدھوں کے گوشت کھانے سے منع فرمایا۔

Sayyidina Ali ibn Abu Talib reported that the Prophet ﷺ forbade Mutah (temporary marriage) of women, and the consuming of the flesh of domestic asses. This was during the Battle of Khaybar. [Bukhari 5115, Muslim 1406, Nisai 2262, Ibn e Majah 1961]

صحيح، ابن ماجة (1961)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1121
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- علی ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں سبرہ جہنی اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے، البتہ ابن عباس سے کسی قدر متعہ کی اجازت بھی روایت کی گئی ہے، پھر انہوں نے اس سے رجوع کرلیا جب انہیں نبی اکرم ﷺ کے بارے میں اس کی خبر دی گئی۔ اکثر اہل علم کا معاملہ متعہ کی حرمت کا ہے، یہی ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: عورتوں سے مخصوص مدت کے لیے نکاح کرنے کو نکاح متعہ کہتے ہیں، پھر علی ؓ نے خیبر کے موقع سے گھریلو گدھوں کی حرمت کے ساتھ متعہ کی حرمت کا ذکر کیا ہے یہاں مقصد متعہ کی حرمت کی تاریخ نہیں بلکہ ان دو حرام چیزوں کا تذکرہ ہے متعہ کی اجازت واقعہ اوطاس میں دی گئی تھی۔ حرام ہوگیا، اور اب اس کی حرمت قیامت تک کے لیے ہے، ائمہ اسلام اور علماء سلف کا یہی مذہب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٣٨ (٤٢١٦)، والنکاح ٣١ (٥١١٥)، والذبائح ٢٨ (٥٥٣٣)، والحیل ٤ (٦٩٦١)، صحیح مسلم/النکاح ٣ (١٤٠٧)، الصید والذبائح ٥ (١٤٠٧)، سنن النسائی/النکاح ٧١ (٣٣٦٧)، والصید ٣١ (٤٣٣٩)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٤٤ (١٩٦١)، موطا امام مالک/النکاح ٧١ (٤١)، مسند احمد (١/٧٩)، سنن الدارمی/النکاح ١٦ (٢٢٤٣) ویأتي عند المؤلف في الأطعمة ٦ (١٧٩٤) (صحیح)