جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے ایک عورت سے شادی کی پھر میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ نے پوچھا: جابر! کیا تم نے شادی کی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں کی ہے، آپ نے فرمایا: کسی کنواری سے یا بیوہ سے؟ میں نے کہا: نہیں، غیر کنواری سے۔ آپ نے فرمایا: کسی (کنواری) لڑکی سے شادی کیوں نہیں کی، تو اس سے کھیلتا اور وہ تجھ سے کھیلتی؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! (میرے والد) عبداللہ کا انتقال ہوگیا ہے، اور انہوں نے سات یا نو لڑکیاں چھوڑی ہیں، میں ایسی عورت کو بیاہ کر لایا ہوں جو ان کی دیکھ بھال کرسکے۔ چناچہ آپ نے میرے لیے دعا فرمائی۔
Sayyidina Jabir ibn Abdullah ‘ narrated I married a woman and then came to the Prophet ﷺ 3i L- . He asked, “Have you married, O Jabir?” I said, “Yes!” He asked, “A virgin or a widow?” I said, “Rather, a widow”. He said, “Why not a young girl? You would have played with her and she with you”. I said, “O Messenger of Allah! ﷺ Indeed Abdullah has died and left behind seven daughters, or nine. So, I took one who may look after them”. So, he prayed for me. [Ahmed 14966, Bukhari 5367, M715, Nisai 3216]
صحيح، الإرواء (178)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1100
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- جابر بن عبداللہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابی بن کعب اور کعب بن عجرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ولی کے بغیر نکاح نہیں ١ ؎۔
Sayyidina Abu Musa (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Marriage is not performed if the (consent of the) guardian is not there”. [Ahmed 19535, Abu Dawud 2085, Ibn e Majah 1881] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (1881)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1101
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس باب میں عائشہ، ابن عباس، ابوہریرہ، عمران بن حصین اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ابوموسیٰ اشعری کی حدیث پر مولف کا مفصل کلام اگلے باب میں آ رہا ہے) ۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہوتا، جمہور کے نزدیک نکاح کے لیے ولی اور دو گواہ ضروری ہیں، ولی سے مراد باپ ہے، باپ کی غیر موجودگی میں دادا پھر بھائی پھر چچا ہے، اگر کسی کے پاس دو ولی ہوں اور نکاح کے موقع پر اختلاف ہوجائے تو ترجیح قریبی ولی کو حاصل ہوگی اور جس کا کوئی ولی نہ ہو تو ( مسلم ) حاکم اس کا ولی ہوگا، اور جہاں مسلم حاکم نہ ہو وہاں گاؤں کے باحیثیت مسلمان ولی ہوں گے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اگر اس نے اس سے دخول کرلیا ہے تو اس کی شرمگاہ حلال کرلینے کے عوض اس کے لیے مہر ہے، اور اگر اولیاء میں جھگڑا ہوجائے تو جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کا ولی حاکم ہوگا ١ ؎۔
Sayyidah Ayshah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If any woman marries without the consent of her guardian then her marriage is void. Her marriage is void. Her marriage is void. If he cohabits with her then for her is the dower with which her immodesty is turned lawful. And if they dispute with one another then the ruler is the guardian of one who has no gurardian”. [Ahmed 24426, Abu Dawud 2083, Ibn e Majah 1879]
**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1102
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- یحییٰ بن سعید انصاری، یحییٰ بن ایوب، سفیان ثوری، اور کئی حفاظ حدیث نے اسی طرح ابن جریج سے روایت کی ہے، ٣- ابوموسیٰ اشعری ؓ کی (پچھلی) حدیث میں اختلاف ہے، اسے اسرائیل، شریک بن عبداللہ، ابو عوانہ، زہیر بن معاویہ اور قیس بن ربیع نے بسند «أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسیٰ عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے، ٤- اور اسباط بن محمد اور زید بن حباب نے بسند «يونس بن أبي إسحق عن أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسیٰ عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے، ٥- اور ابوعبیدہ حداد نے بسند «يونس بن أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسیٰ عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے، اس میں انہوں نے ابواسحاق کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے، ٦- نیز یہ حدیث یونس بن ابی اسحاق سے بھی روایت کی گئی ہے انہوں نے بسند «أبي إسحق عن أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسیٰ عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے، ٧- اور شعبہ اور سفیان ثوری بسند «أبي إسحق عن أبي بردة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے کہ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے ، اور سفیان ثوری کے بعض تلامذہ نے بسند «سفيان عن أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسی» روایت کی ہے، لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔ ان لوگوں کی روایت، جنہوں نے بطریق: «أبي إسحق عن أبي بردة عن أبي موسیٰ عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے کہ ولی کے بغیر نکاح نہیں میرے نزدیک زیادہ صحیح ہے، کیونکہ ابواسحاق سبیعی سے ان لوگوں کا سماع مختلف اوقات میں ہے اگرچہ شعبہ اور ثوری ابواسحاق سے روایت کرنے والے تمام لوگوں سے زیادہ پختہ اور مضبوط حافظہ والے ہیں پھر بھی ان لوگوں (یعنی شعبہ و ثوری کے علاوہ دوسرے رواۃ) کی روایت اشبہ (قریب تر) ہے۔ اس لیے کہ شعبہ اور ثوری دونوں نے یہ حدیث ابواسحاق سے ایک ہی مجلس میں سنی ہے، (اور ان کے علاوہ رواۃ نے مختلف اوقات میں) اس کی دلیل شعبہ کا یہ بیان ہے کہ میں نے سفیان ثوری کو ابواسحاق سے پوچھتے سنا کہ کیا آپ نے ابوبردہ کو کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ولی کے بغیر نکاح نہیں؟ تو انہوں نے کہا: ہاں (سنا ہے) ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ شعبہ اور ثوری کا مکحول سے اس حدیث کا سماع ایک ہی وقت میں ہے۔ اور ابواسحاق سبیعی سے روایت کرنے میں اسرائیل بہت ہی ثقہ راوی ہیں۔ عبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں کہ مجھ سے ثوری کی روایتوں میں سے جنہیں وہ ابواسحاق سے روایت کرتے ہیں، کوئی روایت نہیں چھوٹی، مگر جو چھوٹی ہیں وہ صرف اس لیے چھوٹی ہیں کہ میں نے اس سلسلے میں اسرائیل پر بھروسہ کرلیا تھا، اس لیے کہ وہ ابواسحاق کی حدیثوں کو بطریق اتم بیان کرتے تھے۔ اور اس باب میں عائشہ ؓ کی نبی اکرم ﷺ سے حدیث: بغیر ولی کے نکاح نہیں میرے نزدیک حسن ہے۔ یہ حدیث ابن جریج نے بطریق: «سليمان بن موسی، عن الزهري، عن عروة، عن عائشة، عن النبي صلی اللہ عليه وسلم»، نیز اسے حجاج بن ارطاۃ اور جعفر بن ربیعہ نے بھی بطریق: «الزهري، عن عروة، عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے۔ نیز زہری نے بطریق: «هشام بن عروة، عن أبيه عروة، عن عائشة، عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» اسی کے مثل روایت کی ہے۔ بعض محدثین نے زہری کی روایت میں (جسے انہوں نے بطریق: «عروة عن عائشة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے) کلام کیا ہے، ابن جریج کہتے ہیں: پھر میں زہری سے ملا اور میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے اس کا انکار کیا اس کی وجہ سے ان لوگوں نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا۔ یحییٰ بن معین کہتے ہیں کہ ابن جریج سے اس بات کو اسماعیل بن ابراہیم بن علیہ کے علاوہ کسی اور نے نہیں نقل کیا ہے، یحییٰ بن معین کہتے ہیں: اسماعیل بن ابراہیم بن علیہ کا سماع ابن جریج سے نہیں ہے، انہوں نے اپنی کتابوں کی تصحیح عبدالمجید بن عبدالعزیز بن ابی رواد کی ان کتابوں سے کی ہے جنہیں عبدالمجید نے ابن جریج سے سنی ہیں۔ یحییٰ بن معین نے اسماعیل بن ابراہیم بن علیہ کی روایت کو جسے انہوں نے ابن جریج سے روایت کی ہے ضعیف قرار دیا ہے۔ ٨- صحابہ کرام میں سے اہل علم کا عمل اس باب میں نبی اکرم ﷺ کی حدیث «لا نکاح إلا بولي» ولی کے بغیر نکاح نہیں پر ہے جن میں عمر، علی، عبداللہ بن عباس اور ابوہریرہ ؓ وغیرہ بھی شامل ہیں، اسی طرح بعض فقہائے تابعین سے مروی ہے کہ ولی کے بغیر نکاح درست نہیں۔ ان میں سعید بن مسیب، حسن بصری، شریح، ابراہیم نخعی اور عمر بن عبدالعزیز وغیرہ ہیں۔ یہی سفیان ثوری، اوزاعی، عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مثلاً عورت کے دو ولی ہیں ایک کسی کے ساتھ اس کا نکاح کرنا چاہے اور دوسرا کسی دوسرے کے ساتھ اور عورت نابالغ ہو اور یہ اختلاف نکاح ہونے میں اڑے آئے تو ایسی صورت میں یہ فرض کر کے کہ گویا اس کا کوئی ولی نہیں ہے سلطان اس کا ولی ہوگا، ورنہ ولی کی موجودگی میں سلطان کو ولایت کا حق حاصل نہیں۔ چونکہ ہندوستان میں مسلمان سلطان ( اور اس کے مسلمان نائب ) کا وجود نہیں ہے اس لیے گاؤں کے مسلمان پنچ ولی ہوں گے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ النکاح ٢٠ (٢٠٨٣)، سنن ابن ماجہ/النکاح ١٥ (١٨٧٩)، مسند احمد (٦/٦٦، ١٦٦)، سنن الدارمی/النکاح ١١ (٢٢٣٠) (صحیح)
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: زنا کار ہیں وہ عورتیں جو گواہوں کے بغیر خود نکاح کرلیتی ہیں ۔ یوسف بن حماد کہتے ہیں کہ عبدالاعلی نے اس حدیث کو کتاب التفسیر میں مرفوع بیان کیا ہے اور کتاب الطلاق میں اسے انہوں نے موقوفاً بیان کیا ہے، مرفوع نہیں کیا ہے۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “They are adultresses who marry without witnesses”. Yusuf ibn Hammad said that Abdul Ala traced this hadith to the Prophet ﷺ (marfu’) in his tafsir, but related it mawquf in the Book of Talaq (Divorce) without making it marfu’.
ضعيف، الإرواء (1862) // ضعيف الجامع الصغير (2375) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1103
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٥٣٨٧) (ضعیف) (مؤلف نے سبب کی وضاحت کر سنن الدارمی/ ہے، مگر دوسرے نصوص سے گواہ کا واجب ہونا ثابت ہے)
اس سند سے بھی سعید بن ابی عروبہ نے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا۔ اور یہی زیادہ صحیح ہے۔
Qutaybah reported from Ghundar who from Sa’eed the like of it, but did not make it marfu’, and that is sahih. --------------------------------------------------------------------------------
**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1104
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غیر محفوظ ہے، ٢- ہم کسی کو نہیں جانتے جس نے اسے مرفوع کیا ہو سوائے اس کے جو عبدالاعلیٰ سے مروی ہے انہوں نے سعید بن ابی عروبہ سے اور سعید نے قتادہ سے مرفوعاً روایت کی ہے، ٣- اور عبدالاعلیٰ سے سعید بن ابی عروبہ کے واسطے سے یہ موقوفا بھی مروی ہے۔ اور صحیح وہ ہے جو ابن عباس کے قول سے مروی ہے کہ بغیر گواہ کے نکاح نہیں، خود ابن عباس کا قول ہے، ٤- اسی طرح سے اور کئی لوگوں نے بھی سعید بن ابی عروبہ سے اسی طرح کی روایت موقوفاً کی ہے، ٥- اس باب میں عمران بن حصین، انس اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٦- صحابہ کرام اور تابعین وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ بغیر گواہ کے نکاح درست نہیں۔ پہلے کے لوگوں میں اس سلسلے میں کوئی اختلاف نہیں تھا لیکن متاخرین اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے اس میں اختلاف کیا ہے، ٧- اہل علم میں اس سلسلے میں اختلاف ہے جب ایک دوسرے کے بعد گواہی دے یعنی دونوں بیک وقت مجلس نکاح میں حاضر نہ ہوں تو کوفہ کے اکثر اہل علم کا کہنا ہے کہ نکاح اسی وقت درست ہوگا جب عقد نکاح کے وقت دونوں گواہ ایک ساتھ موجود ہوں، ٨- اور بعض اہل مدینہ کا خیال ہے کہ جب ایک کے بعد دوسرے کو گواہ بنایا گیا ہو تو بھی جائز ہے جب وہ اس کا اعلان کردیں۔ یہ مالک بن انس وغیرہ کا قول ہے۔ اسی طرح کی بات اسحاق بن راہویہ نے بھی کہی ہے جو اہل مدینہ نے کہی ہے، ٩- اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ نکاح میں ایک مرد اور دو عورتوں کی شہادت جائز ہے، یہ احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (ضعیف) (سعید بن ابی عروبہ اور قتادہ دونوں مدلس ہیں اور روایت عنعنہ ہے)
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز کے تشہد اور حاجت کے تشہد کو (الگ الگ) سکھایا، وہ کہتے ہیں صلاۃ کا تشہد یہ ہے: «التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة اللہ وبرکاته السلام علينا وعلی عباد اللہ الصالحين أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» تمام زبانی، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ اے نبی: سلامتی ہو آپ پر اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں۔ سلامتی ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، اور حاجت کا تشہد یہ ہے: «إن الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا فمن يهده اللہ فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، ہم اسی سے مدد چاہتے ہیں اور اسی سے مغفرت طلب کرتے ہیں، ہم اپنے دلوں کی شرارتوں اور برے اعمال سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں، جسے اللہ ہدایت دیدے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے گمراہ کر دے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ اور پھر آپ تین آیتیں پڑھتے۔ عبثر (راوی حدیث) کہتے ہیں: تو ہمیں سفیان ثوری نے بتایا کہ وہ تینوں آیتیں یہ تھی: «يا أيها الذين آمنوا اتقوا اللہ حق تقاته ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون» اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا ڈرنے کا حق ہے اور حالت اسلام ہی میں مرو (آل عمران: ١٠٢) ، «واتقوا اللہ الذي تساءلون به والأرحام إن اللہ کان عليكم رقيبا» اللہ سے ڈرو، جس کے نام سے تم سوال کرتے ہو اور جس کے واسطے سے ناطے جوڑتے ہو، بلاشبہ اللہ تمہارا نگہبان ہے (النساء: ١) ، «يا أيها الذين آمنوا اتقوا اللہ وقولوا قولا سديدا» اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اور راست اور پکی بات کہو (الأحزاب: ٧٠) ۔
Sayyidina Abdullah (RA) said : Allah’s Messenger ﷺ taught us the tashahhud for the salah and the tashahhud for some need. The tashahhud in salah is: All adorations of the tongue are for Allah, as also those of the body and wealth or good things. Peace be on you, O Prophet, and Allah’s mercy and His blessings. Peace be on us and on all righteous slaves of Allah. I bear witness that there is no God but Allah and I bear witness that Muhammad is His slave and His Messenger. And, the tashahhud in case of need, like marriage, is: All praise belongs to Allah. We ask Him for help and seek His forgiveness. And we seek refuge in Allah from the evils of our ownselves, and (from) our wicked deeds. He whom Allah guides, none can send astray, and he whom He leaves to stray, there is no guide for him. And I testify that there is no God but Allah, and I testify that Muhammad is His slave and His Messenger”. Then three verses of the Qur’an are recited. Abthar said that Suf yan Thawri specified them: “(O you who Believe)O Fear Allah as He should be feared, and die not save you be Muslims. (3: 102) (O mankind!) Fear your Lord, Who created you from a single person, and from him He created his mate, and from the twain He spread abroad many men and women. So fear Allah by whom you demand (you rights) of one another, and fear (breaking) kinship of wombs. Surely Allah is ever watchful over you. (4: 1) (O you who believe!) Fear Allah and speak words straight to the point. He will set right your deeds for you and will forgive your sins, and whosoever obeys Allah and His Messenger, he indeed hasgained a mighty trimph. (33: 70-71) [Ahmed 3877, Abu Dawud 2118, Muslim 3274, Ibn e Majah 1892]
صحيح، ابن ماجة (1892)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1105
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- اسے اعمش نے بطریق: «أبي إسحق عن أبي الأحوص عن عبد اللہ عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کیا ہے۔ نیز اسے شعبہ نے بطریق: «أبي إسحق عن أبي عبيدة عن عبد اللہ عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کیا ہے، اور یہ دونوں طریق صحیح ہیں، اس لیے کہ اسرائیل نے دونوں کو جمع کردیا ہے، یعنی «عن أبي إسحق عن أبي الأحوص وأبي عبيدة عن عبد اللہ بن مسعود عن النبي صلی اللہ عليه وسلم»، ٣- اس باب میں عدی بن حاتم ؓ سے بھی روایت ہے، ٤- اہل علم نے کہا ہے کہ نکاح بغیر خطبے کے بھی جائز ہے۔ اہل علم میں سے سفیان ثوری وغیرہ کا یہی قول ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایسے سبھی خطبے جس میں تشہد نہ ہو اس ہاتھ کی طرح ہیں جس میں کوڑھ ہو ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘Every sermon that lacks tashahhud is like the hand of a leper.” [Ahmed 8526, Abu Dawud 4841] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح الأجوبة الناقصة (48)، تمام المنة - التحقيق الثاني -صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1106
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «ثیبہ» (شوہر دیدہ عورت خواہ بیوہ ہو یا مطلقہ) کا نکاح نہ کیا جائے جب تک کہ اس کی رضا مندی ١ ؎ حاصل نہ کرلی جائے، اور کنواری ٢ ؎ عورت کا نکاح نہ کیا جائے جب تک کہ اس کی اجازت نہ لے لی جائے اور اس کی اجازت خاموشی ہے ٣ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “A widow is not married till She is consulted. And a virgin is not married till her permission is sought. Her permission is silence”. [Ahmed 9611, Bukhari 5136, Muslim 1419, Nisai 5611, Ibn e Majah 1871]
صحيح، ابن ماجة (1871)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1107
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عمر، ابن عباس، عائشہ اور عرس بن عمیرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ «ثیبہ» (شوہر دیدہ) کا نکاح اس کی رضا مندی حاصل کیے بغیر نہیں کیا جائے گا۔ اگر اس کے باپ نے اس کی شادی اس کی رضا مندی کے بغیر کردی اور اسے وہ ناپسند ہو تو تمام اہل علم کے نزدیک وہ نکاح منسوخ ہوجائے گا، ٤- کنواری لڑکیوں کے باپ ان کی شادی ان کی اجازت کے بغیر کردیں تو اہل علم کا اختلاف ہے۔ کوفہ وغیرہ کے اکثر اہل علم کا خیال ہے کہ باپ اگر کنواری لڑکی کی شادی اس کی اجازت کے بغیر کر دے اور وہ بالغ ہو اور پھر وہ اپنے والد کی شادی پر راضی نہ ہو تو نکاح منسوخ ہوجائے گا ٤ ؎، ٥- اور بعض اہل مدینہ کہتے ہیں کہ کنواری کی شادی اگر باپ نے کردی ہو تو درست ہے گو وہ اسے ناپسند ہو، یہ مالک بن انس، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے ٥ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: رضا مندی کا مطلب اذن صریح ہے۔ ٢ ؎: کنواری سے مراد بالغہ کنواری ہے۔ ٣ ؎: اس میں اذن صریح کی ضرورت نہیں خاموشی کافی ہے کیونکہ کنواری بہت شرمیلی ہوتی ہے، عام طور سے وہ اس طرح کی چیزوں میں بولتی نہیں خاموش ہی رہتی ہے۔ ٤ ؎: ان لوگوں کی دلیل ابن عباس کی روایت «أن جارية بکراً أتت النبي صلی اللہ عليه وسلم فذکرت أن أباها زوجها وهي كارهة فخيرها النبي صلی اللہ عليه وسلم» ہے۔ ٥ ؎: ان لوگوں نے ابن عباس کی حدیث جو آگے آرہی ہے «الایم احق بنفسہا من ولیہا» کے مفہوم مخالف سے استدلال کیا ہے، اس حدیث کا مفہوم مخالف یہ ہوا کہ باکرہ ( کنواری ) کا ولی اس کے نفس کا اس سے زیادہ استحقاق رکھتا ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ «ثیبہ» (شوہر دیدہ) عورت اپنے آپ پر اپنے ولی سے زیادہ استحقاق رکھتی ہے ١ ؎ اور کنواری سے بھی اجازت طلب کی جائے گی اور اس کی اجازت اس کی خاموشی ہے ٢ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “A widow has more right to her person than her guardian while a virgin’s consent must be sought, her consent being her silence”. [Muslim 1421, Abu Dawud 2098, Nisai 3257, Ibn e Majah 1870] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (1870)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1108
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- شعبہ اور ثوری نے اسے مالک بن انس سے روایت کیا ہے، ٣- بعض لوگوں نے بغیر ولی کے نکاح کے جواز پر اسی حدیث سے دلیل لی ہے۔ حالانکہ اس حدیث میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو اس کی دلیل بنے۔ اس لیے کہ ابن عباس سے کئی اور طرق سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ولی کے بغیر نکاح درست نہیں ۔ نبی اکرم ﷺ کے بعد ابن عباس نے بھی یہی فتویٰ دیا کہ ولی کے بغیر نکاح درست نہیں، ٤- اور «الأيم أحق بنفسها من وليها» کا مطلب اکثر اہل علم کے نزدیک یہ ہے کہ ولی ثیبہ کا نکاح اس کی رضا مندی اور اس سے مشورہ کے بغیر نہ کرے۔ اگر اس نے ایسا کیا تو خنساء بنت خدام کی حدیث کی رو سے نکاح فسح ہوجائے گا۔ ان کے والد نے ان کی شادی کردی، اور وہ شوہر دیدہ عورت تھیں، انہیں یہ شادی ناپسند ہوئی تو نبی اکرم ﷺ نے ان کے نکاح کو فسخ کردیا۔
Notes · وضاحت
١ ؎: لفظ «أحق» مشارکت کا متقاضی ہے، گویا غیر کنواری عورت اپنے نکاح کے سلسلہ میں جس طرح حقدار ہے اسی طرح اس کا ولی بھی حقدار ہے یہ اور بات ہے کہ ولی کی نسبت اسے زیادہ حق حاصل ہے کیونکہ ولی کی وجہ سے اس پر جبر نہیں کیا جاسکتا جب کہ خود اس کی وجہ سے ولی پر جبر کیا جاسکتا ہے، چناچہ ولی اگر شادی سے ناخوش ہے اور اس کا منکر ہے تو بواسطہ قاضی ( حاکم ) اس کا نکاح ہوگا، اس توضیح سے یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ حدیث «لا نکاح إلا بولي» کے منافی نہیں ہے۔ ٢ ؎: اور اگر منظور نہ ہو تو کھل کر بتادینا چاہیئے کہ مجھے یہ رشتہ پسند نہیں ہے تاکہ والدین اس کے لیے دوسرا رشتہ منتخب کریں یا اسے مطمئن کریں۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یتیم لڑکی سے اس کی رضا مندی حاصل کی جائے گی، اگر وہ خاموش رہی تو یہی اس کی رضا مندی ہے، اور اگر اس نے انکار کیا تو اس پر (زبردستی کرنے کا) کوئی جواز نہیں ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “An orphan girl should be consulted about herself. If she oberves silence, that signifies her consent, but if she rejects then there is no compulsion over her”. [Ahmed 7531, Abu Dawud 2093] --------------------------------------------------------------------------------
حسن صحيح، الإرواء (1834)، صحيح أبي داود (1825)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1109
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں ابوموسیٰ، ابن عمر، اور عائشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- یتیم لڑکی کی شادی کے سلسلے میں اہل علم نے اختلاف کیا ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے: یتیم لڑکی کی جب شادی کردی جائے تو نکاح موقوف رہے گا۔ یہاں تک کہ وہ بالغ ہوجائے۔ جب وہ بالغ ہوجائے گی، تو اسے نکاح کو باقی رکھنے یا اسے فسخ کردینے کا اختیار ہوگا۔ یہی بعض تابعین اور دیگر علماء کا بھی قول ہے، ٤- اور بعض کہتے ہیں: یتیم لڑکی کا نکاح جب تک وہ بالغ نہ ہوجائے، درست نہیں اور نکاح میں «خیار» جائز نہیں، اور اہل علم میں سے سفیان ثوری، شافعی وغیرہم کا یہی قول ہے، ٥- احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ جب یتیم لڑکی نو سال کی ہوجائے اور اس کا نکاح کردیا جائے، اور وہ اس پر راضی ہو تو نکاح درست ہے اور بالغ ہونے کے بعد اسے اختیار نہیں ہوگا۔ ان دونوں نے عائشہ کی اس حدیث سے دلیل لی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے جب ان کے ساتھ شب زفاف منائی، تو وہ نو برس کی تھیں۔ اور عائشہ ؓ کا قول ہے کہ لڑکی جب نو برس کی ہوجائے تو وہ عورت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی بالغ ہونے کے بعد انکار کرنے پر۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٥٠٤٥) (حسن صحیح) وأخرجہ کل من: سنن ابی داود/ النکاح ٢٤ (٢٠٩٣)، سنن النسائی/النکاح ٣٦ (٣٢٧٠)، مسند احمد (٢/٢٥٩، ٤٧٥) من غیر ہذا الوجہ۔
سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس عورت کی شادی دو ولی الگ الگ جگہ کردیں تو وہ ان میں سے پہلے کے لیے ہوگی، اور جو شخص کوئی چیز دو آدمیوں سے بیچ دے تو وہ بھی ان میں سے پہلے کی ہوئی ۔
Sayyidina Samurah ibn Jundub reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘If two guardians have given a woman in marriage then she belongs to the first of the two. And if anyone sells something to two men then it goes to the first of them”. [Ahmed 20106, Abu Dawud 2088, Nisai 4696, Ibn e Majah 2344]
ضعيف، الإرواء (1853)، أحاديث البيوع // ضعيف الجامع الصغير (2224)، ضعيف أبي داود (449 / 2088) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1110
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اس سلسلے میں ہمیں علماء کے درمیان کسی اختلاف کا علم نہیں ہے۔ دو ولی میں سے ایک ولی جب دوسرے سے پہلے شادی کر دے تو پہلے کا نکاح جائز ہوگا، اور دوسرے کا نکاح فسخ قرار دیا جائے گا، اور جب دونوں نے ایک ساتھ نکاح (دو الگ الگ شخصوں سے) کیا ہو تو دونوں کا نکاح فسخ ہوجائے گا۔ یہی ثوری، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ النکاح ٢٢ (٢٠٨٨)، سنن النسائی/البیوع ٩٦ (٤٦٨٦)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٢١ (٢١٩)، ( تحفة الأشراف: ٤٥٨٢)، مسند احمد (٥/٨، ١١)، سنن الدارمی/النکاح ١٥ (٢٢٣٩) (ضعیف) (حسن بصری مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے کی ہے، نیز حسن کے سمرہ ؓ سے حدیث عقیقہ کے علاوہ دیگر احادیث کے سماع میں اختلاف ہے، مگر دیگر نصوص سے مسئلہ ثابت ہے)
جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو غلام اپنے مالک کی اجازت کے بغیر شادی کرلے، وہ زانی ہے ۔
Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “Any slave who marries without his master’s permission is an adulterer”. [Ahmed 14216, Abu Dawud 2078]
حسن، ابن ماجة (1959)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1111
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- جابر کی حدیث حسن ہے، ٢- بعض نے اس حدیث کو بسند «عبد اللہ بن محمد بن عقيل عن ابن عمر عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کیا ہے، اور یہ صحیح نہیں ہے، صحیح یہ ہے کہ عبداللہ بن محمد بن عقیل نے جابر سے روایت کی ہے، ٣- اس باب میں ابن عمر ؓ سے بھی حدیث آئی ہے، ٤- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ مالک کی اجازت کے بغیر غلام کا نکاح کرنا جائز نہیں۔ یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ وغیرہ کا بھی قول ہے، اس میں کوئی اختلاف نہیں۔
اس سند سے بھی جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس غلام نے اپنے آقا کی اجازت کے بغیر شادی کی وہ زانی ہے ۔
Abdullah ibn Muhammad ibn Aqil reported on the authority of Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) that the Prophet ﷺ said, “Any slave who marries without his master’s pemission is a fornicator”. --------------------------------------------------------------------------------
حسن انظر ما قبله (1111)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1112
عامر بن ربیعہ ؓ کہتے ہیں کہ بنی فزارہ کی ایک عورت نے دو جوتی مہر پر نکاح کرلیا، تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: کیا تو اپنی جان و مال سے دو جوتی مہر پر راضی ہے؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں راضی ہوں۔ وہ کہتے ہیں: تو آپ نے اس نکاح کو درست قرار دے دیا۔
Aasim ibn Abduflah reported that he heard from Abdullah ibn Aamir ibn Rabi’ah on the authority of his father that a woman of Banu Fazarah married against a dower of a pair of shoes. So, Allah’s Messenger ﷺ said, “Are you pleased to give yourself and your property against a pair of shoes?” She said, “Yes!’ He then gave her permission. [Ahmed 15676, Ibn e Majah 1888]
ضعيف، ابن ماجة (1888) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (413)، الإرواء (1926) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1113
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عامر بن ربیعہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عمر، ابوہریرہ، سہل بن سعد، ابو سعید خدری، انس، عائشہ، جابر اور ابوحدرد اسلمی ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کا مہر کے سلسلے میں اختلاف ہے۔ بعض اہل علم کہتے ہیں: مہر اس قدر ہو کہ جس پر میاں بیوی راضی ہوں۔ یہ سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ٤- مالک بن انس کہتے ہیں: مہر ایک چوتھائی دینار سے کم نہیں ہونا چاہیئے، ٥- بعض اہل کوفہ کہتے ہیں: مہر دس درہم سے کم نہیں ہونا چاہیئے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/النکاح ١٧ (١٨٨٨)، ( تحفة الأشراف:؟؟)، مسند احمد (٣/٤٤٥) (ضعیف) (سند میں عاصم بن عبیداللہ ضعیف ہیں)
سہل بن سعد ساعدی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک عورت نے آ کر عرض کیا کہ میں نے اپنے آپ کو آپ کے لیے ہبہ کردیا۔ پھر وہ کافی دیر کھڑی رہی (اور آپ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا) تو ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ کو اس کی حاجت نہ ہو تو اس سے میرا نکاح کر دیجئیے۔ آپ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس مہر ادا کرنے کے لیے کوئی چیز ہے؟ ، اس نے عرض کیا: میرے پاس میرے اس تہبند کے سوا کچھ نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر تم اپنا تہبند اسے دے دو گے تو تو بغیر تہبند کے رہ جاؤ گے، تو تم کوئی اور چیز تلاش کرو ، اس نے عرض کیا: میں کوئی چیز نہیں پا رہا ہوں۔ آپ نے (پھر) فرمایا: تم تلاش کرو، بھلے لوہے کی ایک انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو ۔ اس نے تلاش کیا لیکن اسے کوئی چیز نہیں ملی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہیں کچھ قرآن یاد ہے؟ ، اس نے کہا: جی ہاں، فلاں، فلاں سورة یاد ہے اور اس نے چند سورتوں کے نام لیے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے تمہاری شادی اس عورت سے ان سورتوں کے بدلے کردی جو تمہیں یاد ہے ۔
Sayyidina Sahl ibn Sad Saidi (RA) reported that a woman came to Allah’s Messenger ﷺ and said, “I submit myself to you”. Then, she stood for a long time. A man said, “O Messenger of Allah, marry me to her, if you do not need her”. He said, “Do you have anything to give her (by way of dower)?’ He said, “I have nothing but this lower wrapper of the body”. So, Allah’s Messenger ﷺ said, “If you give it to her then you will sit and have no lower garment on you. So, Look out for something else”. He said, “I do not find”. The Prophet ﷺ said, “Search, even if you find an iron ring”. He said, “I sought but could not find anything”. So, Allah’s Messenger asked him, “Do you have with you anything of the Qur’an?” He said, “Yes, That surah, and that surah. So Allah’s Messenger ﷺ said, “I marry you,to her with what you have of the Qur’an”. [Ahmed 22862, Bukhari 5029, Muslim 1425, Nisai 31971]
صحيح، ابن ماجة (1889)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1114
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- شافعی اسی حدیث کی طرف گئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر اس کے پاس مہر ادا کرنے کے لیے کوئی چیز نہ ہو اور وہ قرآن کی کسی سورة کو مہر بنا کر کسی عورت سے نکاح کرے تو نکاح درست ہے اور وہ اسے قرآن کی وہ سورة سکھائے گا، ٣- بعض اہل علم کہتے ہیں: نکاح جائز ہوگا لیکن اسے مہر مثل ادا کرنا ہوگا۔ یہ اہل کوفہ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوکالة ٩ (٢٣١٠)، والنکاح ٤٠ (٥١٣٥)، والتوحید ٢١ (٧٤١٧)، سنن ابی داود/ النکاح ٣١ (٢١١١)، سنن النسائی/النکاح ٦٩ (٣٣٦١)، ( تحفة الأشراف: ٤٧٤٢)، موطا امام مالک/النکاح ٣ (٨)، مسند احمد (٥/٣٣٦) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/فضائل القرآن ٢١ (٥٠٢٩)، والنکاح ١٤ (٥٠٨٧)، و ٣٢ (٥١٢١)، و ٣٥ (٥١٢٦)، و ٣٧ (٥١٣٢)، و ٤٤ (٥١٤١)، و ٥٠ (٥١٤٩)، و ٥١ (٥١٥٠)، واللباس ٤٩ (٥٨٧١)، صحیح مسلم/النکاح ١٣ (١٤٢٥)، سنن النسائی/النکاح ١ (٣٢٠٢)، و ٤١ (٣٢٨٢)، و ٦٢ (٣٣٤١)، سنن ابن ماجہ/النکاح ١٧ (١٨٨٩)، سنن الدارمی/النکاح ١٩ (٢٢٤٧)، من غیر ہذا الوجہ۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صفیہ کو آزاد کیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا۔
Sayyidina Anas ibn Maalik reported that Allah’s Messenger ﷺ set free (Sayyidah) Safiyah and made her freedom her dower. [Ahmed 12839, Muslim 1365, Abu Dawud 2054, Nisai 3339, Ibn e Majah 1957] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (1957)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1115
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- انس کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں صفیہ ؓ سے بھی حدیث آئی ہے، ٣- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ٤- اور بعض اہل علم نے اس کی آزادی کو اس کا مہر قرار دینے کو مکروہ کہا ہے، یہاں تک کہ اس کا مہر آزادی کے علاوہ کسی اور چیز کو مقرر کیا جائے۔ لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ١٤ (١٣٦٥)، سنن ابی داود/ النکاح ٦ (٢٠٥٤)، سنن النسائی/النکاح ٦٤ (٣٣٤٤)، سنن الدارمی/النکاح ٤٥ (٢٢٢٨)، ( تحفة الأشراف: ١٠٦٧ و ١٤٢٩) (صحیح) و أخرجہ کل من: صحیح البخاری/الصلاة ١٢ (٣٧١)، و صلاة الخوف ٦ (٩٤٧)، والجہاد والمغازي ٣٨ (٤٢٠٠)، والنکاح ١٣ (٥٠٨٦) و ٦٨ (٥١٦٩)، صحیح مسلم/النکاح (المصدر المذکور) سنن ابن ماجہ/النکاح ٤٢ (١٩٥٧)، مسند احمد (٣/٩٩، ١٣٨، ١٦٥، ١٧٠، ١٨١، ١٨٦، ٢٠٣، ٢٣٩، ٢٤٢) من غیر ہذا الوجہ وبعضہم بتغیر یسیر في السیاق۔
ابوموسیٰ عبداللہ بن قیس اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین لوگ ہیں جنہیں دہرا اجر دیا جاتا ہے: ایک وہ بندہ جو اللہ کا حق ادا کرے اور اپنے مالک کا حق بھی، اسے دہرا اجر دیا جاتا ہے، اور دوسرا وہ شخص جس کی ملکیت میں کوئی خوبصورت لونڈی ہو، وہ اس کی تربیت کرے اور اچھی تربیت کرے پھر اسے آزاد کر دے، پھر اس سے نکاح کرلے اور یہ سب اللہ کی رضا کی طلب میں کرے، تو اسے دہرا اجر دیا جاتا ہے۔ اور تیسرا وہ شخص جو پہلے کتاب (تورات و انجیل) پر ایمان لایا ہو پھر جب دوسری کتاب (قرآن مجید) آئی تو اس پر بھی ایمان لایا تو اسے بھی دہرا اجر دیا جاتا ہے ۔
Abu Burdah ibn Abu Musa reported on his father’s authority that Allahs Messenger ﷺ said, “Three people will be given their reward twice. A slave who gives the right of Allah and the right of his master - so, he will be given his reward two times. And a man who has a female slave (who is) beautiful and he teaches her manners after which he emancipates her and marries her seeking thereby Allah’s pleasure - so, he will get his reward twofold. And, a man who believed in an earlier Scripture (Torah, Zabur, Injeel) and then comes to him the other Book (the Qur’an), so he believes in it (too) - so, he is given his reward two times”. [Ahmed 19732, Bukhari 97, Muslim 154, Nisai 3344, Ibn e Majah 1956] --------------------------------------------------------------------------------
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے کسی عورت سے نکاح کیا اور اس کے ساتھ دخول کیا تو اس کے لیے اس کی بیٹی سے نکاح کرنا درست نہیں ہے، اور اگر اس نے اس کے ساتھ دخول نہیں کیا ہے تو وہ اس کی بیٹی سے نکاح کرسکتا ہے، اور جس مرد نے کسی عورت سے نکاح کیا تو اس نے اس سے دخول کیا ہو یا نہ کیا ہو اس کے لیے اس کی ماں سے نکاح کرنا حلال نہیں ہوگا ۔
Amr ibn Shu’ayb reported on the authority of his father who from his grandfather that the Prophet ﷺ said, “For any man who marries a woman and has sexual intercourse with her it, is not lawful to marry her daughter. But, if he has not had sexual intercourse with her then he can marry her daughter. And, as for a man who marries a woman and whether he has sexual intercourse with her or not, it is not lawful to marry her mother”.
ضعيف، الإرواء (1879) // ضعيف الجامع الصغير (2242) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1117
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث سند کے اعتبار سے صحیح نہیں ہے، اسے صرف ابن لہیعہ اور مثنی بن صالح نے عمرو بن شعیب سے روایت کیا ہے۔ اور مثنی بن صالح اور ابن لہیعہ حدیث کے سلسلے میں ضعیف قرار دیے جاتے ہیں۔ ٢- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب آدمی کسی کی ماں سے شادی کرلے اور پھر اسے دخول سے پہلے طلاق دیدے تو اس کے لیے اس کی بیٹی سے نکاح جائز ہے، اور جب آدمی کسی کی بیٹی سے نکاح کرے اور اسے دخول سے پہلے طلاق دیدے تو اس کے لیے اس کی ماں سے نکاح جائز نہیں ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے «وأمهات نسائكم» (النساء: ٢٣) ، یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٨٧٣٣) (ضعیف) (مؤلف نے وجہ بیان کر سنن الدارمی/ ہے)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رفاعہ قرظی کی بیوی نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر کہا: میں رفاعہ کے نکاح میں تھی۔ انہوں نے مجھے طلاق دے دی اور میری طلاق طلاق بتہ ہوئی ہے۔ پھر میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کرلی، ان کے پاس صرف کپڑے کے پلو کے سوا کچھ نہیں ہے ١ ؎، آپ نے فرمایا: تو کیا تم رفاعہ کے پاس لوٹ جانا چاہتی ہو؟ ایسا نہیں ہوسکتا جب تک کہ تم ان (عبدالرحمٰن) کی لذت نہ چکھ لو اور وہ تمہاری لذت نہ چکھ لیں ٢ ؎۔
Sayyidah Ayshah (RA) narrated: The wife of Rifa’ah Qurazi came to Allah’s Messenger and said, “I was married to Rifa’ah but he divorced me and made it an irrevocable divorce. So, I married Abdur Rahman ibn Zubayr, but he has not with him save the like of edges of the garment”. So, he asked, “Do you want to return to Rifa’ah? No, not until you taste his sweetness and he tastes your sweetness” [Ahmed 24153, Bukhari 2639. Muslim 1433, Ibn e Majah 1932] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (1934)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1118
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ام المؤمنین عائشہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عمر، انس، رمیصاء، یا غمیصاء اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ آدمی جب اپنی بیوی کو تین طلاق دیدے پھر وہ کسی اور سے شادی کرلے اور وہ دوسرا شخص دخول سے پہلے اسے طلاق دیدے تو اس کے لیے پہلے شوہر سے نکاح درست نہیں جب تک کہ دوسرے شوہر نے اس سے جماع نہ کرلیا ہو۔
Notes · وضاحت
١ ؎ یعنی انہیں جماع کی قدرت نہیں ہے۔ ٢ ؎ «حتیٰ تذوقی عسیلتہ ویذوق عسیلتک» سے کنایہ جماع کی طرف ہے اور جماع کو شہد سے تشبیہ دینے سے مقصود یہ ہے کہ جس طرح شہد کے استعمال سے لذت و حلاوت حاصل ہوتی ہے اسی طرح جماع سے بھی لذت و حلاوت حاصل ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الشہادات ٣ (٢٦٣٩)، صحیح مسلم/النکاح ١٧ (١٤٣٣)، سنن النسائی/النکاح ٤٣ (٣٢٨٥)، والطلاق ١٢ (٣٤٤٠)، ( تحفة الأشراف: ١٦٤٣٦)، مسند احمد ٦/٣٧)، سنن الدارمی/الطلاق ٤ (٢٣١٣) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الطلاق ٤ (٥٢٦)، و ٧ (٥٢٦٥)، و ٣٧ (٥٣١٧) واللباس ٦ ٥٧٩٢)، والأدب ٦٨ (٦٠٨٤)، صحیح مسلم/النکاح (المصدر المذکور)، سنن النسائی/الطلاق ٩ (٣٤٣٧)، و ١٠ (٢٤٣٨)، من غیر ہذا الوجہ۔
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حلالہ کرنے اور کرانے والے پر لعنت بھیجی ہے ١ ؎۔
Sayyidina jabir Ibn Abdullah (RA) and Sayyidina Ali (RA)reported that Allah’s Messenger ﷺ cursed the muhill and the muhallil (the one who considers the unlawful as lawful, or makes it lawful for the first husband, and the one who gets it done for himself). [Abu Dawud 2026, Ibn e Majah 1935] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (1535)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1119
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- علی اور جابر ؓ کی حدیث معلول ہے، ٢- اسی طرح اشعث بن عبدالرحمٰن نے بسند «مجالد عن عامر هو الشعبي عن الحارث عن علي» روایت کی ہے۔ اور عامر الشعبی نے بسند «جابر بن عبد اللہ عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے، ٣- اس حدیث کی سند کچھ زیادہ درست نہیں ہے۔ اس لیے کہ مجالد بن سعید کو بعض اہل علم نے ضعیف گردانا ہے۔ انہی میں سے احمد بن حنبل ہیں، ٤- نیز عبداللہ بن نمیر نے اس حدیث کو بسند «مجالد عن عامر عن جابر بن عبد اللہ عن علي» روایت کی ہے، اس میں ابن نمیر کو وہم ہوا ہے۔ پہلی حدیث زیادہ صحیح ہے، ٥- اور اسے مغیرہ، ابن ابی خالد اور کئی اور لوگوں نے بسند «الشعبی عن الحارث عن علی» روایت کی ہے، ٦- اس باب میں ابن مسعود، ابوہریرہ، عقبہ بن عامر اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «محلل» وہ شخص ہے جو طلاق دینے کی نیت سے مطلقہ ثلاثہ سے نکاح و مباشرت کرے، اور «محلل لہ» سے پہلا شوہر مراد ہے جس نے تین طلاقیں دی ہیں، اور طریقہ سے اپنی عورت سے دوبارہ شادی کرنا چاہتا ہے یہ حدیث دلیل ہے کہ حلالہ کی نیت سے نکاح باطل اور حرام ہے کیونکہ لعنت حرام فعل ہی پر کی جاتی ہے، جمہور اس کی حرمت کے قائل ہیں، حنفیہ اسے جائز کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف من حدیث جابر، ومن حدیث علی أخرجہ کل من: سنن ابی داود/ النکاح ١٦ (٢٠٧٦)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٣٣ (١٩٣٤)، ( تحفة الأشراف: ٢٣٤٨ و ١٠٠٣٤)، مسند احمد (١/٨٧) (صحیح) شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ورنہ جابر کی حدیث میں ” مجاہد “ اور علی ؓ کی حدیث میں ” حارث اعور “ ضعیف ہیں)