Sunan At-Tirmidhi 1115

نکاح کا بیان

1115Sunan At-Tirmidhi

آزاد کردہ لونڈی سے نکاح کرنا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَ صَفِيَّةَ وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ صَفِيَّةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، وَهُوَ قَوْلُ: الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَكَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ يُجْعَلَ عِتْقُهَا صَدَاقَهَا، حَتَّى يَجْعَلَ لَهَا مَهْرًا سِوَى الْعِتْقِ، وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صفیہ کو آزاد کیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا۔

Sayyidina Anas ibn Maalik reported that Allah’s Messenger ﷺ set free (Sayyidah) Safiyah and made her freedom her dower. [Ahmed 12839, Muslim 1365, Abu Dawud 2054, Nisai 3339, Ibn e Majah 1957] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (1957)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1115
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- انس کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں صفیہ ؓ سے بھی حدیث آئی ہے، ٣- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ٤- اور بعض اہل علم نے اس کی آزادی کو اس کا مہر قرار دینے کو مکروہ کہا ہے، یہاں تک کہ اس کا مہر آزادی کے علاوہ کسی اور چیز کو مقرر کیا جائے۔ لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ١٤ (١٣٦٥)، سنن ابی داود/ النکاح ٦ (٢٠٥٤)، سنن النسائی/النکاح ٦٤ (٣٣٤٤)، سنن الدارمی/النکاح ٤٥ (٢٢٢٨)، ( تحفة الأشراف: ١٠٦٧ و ١٤٢٩) (صحیح) و أخرجہ کل من: صحیح البخاری/الصلاة ١٢ (٣٧١)، و صلاة الخوف ٦ (٩٤٧)، والجہاد والمغازي ٣٨ (٤٢٠٠)، والنکاح ١٣ (٥٠٨٦) و ٦٨ (٥١٦٩)، صحیح مسلم/النکاح (المصدر المذکور) سنن ابن ماجہ/النکاح ٤٢ (١٩٥٧)، مسند احمد (٣/٩٩، ١٣٨، ١٦٥، ١٧٠، ١٨١، ١٨٦، ٢٠٣، ٢٣٩، ٢٤٢) من غیر ہذا الوجہ وبعضہم بتغیر یسیر في السیاق۔