پھوپھی اور بھتیجی، خالہ اور بھانجی ایک شخص کے نکاح میں جمع نہ ہوں
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُزَوَّجَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا أَوْ عَلَى خَالَتِهَا . وَأَبُو حَرِيزٍ اسْمُهُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُسَيْنٍ.
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے منع فرمایا کہ کسی عورت سے شادی کی جائے اور اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ (پہلے سے) نکاح میں ہو۔
Sayyidina lbn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ forbade marriage of a woman to the husband of her (paternal or maternal) aunt. [Ahmed 353]
صحيح، الإرواء (2882)، ضعيف أبي داود (352)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1125
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوحریز کا نام عبداللہ بن حسین ہے -
Takhrij · تخریج
حدیث ابن عباس: سنن ابی داود/ النکاح ١٣ (٢٠٦٧) (تحفة الأشراف: ٦٠٧٠)، مسند احمد (١/٢١٧، ٣٧٢) (صحیح) (متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کے راوی ” ابو حریز “ حافظہ کے کمزور ہیں)