نومسلم کے نکاح میں دو بہنیں ہوں تو کیا حکم ہے
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجَيْشَانِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ فَيْرُوزَ الدَّيْلَمِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ: قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَسْلَمْتُ وَتَحْتِي أُخْتَانِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اخْتَرْ أَيَّتَهُمَا شِئْتَ .
فیروز دیلمی ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اسلام قبول کرلیا ہے اور میرے نکاح میں دو بہنیں ہیں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم ان دونوں میں سے جسے چاہو منتخب کرلو ۔
Abu Wahb Jayshani reported that he heard lbn Firoz Daylami narrate on the authority of his father that he met the Prophet ﷺ and said, “O Messenger of Allah, I have embraced Islam and have two sisters as wives”. So, he said, “Choose whichever one you like”. [Ahmed 18062, Abu Dawud 2243, Ibn e Majah 1950] --------------------------------------------------------------------------------