Sunan At-Tirmidhi 1146

رضاعت کا بیان

1146Sunan At-Tirmidhi

نسب سے حرام رشتے رضاعت سے بھی حرام ہوتے ہیں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مِنَ الرَّضَاعِ مَا حَرَّمَ مِنَ النَّسَبِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَائِشَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأُمِّ حَبِيبَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَلِيٍّ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے رضاعت سے بھی وہ سارے رشتے حرام کر دئیے ہیں جو نسب سے حرام ہیں ١ ؎۔

Sayyidina Ali reported that Allah’s Messenger prohibited by reason of fosterage what he prohibited by reason of genealogy. --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، الإرواء (6 / 284)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1146
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- علی کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عائشہ، ابن عباس اور ام حبیبہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اس سلسلے میں ہم ان کے درمیان اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں جانتے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ سات رشتے ہیں ( ١) مائیں ( ٢) بیٹیاں ( ٣) بہنیں ( ٤) پھوپھیاں ( ٥) خالائیں ( ٦) بھتیجیاں ( ٧) بھانجیاں، ماں میں دادی نانی داخل ہے اور بیٹی میں پوتی نواسی داخل، اور بہنیں تین طرح کی ہیں: سگی، سوتیلی اور اخیافی، اسی طرح بھتیجیاں اور بھانجیاں اگرچہ نیچے درجہ کی ہوں اور پھوپھیاں سگی ہوں خواہ سوتیلی خواہ اخیافی، اسی طرح باپ دادا اور ماں اور نانی کی پھوپھیاں سب حرام ہیں اور «خالائیں علی ہذا القیاس»۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٠١١٨) (صحیح)