ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے گھروں میں گھریلو سانپ رہتے ہیں، تم انہیں تین بار آگاہ کر دو تم تنگی میں ہو (یعنی دیکھو دوبارہ نظر نہ آنا ورنہ تنگی و پریشانی سے دوچار ہوگا) پھر اگر اس تنبیہ کے بعد کوئی سانپ نظر آئے تو اسے مار ڈالو ۔
Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) reported that Allah’s Messenger r- .s.’ said, “In your homes are house-snakes. Warn them three times but if they are seen after that then kill them.” [Muslim 2236]
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس حدیث کو عبیداللہ بن عمر نے بسند «صيفي عن أبي سعيد الخدري» روایت کیا ہے جب کہ مالک بن انس نے اس حدیث کو بسند «صيفي عن أبي السائب مولی هشام بن زهرة عن أبي سعيد عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کیا،
ابولیلیٰ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب گھر میں سانپ نکلے تو اس سے کہو: ہم نوح اور سلیمان بن داود کے عہد و اقرار کی رو سے یہ چاہتے ہیں کہ تم ہمیں نہ ستاؤ پھر اگر وہ دوبارہ نکلے تو اسے مار دو ۔
Abdur Rahman ibn Abu Layla reported from Abu Layla that Allah’s Messenger ﷺ said, “If a snake is observed in the house, say, ‘We ask you by the covenant of Nub and by the covenant of Sulayman ibn Dawood, do not hurt us.’ If it returns then kill it.” [Abu Dawud 5260] --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف، الضعيفة (1508) // ضعيف الجامع الصغير (590) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1485
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اس حدیث کو ثابت بنانی کی روایت سے صرف ابن ابی لیلیٰ ہی کے طریق سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ١٧٤ (٥٢٦٠)، سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ٢٨٠ (٩٦٨)، (تحفة الأشراف: ١٢١٥٢) (ضعیف) (سند میں ” محمد بن أبی لیلیٰ “ ضعیف ہیں )
عبداللہ بن مغفل ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر یہ بات نہ ہوتی کہ کتے دیگر مخلوقات کی طرح ایک مخلوق ہیں تو میں تمام کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیتا، سو اب تم ان میں سے ہر کالے سیاہ کتے کو مار ڈالو ١ ؎۔
Sayyidina Abdullah ibn Mughaffa reported that Allah’s Messenger said, “ Were dogs not a creation of the creations (of Allah). I would have commanded that all of them should be exterminated. So, kill all those of them that are black.” [Ahmed 16788]
صحيح، المشکاة (4102 / التحقيق الثانی)، غاية المرام (148)، صحيح أبي داود (2535)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1486
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - عبداللہ بن مغفل کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عمر، جابر، ابورافع، اور ابوایوب ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - بعض احادیث میں مروی ہے کہ کالا کتا شیطان ہوتا ہے ٢ ؎، ٤ - «الأسود البهيم» اس کتے کو کہتے ہیں جس میں سفیدی بالکل نہ ہو، ٥ - بعض اہل علم نے کالے کتے کے کئے شکار کو مکروہ سمجھا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ابتداء میں سارے کتوں کے مارنے کا حکم ہوا پھر کالے سیاہ کتوں کو چھوڑ کر یہ حکم منسوخ ہوگیا، بعد میں کسی بھی کتے کو جب تک وہ موذی نہ ہو مارنے سے منع کردیا گیا، حتیٰ کہ شکار، زمین، جائیداد، مکان اور جانوروں کی حفاظت و نگہبانی کے لیے انہیں پالنے کی اجازت بھی دی گئی۔ ٢ ؎: یہ حدیث صحیح مسلم (رقم ١٥٧٢ ) میں جابر ؓ سے مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصید ١ (٢٨٤٥)، سنن النسائی/الصید ١٠ (٤٢٨٥)، و ١٤ (٤٢٩٣)، سنن ابن ماجہ/الصید ٢ (٣٢٠٤)، (تحفة الأشراف: ٩٦٤٩)، و مسند احمد (٤/٨٥، ٨٦)، و (٥/٥٤، ٥٦، ٥٧) سنن الدارمی/الصید ٣ (٢٠٥١) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے ایسا کتا پالا یا رکھا جو سدھایا ہوا شکاری اور جانوروں کی نگرانی کرنے والا نہ ہو تو اس کے ثواب میں سے ہر دن دو قیراط کے برابر کم ہوگا ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s MessengerL- said, “If anyone acquires a dog, or keeps a dog, who is not for hunting or protecting sheep, then two qirats will he deducted from his reward every day.’ [Bukhari 5480, Muslim 1574]
صحيح، صحيح أبي داود (2534)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1487
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابن عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا: «أو كلب زرع» یا وہ کتا کھیتی کی نگرانی کرنے والا نہ ہو ، ٣ - اس باب میں عبداللہ بن مغفل، ابوہریرہ، اور سفیان بن أبی زہیر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: قیراط ایک وزن ہے جو اختلاف زمانہ کے ساتھ بدلتا رہا ہے، یہ کسی چیز کا چوبیسواں حصہ ہوتا ہے، کتا پالنے سے ثواب میں کمی کے کئی اسباب ہوسکتے ہیں: ایسے گھروں میں فرشتوں کا داخل نہ ہونا، گھر والے کی غفلت کی صورت میں برتن میں کتے کا منہ ڈالنا، پھر پانی اور مٹی سے دھوئے بغیر اس کا استعمال کرنا، ممانعت کے باوجود کتے کا پالنا، گھر میں آنے والے دوسرے لوگوں کو اس سے تکلیف پہنچنا وغیرہ وغیرہ۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے شکاری یا جانوروں کی نگرانی کرنے والے کتے کے علاوہ دیگر کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا ابن عمر ؓ سے کہا گیا: ابوہریرہ ؓ یہ بھی کہتے تھے: «أو كلب زرع» یا کھیتی کی نگرانی کرنے والے کتے (یعنی یہ بھی مستثنیٰ ہیں) ، تو ابن عمر ؓ نے کہا: ابوہریرہ ؓ کے پاس کھیتی تھی (اس لیے انہوں نے اس کے بارے میں پوچھا ہوگا) ۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger gave command for the extermination of dogs, except hunting dogs and sheep dogs. It was said to him that Ahul Hurayrah said, “and farm dogs,” he said, “He has farms.” [Nisai 4290]
صحيح، الإرواء (2549)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1488
عبداللہ بن مغفل ؓ کہتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں سے ہوں جو رسول اللہ ﷺ کے مبارک چہرے سے درخت کی شاخوں کو ہٹا رہے تھے اور آپ خطبہ دے رہے تھے، آپ نے فرمایا: اگر یہ بات نہ ہوتی کہ کتے دیگر مخلوقات کی طرح ایک مخلوق ہیں تو میں انہیں مارنے کا حکم دیتا ١ ؎، سو اب تم ان میں سے ہر سیاہ کالے کتے کو مار ڈالو، جو گھر والے بھی شکاری، یا کھیتی کی نگرانی کرنے والے یا بکریوں کی نگرانی کرنے والے کتوں کے سوا کوئی دوسرا کتا باندھے رکھتے ہیں ہر دن ان کے عمل (ثواب) سے ایک قیراط کم ہوگا ۔
Sayyidina Abu Hurayra reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone keeps a dog, except a sheep dog or a hunting (dog) or a farm (dog) then a qrat will be deducted from his reward every day.” [Muslim 1575]
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص بھی جانوروں کی نگرانی کرنے والے یا شکاری یا کھیتی کی نگرانی کرنے والے کتے کے سوا کوئی دوسرا کتا پالے گا تو ہر روز اس کے ثواب میں سے ایک قیراط کم ہوگا ١ ؎۔
Sayyidina Abdullah ibn Mughaffal narrated: I was one of those who had raised the branches of the tree away from the face of Allah’s Messenger while he was delivering a sermon. He said, “Were the dogs not one of the creatures (of Allah), I would have commanded that they should be eliminated. So kill all the black dogs among them. And, there are no people in a house who have a dog except a hunting dog, a farm dog or a sheep dog but a qirat of their good deeds are deducted every day.” [Ahmed 16788]
صحيح، ابن ماجة (3205)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1490
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - عطا بن ابی رباح نے کتا پالنے کی رخصت دی ہے اگرچہ کسی کے پاس ایک ہی بکری کیوں نہ ہو۔ اس سند سے بھی ابوہریرہ ؓ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: عبداللہ بن عمر ؓ سے مروی حدیث رقم: ١٤٨٧ میں دو قیراط کا ذکر ہے، اس کی مختلف توجیہ کی گئی ہیں: ( ١ ) آپ ﷺ نے پہلے ایک قیراط کی خبر دی جسے ابوہریرہ ؓ نے روایت کی، بعد میں دو قیراط کی خبر دی جسے ابن عمر ؓ نے روایت کی۔ ( ٢ ) ایک قیراط اور دو قیراط کا فرق کتے کے موذی ہونے کے اعتبار سے ہوسکتا ہے، ( ٣ ) یہ ممکن ہے کہ دو قیراط کی کمی کا تعلق مدینہ منورہ سے ہو، اور ایک قیراط کا تعلق اس کے علاوہ سے ہو۔
رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! کل ہم دشمن سے ملیں گے اور ہمارے پاس (جانور ذبح کرنے کے لیے) چھری نہیں ہے (تو کیا حکم ہے؟ ) ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو خون بہا دے ١ ؎ اور اس پر اللہ کا نام یعنی بسم اللہ پڑھا گیا ہو تو اسے کھاؤ، بجز دانت اور ناخن سے ذبح کیے گئے جانور کے، اور میں تم سے دانت اور ناخن کی ٢ ؎ تفسیر بیان کرتا ہوں: دانت، ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے ٣ ؎۔
Sayyidina Rafi ibn Khadij (RA) narrated: I said, O Messenger of Allah! ﷺ We will meet our enemy tomorrow and we do not have a knife with us (to slaughter an animal). He said, That which sheds blood and the name of Allah is called over it, eat that, except if it is tooth or claw. I shall tell you about that. As for teeth, it is bone. And as for claw, it is the knife of Abyssinia. [Bukhari 5498, Muslim 1968]
رافع بن خدیج ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ ایک سفر میں تھے، لوگوں کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ بدک کر بھاگ گیا، ان کے پاس گھوڑے بھی نہ تھے، ایک آدمی نے اس کو تیر مارا سو اللہ نے اس کو روک دیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ان چوپایوں میں جنگلی جانوروں کی طرح بھگوڑے بھی ہوتے ہیں، اس لیے اگر ان میں سے کوئی ایسا کرے (یعنی بدک جائے) تو اس کے ساتھ اسی طرح کرو ١ ؎۔
Sayyidina Rafi narrated: Once we were travelling with the Prophet ﷺ One of the camels ran away and we had no horses (to give it a chase). A man shot an arrow and Allah restricted the camel. Allahs Messenger said, “Indeed, among these beasts there are some that run wild (runaways) like the wild beasts. So, if any of them does that then do with it like this (as the man did). [Bukhari 2488 ]