Sunan At-Tirmidhi 1486

شکار کا بیان

1486Sunan At-Tirmidhi

کتوں کو ہلاک کرنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ، وَيُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْلَا أَنَّ الْكِلَابَ أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ لَأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا كُلِّهَا، فَاقْتُلُوا مِنْهَا كُلَّ أَسْوَدَ بَهِيمٍ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَجَابِرٍ، وَأَبِي رَافِعٍ، وَأَبِي أَيُّوبَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَيُرْوَى فِي بَعْضِ الْحَدِيثِ: أَنَّ الْكَلْبَ الْأَسْوَدَ الْبَهِيمَ شَيْطَانٌ، وَالْكَلْبُ الْأَسْوَدُ الْبَهِيمُ الَّذِي لَا يَكُونُ فِيهِ شَيْءٌ مِنَ الْبَيَاضِ، وَقَدْ كَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ صَيْدَ الْكَلْبِ الْأَسْوَدِ الْبَهِيمِ.

عبداللہ بن مغفل ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر یہ بات نہ ہوتی کہ کتے دیگر مخلوقات کی طرح ایک مخلوق ہیں تو میں تمام کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیتا، سو اب تم ان میں سے ہر کالے سیاہ کتے کو مار ڈالو ١ ؎۔

Sayyidina Abdullah ibn Mughaffa reported that Allah’s Messenger said, “ Were dogs not a creation of the creations (of Allah). I would have commanded that all of them should be exterminated. So, kill all those of them that are black.” [Ahmed 16788]

صحيح، المشکاة (4102 / التحقيق الثانی)، غاية المرام (148)، صحيح أبي داود (2535)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1486
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - عبداللہ بن مغفل کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عمر، جابر، ابورافع، اور ابوایوب ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - بعض احادیث میں مروی ہے کہ کالا کتا شیطان ہوتا ہے ٢ ؎، ٤ - «الأسود البهيم» اس کتے کو کہتے ہیں جس میں سفیدی بالکل نہ ہو، ٥ - بعض اہل علم نے کالے کتے کے کئے شکار کو مکروہ سمجھا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ابتداء میں سارے کتوں کے مارنے کا حکم ہوا پھر کالے سیاہ کتوں کو چھوڑ کر یہ حکم منسوخ ہوگیا، بعد میں کسی بھی کتے کو جب تک وہ موذی نہ ہو مارنے سے منع کردیا گیا، حتیٰ کہ شکار، زمین، جائیداد، مکان اور جانوروں کی حفاظت و نگہبانی کے لیے انہیں پالنے کی اجازت بھی دی گئی۔ ٢ ؎: یہ حدیث صحیح مسلم (رقم ١٥٧٢ ) میں جابر ؓ سے مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصید ١ (٢٨٤٥)، سنن النسائی/الصید ١٠ (٤٢٨٥)، و ١٤ (٤٢٩٣)، سنن ابن ماجہ/الصید ٢ (٣٢٠٤)، (تحفة الأشراف: ٩٦٤٩)، و مسند احمد (٤/٨٥، ٨٦)، و (٥/٥٤، ٥٦، ٥٧) سنن الدارمی/الصید ٣ (٢٠٥١) (صحیح )