Sunan At-Tirmidhi 1487

شکار کا بیان

1487Sunan At-Tirmidhi

کتوں کو ہلاک کرنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لَيْسَ بِضَارٍ، وَلَا كَلْبَ مَاشِيَةٍ، نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَسُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: أَوْ كَلْبَ زَرْعٍ .

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے ایسا کتا پالا یا رکھا جو سدھایا ہوا شکاری اور جانوروں کی نگرانی کرنے والا نہ ہو تو اس کے ثواب میں سے ہر دن دو قیراط کے برابر کم ہوگا ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s MessengerL- said, “If anyone acquires a dog, or keeps a dog, who is not for hunting or protecting sheep, then two qirats will he deducted from his reward every day.’ [Bukhari 5480, Muslim 1574]

صحيح، صحيح أبي داود (2534)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1487
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابن عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا: «أو كلب زرع» یا وہ کتا کھیتی کی نگرانی کرنے والا نہ ہو ، ٣ - اس باب میں عبداللہ بن مغفل، ابوہریرہ، اور سفیان بن أبی زہیر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: قیراط ایک وزن ہے جو اختلاف زمانہ کے ساتھ بدلتا رہا ہے، یہ کسی چیز کا چوبیسواں حصہ ہوتا ہے، کتا پالنے سے ثواب میں کمی کے کئی اسباب ہوسکتے ہیں: ایسے گھروں میں فرشتوں کا داخل نہ ہونا، گھر والے کی غفلت کی صورت میں برتن میں کتے کا منہ ڈالنا، پھر پانی اور مٹی سے دھوئے بغیر اس کا استعمال کرنا، ممانعت کے باوجود کتے کا پالنا، گھر میں آنے والے دوسرے لوگوں کو اس سے تکلیف پہنچنا وغیرہ وغیرہ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصید والذبائح ٦ (٥٤٨٢)، صحیح مسلم/المساقاة ١٠ (البیوع ٣١)، (١٥٧٤)، سنن النسائی/الصید ١٢ (٤٢٨٩) و ١٣ (٤٢٩١-٤٢٩٢) (تحفة الأشراف: ٧٥٤٩)، وط/الاستئذان ٥ (١٣)، و مسند احمد (٢/٤، ٨، ٣٧، ٤٧، ٦٠)، وسنن الدارمی/الصید ٢ (٢٠٤٧) (صحیح )