Sunan At-Tirmidhi 462

وترکا بیان

462Sunan At-Tirmidhi

وتر کی نماز میں کیا پڑھے

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْوِتْرِ بِ: سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى، وقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، وقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فِي رَكْعَةٍ رَكْعَةٍ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَعَائِشَةَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَيُرْوَى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَرَأَ فِي الْوِتْرِ فِي الرَّكْعَةِ الثَّالِثَةِ بِ: الْمُعَوِّذَتَيْنِ، وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، وَالَّذِي اخْتَارَهُ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ أَنْ يَقْرَأَ بِ: سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى، وقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ يَقْرَأُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ مِنْ ذَلِكَ بِسُورَةٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ وتر میں «سبح اسم ربک الأعلی»، «قل يا أيها الکافرون» اور «قل هو اللہ أحد» تینوں کو ایک ایک رکعت میں پڑھتے تھے۔

Sayyidina lbn Abbas reported that Allah’s Messenger used to recite in witr the surah al-Ala, al-Kafirun and al-IkhLas, raka’ah by raka’ah.

صحيح، ابن ماجة (1172)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 462
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں علی، عائشہ اور عبدالرحمٰن بن ابزیٰ ؓ جنہوں نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کی ہے، بھی احادیث آئی ہیں، اور اسے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے بغیر ابی کے واسطے کے براہ راست نبی اکرم ﷺ سے بھی روایت کیا جاتا ہے، ٢- نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ وتر میں تیسری رکعت میں معوذتین اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے تھے، ٣- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم نے جس بات کو پسند کیا ہے، وہ یہ ہے کہ «سبح اسم ربک الأعلی»، «قل يا أيها الکافرون» اور «قل هو اللہ أحد» تینوں میں سے ایک ایک ہر رکعت میں پڑھتے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الإقامة ١١٥ (١١٧٢)، ( تحفة الأشراف: ٥٥٨٧) (صحیح)