Sunan At-Tirmidhi 463

وترکا بیان

463Sunan At-Tirmidhi

وتر کی نماز میں کیا پڑھے

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَأَلْنَا عَائِشَةَ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يُوتِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ: كَانَ يَقْرَأُ فِي الْأُولَى بِ: سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَفِي الثَّانِيَةِ بِ: قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَفِي الثَّالِثَةِ بِ: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، قَالَ: وَعَبْدُ الْعَزِيزِ هَذَا هُوَ وَالِدُ ابْنِ جُرَيْجٍ صَاحِبِ عَطَاءٍ، وَابْنُ جُرَيْجٍ اسْمُهُ: عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ، وَقَدْ رَوَى يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عبدالعزیز بن جریج کہتے ہیں کہ ہم نے عائشہ ؓ سے پوچھا: رسول اللہ ﷺ وتر میں کیا پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: پہلی رکعت میں «سبح اسم ربک الأعلی»، دوسری میں «قل يا أيها الکافرون»، اور تیسری میں «قل هو اللہ أحد» اور معوذتین ١ ؎ پڑھتے تھے۔

Abdul Aziz ibn Jurayj reported having asked Sayyidah Aisha (RA) , “What did Allah’s Messenger recite in witr?” She said, “He would recite in the first, al-A’la, in the second al-Kafirun and in the third al-Ikhlas and the mu’awwizatan.”

صحيح، ابن ماجة (1173)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 463
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- یہ عبدالعزیز راوی اثر عطاء کے شاگرد ابن جریج کے والد ہیں، اور ابن جریج کا نام عبدالملک بن عبدالعزیز بن جریج ہے، ٣- یحییٰ بن سعید انصاری نے یہ حدیث بطریق: «عمرة عن عائشة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس»۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٢٣٩ (١٤٢٤)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١١٥ (١١٧٣)، ( تحفة الأشراف: ١٦٣٠٦) (صحیح) (متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ورنہ عبد العزیز کی ملاقات عائشہ ؓ سے نہیں ہے)