ایک رات میں دو وتر نہیں ہیں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مُوسَى الْمَرَئِيِّ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْوِتْرِ رَكْعَتَيْنِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رُوِيَ نَحْوُ هَذَا عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، وَعَائِشَةَ وَغَيْرِ وَاحِدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ وتر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے ١ ؎۔
Sayyidah Umm Salamah (RA) said that the Prophet ﷺ prayed two raka’ah after the witr.
صحيح، ابن ماجة (1195)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 471
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
ابوامامہ، عائشہ ؓ اور دیگر کئی لوگوں سے بھی نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح مروی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: نووی کے بقول نبی اکرم ﷺ کا وتر کے بعد دو رکعتیں پڑھنا بیان جواز کے لیے تھا، آپ ہمیشہ ایسا نہیں کرتے تھے، نہ کرسکتے تھے کہ آپ نے خود فرمایا تھا: وتر کو رات کی نماز ( تہجد ) میں سب سے اخیر میں کر دو تو آپ خود اس کی خلاف ورزی کیسے کرسکتے تھے، یا پھر یہ مانیے کہ یہ آپ کے ساتھ خاص تھا، اور شاید یہی وجہ ہے کہ امت کے علماء میں اس پر تعامل نہیں پایا گیا۔ واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٢٥ ( ١١٩٥)، ( تحفة الأشراف: ١٨٢٥٥) (صحیح)