Sunan At-Tirmidhi 2629

ایمان کا بیان

2629Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ اسلام کی ابتداء وانتہاء غریبوں سے ہے

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ غَرِيبًا كَمَا بَدَأَ، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ ، وفي الباب عن سَعْدٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَجَابِرٍ، وَأَنَسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَأَبُو الْأَحْوَصِ اسْمُهُ: عَوْفُ بْنُ مَالِكِ بْنِ نَضْلَةَ الْجُشَمِيُّ تَفَرَّدَ بِهِ حَفْصٌ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا، عنقریب پھر اجنبی بن جائے گا، لہٰذا ایسے وقت میں اس پر قائم رہنے والے اجنبیوں کے لیے خوشخبری و مبارک بادی ہے ١ ؎۔

Sayyidina Abdullah Ibn Mas’ud (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Islam began in poverty and it will return to poverty as it had begun. So, the poor are fortunate.” [ Ibn Majah 3908]

صحيح، ابن ماجة (3988)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2629
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابن مسعود ؓ کی روایت سے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں سعد، ابن عمر، جابر، اور عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی روایت ہے، ٣ - میں اس حدیث کو صرف حفص بن غیاث کی روایت سے جسے وہ اعمش کے واسطہ سے روایت کرتے ہیں، جانتا ہوں، ٤ - ابوالاحوص کا نام عوف بن مالک بن نضلہ جشمی ہے، ٥ - ابوحفص اس حدیث کی روایت میں منفرد ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مفہوم یہ ہے کہ اسلام جب آیا تو اس کے ماننے والوں کی زندگی جس اجنبیت کے عالم میں گزر رہی تھی یہاں تک کہ لوگ ان سے نفرت کرتے تھے، اور ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کو اپنے لیے حقارت سمجھتے تھے انہیں تکلیفیں پہنچاتے تھے، ٹھیک اسی اجنبیت کے عالم میں اسلام کے آخری دور میں اس کے پیروکار ہوں گے، لیکن خوشخبری اور مبارک بادی ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے اس اجنبی حالت میں اسلام کو گلے سے لگایا اور جو اس کے آخری دور میں اسے گلے سے لگائیں گے، اور دشمنوں کی تکالیف برداشت کر کے جان و مال سے اس کی خدمت و اشاعت کرتے رہیں گے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الفتن ١٥ (٣٩٨٨) (تحفة الأشراف: ٩٥١٠)، و مسند احمد (١/٣٩٨)، وسنن الدارمی/الرقاق ٤٢ (٢٧٩٧) (صحیح )