جنت کے درختوں کی صفات کے متعلق
حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الدُّورِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةٌ يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لَا يَقْطَعُهَا، وَقَالَ: ذَلِكَ الظِّلُّ الْمَمْدُودُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مَنْ حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ.
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جنت میں ایسے درخت ہیں کہ سوار ان کے سایہ میں سو برس تک چلتا رہے پھر بھی ان کا سایہ ختم نہ ہوگا ، نیز آپ نے فرمایا: یہی «ظل الممدود» ہے (یعنی جس کا ذکر قرآن میں ہے) ۔
Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “The first group that will enter paradise will be like the moon on the night of the full moon. The second will be like the brightest star shining in the sky. Each of their men will have two wives. Each of the wives will wear seventy robes; the marrow of her legs will be visible from the back.” --------------------------------------------------------------------------------